کائنات کا سب سے خطرناک ترین پتھر
کائنات کا سب سے خطرناک اور جادوئی پتھر... جو ان��ان کو پگھلا سکتا ہے! 😱💀
کیا آپ یقین کریں گے کہ زمین کی گہرائیوں میں ایک ایسا پتھر بھی چھپا ہوا ہے، جس کا صرف ایک چھوٹا سا ٹکڑا پورے شہر کو مہینوں تک بجلی دے سکتا ہے... لیکن اگر اسے غلطی سے بھی چھو لیا جائے، تو یہ انسان کو اندر سے پگھلا کر رکھ دیتا ہے؟
جی ہاں! ہم بات کر رہے ہیں یورینیم (Uranium) کی... کائنات کا وہ عنصر جس نے دنیا کی تاریخ اور طاقت کا ترازو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔
💡 یہ عام مٹی نہیں، ایک "ٹائم بم" ہے!
ظاہری شکل میں یہ مٹیالے یا سرمئی رنگ کا ایک عام سا پتھر لگتا ہے۔ لیکن اس کی طاقت کا اندازہ آپ اس حیران کن موازنے سے لگائیں:
صرف 1 گرام یورینیم اتنی انرجی پیدا کر سکتا ہے جتنی 3,000 کلو کوئلہ یا 560 لیٹر پیٹرول مل کر کرتے ہیں!
اگر ہماری گاڑیاں یورینیم پر چل سکتیں، تو زندگی میں صرف ایک بار چند گرام یورینیم ڈالنے کے بعد ہمیں کبھی پیٹرول پمپ جانے کی ضرورت نہ پڑتی۔
🧪 اندھیرا جو ہرا چمکتا ہے! 🔋
یورینیم کی سب سے پراسرار بات اس کی تابکاری (Radiation) ہے۔ اگر اسے بالکل اندھیرے کمرے میں رکھا جائے، تو یہ ہلکی ہری روشنی (Neon Green) خارج کرتا ہے۔
یہ چمک دیکھنے میں جتنی خوبصورت اور جادوئی لگتی ہے، اصل میں موت کا دوسرا نام ہے۔ اس سے نکلنے والیঅদৃশ্য شعاعیں (Alpha, Beta, Gamma rays) سیکنڈوں میں انسان کے خلیات اور ڈی این اے (DNA) کو تباہ کر دیتی ہیں۔ اسی لیے اسے ہاتھ لگانا تو دور، اس کے قریب جانے کے لیے بھی خاص قسم کے روبوٹس اور حفاظتی سوٹس کا استعمال کیا جاتا ہے۔
🚀 تباہی کا سامان یا مستقبل کا فیول؟
انسان نے جب اس جادوئی پتھر کی طاقت کو دریافت کیا، تو دنیا دو حصوں میں بٹ گئی:
1️⃣ ایٹم بم (The Dark Side): تاریخ کا سب سے ہولناک ہتھیار، جس نے ہیروشیما اور ناگاساکی کو سیکنڈوں میں راکھ کا ڈھیر بنا دیا اور لاکھوں زندگیاں نگل لیں۔
2️⃣ نیوکلیئر پاور (The Bright Side): وہ بجلی جو بغیر کسی دھوئیں اور فضائی آلودگی کے، آج دنیا کے کروڑوں گھروں اور فیکٹریوں کو روشن کر رہی ہے۔
آج دنیا کے سپر پاور ممالک اس "پراسرار مٹی" کو حاصل کرنے کے لیے اربوں ڈالر پانی کی طرح بہا رہے ہیں، کیونکہ سب جانتے ہیں کہ جس کے پاس یورینیم کے ذخائر ہیں، دنیا کی طاقت اسی کی مٹھی میں ہے!
💬 اب آپ بتائیں: آپ کے خیال میں یورینیم انسان کے لیے قدرت کا ایک بہترین تحفہ ہے یا زمین کو تباہ کرنے والی ایک لعنت؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور دیں!
حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی میں ٹھہراؤ اور اطمینان دیکھ کر بندہ حیران رہ جاتا ہے۔ انہیں کسی کام کی جلدی نہیں ہے۔ سکون سے معاملات کو دیکھتے اور برداشت کرتے ہیں۔
جیل میں ان کے دو ساتھیوں نے خواب ��یکھا تو تعبیر پوچھی۔
حضرت یوسف علیہ السلام تعبیر جانتے تھے لیکن پوچھنے کے فورا بعد نہیں بتائی۔
پہلے اچھا خاصا وقت توحید کی دعوت دینے پر لگایا، پھر تعبیر بتائی۔
ہم جیسا کوئی شخص ہوتا تو فورا تعبیر بتانے لگ جاتا کیونکہ ہم زیادہ دیر خاموش نہیں رہ سکتے۔
عزیز مصر کو خواب کی تعبیر بتائی تو اس نے حکم دیا کہ :
ائْتُوْنِیْ بِهٖۚ
یوسف کو میرے پاس لے کر آؤ۔ (سورت یوسف: 50)
لیکن حضرت یوسف علیہ السلام نے بادشاہ کے ایلچی کو کہا کہ مجھے باہر نکلنے کی جلدی نہیں ہے۔
واپس اپنے مالک کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا قصہ ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے تھے؟ میرا رب ان عورتوں کے مکر سے خوب واقف ہے۔
یہاں پر دیکھیے کہ حضرت یوسف علیہ السلام معاملے کو کتنے اطمینان کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔ انہیں معاملہ کو سلجھائے بغیر باہر نکلنے کی ذرا جلدی نہیں۔
پھر جب حضرت یوسف علیہ السلام مصر کے بادشاہ بن جاتے ہیں تو ان کے بھائی غلہ لینے کےلیے فلسطین سے مصر پہنچتے ہیں۔
اس موقع پر قرآن کا بیان ہے :
فَعَرَفَهُمْ وَ هُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ
تو یوسف نے انہیں پہچان لیا اور وہ یوسف کو نہیں پہچانے۔ (سورت یوسف: 58)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ حضرت یوسف علیہ السلام تو پہلی بار ہی اپنے بھائیوں کو پہچان چکے تھے لیکن اظہار کرنے میں جلدی نہیں کی۔ خاموشی سے ان کے معاملات کو دیکھتے رہے ۔
یقینا وہ کئی دن مصر میں ٹھہرے ہوں گے، بار بار حضرت یوسف علیہ السلام کے سامنے آتے رہے ہوں گے اور حضرت یوسف علیہ السلام کا دل بھی چاہتا ہوگا کہ بھائیوں کو اپنے بارے میں بتا دوں لیکن حوصلہ ، حوصلہ اور حوصلہ۔
ہر بات بتانے کا ایک وقت ہوتا ہے، وقت سے پہلے بتا دی جائے تو بات اپنی اہمیت کھو بیٹھتی ہے۔
پھر جب دوسری بار یہی بھائی غلہ لینے آئے تو اب بھی انہیں نہیں بتایا کہ میں یوسف ہوں۔ صرف اپنے سگے بھائی یعنی بنیامین کو اکیلے میں بلایا اور کہا:
اِنِّیْۤ اَنَا اَخُوْكَ
یقین کرو کہ میں تمہارا بھائی ہوں۔ (سورت یوسف: 69)
ان کو اس لیے بتایا کیونکہ بعض لوگوں کو اپنا راز بتانا ایسے ہی ہوتا ہے جیسے کسی کو بتایا ہی نہیں۔
پھر جب برادران یوسف مصر سے جانے لگے تو ان پر چوری کا الزام لگا۔ وہ حیران رہ گئے اور کہنے لگے کہ ہمارا سامان دیکھ لیا جائے۔
جب سامان دیکھا گیا تو بنیامین کے تھیلے سے بادشاہ کا پیالہ نکل آیا۔ اس موقع پر بھائیوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کے سامنے ان پر تہمت لگاتے ہوئے کہا:
اِنْ یَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنْ قَبْلُۚ-
اگر اس (بنیامین) نے چوری کی ہے تو (کچھ تعجب نہیں ، کیونکہ) اس کا ایک بھائی (یعنی یوسف) اس سے پہلے بھی چوری کر چکا ہے۔ (سورت یوسف: 77)
اب یہ موقع تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام بول پڑتے لیکن حوصلہ، حوصلہ اور حوصلہ۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
فَاَسَرَّهَا یُوْسُفُ فِیْ نَفْسِهٖ وَ لَمْ یُبْدِهَا لَهُمْۚ
یوسف نے اس بات کو اپنے دل میں چھپا لیا اور اسے ان کے سامنے ظاہر نہیں کیا۔ (سورت یوسف: 77)
پھر تیسری بار جب وہ غلہ لینے آئے تو اب بتایا کہ میں یوسف ہوں۔ بھائیوں نے معافی مانگی تو حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا:
لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَؕ-یَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ٘-وَ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ
آج تم پر کوئی ملامت نہیں ہوگی۔ اللہ تمہیں معاف کرے ، وہ سارے رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔ (سورت یوسف: 92)
یہ الفاظ اتنے حوصلے کے ساتھ ادا کیے گئے ہیں کہ لگتا ہے حضرت یوسف کے ساتھ ان کے بھائیوں نے کبھی کوئی قابلِ ملامت کام کیا ہی نہیں۔
دو تین جملوں میں سالہا سال کے حسد کو معاف کر کے رکھ دیا۔ یہ کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔ اس کےلیے صبر اور حوصلہ چاہیے۔
پھر جب چوتھی بار سارے بھائی اپنے والدین کے ساتھ مصر پہنچے اور حضرت یوسف علیہ السلام نے انہیں تخت پر بٹھایا اور اللہ تعالی کی نعمتوں کو یاد کیا تو فرمانے لگے:
وَ قَدْ اَحْسَنَ بِیْۤ اِذْ اَخْرَجَنِیْ مِنَ السِّجْنِ
میرے رب نے مجھ پر بڑا احسان کیا کہ مجھے قید خانے سے نکال دیا۔ (سورت یوسف: 100)
یہاں جیل سے نکلنے کا ذکر تو کیا لیکن کنویں سے نکلنے کا ذکر نہیں کیا کیونکہ سامنے بھائی بیٹھے تھے۔ انہیں شرمندگی ہوتی۔ یہ کام با حوصلہ شخص ہی کر سکتا ہے جس میں صبر کوٹ کوٹ کر بھرا ہو۔
ہم سورت یوسف میں حضرت یعقوب علیہ السلام کا صبر تو پڑھتے ہیں لیکن کبھی حضرت یوسف علیہ السلام کا صبر نہیں پڑھا۔ حالانکہ ان کی زندگی بھی اپنے والد کے صبر کا پرتو ہے۔
👇
ایک عورت سڑک پر ایک آدمی کے پاس آتی ہے اور کہتی ہے
"معاف کیجیے جناب
میں ایک چھوٹا سا سروے کر رہی ہوں
کیا میں آپ سے کچھ سوال کر سکتی ہوں"
آدمی
"جی بالکل"
عورت
"فرض کریں کہ آپ بس میں بیٹھے ہیں اور ایک خاتون بس میں سوار ہوئی اور اس کے پاس سیٹ دستیاب نہیں ہے
کیا آپ اس کے لیے اپنی سیٹ چھوڑ دیں گے"
آدمی
"نہیں"
اس عورت نے اپنے پاس موجود پیپر پر نظر دوڑاتے ہوئے "بے ادب" کے خانے پر ٹک کرتے ہوئے دوسرا سوال کیا
"اگر بس میں سوار خاتون حاملہ ہو تو کیا آپ اپنی سیٹ چھوڑ دیتے"
آدمی
"نہیں"
اب کی بار "خود غرض" پر ٹک کرتے ہوئے اگلا سوال کیا
"او�� اگر وہ خاتون جو بس میں سوار ہوئی ایک بزرگ خاتون ہوں تو کیا آپ اسے اپنی سیٹ دیں گے"
آدمی
"نہیں"
عورت غصے سے بولی
"تم ایک نہایت خود غرض اور بے حس آدمی ہو جس کو خواتین اور بزرگوں کے آداب نہیں سکھائے گئے"
یہ کہتے ہوئے عورت آگے چلی گئی
پاس کھڑا ایک دوسرا آدمی جو یہ گفتگو سن رہا تھا اس نے پوچھا
"اس عورت نے تمہیں اتنی باتیں سنائیں تم نے کوئی جواب کیوں نہیں دیا"
تو اس آدمی نے جواب دیا
"یہ عورت اپنی چھوٹی سوچ اور آدھی معلومات کی بنا پر سروے کر کے لوگوں کا کردار طے کرتی پھر رہی ہے
اگر یہ مجھ سے سیٹ نہ چھوڑنے کی وجہ پوچھتی تو میں اسے بتاتا کہ
میں ایک بس ڈرائیور ہوں"
ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ ہم ادھوری معلومات کی بنیاد پر دوسروں کو جانچنے اور ان کے بارے میں رائے قائم کرنے لگتے ہیں😂😂
بیوی کے انتقال کے دن حامد
صاحب کی عمر صرف پینتالیس برس تھی۔
تعزیت کے لیے آنے والے ہر شخص نے ایک ہی مشورہ دیا۔
"حامد، ابھی تمہاری عمر ہی کیا ہے؟ دوسری شادی کر لو۔"
وہ ہر بار مسکرا دیتے، پھر اپنے
❤️❤️❤️❤️ مدنی سومرو ❤️ ❤️ ❤️ ❤️ ❤️
بارہ سالہ بیٹے عمار کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہتے، "
اللہ نے مجھے اس کی صورت میں میری بیوی کی آخری امانت دے دی ہے۔ اب میری باقی زندگی اسی امانت کی حفاظت ہے۔"
اس کے بعد انہوں نے واقعی اپنی زندگی بیٹے کے نام کر دی۔ کاروبار بڑھتا گیا، مگر ان کی دنیا سمٹ کر صرف ایک لڑکے کی مسکراہٹ رہ گئی۔ اپنی خواہشیں، اپنی تنہا��یاں، اپنی راتیں... سب انہوں نے خاموشی سے دفن کر دیں۔
وقت نے پلٹا کھایا۔
عمار جوان ہوا، اعلیٰ تعلیم حاصل کی، اور ایک دن باپ نے سارا کاروبار اس کے حوالے کر دیا۔
"اب تم سنبھالو۔ میں تھک گیا ہوں۔"
