TO WHOME IT MAY CONCERN
شریف ھونایہ دلیل نہیں ھےکہ بندہ بیوقوف ھے۔
ممکن ھےاگلےکو رستےاور داؤ سارےمعلوم ھوں لیکن اسنےچھوڑ دیئےھوں۔
ہم نےبھی غلط کام چھوڑدیئےہیں مگربھولے نہیں ہیں نہ ہی ماتھےپر بیوقوف لکھواکرپیدا ھوئےہیں۔
بس اللہ گزشتہ معاف کرےاور آئندہ اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین
@MeAsmaGul میں کہتا ھوں
تاریخ کہتی ھے
کتاب کہتی ھے
اسلام۔اس وقت ہتھیار اٹھانے کا کہتا ھے جب دین یا کسی کی جان و مال یا عزت و آبرو خطرے میں ھو۔۔۔۔ اور یہ ہی ہر دور اور ہر وقت کا تقاضہ ھے۔
باقی جو نہیں مانیں گے وہ LPC از Law
اسلام امن کا مذھب ھے لیکن اسلامی کر فتح کے موقع پر لازمی امن اور ہر شہری کو تحفظ کا درس دیتا ھے۔
آپ تو خود پٹھان جو آج بھی بچیوں کو فروخت کرکے لونڈے خریدتے ہیں، کیا اسلام نے انہیں کہا ھے کہ آپ اپنی خارش لڑکوں سے ٹھیک کرواو؟
ہر سسٹر یکی کو اسلام کے کھاتے نہ ڈالا کریں۔
سلطنتِ عثمانیہ کے دور میں مظالم
سلطنتِ عثمانیہ کے دور میں مسلمانوں میں مختلف قسم کے جسمانی اعضا کاٹنے کے واقعات پائے جاتے تھے۔ بالخصوص کان، ناک، ہونٹ، زبان، چھاتیاں اور جنسی اعضا کاٹے جانے کا ذکر ملتا ہے۔ لیکن بات صرف یہیں تک محدود نہیں تھی۔
یہاں مائٹلینی کے سینٹ رافائیل کا واقعہ یاد کیا جاتا ہے، جنہیں ایک درخت سے لٹکایا گیا اور ان کا نچلا جبڑا کاٹ دیا گیا۔ اسی طرح بارہ سالہ آئرین کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اسے قسطنطنیہ کی فتح کے دس سال بعد، 1463ء میں ایسٹر کے منگل کے روز ایک پیپے میں جلا کر مار دیا گیا۔
(تصویر 1: سینٹ آئرین، تصویر 2: سینٹ رافائیل)
بہت سے واقعات میں جسم سے کاٹے گئے اعضا عثمانی ینی چری (Janissary) سپاہیوں کے جنگی غنائم کا حصہ بن جاتے تھے۔ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ پاشا اپنے ہر ’’بہادر‘‘ مسلمان سپاہی کو اس حساب سے بخشش یا انعام دیتے تھے کہ وہ کتنے ’’کافر‘‘ عیسائیوں کے کان کاٹ کر لایا ہے۔
یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک شخص نے اپنے ساتھیوں کے سامنے اپنی بہادری اور ’’مردانگی‘‘ ثابت کرنے کے لیے عورتوں کی کاٹی گئی چھاتیوں کے نپلز سے ایک کومبولوی (Komboloi) یعنی دانوں کی لڑی بنائی ہوئی تھی۔ قتل و غارت اور لوٹ مار کے بعد جس شخص کے پاس سب سے لمبی ایسی لڑی ہوتی، اسے سب سے زیادہ بہادر سمجھا جاتا تھا۔
مختلف نوکیلی اشیا کے ذریعے لوگوں کو اندھا کرنے کے واقعات بھی بیان کیے جاتے ہیں۔ بالخصوص قتلِ عام اور دوسرے مظالم کے دوران ایسے واقعات کا ذکر ملتا ہے۔ پوسٹ کے مطابق بہت سے عیسائی صرف اس وجہ سے عمر بھر کے لیے نابینا ہوگئے کہ ینی چری سپاہیوں کا کوئی دستہ ان کے علاقے سے گزرا تھا۔ اس جرم کے حوالے سے ابراہیم پاشا کے ماتحت مصری فوجیوں کو بھی خاص طور پر بدنام قرار دیا گیا ہے۔
کئی مرتبہ عیسائی قیدیوں کو توپوں کے سامنے باندھ دیا جاتا اور پھر توپیں چلائی جاتیں، جس سے ان کے جسم کے ٹکڑے ہوجاتے۔ بعض دوسرے واقعات میں لوگوں کو دو ایسی کشتیوں سے باندھا جاتا جو مخالف سمتوں میں چلتی تھیں، جس سے ان کا جسم چیر دیا جاتا۔
لوگوں کے جسم کے اعضا الگ کرنے کے لیے گھوڑوں کے استعمال کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔
’’واقعی، اسلام امن کا مذہب ہے۔‘‘
مولانا کا فراڈ۔ کم سن بچی سے زبردستی نکاح اور شادی کی کوشس۔
