دے تبسم کی خیرات ماحول کو ہم کو درکار ہے روشنی یا نبی
ایک شیریں جھلک ایک رنگیں ڈلک تلخ و تاریک ہے زندگی یا نبی
اے نوید مسیحا تری قوم کا حال عیسیٰ کی بھیڑوں سے ابتر ہوا
اس کے کمزور اور بے ہنر ہاتھ سے چھین لی چرخ نے برتری یا نبی
لاہور: جامعۃ الازہر الشریف مصر کے ممتاز شیوخ کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے منہاج یونیورسٹی لاہور کا دورہ کیا۔ یونیورسٹی پہنچنے پر پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری، پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے معزز مہمانانِ گرامی کا پرتپاک استقبال کیا اور انہیں پھولوں کے گلدستے پیش کیے۔
اگر آپ کی بھی بیٹیاں ہیں ۔ تو آیت نور کے والد کی آواز بنیں ۔ وہ ہاتھ جوڑ کر کتنے کرب سے کہہ رہا ہے کہ میں غریب ہوں میرا ساتھ دیں ۔ میری بیٹی 14 روز سے لاپتہ ہے ۔ مجھے نیند بھی نہیں آرہی ۔
آپ تمام لوگوں سے اپیل ہے کہ آواز ٹھائیں ۔
#JusticeForAyatNoor
مجمع البحوث الاسلامیہ الازہر کے سیکریٹری جنرل فضيلة الشيخ الأستاذ الدكتور محمد عبد الدايم الجندي کا تقریب تقسیم انعامات نظام المدارس سے خطاب
علم کے حصول اور تربیت میں اپنے استاد کا ادب و احترام بنیادی اور ناگزیر حیثیت رکھتا ہے: فضيلة الشيخ الأستاذ الدكتور محمد عبد الدايم الجندي
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
صباح الخیر 💞🌟
الله تعالی آپ پر آپکی آل اولاد پر اور عزیز و اقارب پر اپنی عنایات کے دروازے کھلےرکھے ایمان کی دولت میں اضافه فرماۓ۔
صالح عمل کی توفیق دےصحت و تندرستی عطا فرماۓ اور اپنے سوا کسی کا محتاج نہ بنائے.
دین و دنیا کی کامیابیاں عطا فرمائےُ اور عزت و صحت والی عمر خضر دے
اللہ کریم تمام پاکستانیوں کو ارضی و سمائی مشکلات سے بچائے اور خان صاحب سمیت تمام بیماروں کو شفاء کاملہ و عاجلہ عطا فرمائے اور مرحومین کے درجات بلند فرمائے آمین یارب العالمین
ٹک ٹاکر عائشہ گلونامہ کے ق ت ل کیوں گیا گیا ؟ ملزمان کون تھے کیا معاملہ ٹک ٹاک گفٹنگ سے جڑا تھا ٹک ٹاک لائیو کے اندھے کاروبار کے ہولناک انکشاف۔۔
ٹِک ٹاک کی دنیا میں شہرت کی چمک نے ایک اور جان نگل لی ہے اور اس بار نشانہ بننے والی وہ لڑکی تھی جس کے فالوورز کی تعداد تیرہ لاکھ سے تجاوز کر چکی تھی۔
شمشو بی بی المعروف عائشہ گلونہ نامی یہ ٹک ٹاکر کے پی کے سے تعلق رکھتی تھی شادی شدہ تھی، دو بچوں کی ماں تھی اور اس کے باوجود اس کی مقبولیت اس حد تک پہنچ چکی تھی کہ اس کی صرف دو تین ویڈیوز پر تین کروڑ سے زائد لائیکس موجود تھے۔
ٹیکسلا میں مقیم اس لڑکی کی زندگی چار برس پہلے تک ایک عام سی زندگی تھی مگر ٹک ٹاک کی راہ نے اسے راتوں رات شہرت اور دولت دونوں سے ہمکنار کر دیا۔
عائشہ کو کاشف عرف کاشی نامی ایک شخص کا فون آیا جس پر وہ اکیلی نہیں بلکہ اپنے بھائی نعمت اللہ اور بہن کو ساتھ لے کر روانہ ہوئی۔ گاڑی جب گھر کے قریب پیٹرول پمپ کے پاس سگنل پر رکی تو ایک موٹر سائیکل پر سوار دو نوجوان نمودار ہوئے۔
