اقرار الحسن نے FIA آفیسر پر چیختے چلاتے ایک ایسی بات کہی جو آج ہمارے معاشرے کی تباہی کی سب سے بڑی وجہ ہے
اقرار نے FIA آفیسر کو کہا کہ تم اسی آرمی چیف کے ملک میں رہتے ہو پہلے وردی اتارو اور پھر محسن نقوی کو برا بھلا کہو
لیکن آفیسر نے تو آرمی چیف یا محسن نقوی کا تو نام ہی نہیں لیا تھا ان کا دور دور تک کوئی ذکر بھی نہیں تھا پھر اقرار الحسن نے ان دونوں کا ذکر کیوں کیا
کیونکہ اقرارالحسن جانتا تھا کہ یہ سب کچھ ریکارڈ ہو رہا ہے اور جتنا شور اس نے کر دیا تھا یہ ضرور وائرل ہونے والا ہے ایسے میں اقرار نے عاصم منیر اور محسن نقوی کو یہ دکھانے کے لیے کہ میں آپ کی غلامی میں سب سے آگے ہوں اس لیے میرے پاس اس چیز کا لائسنس ہونا چاہیے کہ میں پاکستانی عوام کو کیڑے مکوڑوں کی طرح روندوں بالکل اس طرح جس طرح مریم نواز جب جی چاہتا ہے جس کو جی چاہتا اٹھواتی ہے پرچے کرواتی ہے جیلوں میں پھینکتی ہے
پاکستان میں ایک خطرناک سلسلہ شروع ہوا ہے کہ اگر آپ محسن نقوی اور عاصم منیر کے تلوے چاٹو گے تو پاکستانی عوام پر ظلم کا آپ کو مکمل اختیار دے دیا جاتا ہے
جیو کا اعزاز !!
5:39 پر جیو نیوز نے اعزاز سید کی خبر بریک کی کہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر پاکستان کے پہلے چیف آف ڈیفنس فورسز مقرر، نوٹفکیشن جاری، 5:40 پر اعزاز سید کا بیپر لیا گیا اور 5:41 پر نیوز کاسٹر نے معذرت کی اور کہا کہ یہ فیک نوٹفکیشن تھا۔ تین منٹ میں ہی خبر بریک کرنے سے معزرت کرنے تک کا “اعزاز” بھی جیو نیوز کو حاصل ہوگیا۔
پنجاب پولیس کے غنڈوں کی عمران خان صاحب کی بہنوں پر تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ خود کو فرعون سمجھنے والے مرد سے مقابلہ نہیں کر پا رہے تو گھر کی عورتوں پر حملہ آور ہو چُکے ہیں۔ اس سے پہلے عمران خان صاحب کی اہلیہ پر بھی گھٹیا ترین الزامات لگا کر حملہ آور ہو چُکے ہیں۔ یہ سب بزدلی اور بغیرتی کی اعلیٰ مثال ہے۔
آج ایک صوبائی وزیر مینا خان پر بھی تشدد کیا جا رہا ہے۔ جو قابل مذمت ہے۔ قومی اسمبلی کے رُکن شاہد خٹک اور باقی صوبائی و قومی اسمبلی ممبران کو بھی گرفتار کرنے کی کوشش قابل مذمت ہے۔ مُلک میں جمہوریت اور آئین و قانون کا جنازہ نکل چُکا ہے۔
یاد رکھنا کہ یہ سب لکھا جا رہا ہے۔ پھر نا کوئی عورت کارڈ کام آئےگا، نا جمہوری اقدار اور نا ہی اخلاقیات۔ اب یہ حد سے زیادہ ہو گیا ہے اور حالات کو زبردستی اُس طرف لے جایا جا رہا ہے جہاں سے واپسی ناممکن ہے۔
🚨🚨
ذرائع نے اُس وقت بتایا تھا کہ جب خبر ٹویٹ کی کہ چیف جسٹس یحیٰ آفریدی نے رجسٹرار کو فارغ کردیا ہے تو چیف جسٹس یحیٰ آفریدی “نامعلوم” وجوہات کی وجہ سے panic کرگئے اور فوراً برخاستگی کو 45 دن کی voluntarily leave میں بدل دیا۔ اور 45 دن ہونے کے بعد رجسٹرار صاحب مُستعفی ہورہے۔۔ مسخروں کی عدالت ہے
ڈی جی آئی ایس پی آر صاحب! ہم ابھی بھی آپ سے محبت کرتے ہیں، آپ سمجھیں اور محبتوں کو برقرار رہنے دیں، آئین اور قانون کے تحت اِس صوبے اور مُلک کو چلنے دیں، اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی
ٹی ایل پی کے احتجاج پر طاقت کے بے دریغ استعمال اور قتل عام نے آج ایک بار پر ثابت کیا ہے کہ اس وقت ملک جنونی ذہنی مریضوں کے قبضے میں ہے۔ خدا انھیں غارت کرے۔ بہت تکلیف دہ مناظر ہیں۔