باڑہ بازار خیبر چوک پر ایمرجنسی اور گورنر راج کے ممکنہ نفاذ کے خلاف اور وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا جناب سہیل خان آفریدی کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے ہونے والے پُرامن احتجاج پر پولیس کی فائرنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔
پُرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی و قانونی حق ہے۔ عوام کی آواز کو طاقت کے ذریعے دبانا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ قبائلی عوام اپنے حقوق، جمہوری مینڈیٹ اور آئینی اختیارات کے تحفظ کے لیے پُرامن جدوجہد جاری رکھیں گے۔
ایڈمن
🇵🇰 Police reportedly opened fire on supporters of Imran Khan's party in northwest Pakistan, as anger grows over the government seizing control of their home province.
Islamabad took over Khyber Pakhtunkhwa, the province Khan's party runs, kicked out its government and arrested its chief minister.
Protesters took to the streets in Bara, a town near the Afghan border, and that's when the shooting reportedly started.
The government says it stepped in because the province failed to stop militant violence, but in Bara, the guns were pointed at protesters.
Sources: Arab News / Writer: Julie
ایڈوائزری کونسل میں شامل ثمر بلور کے والد عرفان اللہ خان مروت اور وینا حیات ریپ کیس
دس سال قبل کی میری تحریر
عرفان اللہ خان مروت صدر پاکستان غلام اسحاق خان کے داماد ہیں۔ موصوف کا پہلی دفعہ نام وینا حیات ریپ کیس میں آیا۔ سی آئی اے کے ڈی ایس پی محب اللہ مروت اور چند دیگر افراد کے ہمراہ انہوں نے نواز شریف کے پہلے دور حکومت میں گھر میں گھس کر وینا حیات کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔ نواز شریف کے اس دور میں سیاسی مخالفین کو بدترین انتقام کا نشانہ بنایا گیا، موجود اسپیکر سندھ اسمبلی شہلا رضا بھی زیادتی کا نشانہ بنیں۔ زیادتی کے واقعہ کے وقت عرفان اللہ خان مروت اس وقت سندھ کے وزیرداخلہ بھی تھے۔ یہ کیس عدالت میں تاحال زیر التوا ہے۔ وینا حیات بے نظیر کی دوست اور قائداعظم کے دیرینہ دوست شوکت حیات خان کی بیٹی ہیں۔
یہ تحریر تب عرفان اللہ خان مروت کے پیپلز پارٹی میں ممکنہ شمولیت کے وقت لکھی گئی تھی۔
Pakistan’s federal government imposes emergency rule in Khyber Pakhtunkhwa, sidelining the PTI-led provincial government after talks collapse and ahead of protests over Imran Khan’s jailing, citing border security fears.
Al Jazeera’s Osama Bin Javaid reports.
“This script has played out so many times before: one military dictator unwilling to let go. My generation is witnessing this for the second time, and our parents’ generation, for the fifth time by now.”
Hussain Nadim
#Pakistan#Democracy@HNadim87
رجیم چینج کی رات عمران خان کے الفاظ تھے، ”اللہ الحق ہے۔ سچ کا خدا ہے”۔
ارشد شریف نے کہا، ”عمران خان نے بہت بڑا کام کیا۔ سب کو ایکسپوز کردیا“۔
گذشتہ مدت میں بہت بار سُنا میں نے، ”مراد سعید کے لڑکے“، ”مُراد سعید کے لڑکوں نے عمران خان کو بیچ دیا“، ”ُمراد سعید کے لڑکوں نے عمران خان سے غداری کی“۔ اللہ گواہ ہے مراد سعید کی کوئی ٹیم نہیں۔ مراد سعید خود محض عمران خان کی مرہون منت ہے۔ پھر بھی مجھے فخر ہے کہ “مراد سعید کے لڑکوں نے“ اپنے لیڈر عمران خان کی طرح حکومت قربان کردی اپنی قوم کا سودا نہیں کیا۔ عمران خان سے ملاقات کے بدلے پختونوں کے خون کی بلی مانگنے والے ہوس پرست درندوں کے سامنے سرینڈر نہیں کیا۔ جس طرح عمران خان نے رجیم چینج کی رات ہر نام نہاد محب وطن، ہر زبان و کلام کے جمہوری، ہر دکھاوے کے وطن پرست کے چہرے سے نقاب نوچا تھا آج اُس کی ٹیم نے بھی ان غاصبوں کو مجبور کردیا کہ اپنے گھناؤنے منصوبوں کے ساتھ کھل کر سامنے آئیں اور قوم کے سامنے اپنے لفظوں میں اقرار کریں کہ عمران خان کے نام پر بنی حکومت۔ اس کے منتخب کردہ وزیر اعلی کا جرم اپنے لوگوں کی زندگیوں کو اقتدار پر مقدم رکھنا تھا۔ قوم اپنے غداروں کے چہرے دیکھ اور جان چکی ہے۔
