تین سال پہلے جواہر لال نہرو* *یونیورسٹی کے طلباء نے حبیب جالب کا یہ نظم گائی تھی جس پر وہ گرفتاربھی ہوئے تھے لیکن اس کے بعد وہاں کے ہر سٹوڈنٹ نے اس نظم کو ٹرینڈ بنا کر انڈیا کے در دیوار پر اپنا سمع وبصر بنایا ، اس لئے کہتے ہیں کچھ کلام آفاقی ہو جاتے ہیں
While Imran Khan rots in Pakistani jail, Indian legend Kapil Dev gets emotional: Imran Ke Haalat Ko Dekh Kar Dukh Hota hai. No way for Pakistan to treat their former Prime Minister.
Watch this. Full podcast drops Sunday 7pm on @sports_tak@therealkapildev@ImranKhanPTI
#ImranKhan
یعنی منیب فاروق نے تسلیم کر لیا ہے کہ ان کی عمران خان پر بےتکی تنقید جس کا نہ کوئی سر ہوتا ہے، نہ پیر۔ وہ مقتدر حلقوں کے کہنے پر کرتے آئے ہیں۔
باقی رہ گئی بات کہ کون لائق ہے اور کون نالائق، اس کا فیصلہ عوام کر چکی ہے اور اپنے ووٹ کی طاقت سے بتا بھی چکی ہے
کاشف عباسی کا ٹی وی اسکرین پر شاندار کم بیک آتے ہی میاں نوازشریف کی مجی ٹھوک ڈالی، ننگا کر کے رکھ دیا 🔥🔥🔥
میاں صاحب کو میں سن رہا تھا مجھے ہنسی آرہی تھی کہتے ہیں 25 کروڑ عوام آپ کیوں کھڑے نہیں ہوتے؟ حضور آپ نے پچھلے پچیس تیس سال میں کیا کیا ہے جہاں آپ کو موقع ملا ڈیل کر گئے 1999 میں مارشل لاء لگا آپ کھڑے رہتے آپ ڈیل کر کے باہر چلے گئے لوگوں کو اِدھر ہی چھوڑ گئے واپس آئے پھر لوگوں نے آپ کو بھاری مینڈیٹ سے جتوایا 2016/2017 میں حالات خراب ہوئے آپ نے اس پورے ملک کو پنجاب کو اینٹی اسٹبلیشمنٹ بنایا فوج کے پیچھے لگایا خلائی مخلوق پانچ جج یہ عدلیہ یہ فوج اور یہ آئی ایس آئی آپ نے لگایا پھر ڈیل کی باہر چلے گئے اب واپس آئے ڈیل کر کے واپس آئے پہلے سے فیصلہ طے کر کے آئے میں مینارے پاکستان جاؤں گا وہاں پر میں کبوتر اُڑاؤں گا پھر عدالت سے میرے کیس ختم ہونگے پھر الیکشن ہوگا الیکشن میں نے جیت جانا ہے نہیں بھی جیتا تو ہارنے والے کو بازی گر کہتے ہیں بازی گر بن گئے وہ جس میں انکی حکومت بھی بن گئی آپ حلقے کی سیٹ بھی ہارے ہوئے ہیں یہ ہے ہماری جمہوریت
سائفر، اس کی پردہ پوشی، اور اس کے نتائج
ڈراپ سائٹ نیوز نے ایک دستاویز شائع کی ہے، اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ 7 مارچ 2022 کا اصل سائفر ہے جو ایک فوجی ذریعے سے حاصل ہوا۔ دنیا اب سمجھتی ہے کہ یہی وہ ناقابلِ تردید ثبوت ہے۔ آئیے، یہیں سے اس کی گرہ کھولتے ہیں۔
پاکستان کے اسٹیبلشمنٹ نے چار سال تک اسے دبایا، لوگوں پر اس کے حوالے سے مقدمات قائم کیے، اور یہ دعویٰ کیا کہ ایسا کوئی سائفر موجود ہی نہیں تھا۔ حقیقت پاکستان کے اندر سے نہیں، بلکہ ایک امریکی تحقیقاتی ادارے کے ذریعے دنیا کے سامنے آئی۔ صرف یہی حقیقت بذاتِ خود ایک فردِ جرم ہے۔
ڈونلڈ لو نے پاکستان کے سفیر سے صاف الفاظ میں کہا: "واشنگٹن میں سب کچھ معاف کر دیا جائے گا"، اگر وزیرِاعظم
@ImranKhanPTI
کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہو جاتی ہے، اور ساتھ ہی خبردار کیا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو پاکستان تنہائی کا شکار ہوگا۔ یہ سفارت کاری نہیں تھی۔ یہ ایک دھمکی تھی، جو ایک خود مختار ریاست کے سفیر کو دی گئی۔ قومی سلامتی کمیٹی نے اپنی دو اجلاسوں میں واضح طور پر کہا کہ یہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں ناقابلِ قبول اور کھلی مداخلت ہے، اور حکومت نے برحق سفارتی احتجاج (ڈیمارش) جاری کیا۔