لیکن تھکن جسم کی نہیں تھی... رشتے کی تھی، جسے وہ خود اپنے ہاتھوں آہستہ آہستہ پیچھے ہٹا رہے تھے۔
پھر عمار کی شادی ہو گئی۔
گھر میں نئی ہنسی آئی، نئے پردے لگے، فرنیچر بدلا، برتن بدلے، حتیٰ کہ باورچی خانے کی ترتیب بھی بدل گئی۔
اور حامد صاحب؟
وہ بھی بدل گئے۔
اب وہ کبھی دفتر میں بیٹھے رہتے، کبھی کسی پرانے دوست کی دکان پر چائے پیتے، اور شام ڈھلے صرف سونے کے لیے گھر لوٹتے۔ اپنے ہی گھر میں وہ ایسے چلتے جیسے کسی اور کے مکان میں مہمان ہوں۔
ایک دوپہر سب ایک ہی دسترخوان پر بیٹھے تھے۔
حامد صاحب نے روٹی کا آخری نوالہ توڑتے ہوئے نرمی سے کہا،
"بیٹا... اگر ذرا سا دہی ہو تو دے دو۔"
باورچی خانے سے بہو کی آواز آئی،
"آج گھر میں دہی نہیں ہے، ابا جی۔"
"اچھا..." انہوں نے پانی کا گھونٹ لیا اور خاموشی سے اٹھ گئے۔
کسی نے ان کے چہرے پر نظر نہیں ڈالی۔
وہ حسبِ معمول واک کے لیے نکل گئے۔
ان کے جاتے ہی بہو نے فریج کھولا، ٹھنڈی دہی کی پیالی نکالی اور عمار کے سامنے رکھ دی۔
"گرمی بہت ہے، دہی کے بغیر تمہارا کھانا مکمل نہیں ہوتا۔"
عمار نے پیالی کی طرف دیکھا۔
پھر دروازے کی طرف، جہاں سے ابھی ابھی اس کے باپ کی آہستہ آہستہ دور ہوتی چپلوں کی آواز گم ہوئی تھی۔
اس نے ایک لمحے کو بیوی کی آنکھوں میں دیکھا۔
پھر خاموشی سے دہی کھا لی۔
اس نے کوئی جھگڑا نہیں کیا۔
کوئی نصیحت نہیں کی۔
صرف اس دن کے بعد اس کے اندر کچھ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا۔
چند روز گزرے۔
ایک صبح اس نے والد سے کہا،
"ابا، آج دس بجے تیار رہیے گا۔ ہمیں کچہری جانا ہے۔"
"کیوں؟"
"آپ کی شادی ہے۔"
حامد صاحب کے ہاتھ سے اخبار پھسل گیا۔
"پاگل ہو گئے ہو؟ اس عمر میں؟ مجھے کسی شادی کی ضرورت نہیں۔ میں نے تو ساری زندگی تمہارے لیے گزاری ہے۔"
عمار نے پہلی بار باپ کی آنکھوں میں ویسے دیکھا جیسے ایک مرد دوسرے مرد کی قربانی کو پہچانتا ہے۔
"ابا... میں آپ کے لیے ماں نہیں لا رہا، نہ اپنی بیوی کے لیے ساس۔"
وہ رکا، پھر دھیرے سے بولا،
"میں صرف آپ کے لیے ایک پیالی دہی کا بندوبست کر رہا ہوں۔"
کمرے میں ایسی خاموشی اتری کہ دیوار پر لگی گھڑی کی ٹک ٹک بھی شرمندہ محسوس ہونے لگی۔
عمار نے جیب سے گھر کی چابی نکالی اور میز پر رکھ دی۔
"آج شام میں اور میری بیوی کرائے کے ایک چھوٹے سے فلیٹ میں منتقل ہو جائیں گے۔ کل سے میں آپ کے دفتر میں صرف ایک ملازم کی حیثیت سے آؤں گا، تنخواہ لوں گا... تاکہ جس گھر کی ہر چیز آپ نے ہمیں دے دی، وہاں رہنے والوں کو ایک پیالی دہی کی قیمت سمجھ آ جائے۔"
باورچی خانے میں کھڑی بہو کے ہاتھ سے شیشے کا گلاس چھوٹ کر فرش پر بکھر گیا۔
ٹوٹنے کی آواز معمولی تھی، مگر اس کے اندر برسوں سے جمی ہوئی خود غرضی میں ایک دراڑ پڑ چکی تھی۔
وہ لرزتے قدموں سے باہر آئی۔ اس کی نظریں جھکی ہوئی تھیں۔ فریج سے دہی کی وہی پیالی نکالی، جسے چند لمحے پہلے اس نے صرف اپنے شوہر کے لیے محفوظ رکھا تھا، اور خاموشی سے حامد صاحب کے سامنے رکھ دی۔
پھر ان کے قدموں میں بیٹھ گئی۔
"ابا جی... مجھے معاف کر دیجیے۔ آج سمجھ آئی ہے کہ می�� نے آپ سے دہی نہیں، آپ کا حق چھینا تھا۔"
حامد صاحب نے کانپتے ہاتھوں سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا، مگر ان کی آنکھوں میں ایسی نمی تھی جو صرف بڑھاپے کی تنہائی جانتی ہے۔
انہوں نے دھیرے سے کہا،
"بیٹی... بھوک روٹی نہ ملنے سے نہیں لگتی... بھوک اس دن لگتی ہے جب اپنے ہی گھر میں انسان کو یہ احساس دلایا جائے کہ وہ اضافی ہے۔
عمار نے آگے بڑھ کر باپ کے ہاتھ تھام لیے۔
اس روز نہ کوئی عدالت گیا، نہ کوئی نکاح ہوا، نہ کوئی گھر بکھرا۔
صرف ایک دسترخوان پر بیٹھے تین لوگوں نے پہلی بار ایک دوسرے کو دیکھنا سیکھ لیا۔
اور اس دن کے بعد اس گھر میں دہی کبھی ختم نہیں ہوئی.
