گنتے جائیں۔ جل پت آندھرا پردیشن 2002، نگرجوناساگر 2014،سرلیم ڈیم 1981،تلگو گنگا 2004،پابر ڈیم 2002،نگرجونا ساگر ڈیم 1967۔ کہیں تو انڈیا کے ہر صوبے میں بننے والے ڈیم کی فہرست لگادوں۔ لیکن ایسا نہیں ہے جیسا آپ کہہ رہے ہیں۔ اتنی منفی پروپیگنڈا کیوں کرتے ہیں؟
@shahzad_nasir7
سندھ بجلی چوری کرتا ہے پنجاب بل دیتا ہے
مقدمہ کے تفتیشی کو 17 میں تبدیل کیا گیا ن لیگ اور پی ٹی آئی بچاتے رہے 50 ارب روپے سے زائد چوری کا مقدمہ ہے یہ آی پی پی کا مالک تھا بجلی بنا کر نیشنل گرڈ کو دینے کی بجائے اپنی انڈسٹری کو دیتا رہا فیسکو کے افسر نیشنل گرڈ میں جاتا دکھاتے رہے
یار یہ بیبی تربیت ہی جھوٹ کے سائے میں ہوئی باپ چاچو سب نے جھوٹ بول کر معصوم پنجاب کے لوگوں کو بیوقوف بنایا اب یہ آگئی جھوٹ بولنے۔ شھید بھٹو نے اپنے دور میں پورے پاکستان میں کینسر ہسپتالوں کا جال بچھایا تھا۔
+3 ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (PAEC) نے ملک بھر میں کینسر کے ہسپتالوں کا جال بچھایا۔ ان کا مقصد غریب مریضوں کو سستا اور جدید علاج فراہم کرنا تھا۔ ان ہسپتالوں کی مکمل فہرست درج ذیل ہے:پنجاب:انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر میڈیسن اینڈ آنکولوجی (INMOL)، لاہورنیوکلیئر میڈیسن، آنکولوجی اینڈ ریڈیو تھراپی انسٹی ٹیوٹ (NORI)، اسلام آبادپنجاب انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر میڈیسن (PINUM)، فیصل آبادگوجرانوالہ انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر میڈیسن اینڈ ریڈیو تھراپی (GINUM)، گوجرانوالہسندھ:کراچی انسٹی ٹیوٹ آف ریڈیو تھراپی اینڈ نیوکلیئر میڈیسن (KIRAN)، کراچیلاریب (LARAR) یا لارکانہ انسٹی ٹیوٹ آف ریڈیو تھراپی اینڈ نیوکلیئر میڈیسن (LINAR)، لاڑکانہاٹامک انرجی میڈیکل سینٹر (AEMC)، کراچیخیبر پختونخواہ:انسٹی ٹیوٹ آف ریڈیو تھراپی اینڈ نیوکلیئر میڈیسن (IRNUM)، پشاوراٹامک انرجی کینسر ہسپتال (AECH)، بنوںبلوچستان:سینٹر فار نیوکلیئر میڈیسن اینڈ ریڈیو تھراپی (CENAR)، کوئٹہآزاد کشمیر اور گلگت بلتستان:کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر میڈیسن اینڈ ریڈیو تھراپی (KINIR)، مظفر آبادگلگت انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر میڈیسن اینڈ ریڈیو تھراپی (GINIR)، مزید جان کاری کے لیے کچھ پڑھ لکھ لو @MaryamNSharif 👆
سینیئر صحافی @Sohailsangi1 کے فرزند ، بی بی سی کے رپورٹر @RiazSangi کے چھوٹے بھائی نادرا کے افسر فیاض احمد جنجھی کل شام سے لاپتہ ہے۔ آخری اطلاعات کے مطابق کل شام 6 بجے اپنے دفتر عائشہ منزل سے نکلا ہے۔ اس کے بعد اب تک فون بند ہے۔ پولیس کو اطلاع کردی گئی ہے۔
@ZiaLanjar
لاہور کی روٹ 47 کوملک کی پہلی بجلی پیدا کرنے والی سڑک قرار دے کر خوب تشہیر کی گئی، مگر ایک سال گزرنے کے باوجود ایک بھی سولرپینل نصب نہ ہو سک��،نہ بجلی کا1یونٹ پیداہوا۔یہ منصوبہ بھی حکومت کےدوسرے نمائشی منصوبوں کیطرح صرف اشتہارات،فوٹو سیشنز اور کاغذی دعووں تک محدود رہا۔
#PunjabGovt
کراچی پر کنٹرول کا پروجیکٹ ،
نئے الطاف حسین کی تلاش ،
اگر ایم کیو ایم کے سارے دھڑے متحد نہ ہوئے ، ڈسپلن قائم نہ ہوا تو کوئی نیا چمتکار ہوگا
کوئی نئی قیادت یا نئی جماعت "مہاجر" نعرے کو زندہ کرنے کیلئے میدان میں لائی جا سکتی ہے ؟
اب یہ نعرہ چلے گا؟
ولاگ
👇
https://t.co/ANVTcNU7Rx
@GovtofPunjabPK
Is not ready to accept any constitutional limitation, CCI, agreements, accord. Arrogant attitude everywhere. It's clear hegemony. People of #Sindh are being pushed to the wall,in terms of Indus water share.
