انٹرنیٹ کی عدم موجودگی کے سبب علیمہ خان سے بات نہیں ہو سکی کشمیر کے لوگوں کو حقوق دیے جائیں تحریک انصاف نے کشمیر کے لوگوں کی حمایت میں الیکشن کا بائیکاٹ کر رکھا ہے ۔
نورین خان نیازی
ہم کوئی عہدہ نہیں لے رہے، عمران خان کے لیے تحریک میں حصہ لینے کو موروثیت کہہ رہے ہیں، ہم کوئی عہدہ کوئی صدارت تو نہیں لے رہے،جو گھروں میں بیٹھے ہیں وہ کہتے ہیں ہم بھی نہ نکلیں کوئی اور بھی نہ نکلے۔
آگے ہم کیا کرنے جارہے ہیں وہ وقت سے پہلے نہیں بتا سکتے، ظلم جب حد سے بڑھ جائے تو اس کا نتیجہ بھی بہت سخت ہوتا ہے۔ ظالموں کا انجام بہت برا ہوتا ہے۔ @Noreen_KhanPK
جو چیز پوری پی ٹی آئی قیادت نہیں کر سکی
وہ علیمہ خان نے کر دکھایا ۔ لوگ دیوانہ وار اکٹھے ہو گئے۔
پی ٹی آئی قیادت یہ کرنا ہی نہیں چاہتی تھی ۔
وہ لارے دے دے کر لوگوں کے باہر نکلنے کا جذبہ کچلنے کے علاؤہ کچھ نہیں کر رہے تھے
اور اب
علیمہ خان کے خلاف پینڈنگ پڑے کیسز اور ایجنسیاں متحرک ہو جائیں گی
لوگوں کی، دوسروں کی لاشیں آتیں، لیکن وزیراعلیٰ صاحب دکھاتے کہ بالکل امن و امان ہے۔ میں اکیلے بغیر بم پروف گاڑی کے وہاں جا رہا ہوں۔
میں آپ کو زہری کا واقعہ سناؤں، زہری میں گزشتہ تقریباً نو مہینے سے کرفیو ہے۔ یہ ڈسٹرکٹ خضدار کی ایک تحصیل ہے جہاں سے میں منتخب ہو کر آیا تھا۔ وہاں ہماری پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر سردار نصیر موسیانی ہیں۔ وہ ایک قبائلی علاقہ ہے اور زہری قبائل میں سب سے طاقتور قبیلہ موسیانی قبیلہ ہے۔ بلبل ان کا گاؤں ہے، اس کے نزدیک سیکیورٹی فورسز کا کوئی قافلہ جا رہا تھا جس پر اٹیک ہوتا ہے۔ میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ وہ بھاگتے ہوئے آئے کیونکہ یہ لوگ کبھی بھاگے نہیں ہیں۔ وہ چہل قدمی کرتے ہوئے سردار نصیر کے گھر کے سامنے آتے ہیں اور انہیں آواز دیتے ہیں۔
وہ باہر نکلتے ہیں۔ ان کی عمر 70 سال سے زائد ہے، حال ہی میں ان کا ہارٹ بائی پاس ہوا ہے اور ان کا ایک پاؤں بھی فریکچر ہے۔ جب وہ اپنے تینوں بیٹوں کے ساتھ گھر سے باہر نکلتے ہیں تو میجر صاحب انہیں غلیظ الفاظ میں برا بھلا کہتے ہیں اور اشارہ کرتے ہیں کہ یہی دہشت گرد ہے۔ پھر سپاہی ان پر کود پڑتے ہیں، اس بزرگ کو گلے سے پکڑ کر گھسیٹتے ہیں اور ان کے سر پر بندوق کا قنداق (بٹ) مارتے ہیں۔ ظاہر ہے کسی غیرت مند باپ کا غیرت مند بیٹا وہاں خاموش تو نہیں بیٹھا رہے گا۔
کوئی بھی ہو، میں صرف بلوچ کی بات نہیں کرتا، چاہے وہ سندھی ہو، پشتون ہو، پنجابی ہو، سرائیکی ہو یا کشمیری ہو۔ کیا آپ میں سے کوئی یہ برداشت کرے گا کہ آپ کے سامنے آپ کے بزرگ والد کی بے عزتی کی جائے اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جائے؟ وہ بیٹا جذباتی ہو کر اس میجر کا گریبان پکڑ لیتا ہے۔ وہ فائر کرتے ہیں اور باپ کے سامنے بیٹے کو شہید کر دیتے ہیں۔ اس کی لاش کو گھسیٹتے ہوئے گاڑی میں ڈالتے ہیں۔ اس کے ضعیف والد اور دو دیگر بھائیوں کو بھی گاڑی میں ڈالتے ہیں اور لے جا کر اسکول میں بند کر دیتے ہیں۔