مئی 2022 میں، میں نے بطور صدر، چیف جسٹس عمرعطا بندیال صاحب کو باضابطہ طور پر خط لکھا، جس میں جوڈیشل کمیشن کے قیام، کھلی سماعتوں، مکمل تحقیقات، اور حقیقت کو ریکارڈ پر لانے کا مطالبہ کیا۔ یہ خط تمام اخبارات میں شائع ہوا۔ (براہِ کرم مندرجہ ذیل خط کا اردو ترجمہ پڑھیں، اس کے ہر لفظ میں اس نوعیت کے عالمی معاملات میں تاریخی وزن ہے۔)
چیف جسٹس نے وہ خط وصول کیا۔ کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ عدلیہ کی خاموشی اداروں کے آگے ھتھیار ڈالنے کا آغاز تھا۔ اگر وہ کمیشن تشکیل دے دیا جاتا، تو یہ سوالات حلف کے تحت جواب طلب ہوتے: سائفر کس نے وصول کیا؟ اس پر کس نے عمل کیا؟ کس نے اندرونِ ملک غیر ملکی اشارے کو سہولت فراہم کی؟ اور پاکستانی ریاست کے کن اداروں نے ایک منتخب وزیرِاعظم کو ہٹانے میں تعاون کیا؟
پاکستان کو حقیقت معلوم ہو جاتی۔ وہ شخص جس نے قوم کو خبردار کیا تھا، اسے جھوٹے مقدمات میں قید نہ کیا جاتا جو اسی دستاویز سے جنم لیئے، جس کی تحقیقات سے ریاست نے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بجائے، قوم کو تباہی کے مسلسل چارسال ملے۔
صرف ایک حکومت نہیں بدلی گئی، بلکہ جمہوریت کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ختم کیا گیا، ہر سطح پر مکمل ادارہ جاتی سازش کے ساتھ اسے منہدم کیا گیا۔ پارلیمان کو "بدبودار مفادات کا ایوان" بنا دیا گیا۔ پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑے عوامی مینڈیٹ کی حامل تحریکِ انصاف سے اس کا انتخابی نشان چھین لیا گیا، اس کی نشستیں عدالتی حکم کے ذریعے ڈھٹائی سے دوسروں کو دے دی گئیں، صرف اس لیے کہ 17 نشستوں والی جماعت کو جعلی دو تہائی اکثریت دی جا سکے۔
تحریکِ انصاف کے کارکنان پر فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائے گئے۔ اس کے ووٹرز کو حقِ رائے دہی سے محروم کیا گیا۔ اس کے قائد کو قید کر دیا گیا — انہی الزامات پر جو اسی دستاویز سے پیدا ہوئے جسکا ریاست نے جائزہ لینے سے انکار کر دیا تھا۔ 26ویں اور 27ویں ترامیم جبر کے ذریعے منظور کروائی گئیں، جنہوں نے عدلیہ کو انتظامیہ کی لونڈی، اور حقوق کی محافظ کے بجائے غاصبانہ اقتدار کے استحکام کا ایک آلہ بنا دیا۔
اب انسانی نقصان کا حساب کریں۔ ہماری 44 فیصد آبادی خطِِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، یعنی دس کروڑ پچاس لاکھ افراد — جو 2019 کے مقابلے میں دو کروڑ زیادہ ہیں۔ حقیقی آمدنی تباہ آدھی رہ گئی ہے۔بجلی اور پیٹرول آسمان سے بات کر رہے ہیں۔ مہنگائی اور بے روزگاری عروج پر ہیں۔بمشکل تین فیصد کی جی ڈی پی کا اضافہ آبادی کے اضافے کے ساتھ قدم نہیں ملا سکتی، نئے مزدوروں کو روزگار دینا تو دور کی بات ہے۔ دہشت گردی اپنی بلند ترین سطح پر ہے۔ سرمایہ آ نہیں رہا، بلکہ جا رہا ہے۔ دو کروڑ بیس لاکھ نوجوان نہ کام کر رہے ہیں اور نہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جبکہ ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ سمت بالکل واضح ہے: پاکستان کہیں زیادہ تیزی سے غریب ہو رہا ہے۔
یہ صرف اعداد و شمار نہیں ہیں۔ یہ وہ بچے ہیں جو بھوکے پیٹ سوتے ہیں۔ یہ وہ نوجوان ہیں جو کشتیوں میں ڈوبتے ہوئے ان ساحلوں کی طرف جا رہے ہیں جو شاید انہیں مار ڈالیں، کیونکہ ان کا اپنا ملک انہیں دھکیل رہا ہے۔ یہ وہ مائیں ہیں جو دوا اور روٹی کے درمیان انتخاب کرنے پر مجبور ہیں۔ ان تمام انسانوں کی حالت اپریل 2022 کے اس فیصلے کا براہِ راست، قابلِ سراغ، فرانزک نتیجہ ہے، جس میں پاکستانی عوام کے جمہوری مینڈیٹ کو سبوتاژ کیا گیا۔ یہ کوئی قدرتی آفت نہیں۔ یہ ایک سازش کی قیمت ہے، جس کے تمام شریکِ جرم عوام کے سامنے برہنہ کھڑے ہیں۔
