اگر ٹویٹر پر ہر ہر شخص حکومت پر پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر کھل کر تنقید کریں تو کل کے دن ہی سو روپے فی لیٹر سستا ہو جائے گا
یاد رکھیں اگر سب لوگ مل کر اس ہم ایسے پوسٹوں کو ری پوسٹ کریں لائک کریں تو یہ ممکن ہوگا
#PTI
ہنسنا منع ہے 😂
خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ کانسٹیٹیوشن ایونیو میں میرا کوئی ذاتی فلیٹ نہیں اور نہ ہی میرے پاس اتنی مالی استطاعت ہے کہ میں وہاں آٹھ ارب کےفلیٹس خرید سکوں۔
چند ماہ قبل مجھے معلوم ہوا کہ میرے نام، دستخط اور شناختی کارڈ کا استعمال کرتے ہوئے وہاں آٹھ فلیٹس میرے نام منتقل کر دیے گئے ہیں۔میں نے ٹاور مالکان کو متعدد بار مطلع کیا کہ یہ فلیٹس میرے نام سے ہٹا دیے جائیں، مگر ان کا کوئی مثبت جواب نہیں ملا۔
کل رات مجھے معلوم ہوا کہ یہ تمام فلیٹس میرے سوشل میڈیا مینیجر نے میرے نام پر خریدے تھے اور بینک نے بھی میرے علم کے بغیر ادائیگیاں منتقل کر دی تھیں۔
مقصود چپڑاسی کے بعد پیشِ خدمت ہے سوشل میڈیا مینیجر 😂
جنگ شروع ہوئی تو بنگلہ دیش میں تیل کی قیمت 130 تھی جو آج بھی 130 ہی ہے
ہمارے تب 257 تھی جو اب 399 ہے
بنگلہ دیش نے سارے کا سارا بوجھ بنگلہ دیش پیٹرولیم پر ڈالا عوام پر نہیں ہم نے سوچا اس سے پیسہ اکٹھا کرتے ہیں ہم نے قیمت کیساتھ لیوی بھی بڑھا دی اور سارا بوجھ عوام پر ڈالا
فرخ سلیم
تمام احباب پارٹیوں سے بالا تر ہو کر احترام کے دائرے میں رہتے ہوئے واپڈا کی طرف سے میٹر رینٹ کی صورت میں فکسڈ چارجز کے خلاف بھر پور آواز اٹھائی جائے
#meter_rent_namanzoor
“اس ملک کے ججوں کو خود پر شرم آنی چاہیے۔ ہم نے بارہا عدلیہ سے رجوع کیا، لیکن انہوں نے اپنی ذاتی مراعات کے عوض اپنے ضمیر کا سودا کر لیا ہے۔ انہوں نے اپنی دیانتداری بیچ ڈالی ہے۔
وہ جانتے ہیں کہ وہ مجھے توڑ نہیں سکتے، اس لیے وہ میری اہلیہ کو اذیت پہنچاتے ہیں۔ صرف مجھے بلیک میل کرنے کے لیے ججز بشریٰ بی بی کے ساتھ اس قدر غیر انسانی سلوک کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں؟ انہیں دن کے 24 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، اور پورے ہفتے میں مجھ سے ملاقات کے محض 30 منٹ دئیے جاتے ہیں، اور اکثر تو اس ملاقات پر بھی پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔ اسلام میں عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو نقصان پہنچانے کی ممانعت ہے۔ ان کے مقاصد بالکل واضح ہیں۔
جج معاشرے میں انصاف کے ذمہ دار ہوتے ہیں، لیکن اس ملک کے ججز کو خود پر شرم آنی چاہیے” -
ناحق قید سابق وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اپنے بیٹوں سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران پیغام
(21 مارچ، 2026)