رشتے روٹی سے نہیں نبھتے، عزت سے نبھتے ہیں؛ اور جس گھر میں بزرگ کی عزت کم ہو جائے، وہاں نعمتیں چاہے جتنی بھی ہوں، برکت خاموشی سے دروازہ چھوڑ جاتی ہے۔
پاکستان 🇵🇰 میں دسویں اور بارہویں پاس کرنے کے بعد پیسے نا ہونے کی وجہ سے پڑھائی چھوڑنے والے لاکھوں نوجوانوں کے لیے خوشخبری: مفت ڈیجیٹل ہنر سیکھیں اور بین الاقوامی سطح پر کمائی شروع کریں۔
حقیقت: لاکھوں بچے مالی مجبوریوں کی وجہ سے تعلیم جاری نہیں رکھ پاتے
پاکستان میں تعلیم کا بحران انتہائی سنگین صورت اختیار کر چکا ہے۔ وزارت تعلیم کے اعداد و شمار کے مطابق، ملک بھر میں 5 سے 16 سال کی عمر کے 26.2 ملین بچے اسکول سے باہر ہیں۔ سیکنڈری سطح (یعنی دسویں جماعت) پر 4.55 ملین بچے تعلیم حاصل نہیں کر پاتے، جبکہ ہائر سیکنڈری سطح (بارہویں جماعت) پر یہ تعداد 5.95 ملین تک پہنچ جاتی ہے۔
اعداد و شمار مزید بتاتے ہیں کہ صرف 40 فیصد بچے مڈل اسکول تک پہنچ پاتے ہیں، اور صرف 30 فیصد میٹرک مکمل کر پاتے ہیں۔ اس ڈراپ آؤٹ کی سب سے بڑی وجہ مالی مجبوریوں ہیں۔ غریب گھرانے تعلیم کے اخراجات جیسے ٹیوشن فیس، یونیفارم، اور کتابیں برداشت نہیں کر پاتے، جس کی وجہ سے بچے مجبوراً کام کرنے یا گھر پر رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
یہ صورتحال اگرچہ انتہائی پریشان کن ہے، لیکن اب اس کا ایک حل موجود ہے — ڈیجیٹل اسکلز اور فری لانسنگ۔
خوشخبری: ڈیجیٹل ہنر آپ کی کامیابی کی کنجی ہیں
فری لانسنگ پاکستان میں روزگار کا ایک بڑا ذریعہ بن چکی ہے۔ اکنامک سروے 2025-26 کے مطابق، پاکستان کے فری لانسرز کی سالانہ کمائی 642 ملین ڈالر سے بڑھ کر 959 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ پاکستان اب دنیا کے ٹاپ فائیو فری لانسنگ ممالک میں شامل ہے، جہاں 3 ملین سے زائد ایکٹیو فری لانسرز کام کر رہے ہیں۔
آئی ٹی سیکٹر کی ایکسپورٹس 3.38 بلین ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، جس میں فری لانسرز کا 856 ملین ڈالر کا کردار ہے۔ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہے کہ اگر آپ کے پاس صحیح اسکل ہے تو آپ دنیا میں کہیں بھی بیٹھ کر کمائی کر سکتے ہیں — چاہے آپ کے پاس 10ویں یا 12ویں کی ڈگری ہو یا نہ ہو۔
مفت اور قابلِ اعتماد وسائل سے سیکھیں
1. DigiSkills Pakistan (https://t.co/Xy3Pnxcesc) — گورنمنٹ آف پاکستان کا مفت پروگرام
یہ وزارت آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کا فلیگ شپ پروگرام ہے جو مکمل طور پر مفت ہے۔ اب تک اس پروگرام میں 4.87 ملین سے زائد انرولمنٹ ہو چکی ہے، اور اس کے فری لانسرز نے 1.65 بلین ڈالر کا زرمبادلہ کمایا ہے۔
دستیاب کورسز (18 کورسز):
Freelancing
Graphics Design
WordPress
Search Engine Optimization (SEO)
Digital Marketing
Virtual Assistant
Data Analytics & Business Intelligence
Artificial Intelligence with Python
UI/UX & Webflow
AutoCAD
QuickBooks
E-Commerce Management
اور بہت سے دیگر
رجسٹریشن:
https://t.co/y7LEyhthsE
2. Prime Minister Digital Youth Hub (PMYP Digital Youth Hub)
یہ پلیٹ فارم 18 سے 35 سال کے تمام پاکستانی شہریوں کے لیے مفت ہے۔ یہاں آپ کو AI-based کیریئر گائیڈنس، ٹیکنیکل ٹریننگ، انٹرن شپس، اور اسکالرشپس تک رسائی ملتی ہے۔
رجسٹریشن:
https://t.co/n2sjfBAAoJ
3. HEC DLSEI 3.0 — مفت Coursera لائسنس
ہائر ایجوکیشن کمیشن نے 30,000 مفت Coursera لائسنس جاری کیے ہیں، جس کے ذریعے آپ 18,000 سے زائد کورسز تک مفت رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
