"جنرل کہہ رہا ہے معافی مانگو!
جنرل سے معافی کیوں مانگوں؟
جنرل عوام سے معافی مانگے!
مجھے زنجیر سے لٹکایا ہوا ہے !
مکھی اور کیڑے میرے پر بیٹھ رہے ہیں!
سر کے درمیان کچھ ہو رہا ہے!"
پشتو زبان میں مسلسل بولے جانے والے یہ چھ جملے پاکستان تحریکِ انصاف ضلع بنوں کے یوتھ ممبر 27 سالہ سمیع وزیر کے ہیں جو 20 ماہ تک ملٹری کسٹڈی میں رہے، عید الاضحی کے بعد تھرڈ ڈگری جسمانی ٹارچر کے دوران ان کی بڑی آنت پھٹ گئی اور سی ایم ایچ میں سمیع کی سرجری ہوئی، ملٹری کسٹڈی سے رہا ہونے کے بعد اٹھائیس سالہ سمیع نہ سن سکتا ہے اور نہ ہی کسی کو پہچان سکتا ہے اور ظالمانہ تشدد کے باعث اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھا ہے۔
اس کا جرم صرف اتنا کہ اپنے نظریے پر سمجھوتا کرنے اور اس غلطی کی معافی مانگنے سے انکار کیا جو اس نے کی ہی نہیں، اپنے ہی پاکستانی نوجوانوں کو ملٹری کسٹڈی میں صرف سیاسی اختلاف رکھنے پر ظلم اور تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور پھر کہا جاتا ہے کہ ملک کا نوجوان ہمارا سرمایہ ہے، ایسے کیسے!
#معافی_آپ_مانگیں
#اپنا_ادارہ_ٹھیک_کرو
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں میڈیا اور وکلأ سے گفتگو
“میں نے اپنی زندگی میں پاکستان میں نافذ کیے گئے تمام مارشل لأ یعنی ایوب خان ، یحیٰی خان ، ضیاء الحق اور مشرف کا مارشل لا دیکھے ہیں۔ یحیٰی خان اور ضیاءالحق کا مارشل لا پاکستان کی تاریخ کا بدترین مارشل لاء تھا جس میں جمہوریت کو بالکل روند دیا گیا تھا۔ مشرف اس حوالے سے قدرے لبرل تھا۔ جو کچھ آج ملک میں جمہوریت کے نام پر ہو رہا ہے اسکا موازنہ صرف اور صرف یحیٰی خان کے دور سے کیا جا سکتا ہے۔ مارشل لأ میں سب سے پہلے جمہوریت، آزاد عدلیہ اور آزاد میڈیا کا گلا گھونٹا جاتا ہے تاکہ آمر کی غلط کاریوں پر کوئی بھی آواز بلند کرنے والا نہ ہو ۔ آزاد میڈیا چونکہ تنقید کرتا ہے اس لیے اسکی آواز بند کی جاتی ہے عدلیہ کیونکہ غلط فیصلوں پر ایکشن لینے کا حق رکھتی ہے اس لیے اسکے اختیارات بھی سلب کر لیے جاتے ہیں ۔ آج اس جمہوریت کی آڑ میں نافذ اس مارشل لا میں یہ تمام فسطائی حربے بدرجہ اتم موجود ہیں ۔ یہ کیسی جمہوریت ہے جس میں پاکستان کی سب سے مقبول اور بڑی پارٹی کے چئیرمین کا نام تک میڈیا پر لینے پر پابندی ہے؟
جیسے حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ کے ذریعے واضح ہوا تھا کہ یحیٰی خان نے اپنی طاقت اور اقتدار کی خاطر ملک کے نظام کو تہس نہس کیا وہی کام آج بھی کیا جا رہا ہے۔ فارم 47 کی بوگس اور فراڈ حکومت کو بچانے کے لیے تحریک انصاف کو مسلسل کچلا جا رہا ہے اور ملک میں جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی آزادی کا جنازہ نکال دیا گیا ہے۔ شہباز شریف صرف اور صرف جنرل عاصم منیر کی ایک کٹھ پتلی اور اردلی ہے، اس سے زیادہ طاقت ور وزیراعظم تو مشرف دور میں شوکت عزیز تھا کیونکہ کم از کم تب انتخابات میں اس سطح کی دھاندلی نہیں کی گئی تھی جیسی فروری 2024 میں کی گئی۔ دھاندلی کی پیداوار فارم 47 کے سہارے کھڑا ناجائز لیکن ناتواں ٹولہ دراصل حکومت کے نام پر ایک دھبہ ہے۔
القادر ٹرسٹ کا فیصلہ صرف اور صرف پچھلے کیسز کی طرح میرے اوپر دباو ڈالنے کے لیے لٹکایا جا رہا ہے مگر میں مطالبہ کرتا ہوں کہ یہ فیصلہ فوری طور پر جاری کیا جائے کیونکہ جیسے پہلے عدت کیس اور سائفر کیس میں آپ کا منہ کالا ہوا اب بھی وہی ہو گا ۔
