اقرار الحسن سے عوام نے جو سوالات پوچھے ہیں ان میں سے ایک کا بھی جواب نہیں دیا گیا۔
پہلا سوال
آپ نے خود ایک انٹرویو میں کہا کہ جب آپ چھٹی جماعت میں تھے تو آپ کے والد نے دوسری شادی کی اور پھر جرمنی چلے گئے۔ آپ نے کہا کہ آپ کو نہیں معلوم وہ کہاں رہتے ہیں کیا کرتے ہیں یا انہوں نے کتنی شادیاں کی ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا صرف دوسری شادی کی وجہ سے کوئی ملک چھوڑ کر جرمنی میں پناہ لیتا ہے؟ ملک چھوڑنے کی اصل وجہ کیا تھی وہ آپ نے آج تک نہیں بتائی۔
دوسرا سوال
آپ کے والد اسماعیل شاہ پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی شان میں گستاخی کے الزامات ہیں اور اس کی ویڈیو شواہد بھی موجود ہیں۔ آپ کے والد پر 295C کی دفعات بھی درج ہیں۔ اگر یہ سب جھوٹے الزامات تھے تو آپ کے والد نے عدالت کا دروازہ کیوں نہیں کھٹکھٹایا اور پاکستان چھوڑ کر بھاگنے کو ترجیح کیوں دی؟
تیسرا سوال
آپ کی کمپنی Perfectum Pakistan کا واحد بیرون ملک دفتر جرمنی کے فرینکفرٹ میں ہے جہاں آپ کے والد مقیم ہیں۔ یہ محض اتفاق ہے یا آپ کے اور آپ کے والد کے درمیان کاروباری تعلق بھی ہے؟ اگر آپ کو اپنے والد کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تو پھر جرمنی میں دفتر کیوں؟
چوتھا سوال
آپ نے خود ایک انٹرویو میں اعتراف کیا کہ آپ نے اہم معاملات پر والد سے رابطہ کیا ��ور ان سے مشورہ لیا۔ جب آپ انہیں نہیں جانتے اور ان سے کوئی تعلق نہیں تو پھر مشورہ کس بات پر لیا گیا؟ یہ تضاد کیسے؟
پانچواں سوال
آپ کہتے ہیں آپ کو فخر ہے مگر برسوں میں ایک بار بھی والد سے ملاقات کا کوئی ویڈیو ثبوت سامنے نہیں آیا۔ جس باپ پر فخر ہو اس کے ساتھ ایک تصویر ایک مشترکہ ویڈیو بھی نہیں؟ یہ کیسا فخر ہے جو چھپ کر ہو؟
چھٹا سوال
آپ کے والد کا تعلق اہل تشیع مکتب فکر سے ہے اور وہ ایک مذہبی مقرر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ اگر آپ واقعی ان کی سوچ اور عقائد سے الگ ہیں تو آپ نے کبھی عوامی سطح پر اپنے والد کے ان مبینہ بیانات سے لاتعلقی کا اظہار کیوں نہیں کیا؟
ساتواں سوال
آپ نے پاسپورٹ شناختی کارڈ اور اسناد دکھا کر والد کا نام ثابت کیا مگر کسی نے آپ کی والدیت پر سوال نہیں اٹھایا۔ عوام آپ کے والد کے مبینہ کارناموں کے بارے میں حقائق جاننا چاہتی ہے جو زبان زد عام ہیں
منقول
یہ ایک ریٹائرڈ پاکستان آرمی کیپٹن حمزہ ہمایوں کا تکبرانہ لہجہ ہے
جو اب ایس ایس پی تعینات ہے۔ شہریوں کو مخاطب کرتے ہوئے اس کی کھلم کھلا دھمکیاں سنیں۔
کیا یہ کسی پولیس افسر کی زبان لگتی ہے؟
یا ایک ایسے شخص کی زبان ہے جو فوجی برتری کا احساس قانون نافذ کرنے والے ادارے میں بھی ساتھ لے آیا ہے؟
حمزہ ہمایوں کی گفتگو میں جو دھمکیاں اور تحقیر جھلکتی ہے، وہ کسی قانون کے رکھوالے کی نہیں بلکہ طاقت کے نشے میں ڈوبے ایک ایسے شخص کی عکاسی کرتی ہے جو خود کو قانون سے بالاتر سمجھتا ہے۔
یہ وردی میں ملبوس برتری کا احساس نہیں تواور کیا ہے؟ شہریوں کے لیے کھلی حقارت، نہ جوابدہی کا خوف، صرف طاقت کا نشہ۔
جب طاقت بے لگام ہو جائے تو “افسر” خود کو مالک سمجھنے لگتے ہیں اور شہریوں کو محض غلام ۔
دراصل ائیرپورٹ واقعے نے پی ٹی آئی کا پورا سو کالڈ نظریہ دھڑام سے نیچے گرا دیا ہے۔ اقرار الحسن
@iqrarulhassan#pakistan
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
@iqrarulhassan@khurram143 نجی ٹی وی میں ایک عورت کام کرتی تھی وہاں آس کا چکر کسی اور سے جل پڑا دونوں مزے کر رہے تھے کہ ��ورت کے خاوند کو پتہ چل گیا، بدلہ لینے کے لئے خاوند دوسری شادی کی مگر وہ عورت بھی دونمبر نکلی اس نے اپنے خاوند کو سمجھنا کہ اس سے اچھا کاروبار نہیں ملے گا اور پھر خاوند نے عورتیں بڑھانےکا