جب گاؤں کے لوگوں کو پتہ چلتا ہے تو وہ اکٹھے ہوتے ہیں کہ یہ آپ کیا زیادتی کر رہے ہیں۔ ان پر مارٹر گولے پھینکے جاتے ہیں جن میں خواتین بھی زخمی ہوتی ہیں۔ وہ لاش بھی لے جاتے ہیں اور اس سردار کو بھی ساتھ لے جاتے ہیں۔ بہت کوششوں کے بعد رات کو سردار کو چھوڑ دیتے ہیں اور صبح انہیں اطلاع دیتے ہیں کہ آؤ اپنے بیٹے کی لاش لے جاؤ۔
یہ سب آپ نے فلسطین میں سنا ہوگا یا کشمیر میں سنا ہوگا؟ لیکن بلوچستان کے حوالے سے آپ لوگوں نے ایسا نہ دیکھا ہوگا اور نہ سنا ہوگا۔ دوسرے دن جب لوگ لاش وصول کرنے جاتے ہیں تو ان سے تحریری ضمانت (written undertaking) لی جاتی ہے کہ آپ لکھ کر دیں کہ یہ دہشت گرد تھا۔ اس شرط پر اس کی لاش دی جاتی ہے۔
اب اس گاؤں کے لوگ جو اس سردار کو اپنا رہنما سمجھتے ہیں، وہ آنے والے دنوں میں کون سا راستہ اختیار کریں گے؟ یہ میں آپ کو صرف ایک سردار کی بات بتا رہا ہوں جو ہماری پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر ہیں۔ بلوچستان کے ہر گاؤں، ہر شہر اور ہر سڑک پر ایسی زیادتیاں ہوتی رہتی ہیں۔
سردار اختر جان مینگل @sakhtarmengal
”تحریک انصاف کی پولیٹیکل کمیٹی میں آج ختم کر رہا ہوں- پارٹی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے پاس مکمل اختیارات ہیں، وہ ایک نئی مختصر کمیٹی بنائیں جو سیاسی حکمت عملی وضع کرے اور اس پر عملدرآمد کروائے-
شاہد خٹک کو قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کا پارلیمانی لیڈر نامزد کرتا ہوں۔
پاکستان بار کے انتخابات میں تحریک انصاف متحد ہو کر ان امیدواروں کی بھر پور حمایت کرے جنھیں سلمان اکرم راجہ اور حامد خان نامزد کریں۔ خیبر پختونخوا کے وکلأ، بارز اور ILF کے معاملات کا سہیل آفریدی خود جائزہ لیں اور بہتری کے لیے ضروری فیصلے خود کریں۔
زراعت ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اس کا موجودہ حال پریشان کن ہے۔ کسانوں کے حقوق پر جس طرح ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے، اس پر انتہائی افسوس ہے“
اڈیالہ جیل میں نا حق قید سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ایک ماہ قید تنہائی کے بعد اپنی بہن سے ہونے والی ملاقات میں گفتگو (2 دسمبر، 2025)
Part 2 of 2
”عاصم منیر ایک ذہنی مریض ہے جس کی اخلاقی پستی کی وجہ سے پاکستان میں آئین اور قانون مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں اور کسی بھی پاکستانی کے بنیادی انسانی حقوق اب محفوظ نہیں۔
مجھے اور میری اہلیہ کو عاصم منیر کے حکم پر جھوٹے مقدمات میں جیل میں رکھا گیا ہے اور شدید ترین ذہنی ٹارچر کیا جا رہا ہے۔ مجھے مکمل طور پر ایک سیل میں بند کر کے قید تنہائی میں ڈالا ہوا ہے۔ چار ہفتے تک میری کسی ایک انسان سے بھی ملاقات نہیں ہوئی۔ اور بیرونی دنیا سے بالکل بےخبر رکھا گیا، جیل مینؤل کے مطابق دی جانے والی ہماری بنیادی ضروریات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔
ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود پہلے میری سیاسی ساتھیوں سے ملاقات پرپابندی لگائی گئی اور اب وکلأ اور اہل خانہ سے ملاقات بھی بند کر دی گئی ہے۔ انسانی حقوق کا کوئی بھی چارٹر اٹھا کر دیکھیں ذہنی تشدد بھی "ٹارچر" ہی کہلاتا ہے اور جسمانی تشدد سے بھی ذیادہ سنگین عمل سمجھا جاتا ہے۔
