@soulat_pasha ڈاکٹر صاحب کی بات درست ہوگی مگر معاشرہ، معاشرہ ہوتا ہے، نا ہندو ہوتا ہے نا مسلم ہوتا ہے. یعنی مذہب سے بالاتر، ہمارے رویوں کا عکاس. اس ضمن میں سابق بلوچی وزیراعلیٰ اسلم رئیسانی یاد آگئے جو اکثر فرماتے تھے 'ڈگری، ڈگری ہوتی ہے چاہے اصلی ہو یا نقلی'
@goneneutral ہماری اقتصادی اور معاشی حالات ہمارے خارجہ امور کو طے کر رہے ہیں. ہم اپنی حمایت کے عوض معاشی مدد مانگتے ہیں. گویا' گھنگھرو کی طرح بجتے ہی رہے، کبھی اس پیر میں کبھی اُس پیر میں'
@RashdiSuleman اب صحافت رہی کہاں. اب تو مخصوص سیاسی سوچ کے ترجمان اور پروموٹرز ہیں اور اللہ کے فضل و کرم سے معاشی طور پر دن دگنی رات چگنی ترقی کررہے ہیں.
@suhailswarraich اس 'بیٹل اف وٹس' یا نفسیاتی جنگ میں عوام نفسیاتی مریض بن چکے.ان تمام انتھک کوششوں اور انرجی ضائع کرنے کے عمل سے ملک تو بہرحال ترقی نہیں کر سکتا.وقت کا ضیاع ہے اور وقت کی اہمیت سیاسی زعماء کی نظر میں کچھ بھی نہیں.ہم اچھے وقت کے انتظار میں رہتے ہیں، اچھا وقت لانے کی کوشش نہی کرتے.
@RShahzaddk معلوم نہیں کہ قانون کو توڑ کر ہم سزا سے خود کو کیوں مبرا سمجھتے ہیں. اس پر طیش میں آنا ہمارے کردار میں کسی نا کسی قسم کی کمی کو ظاہر کرتا ہے.
@sofiabukhari_07 رخصتی کے بغیر بیوگی ہو یا طلاق، عدت واجب نہیں. اس پر کئی فتاویٰ ہیں. عدت شرعیہ میں کوئی سزا نہیں بلکہ یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ خاتون طلاق یا بیوگی سے پہلے اُمید سے تو نہیں.
@shamshergondal کیا یہ کہانی بھی سنائی تھی کہ ایک دن اللہ تعالیٰ اور حضور اکرم صلعم عرش کی سیر میں مصروف تھے کہ اچانک اللہ تعالیٰ کا پاؤں پھسلا مگر غوث پاک نے زمین سے ہی ہاتھ بڑھا کر اللہ کو تھام لیا اور گرنے نہیں دیا. آجکل یہ کہانی انکے معتقدین یو ٹیوب پر زور و شور سے سنا رہے ہیں.