🚨 امیر تحریک لبیک کی جبری گمشدگی کے خلاف دائر درخواست کی سماعت ایک دن کے لیے مزید ملتوی کردی گئی۔
جبری گمشدگی کیس کی سماعت اب کل کی بجائے، 16 اکتوبر 2026 بروز جمعہ کو ہوگی‼️
اللہ پاک اپنا خاص فضل و کرم فرمائے، آمین ثم آمین🤲🏻
@AliTallat1 کیا ہی عدلیہ کا نظام ہے اس ملک کے ایک شہری کو جبری حراست میں رکھنے کا کیس ، ایک سال سے ابھی تک سماعت ہی شروع نہیں ہوئی جب کہ جبری گمشدہ کیس تو ارجنٹ بیس پر ہونا چاہیے تھا۔
Release Saad Rizvi
@MohUmair87 6 بار ججز کو تبدیل کیا گیا ہے۔ ایک سال ہو چُکا لیکن اس ملک پاکستان میں ایک شہری کو انصاف فراہم کیا کرنا تھا اس ملک کے شہری کو ابھی تک عدالت میں پیش نہیں کیا گیا ۔
پہلے سماعت 15 اکتوبر تھی آج 16 اکتوبر کر دی گئی۔
Release Saad Rizvi Imminently ‼️
@munawar__pti افسوس اس ملک پاکستان میں انصاف کا جنازہ دھوم سے نکل رہا لیکن اس پر کوئی بات کرنے کو کوئی تیار نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اس ملک کا نظام انصاف کے حوالے سے 130 نمبر سے بھی آگے چلا گیا۔
Releases Saad Rizvi Immediately 💯
@ShakirAwan88 افسوس کا مقام ہے اس ملک پاکستان کی تیسری بڑی جماعت کے امیر کے ساتھ یہ سلوک کیا جا رہا ہے۔
ایک سال کا عرصہ جبری گمشدگی کیس میں عدل کا جنازہ ہے۔‼️
یقین ہے ججز اپنی غفلت کو مزید برقرار نہیں رکھیں گے بلکہ انصاف پر فیصلہ دیں گے۔
لاہور ہائیکورٹ: رضوی برادران کی جبری گمشدگی کے خلاف دائر درخواست کی سماعت 50 روزہ تعطل کے بعد 16 اکتوبر 2026 بروز جمعہ کو ہوگی
سربراہ ٹی ایل پی حافظ سعد حسین رضوی اور حافظ انس رضوی کے جبری گمشدگی کیس کی سماعت جسٹس جواد ظفر کریں گے
13 اکتوبر 2026 کو سانحہ مریدکے کی پہلی برسی پر رضوی برادران کی جبری گمشدگی کا ایک سال مکمل ہو چکا ہے
گزشتہ سماعت پر جسٹس جواد ظفر نے اپنی تعطیلات کو وجہ قرار دیتے ہوئے سماعت کو 15 اکتوبر 2026 تک ملتوی کیا تھا
ٹی ایل پی وکلاء نے گزشتہ سماعت پر عدالت کو آگاہ کیا تھا کہ دونوں قائدین کی زندگیاں خطرے میں ہیں تاہم معاملے کی سنگینی کو نظر انداز کیا گیا
رضوی برادران کے جبری گمشدگی کیس میں اب تک 6 مرتبہ جج تبدیل ہو چکے ہیں اور کیس مسلسل غیر معمولی التواء کا شکار ہے
@muqadasawann پہلے سماعت کی تاریخ 15 اکتوبر تھی۔
اس ملک پاکستان کی تیسری بڑی سیاسی و مذہبی جماعت کے امیر کے ساتھ جب یہ رویہ رکھا گیا ہے، تو اس ملک میں عام شہری کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہوگا؟ حالانکہ تحریکِ لبیک پاکستان نے حالیہ انتخابات میں 27 لاکھ سے زائد ووٹ حاصل کیے تھے۔
Release Saad Rizvi