میری ہمشیرہ نورین نیازی کو سڑک پر گھسیٹا گیا، صرف اس لیے کہ وہ مجھ سے ملاقات کا جائز حق مانگ رہی تھیں، یہ صرف عاصم منیر جیسا شخص ہی کر سکتا ہے۔ اس نے ڈاکٹر یاسمین راشد جیسی بزرگ کینسر سرائیوور کو سیاسی انتقام کی غرض سے جیل میں ڈالا ہوا ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بیگم کو صرف مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے قید کیا ہوا ہے۔ ان کے بچوں سے بھی انکی ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی۔ ان کو تمام سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے، ان سب مثالوں سے اس شخص کی ذہنی سطح کا اندازہ ہوتا ہے۔
قید تنہائی کاٹنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے لیکن میں یہ صرف اپنی قوم کی خاطر برداشت کر رہا ہوں۔ جب تک قوم خود غلامی کی زنجیریں نہیں توڑتی، پاکستان پر مسلط مافیاز ایسے ہی اس کا استحصال کرتے رہیں گے۔ ایکسٹینشن مافیا، لینڈ مافیا، چینی مافیا، مینڈیٹ چور مافیا ہر ایک اس قوم کو تب تک غلام بنا کر رکھے گا جب تک کہ یہ قوم خود اٹھ کھڑی نہیں ہوتی۔ آپ آج ان کے غلام ہیں، آپ کی نسلیں ان کی نسلوں کی غلام ہوں گی اگر اس چکر کو توڑنا ہے تو قوم کو خود غلامی کی زنجیریں توڑ کر “حقیقی آزادی” کے لیے کھڑا ہونا ہے۔
وکٹ کے دونوں جانب کھیلنے والوں کی میری پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ایسے لوگ تحریک انصاف کے "میر صادق" اور "میر جعفر" ہیں۔ این ڈی یو ورک شاپ میں تحریک انصاف کے لوگوں کی شرکت شرمناک ہے۔ ایک جانب ہم لوگ ہر قسم کی سختیاں برداشت کر رہے ہیں تو دوسری جانب جب ہمارے ہی لوگ ہم پر ظلم ڈھانے والوں سے سماجی تعلقات بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں تو مجھے انتہائی تکلیف ہوتی ہے۔
میں ہمیشہ کہتا آیا ہوں کہ اپنے ہی لوگوں پر ڈرون اٹیکس اور ملٹری آپریشنز سے دہشتگردی مزید بڑھتی ہے- عاصم منیر کی پالیسیاں اس ملک کے لیے تباہ کن ہیں۔ اس ہی کی پالیسی کی بدولت آج ملک میں دہشتگردی کا ناسور بے قابو ہے جس پر مجھے انتہائی دکھ ہے۔ اس کو اپنے ملک کے مفادات کی رتی برابر بھی پرواہ نہیں ہے۔ یہ جو کچھ کر رہا ہے، محض مغربی دنیا کی خوشنودی کے لیے کر رہا ہے۔ افغانستان کے ساتھ آگ کو جان بوجھ کر بھڑکایا، اس کا مقصد ہے کہ اسے “انٹرنیشنلی مجاہد” سمجھا جائے- اس نے پہلے افغانوں کو دھمکایا، پھر مہاجرین کو ملک سے دھکے دے کر باہر نکالا، ان پر ڈرون حملے کیے جس کے اثرات پاکستان میں دہشت گردی بڑھنے کی صورت میں آئے۔ اس شخص نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے ملک کو دہشتگردی کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔
سہیل آفریدی قابل تعریف ہے کیونکہ جبر کے اس ماحول میں وہ مفاہمت کے بجائے مزاحمت کو ترجیح دے رہا ہے۔ سہیل آفریدی کو پیغام دیتا ہوں کہ وہ فرنٹ فٹ پر آ کر کھیلتا رہے۔ اس ملک میں کوئی قانون اور آئین نہیں ہے۔ قانون صرف تحریک انصاف کے لیے حرکت میں آتا ہے ورنہ ہر کوئی اس سے مبرا ہے۔ سہیل آفریدی جو بھی کر رہا ہے اسے جاری رکھے میں اس کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔
گورنر راج کی دھمکیاں لگانے والے کل کی بجائے آج لگا لیں اور پھر دیکھیں ان کے ساتھ ہوتا کیا ہے!!
محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس میرے لیے انتہائی قابل احترام ہیں۔ وہ جمہوریت پسند اور اصول پرست لوگ ہیں۔ مجھے حیرت ہے کہ اب تک ان کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔ میں تحریک انصاف کی پارلیمانی جماعت کو ہدایت کرتا ہوں کہ سپیکر اور چئیرمین سینیٹ کے سامنے اس معاملے پر احتجاج کریں تاکہ ان کا اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ اس کے علاوہ موجودہ نظام مخالف کسی بھی قسم کی تحریک کے لیے جو بھی کال تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے دی جائے تمام تحریک انصاف اس پر عمل کرے“
اڈیالہ جیل میں نا حق قید سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ایک ماہ قید تنہائی کے بعد اپنی بہن سے ہونے والی ملاقات میں گفتگو (2 دسمبر، 2025)
Part 1 of 2
We have received reports that Imran Khan was again taken to PIMS in the early hours of 15 June. We found out through a tweet by Barrister Gohar on the morning of 15 June.
We reject any medical report generated by PIMS regarding Imran Khan’s condition. The same institution has previously made questionable claims, including the assertion that Imran Khan had recovered 90% of his eyesight. Imran Khan himself rejected these claims when his lawyer later met him at Adiala Jail.
A fundamental question remains unanswered: Why does Imran Khan require a fifth injection?
We do not accept the government’s version of events. We demand that Imran Khan be examined and treated by independent, qualified specialists at Shifa International Hospital, Islamabad. This is an urgent and immediate priority.
A full bench court order permits six family members to meet Imran Khan every Tuesday. Yet over the past eight months, the authorities have largely violated this order. My sister, Dr. Uzma Khan, has only been allowed to meet him a few times, and her last meeting took place on 2 December, 2025.
We reject the government’s continued use of isolation and deprivation as tools of pressure against Imran Khan. Today, we expect all six family members to be allowed to meet him in accordance with the court’s order.
The denial of Imran Khan’s rights is not merely a political issue; it is a clear violation of both the jail manual and High Court orders.
According to the jail manual, Imran Khan is entitled to:
1. A weekly telephone call with his sons.
2. A weekly meeting with family members.
3. A weekly meeting with his legal counsel.
4. Access to books and reading material.
5. Access to television and newspapers.
6. Access to proper medical treatment and regular medical check-ups.
7. Notification to immediate family members before any medical procedure is carried out.
In addition, High Court full bench orders provide that:
1. Imran Khan must be allowed to speak with his sons by telephone.
2. Six family members and six lawyers may meet him every Tuesday.
3. Six friends, including party representatives, may meet him every Thursday.
We demand the immediate restoration of all of Imran Khan’s lawful rights as a prisoner, with access to independent and professional medical treatment in presence of family as the highest and most urgent priority.
These are simple questions about transparency, accountability, and the public's right to know. If all actions are lawful and consistent with international standards, independent verification and unrestricted access should help establish the facts. #WhereIsImranKhan@UN@amnesty@hrw@EP_HumanRights
Free Imran Khan! Imran Khan has been left to languish in a Pakistani prison cell for over three years. Today in the House of Commons I presented a petition calling for his release, as well as the release of all political prisoners in Pakistan.