سیاہ لباس میں ملبوس ایک نوجوان موٹر سائیکل اسٹارٹ رکھے رہا جبکہ دوسرا اتر کر ڈرائیونگ سیٹ کی جانب بڑھا اور صرف ایک گولی چلائی جو براہ راست عائشہ کی گردن پر لگی۔ گاڑی بے قابو ہو کر فٹ پاتھ سے جا ٹکرائی بھائی اور بہن زخمی ہوئے مگر گولی صرف عائشہ کو نشانہ بنانے کے لیے چلائی گئی تھی جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کوئی اندھا دھند فائرنگ نہیں بلکہ سوچی سمجھی ٹارگٹ کلنگ تھی۔ حملہ آور موقع پر عائشہ کی موت کی تصدیق کے بعد بآسانی فرار ہو گئے۔
عائشہ کے والد صاحبزادہ فضل نے مقدمہ درج کرایا اور دو افراد کے نام لیے، جاوید عرف شاہین اور کوثر۔ ان کا مؤقف ہے کہ ان دونوں کے ساتھ کسی مالی لین دین کا تنازع چل رہا تھا جس کے تناظر میں ان کی بیٹی کو دھمکیاں مل رہی تھیں ۔
کاشف کے بارے میں والد کا کہنا ہے کہ وہ عائشہ کا دوست تھا، جسے وہ جانتی تھی، جس کا نمبر اس کے موبائل میں محفوظ تھا۔ تاہم یہ ابھی تک واضح نہیں کہ کاشف نے عائشہ کو کس بہانے بلایا اور یہ کوئی منظم پھندا یعنی ہنی ٹریپ تھا یا کچھ اور۔
پولیس کی تفتیش میں سامنے آیا کہ اصل حملہ آور وہی نہیں تھے جنہوں نے فون کیا بلکہ انہیں کرائے پر بلوایا گیا تھا اور شواہد بتاتے ہیں کہ دونوں مشتبہ افراد خیبر پختونخوا کی جانب فرار ہوئے۔ چار پانچ سہولت کار ٹیکسلا سے پکڑے جا چکے ہیں مگر اصل ماسٹر مائنڈ اور مقصد قتل تاحال بے نقاب نہیں ہو سکا۔
اس پورے معاملے میں سب سے تشویشناک پہلو اسلام آباد پولیس کی نااہلی قرار دی جا رہی ہے۔ عائشہ کے والد کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے دھمکیوں کی شکایت پہلے ہی پولیس کو دی تھی مگر نہ کوئی کارروائی ہوئی، نہ مشتبہ افراد کو طلب کیا گیا۔
کرائم جرنلسٹ نعیم مصطفیٰ نے اسے مجرمانہ غفلت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر بروقت کارروائی ہوتی تو شاید یہ قتل رکنے کا امکان تھا۔ انہوں نے اس واقعے کا موازنہ اسلام آباد میں ہونے والے سنا یوسف کے قتل سے بھی کیا۔
جس میں عدالت نے ریکارڈ مدت میں ملزم کو سزائے موت سنائی تھی، مگر اس کے باوجود ٹک ٹاکرز کے خلاف تشدد کا سلسلہ نہیں رکا۔ لاہور کے ہربنس پورہ میں ایک سابق شوہر کے ہاتھوں ٹک ٹاکر کا قتل، سیالکوٹ اور قصور کے واقعات بھی اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔
اس رجحان کے پیچھے موجود ایک تہہ در تہہ نظام کی نشاندہی کی۔ ان کے مطابق ٹک ٹاک لائیو پر ہونے والی گفٹنگ محض تحفے نہیں بلکہ ایف آئی اے کی ادارہ این سی سی آئی اے کے مطابق باقاعدہ جوئے کی ایک شکل ہے۔
جس میں راتوں رات امیر ہونے کے مواقع دیکھ کر محبتیں اور دشمنیاں پیدا ہوتی ہیں۔ گاڑیاں زیورات گھر تک تحفے میں دیے جاتے رہے۔
اور ایک متاثرہ لڑکی کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ایک نوجوان نے دو کروڑ روپے سے زائد کی خریداری کروانے اور مہنگی گاڑی دلوانے کے بعد جب مطالبات پورے نہ ہونے پر لڑکی پر حملہ کیا تو اس نے خود اعتراف کیا کہ وہ سبق سکھانے کے لیے ایسا کر رہا تھا۔
کرائم جرنلسٹ نے معاشرتی ذمہ داری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ والدین کو اپنی اولاد پر نظر رکھنی چاہیے کہ وہ کہاں جا رہے ہیں کس کے کہنے پر جا رہے ہیں اور پیسہ کہاں سے آ رہا ہے۔
انہوں نے پارلیمنٹ علما دانشوروں اور معاشرے کے ہر طبقے سے اپیل کی کہ اس بگاڑ کو روکنے کے لیے مشترکہ کوشش کی جائے، ورنہ آئے روز نئی عائشہ اور نئی سنا یوسف اسی طرح قتل ہوتی رہیں گی۔