مدرسے کے مولوی اور اسکول کلرک مولانا جنید ملک کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ اس نے ایک سال قبل اسی اسکول میں پڑھنے والی نویں جماعت کی طالبہ منیبہ آرائیں سے ایک سال قبل جب ب فارم اور اسکول کے رکارڈ کے مطابق اس کی عمر 12 سال تھی اس لڑکی سے نکاح کر لیا ہے، اس نے لڑکی کے والدین کو پیغام بھجوانے شروع کئے کہ منیبہ اس کی بیوی ہے لہذا اس کی مبینہ منکوحہ منیبہ کو اس کے ساتھ رخصت کیا جائے تو تب اس کے والد جاوید آرائیں نے ایس ایس پی میرپورخاص کو شکایت درج کرائی، شکایت پر انکوائری کے لئے معاملہ ڈی ایس پی سٹی کو سونپا گیا جس نے مولانا جنید ملک کا اور لڑکی کے والد کا بیان لینے کے بعد جنید کے خلاف چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت متعلقہ تھانے میں مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا، مولانا نے اپنے بیان میں کہا کہ میں نے منیبہ سے زبانی کلامی نکاح کیا ہے وہ مطالبے ہر نکاح نامہ پیش بھی پیش کرنے سے قاصر رہا تھا۔
دو باتیں اہم ہیں۔
اول: شاہی خاندان کے غریب ھونے کے دن آگئے ہیں۔
دوئم: یہ علاقہ سوئٹزرلینڈ سے قریب ھے لہٰذا بینظیر کی نسبت انکا مال و متاع شفٹ کرنا آسان ھوگا۔
*بلاول بھٹو کی یورپی شہزادی سے شادی کی خبریں: ہم اب تک کیا جانتے ہیں؟*
خبروں میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ صدرِ مملکت آصف علی زرداری اپنے اہلخانہ کے ہمراہ تاریخ اور دیگر امور طے کرنے کے لیے یورپ پہنچے ہیں۔
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی منگنی اور رواں سال کے آخر میں شادی کے حوالے سے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کی تردید کردی ہے۔
سوشل میڈیا پر زیرِ گردش خبروں میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بلاول بھٹو کی منگنی یورپ کے ایک چھوٹے مگر معروف ملک لیختنشٹائن کے دارالحکومت واڈوز کی ایک ممتاز شخصیت یا آسٹرین شاہی خاندان سے وابستہ خاتون کے ساتھ طے پائی ہے۔
خبروں میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ صدرِ مملکت آصف علی زرداری اپنے اہلخانہ کے ہمراہ تاریخ اور دیگر امور طے کرنے کے لیے یورپ پہنچے ہیں۔
تاہم، پیپلز پارٹی کے ترجمان کی جانب سے ان تمام خبروں اور افواہوں کو مکمل طور پر بلا بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا گیا ہے۔
میئر کراچی اور بلاول بھٹو زرداری کے ترجمان بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے ایک بیان میں ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی منگنی یا شادی سے متعلق گردش کرنے والی خبریں بالکل غلط اور بے بنیاد ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری ماضی میں بھی اپنی ذاتی زندگی اور شادی کے حوالے سے صحافیوں کے سوالات کا دلچسپ اور کھلے دل سے جواب دیتے رہے ہیں۔
سال 2024 میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران جب ایک صحافی نے ان سے شادی کے ارادوں کے بارے میں پوچھا تھا، تو انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا تھا کہ یقیناً، میرا شادی کرنے کا پروگرام ہے، تاہم انہوں نے اس کی کوئی حتمی تاریخ نہیں بتائی تھی۔
اس سے قبل 2016 میں ایک گفتگو کے دوران بلاول بھٹو نے کہا تھا کہ جو بھی میری جیون ساتھی بنے گی، اسے پہلے میری بہنوں کے دل جیتنے ہوں گے اور ان کو اعتماد میں لینا ہوگا، اور میری بہنوں کا دل جیتنا کسی بھی لڑکی کے لیے ایک انتہائی مشکل کام ہے۔
فی الحال پیپلز پارٹی کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ چیئرمین بلاول بھٹو کی شادی کے حوالے سے خبروں میں کوئی حقیقت نہیں ہے اور عوام اور میڈیا کو غیر تصدیق شدہ اطلاعات پر توجہ نہیں دینی چاہیے۔
@Naaziish آنٹی
پگھلتی ھوئی برف ھوتی ھے
گزرتے ھوئے لوتے ہیں
اڑتے ھوئے پرندے اور ہہتاھوا پانی ھوتا ھے، نہ جانے کتنی درجن بہاریں بھی گرائمر نہیں درست کرسکیں۔
BTW I ♥️Your DP