القادر کیس بالکل ایک بوگس کیس ہے جس میں دور دور تک کوئی میرٹ نہیں۔ میں نے کوئی بلاول ہاؤس نہیں بنوایا بلکہ ایک دور دراز دیہات میں قوم کے بچوں کے مستقبل کی خاطر ایک فلاحی ادارہ قائم کیا جس سے مجھے ایک روپے کا فائدہ نہیں ہوا اور نہ ہونا ہے- القادر ٹرسٹ یونیورسٹی بھی شوکت خانم اور نمل یونیورسٹی کی طرح ایک عوامی مدد سے چلنے والا فلاحی ادارہ ہے-
میں واضع طور پہ کہنا چاہتا ہوں کہ میں نواز شریف اور زرداری کی طرح این آر او نہیں لوں گا۔ اور عدالتوں سے اپنے کیسز ختم کروائیں گے۔
بشری بی بی کا کسی سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔ یہ محض پراپگنڈا ہے۔ ہماری مذاکراتی کمیٹی ہی ان معاملات کو دیکھ رہی ہے ۔ اسلام آباد قتل عام کو 6 ہفتے ہو چکے ہیں، ہمارے گمشدہ افراد کو لیکر حکومت کی طرف سے کوئی پیش رفت نہیں کی گئی۔ یہ مذاکرات کی کامیابی میں حکومت کی غیر سنجیدگی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔
پاکستان میں معیشت کا حال بدترین ہے ۔ گروتھ ریٹ صفر ہے مصنوعی طریقے سے ڈالر کو قابو میں رکھنا کوئی معاشی کامیابی نہیں ہوتی۔ ملک میں ترقی صرف سرمایہ کاری سے آتی ہے اور سرمایہ کاری کبھی ایسے ملک میں نہیں آتی جہاں قانون کا وجود ہی فوت ہو چکا ہو ، عدالتیں آزاد نہ ہوں ، دہشتگردی ہو اور جہاں اصل عوامی نمائندگان حکومت کی بجائے جیلوں میں ہوں۔ ایسا ملک کبھی ترقی کر ہی نہیں پایا-“
Please its my humble request to all the Overseas & Media persons to raise voice and do support financially Samee Wazeer . He is 27 years old remained in Military Custody for 20 months , because of third degree Physical Custodial Torture after Eid ul Adha his large intestine got ruptured during physical torture & had Major Surgery in CMH . Since he has been released from Military Custody not able to listen talk walk or recognise anyone . Off & On only repeatedly saying four lines in Pashto language his brother translate them as
جنرل کہا رہا ہے معافی مانگو
جنرل سے معافی کیوں مانگوں
جنرل عوام سے معافی مانگے
مجھے زنجیر سے لٹکایا ہوا ہے
مکھی اور کیڑے میرے پر بیٹھ رے ہیں
سر کے درمیان کچھ ہو رہا ہے
Till now CM KPK gave two lac fifty thousand rupees only few Persons have visited them . MNA Naseem Shah & DR Nafeer Wazir ( IDF President ) helped them most got him hospitalised . Will share all his Medical reports and Contact details if required.Matter of Shame for the Central / Provincial / Leadership & Senators of PTI and ILF
@PTIofficial@PTIOfficialUSA@PTIOfficialCA@PTIUK@ImranRiazKhan@pasha_samina@tariqmateen@faisal_fareed@SabeeKazmi786@drjalil247@SajjadBurki@akhan4pakistan@ehtashamabbasi@OryaMaqboolJan@arifhameed15@ARYSabirShakir@SSEHBAI1
اس گڑیا رانی کا روزہ تھا۔عصر کے قریب وقت تھا میں تھوڑی دیر آرام کرنے لگا تو اس نے چیمبر کا دروازہ ناک کیا۔کلرک انکو میرے کمرے میں لے آیا۔۔ایک سیب،دو کھنجوریں اور ایک جوس کا ڈبہ اس نے اپنی افطاری کیلئے شاپر میں رکھے ہوئے تھے۔روزے میں پیاس کیوجہ سے نڈھال تھی۔اسکے والد کسی کے پاس
اگر آپ نے کچھ شیئر کرنا ہی ہے تو پھر صرف اور صرف یہ شیئر کریں،'ان' کی تصویر اور حرکتوں کو اتنی اہمیت دینے کی بالکل ضرورت نہیں۔
For her and the 'chota pack', even negative publicity is publicity