ڈونلڈ لو نے دھمکی دی۔ اس نے حکومت نہیں گرائی۔ پاکستانیوں نے ایک پاکستانی حکومت گرائی۔ جنرل باجوہ وردی میں۔ کچھ لوگ عدالتی جبّوں میں۔ کچھ "دستار" میں۔ بدعنوان سیاستدان۔ اور ایسے جنہوں نے دبئی میں قوم کے لوٹے ہوئے خزانوں کے رجیم چینج کے لیئے منھ کھول دیئے۔ ان سب نے عوام اور اس آئین کے تحفظ کے بجائے، ایک غیر ملکی اشارے کو ترجیح دی۔ مجرم صرف بیرونی نہیں تھے، اندرونی بھی تھے۔ یہ بات صاف اور ہمیشہ کے لیے ریکارڈ پر رہنی چاہیے۔
جو لوگ کہتے ہیں، "یہ ماضی کی بات ہے، آگے بڑھیں"، میں ان سے کہتا ہوں: قانون کی حکمرانی کے بغیر سرمایہ کاری نہیں آ سکتی۔ آزاد عدلیہ کے بغیر قانون کی حکمرانی نہیں ہو سکتی۔ اور ایسی عدلیہ، جس کی بنیاد زیادہ تر بدعنوان ججوں پر ہو، کبھی آزاد نہیں بن سکتی۔ آگے بڑھنے کا راستہ حقیقت کے درمیان سے گزرتا ہے، اس کے باہر سے نہیں۔
پاکستان کی معاشی تباہی، اس کا ادارہ جاتی زوال، مکمل کرپشن، قومی دیمک جو سب کچھ کھا رہی ہیں، ان میں سے کوئی بھی خدا کا فعل نہیں بلکہ اعمال کا نتیجہ ہے۔ یہ ایک مجرمانہ رجیم چینج کا براہِ راست اور قابلِ سراغ نتیجہ، جسے باہر سے سہولت دی گئی اور اندر سے اس پر عمل درامد کیا گیا۔
جیسا کہ سائفر کے مندرجات اب عوام کے سامنے رپورٹ ہوئے ہیں، ریکارڈ واضح ہے۔ یہی غاصب اب بھی اقتدار میں ہیں اور میرے ملک کی تباہی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ آگے بڑھنے کا واحد معقول اور منصفانہ راستہ بالکل واضح ہے:
اب پیچھا چھوڑو، اور میرے لوگوں کو جینے دو۔
مجھے اس قوم سے غداری کرنے والوں کے لیے اقبال کا حوالہ دیتے ہوئے تکلیف ہوتی ہے، مگر یہ شعر لازوال ہے۔
جعفر از بنگال و صادق از دکن
ننگِ آدم، ننگِ دیں، ننگِ وطن
سائفر بول چکا ہے۔ اب پاکستان کو بولنا ہوگا۔ 🇵🇰
Welldone Khuwaja Asif We are proud of you. Israel a war-criminal, a genocidal entity is crying over Pakistan’s defence minister’s remarks using them to sabotage Pakistan’s peace mediation efforts. First, we don’t consider Israel a state and this mediation ceasefire is between the US and Iran... so F off.
@KhawajaMAsif
#Israël
Trump has backed down, and surrendered!
The most significant part of Trump’s ceasefire post is that the negotiations moving forward will rely on Iran’s 10-point proposal rather than Trump’s 15 points
Long Live Iran!
Iranian missiles breach Israeli defences, striking Arad and Dimona. In Arad, a ballistic missile levelled a neighbourhood, causing casualties and dozens of injuries.
Many people are fearing that Israel may soon try to destroy Al Aqsa Mosque and blame Iran. This claim is confirming the fear. Israel must understand that destruction of Al Aqsa will be the start of a new war which may destroy Tal Aviv.
🚨 بریکنگ نیوز :
چینی پروفیسر کا کہنا ہے کہ اسرائیل خفیہ طور پر مسجد اقصیٰ کے نیچے کھدائی کر رہا ہے تاکہ ان کی بنیادیں نیچے سے ختم کی جائیں
اور پھر اس پر ایک میزائل 🚀 مارا جائے اور الزام یہ لگایا جائے کہ یہ میزائل ایران نے داغا ہے اور اس مسجد کو ایران نے گرایا ہے
اور تمام تر ملبا ایران پر ڈال کر تمام مسلم مسلم امہ کو ایران کے خلاف کیا جائے اور ایک خطرناک جنگ شروع کی جائے۔
اور اسی طرح اپنے گھناونے منصوبے جو کہ 3rd ٹیمپل کا منصوبہ ہے اس کو عملی جامہ بھی پہنایا جا سکے
Saifi Bhai, playing under your leadership was a privilege. Thank you for your guidance, belief, and the memories you gave Pakistan cricket. Wishing you success and peace in this new chapter of life.