رجسٹریشن:
https://t.co/ZOFoPGcZhH
4. AI Seekho 2026 — Google کا مفت AI پروگرام
Google for Developers اور وزارت آئی ٹی کا مشترکہ پروگرام جو مکمل طور پر مفت ہے۔ اس میں Generative AI اور Vibe Coding سکھائی جاتی ہے۔
رجسٹریشن:
https://t.co/VQpAR3Zl09
6 ماہ کا حقیقت پسندانہ روڈ میپ — فری لانسنگ کے لیے مکمل گائیڈ
مہینہ 1-2: بنیادی مہارتیں اور پلیٹ فارم کا انتخاب
پہلے دو مہینوں میں ایک ہی اسکل کا انتخاب کریں اور اس پر مکمل فوکس کریں۔ مختلف اسکلز میں بکھرنے کے بجائے ایک اسکل میں مہارت حاصل کریں۔
انتخاب کے لیے بہترین اسکلز:
1. Graphics Design — Canva اور Figma سیکھیں
2. Web Development — WordPress یا MERN Stack
3. SEO & Digital Marketing — Google Ads اور Meta Ads
4. Data Analytics — Excel اور Power BI
5. AI with Python — مشین لرننگ اور آٹومیشن
وسائل:
https://t.co/Xy3Pnxcesc کا کورس مکمل کریں
YouTube پر مفت ٹیوٹوریلز دیکھیں
freeCodeCamp پر کوڈنگ کی پریکٹس کریں
مہینہ 3: پورٹ فولیو بنائیں
اب آپ کو اپنے سیکھے ہوئے ہنر کو عملی طور پر دکھانا ہے۔ 5 سے 10 کلائنٹ ریڈی پروجیکٹس بنائیں جو آپ کی مہارت کو ظاہر کریں۔
م��ال:
گرافکس ڈیزائنر: 5 لوگو، 3 سوشل میڈیا پوسٹس، 1 برانڈ گائیڈ
ویب ڈویلپر: 3 مکمل ویب سائٹس
SEO ماہر: 5 ویب سائٹس کی آڈٹ رپورٹس
مہینہ 4: فری لانسنگ پلیٹ فارمز پر پروفائل بنائیں
اب آپ کو اپنی سروسز کو بیچنا ہے۔
From inside the Holy Kaaba, the Deputy Governor of Makkah Region, Prince Saud bin Mishal bin Abdulaziz, had the honor of participating in the washing of the Kaaba.
لکھنا خاص طور پر خطاطی ایک جلد فنا ہونے والا فن ہے۔ مستقبل قریب میں نہیں لیکن ایک دن اسے اپنے اس مقدر سے ملنا ہے کیونکہ ٹائپنگ ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن چکی ہے۔ فی زمانہ کسی بھی ہاتھ سے لکھی ہوئی تحریر کی بجائے اسے ٹائپ شدہ شکل میں پسند کیا جاتا ہے۔ بحیثیت مسلمان ہمیں اس کی بحالی کے لیے جدوجہد کرنی ہوگی اگر یہ فن تیزی سے معدوم ہوتا جا رہا ہے۔ خطاطی کی تربیت کے ادارے کھولے جائیں اور یہ کام جنگی بنیادوں پر کیا جائے ورنہ
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں
ایسا وعدہ جو چودہ سو سال سے زیادہ ہو جانے کے باوجود نبھایا جا رہا ہے ۔
اگر آپ مواجہہ شریف پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کرنے کے لیے کھڑے ہوں اور اپنے پیچھے نظر ڈالیں تو آپ کو ایک بڑی کھڑکی نظر آئے گی، یہ کھڑکی بند نہیں ہوئی کیونکہ ایک عظیم صحابی رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹی سے وعدہ کر ��کھا ہے کہ یہ کھڑکی ہمیشہ کھلی رہے گی اور یہ آج بھی کھلی ہے. یہ اب تک کا سب سے بڑا اور طویل وعدہ ہے۔
سنہ 17 ہجری میں اسلامی فتوحات کے نتیجے میں مسلمانوں کی کثیر تعداد کی وجہ سے خلیفہ دوم سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے مسجد نبوی کی توسیع کا حکم دیا لیکن حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو ایک بڑی مشکل در پیش تھی وہ یہ کہ ام المؤمنین سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کا حجره جنوبی جانب اس جگہ واقع تھا جہاں اب لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے صلوۃ و سلام کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔
یہ وہی جگہ ہے جہاں سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا حجرہ تھا.