https://t.co/6BG95LD5w9
ہمارے کشمیری بھائی آزاد کشمیر اسمبلی میں مہاجرین کی نشستوں پر اسی لیے احتجاج کر رہے ہیں کہ کشمیر سے باہر کی یہ 12 نشستیں اصل کشمیریوں کی نمائندگی نہیں کرتیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ ان نشستوں پر ہمیشہ پنجاب حکومت کے زیرِ اثر افراد کو ہی جتوایا جاتا ہے۔
زیرِ نظر تصویر راولپنڈی کی ہے جہاں کشمیر الیکشن کی مہم جاری ہے۔ تصویر میں نمایاں سرخ دائروں کے اندر مسلم لیگ (ن) کے منتخب ایم این اے ملک ابرار، ایم پی اے عمران الیاس اور و��اقی وزیر حنیف عباسی کو گاڑی کے ساتھ لٹکے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ راولپنڈی ہی سے مخصوص نشستوں پر منتخب خواتین ارکانِ اسمبلی مریم اورنگزیب اور طاہرہ اورنگزیب گاڑی کے سن روف سے باہر نکل کر اس انتخابی ریلی کی قیادت کر رہی ہیں۔
سندھ میں اسکول اسپیسیفک بجٹ کا تعارف ایک انتہائی انقلابی اور کامیاب تجربہ ثابت ہوا ہے۔ یہ محض ایک کاغذی کارروائی نہیں بلکہ ایک روشن وژن ہے، جسے صوبائی وزیرِ تعلیم سید سردار علی شاہ نے انتھک محنت سے حقیقت کا روپ دیا ہے۔ اس اقدام کی بدولت پورے سندھ کے اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے اور روزمرہ کے انتظامی امور میں واضح تبدیلی نظر آ رہی ہے۔
ماضی میں اسکولوں کی مرمت، صفائی اور دیگر اخراجات کے لیے بجٹ تو مختص کیا جاتا تھا، لیکن وہ بیوروکریسی کی راہداریوں سے گزر کر اسکولوں تک بمشکل ہی پہنچ پاتا تھا۔ اب یہ بجٹ براہِ راست اسکول کے ہیڈ ماسٹر کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوتا ہے۔ چونکہ ہیڈ ماسٹر مقامی باشندہ ہوتا ہے اور اس کے اپنے بچے یا عزیز و اقارب اسی اسکول میں زیرِ تعلیم ہوتے ہیں، اس لیے وہ ذاتی دلچسپی لے کر ان فنڈز کو ایمانداری سے اسکول کی بہتری کے لیے است��مال کرتا ہے۔ براہِ راست فنڈنگ کی وجہ سے اب نہ تو بجٹ میں کوئی کٹوتی ہوتی ہے اور نہ ہی کسی دفتری کمیشن یا رشوت کا خوف رہتا ہے۔
تعلیمی معیار کو بلند کرنے اور اسکولوں کو خود مختار بنانے کی سمت میں یہ اقدام ایک تاریخی سنگِ میل ہے۔ سید سردار علی شاہ کے مثالی کارناموں میں یہ فیصلہ ہمیشہ سرِفہرست رہے گا اور تاریخ ان کی اس تعلیمی اصلاح کو سنہری الفاظ میں یاد رکھے گی۔
جھوٹوں پر خدا کی بے شمار لعنت۔۔۔
اگر اردو بھی پڑھنا نہیں آتی تو کسی پڑھے لکھے سے پڑھوا لیں گاڑی پر واضح طور پر ڈی جی خان لکھا ہوا صاف نظر آ رہا ہے اور ڈی جی خان پنجاب میں ہے۔
ایک تو آپ لوگ پڑھے لکھے نہیں اوپر سے کوشش بھی نہیں کرتے۔۔
@zamirghumro By right-sizing Islamabad’s bureaucracy, the saving of Rs6 trillion can easily alleviate poverty and unemployment and provide universal health and education to all Pakistanis. This one act of downsizing a bloated bureaucracy can bring peace to society.
@GovtofPakistan
چئیرمین بلاول بھٹوگلگت بلتستان کا سب سے پڑھالکھا چہرہ،علاقائی ثقافت کی پہچان اورپیپلزپارٹی کی نظریاتی کارکن فہمیدہ ب��چہ کو گلگت بلتستان حکومت میں وزیر بنایاجائے۔
@BBhuttoZardari
@AseefaBZ
اسحاق ڈار کے نواسے رضا ڈار کے کارنامے دیکھیں!
سنگاپور کانفرنس میں متاثرہ خواتین سے ملے، کرپٹو کے نام پر جال بچھایا۔ 60 ہزار ڈالر لگائے تو 20 ہزار منافع ملا۔ پھر 5 لاکھ ڈالر ڈال دیے، کچھ نہ ملا۔
سبق سکھانے کے لیے خواتین کو “بڑے کاروباری معاہدے” کے نام پر پاکستان بلایا!
اور مریم نواز کی پنجاب پولیس اسے بچانے کی پھرتیوں میں مصروف۔
یہ ہے ن لیگ کی حکمرانی کا اصل چہرہ۔