پولیس کی تفتیش تاحال ٹھوس نتیجے پر نہیں پہنچی، تاہم موبائل ڈیٹا اور سی ڈی آر ریکارڈ کی بنیاد پر ماہرین کا خیال ہے کہ اگر تفتیش ایمانداری سے آگے بڑھائی جائے تو اصل ملزمان تک پہنچنا ممکن ہے اور انہیں سزا دلوا کر عوام کے سامنے مثال بنانا ضروری ہے تاکہ آئندہ کوئی اور عائشہ اسی طرح گولی کا نشانہ نہ بنے۔
New Book | The Islamic Capital Engine Shariah-native wealth systems in the age of AI, tokenisation, and digital sovereignty.
The Islamic Capital Engine challenges the conventional trajectory of Islamic finance and presents a comprehensive blueprint for building Shariah-native wealth systems in the age of AI, tokenisation, and digital sovereignty.
This book is about what Islamic finance becomes when it stops translating and starts building. For fifty years, Sharia scholars have retrofitted legal opinions onto a financial architecture designed by others. That work was necessary. It is now finished. The architecture itself is being rebuilt by AI, tokenisation, and programmable ownership, and for the first time in a century the Muslim world has the chance to design rather than adapt.
The Islamic Capital Engine sets out that design in full. It moves from the failure of compliance-only finance to the mechanics of debt fragility, from continuous Sharia risk scoring and machine-readable purification to index construction, ETF operations, on-chain waqf, halal DeFi, and the capital strategy the Ummah will need across the climate transition, the AI economy, and the space frontier. It closes with a blueprint and a ten-year implementation plan.
None of this can be built by scholars alone, or by financiers alone. The jurist must learn the machinery of markets. The professional must learn the substance of the law. This book is written for both, at once.
#HMQ #ShaykhHammadQadri #HammadMustafaQadri #TheIslamicCapitalEngine #IslamicFinance #ShariahFinance #IslamicEconomics #AI #HalalFinance #IslamicBanking #DeFi #Waqf #FutureOfFinance
مؤمن کا مرتبہ یہ نہیں کہ وہ لوگوں کے عیب تلاش کرے بلکہ اس کی شان یہ ہے کہ وہ پردہ پوشی کرے، آسانیاں تلاش کرے اور مخلوق کے لیے رحمت بن جائے۔ مؤمن کی پہچان قوّتِ بازو سے نہیں بلکہ ایمان، اتّحاد، کردار، خدمتِ خلق اور سیرتِ مصطفیٰ ﷺ سے وابستگی سے قائم ہوتی ہے۔
نوجوان اپنی صلاحیتوں کو نہ صرف دنیاوی کامیابی تک محدود رکھیں بلکہ اپنے علم و کردار اور عمل کو دین، امّتِ مسلمہ اور اِنسانیّت کی خدمت کے لیے وقف کریں۔ جب اپنی زندگیوں میں رحمت کو انتقام پر، اتحاد کو اختلاف پر، حُسنِ ظن کو بدگمانی پر، خدمت کو خود غرضی پر اور آخرت کو دنیا پر ترجیح دیں گے تو اللہ تعالیٰ کمزوریوں کو طاقت، انتشار کو اتحاد اور مایوسی کو امید میں بدل دے گا۔ یہی سیرتِ نبوی ﷺ کا آفاقی پیغام ہے، یہی امتِ مسلمہ کی نشاۃِ ثانیہ کا راستہ ہے اور یہی دنیا و آخرت کی حقیقی کامیابی کا ضامن ہے۔
#ShaykhHammadQadri #humanity #Forgiveness #Compassion