اور اگر ہم دیکھیں کہ یہ کمرہ جنوب کی طرف اکیلا ہے اور مسجد کے لیے اسی جانب توسیع کرنا پڑ رہی تھی اس لیے سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کے حجرے کا ہٹانا ضروری تھا
لیکن سوال یہ تھا کہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو اس حجرے کے خالی کرنے یہ کیسے آمادہ کیا جائے، جس میں ان کے شوہر صلی اللہ علیہ وسلم سویا کرتے تھے ؟
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ صاحبزادی کے پاس آتے ہیں کہ انہیں اس بات پر ��مادہ کیا جائے لیکن ام المؤمنین یہ سن کر پھوٹ کر رو پڑیں اور اپنے اس شرف و عزت بھرے حجرے سے نکلنے سے انکار کر دیا جس میں ان کے محبوب شوہر صلی اللہ علیہ وسلم آرام فرمایا کرتے تھے،
چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے واپس لوٹ آئے اور دو دن بعد دوبارہ یہی کوشش کی یہ لیکن معاملہ جوں کا توں تھا۔
ام المومنین دو ٹوک انکار کرتی جا رہی تھیں اور کوئی بھی انہیں اس بات پہ آمادہ کرنے کی کامیاب کوشش نہیں کر پا رہا تھا
اب دیگر اصحاب رسول ﷺ بھی ام المؤمنین کو راضی کرنے کے لیے کوشاں ہوئے، لیکن ام المومنین نے مختلف طریقوں سے انکار کر دیا کیونکہ وہ ایک شرف و عزت والے حجرے میں رہ رہی تھیں جہاں فقط ایک دیوار کے پار ان کے محبوب شوہر کی قبر مبارک تھی وہ کیسے مطمئن ہو سکتی تھیں کہ انہیں اس سے دور کر دیا جائے؟
اب کے بار سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور دیگر عمر بڑی خواتین ساتھیوں نے مداخلت کی، لیکن سیده حفصہ رضی اللہ عنہا نے ایک بڑی شرط کے علاوہ اپنا فیصلہ ترک کرنے سے انکار کر دیا، اور وہ شرط یہی تھی کہ ان کے لیے ایک کھڑکی کھول دی جائے جہاں سے وہ اپنے محبوب شوہر صلى الله علیہ وسلم کی قبر مبارک کو دیکھتی رہیں اور وہ کبھی بند نہیں ہوگی چنانچہ سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے ان کی یہ شرط مان لی اور یہ وعدہ بھی کرلیا اور یہ وعدہ آج تک قائم ہے اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے 1400 سال بعد بھی یہ کھڑکی کھلی ہوئی ہے
اس کھڑکی کے متعدد نام خوخہ حفصہ" اور "خوخہ عمر" ہیں جنہیں
امام سیوطی اور ابن کثیر نے ذکر کیا ہے۔
آج تک جو بھی مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا متولی بنا ہے، اس نے اس کھڑکی کی دیکھ بھال کی اور اس وقت سے لے کر آج تک حضرت فاروق عمر رضی اللہ عنہ کا وعدہ پورا کیا کہ یہ کبھی بند نہیں ہوئی۔
دیکھیں ترقی یافتہ ملکوں میں گنے کی پنیری کیسے تیار کیا جاتی ہے اور پاکستان میں کسی زمین دار کو اس ٹیکنالوجی کا پتہ بھی نہیں ہے اور نہ زمین داروں کو حکومتیں یہ سہولیات دیتی ہیں نہ رہنمائی کرتی ہیں
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
اللہ کے فیصلوں پر افسوس مت کیا کرو، دولت پر ڈاکا پر جائے یا اکلوتا بیٹا وفات پا جائے۔۔ کیونکہ اگر تم افسوس کرو گے تو اسکا مطلب ہو گا تمہیں اللہ پر اعتماد نہیں ھے۔
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” تین طرح کے لوگ ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان سے بات بھی نہ کرے گا نہ ان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا بلکہ انہیں سخت دردناک عذاب ہو گا ۔ ایک وہ شخص جو سفر میں ضرورت سے زیادہ پانی لیے جا رہا ہے اور کسی مسافر کو ( جسے پانی کی ضرورت ہو ) نہ دے ۔ دوسرا وہ شخص جو کسی ( خلیفۃ المسلمین ) سے بیعت کرے اور صرف دنیا کے لیے بیعت کرے کہ جس سے اس نے بیعت کی اگر وہ اس کا مقصد پورا کر دے تو یہ بھی وفاداری سے کام لے ، ورنہ اس کے ساتھ بیعت و عہد کے خلاف کرے ۔ تیسرا وہ شخص جو کسی سے عصر کے بعد کسی سامان کا بھاؤ کرے اور اللہ کی قسم کھا لے کہ اسے اس کا اتنا اتنا روپیہ مل رہا تھا اور خریدار اس سامان کو ( اس کی قسم کی وجہ سے ) لے لے ۔ حالانکہ وہ جھوٹا ہے ۔“
