تیراہ میں سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے بہنے والا غریبوں کا لہو شاید اس قابل نہیں کہ اسلام آباد اور پنڈی کے کبرا، میڈیا، یا سیاسی لیڈر اس پر بولیں، لیکن آج کے ان بے بسوں کا خون کل قیامت ڈھا سکتاہے، بقول فیض
یہیں سے اٹھے گا شور محشر
یہں پہ روز حساب ہوگا،
#StopPashtunGenocide
وزیرستان میں کرفیو کی وجہ سے ہمارے پیارے جن حالات سے گزر رہے ہیں، وہ ناقابلِ بیان ہیں۔ ہر لمحہ خوف، بے بسی، اور محرومی کا شکار ہیں۔
کیا کوئی باہر بیٹھ کر ہمارے درد کو محسوس کر سکتا ہے؟
کیا ہمیں بھی انسان سمجھا جاتا ہے؟
کیا ہماری زندگی کی کوئی قیمت ہے۔۔؟
امریکہ کی فوجی طاقت سے کسی کو انکار نہیں لیکن سچ تو یہ ہے کہ امریکہ نے ماضی قریب میں کوئی بڑی جنگ نہیں جیتی اس امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا اور خوار ہو کر طالبان سے مذاکرات پر مجبور ہوا یاد رکھئے گا کہ یہ امریکا ایک دن ایران سے بھی شکست کھا کر مذاکرات پر مجبور ہو گا
خون اپنا ہو یا پرایا ہو
نسل آدم کاخون ہےآخر
جنگ مشرق میں ہوکہ مغرب میں
امن عالم کاخون ہےآخر
آؤ اس تیرہ بخت دنیامیں
فکرکی روشنی کوعام کریں
امن کوجن سےتقویت پہنچے
ایسی جنگوں کااہتمام کریں
جنگ وحشت سےبربریت سے
امن تہذیب و ارتقا کے لئے
جنگ مرگ آفریں سیاست سے
امن انسان کی بقا کے لیے
لاہور ڈوب چکا ہے، فورن نکاسی آب ہونی چاہيے.
لاہور ميں کافی افسران اور وزرا ديگر اضلاع سے ہيں.
مگر وہاں کے لوگ انتظاميہ پر تنقيد کر رہے ہيں. لاہور ميں کوئی ايسا نسل پرست، دہشتگرد يا انتہاپسند نہيں جو کہے کہ فيصل آباد، ملتان يا پنڈی کے افسران اور چودھری لاہور کيوں آئے؟ انہيں نکالو!
سلیم کوثر کی خوبصورت ترین غزل
کچھ بھی تھا سچ کے طرف دار ہوا کرتے تھے
تم کبھی صاحب کردار ہوا کرتے تھے
سنتے ہیں ایسا زمانہ بھی یہاں گزرا ہے
حق انہیں ملتا جو حق دار ہوا کرتے تھے
تجھ کو بھی زعم سا رہتا تھا مسیحائی کا
اور ہم بھی ترے بیمار ہوا کرتے تھے
اک نظر روز کہیں جال بچھائے رکھتی
اور ہم روز گرفتار ہوا کرتے تھے
ہم کو معلوم تھا آنا تو نہیں تجھ کو مگر
تیرے آنے کے تو آثار ہوا کرتے تھے
عشق کرتے تھے فقط پاس وفا رکھنے کو
لوگ سچ مچ کے وفادار ہوا کرتے تھے
آئینہ خود بھی سنورتا تھا ہماری خاطر
ہم ترے واسطے تیار ہوا کرتے تھے
ہم گل خواب سجاتے تھے دکان دل میں
اور پھر خود ہی خریدار ہوا کرتے تھے
کوچۂ میرؔ کی جانب نکل آتے تھے سبھی
وہ جو غالبؔ کے طرف دار ہوا کرتے تھے
جن سے آوارگئ شب کا بھرم تھا وہ لوگ
اس بھرے شہر میں دو چار ہوا کرتے تھے
یہ جو زنداں میں تمہیں سائے نظر آتے ہیں
یہ کبھی رونق دربار ہوا کرتے تھے
میں سر دشت وفا اب ہوں اکیلا ورنہ
میرے ہم راہ مرے یار ہوا کرتے تھے
وقت رک رک کے جنہیں دیکھتا رہتا ہے سلیمؔ
یہ کبھی وقت کی رفتار ہوا کرتے تھے
سلیم کوثر
سر گل حسن کلمتی کی دو کتابیں صرف کتابیں نہیں ہماری شناختی کارڈ ہیں، اس خطے زمین پر ہماری پہچان ہیں، آج جس طرح سرمایہ داروں کے چنگل میں ہماری زمینیں، ہماری ندیاں، ہمارے پہاڑ، ہمارے جنگل اور ہمارے لوگ پھنسے ہوئے ہیں "کراچی سندھ جی ماروی" اور "سسی جی واٹ" ہماری شناخت ہیں ـ