صحیح البخاری 2672
اے میرے مالک 15, 20 گاڑیوں کے پروٹوکول کیساتھ اور 10کروڑ کی لینڈ کروزر میں بیٹھ کر گورنر پنجاب کی طرح پیاز (وسل ) کے ساتھ روٹی کھانے کی سادگی ہر پاکستانی کو نصیب فرما۔
آنے والے جانے والے ہر زمانے کے لیے
آدمی مزدور ہے راہیں بنانے کے لیے
आने वाले जाने वाले हर ज़माने के लिए
आदमी मज़दूर है राहें बनाने के लिए
زندگی فردوس گم گشتہ کو پا سکتی نہیں
موت ہی آتی ہے یہ منزل دکھانے کے لیے
ज़िंदगी फ़िरदौस-ए-गुम-गश्ता को पा सकती नहीं
मौत ही आती है ये मंज़िल दिखाने के लिए
میری پیشانی پہ اک سجدہ تو ہے لکھا ہوا
یہ نہیں معلوم ہے کس آستانے کے لیے
मेरी पेशानी पे इक सज्दा तो है लिक्खा हुआ
ये नहीं मा'लूम है किस आस्ताने के लिए
ان کا وعدہ اور مجھے ��س پر یقیں اے ہم نشیں
اک بہانہ ہے تڑپنے تلملانے کے لیے
उन का वा'दा और मुझे उस पर यक़ीं ऐ हम-नशीं
इक बहाना है तड़पने तिलमिलाने के लिए
جب سے پہرہ ضبط کا ہے آنسوؤں کی فصل پر
ہو گئیں محتاج آنکھیں دانے دانے کے لیے
जब से पहरा ज़ब्त का है आँसुओं की फ़स्ल पर
हो गईं मुहताज आँखें दाने दाने के लिए
آخری امید وقت نزع ان کی دید تھی
موت کو بھی مل گیا فقرہ نہ آنے کے لیے
आख़िरी उम्मीद वक़्त-ए-नज़अ' उन की दीद थी
मौत को भी मिल गया फ़िक़रा न आने के लिए
اللہ اللہ دوست کو میری تباہی پر یہ ن��ز
سوئے دشمن دیکھتا ہے داد پانے کے لیے
अल्लाह अल्लाह दोस्त को मेरी तबाही पर ये नाज़
सू-ए-दुश्मन देखता है दाद पाने के लिए
نعمت غم میرا حصہ مجھ کو دے دے اے خدا
جمع رکھ میری خو��ی سارے زمانے کے لیے
ने'मत-ए-ग़म मेरा हिस्सा मुझ को दे दे ऐ ख़ुदा
जम' रख मेरी ख़ुशी सारे ज़माने के लिए
نسخۂ ہستی میں عبرت کے سوا کیا تھا حفیظؔ
سرخیاں کچھ مل گئیں اپنے فسانے کے لیے
नुस्ख़ा-ए-हस्ती में 'इबरत के सिवा क्या था 'हफ़ीज़'
सुर्ख़ियाँ कुछ मिल गईं अपने फ़साने के लिए
حفیظؔ جالندھری
اللہ اکبر🙏
جرمن یونیورسٹی میں، انہوں نے گائے پر ایک ٹیسٹ کیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اسلامی طریقے سے ذبح کرتے وقت اسے درد محسوس ہوتا ہے یا نہیں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے ایک عمل کا استعمال کیا جسے ای ای جی (EEG) کہا جاتا ہے۔ وہ اسے گائے کے دماغ کا الیکٹریکل ڈایاگرام دیکھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، جس کے ذریعے انہیں معلوم ہو جاتا ہے کہ اسے کوئی درد محسوس ہوا یا نہیں۔ وہ گائے کو لائے اور اسے ٹیسٹنگ اور ذبح کرنے کے لیے تیار کیا۔
ذبح کے پہلے 3 سیکنڈز میں، دماغ کی الیکٹریسٹی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسے کسی قسم کا درد محسوس نہیں ہوا۔
اس کے اگلے 3 سیکنڈز میں یہ دیکھا گیا کہ گائے بے ہوش ہو گئی اور شدید خون بہنے، ذبح کی جگہ اور دماغ تک (خون) نہ پہنچنے کی وجہ سے مکمل طور پر سو گئی۔
6 سیکنڈز کے بعد ای ای جی (EEG) کے سگنلز رک گئے اور دماغ سے کوئی الیکٹریکل سگنل نہیں ملا، جس کا مطلب ہے کہ گائے بغیر کسی درد کے مر گئی۔
اسلام کی نعمت پر اللہ کا شکر ہے، اور یہ نعمت ہی ہمارے لیے کافی ہے۔