مجھے ہمیشہ سے اس بات کا یقین رہا ہے کہ عمران خان کی زندگی کی ضمانت، اس امر میں پوشیدہ ہے کہ ہم عمران خان کے نظریے کو اس طرح رپلیکیٹ کریں کہ یہ گمان ذائل ہوجائے کہ عمران خان کو قید رکھ کر، اسے دنیا سے کاٹ کر اس جدوجہد کو روکا جاسکتا ہے۔ آج ہم نے ثابت کردیا ہے کہ سلاخوں کے پیچھے سے بھی عمران خان اپنی قوم کا سودا کرنے سے انکاری ہے۔ کہ عمران خان کی خاموشی بھی ان درندوں کی سب چھنگاڑوں پر بھاری ہے۔ کہ عمران خان ایک نسل کو عمران خان بنا چکا ہے۔
دو تہائی اکثریت سے منتخب پی ٹی آئی کی خیبر پختونخوا حکومت کو ہٹا کر گورنر راج نافذ کر دیا گیا اور اقتدار ایسے شخص کے حوالے کر دیا گیا جس نے اپنے سیاسی کیریئر میں 9 انتخابات لڑے اور صرف ایک میں کامیابی حاصل کی!
مگر اصل خوف عمران خان اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی عوامی مقبولیت کا ہے! اسی خوف کی عکاسی ان کی گرفتاری سے ہوتی ہے۔ جب عوام کی حمایت کسی کے ساتھ ہو تو اسے پابندِ سلاسل کرنا بھی اس کی آواز کو خاموش نہیں کر سکتا۔
عوامی مینڈیٹ پر شب خون مار کر اقتدار تو چھینا جا سکتا ہے، عوام کا اعتماد نہیں!
سابق وزیرِ اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید خان کی گرفتاری کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ اگر ان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی تو گلگت بلتستان بھر میں بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔
اگر خالد خورشید خان کو گرفتار کیا گیا تو پورا گلگت بلتستان جام ہوگا!
وزیراعلی خیبر پختو خوا کے علاوہ آج سپیکر ہاؤس خیبر پختونخوا پر بھی فوجی وردیوں اور سادہ کپڑوں میں ملبوس سینکڑوں لوگوں نے حملہ کیا اور سپیکر بابر سلیم سواتی @BabarSaleemSwat، سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید @AbdulKhalidPTI اور سٹاف کے ممبران سمیت کئی افراد کو اغوا کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا
اس دوران سپیکر ہاؤس میں فائرنگ بھی کی گئی، توڑ پھوڑ بھی کی گئی
میرا نہیں خیال کہ آج ماتم کا دن ہے۔ میرے خیال میں تحریک انصاف ثابت قدم اور سرخرو رہی ہے۔ یہ ہمارے لیے وہ ٹریپ تیارکررہےتھےجس نے عوامی نیشنل پارٹی کی 100 سالہ سیاست کو محض پانچ سال (2008 سے 2013) میں ختم کردیا تھا۔ یہ عارضی ہار مستقل جیت کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔ ہم نے جنگ جیتنے کےلیے معرکہ ہارا ہے۔ اب بیانیہ ہمارے ساتھ ہے اور 56 فیصد پاکستان (پختونخواء اور بلوچستان) میں جنگی سیکیورٹی ریاست کا درد سر ہے۔ 92 فیصد بارڈر (بھارت، افغانستان، ایران) غیر محفوظ ہے۔ ملکی معیشت پہلے سے مکمل برباد ہے۔ اب مخصوص شخصی صدارتی خواب اور نئے صوبوں کے منصوبے پر چور اور چوکیدار آمنے سامنے ہونگے۔ اندازہ ہے کہ چھ مہینے سے سال تک کی سختی ہے لیکن اب اس نظام کا مکمل طور پر منہ کے بل گرنا ناگزیر اور کنفرم ہوچکاہے۔ اللہ حق کا مددگار ہو۔ آمین
جھگڑا صرف یہ تھا کہ @SohailAfridiISF آنکھیں نیچی اور زبان بند رکھ کر ہماری بیعت کیوں نہیں کرتا، آفریدی نے نقصان تو بہت اٹھا لیا لیکن شرمناک بیعت سے انکار کر دیا
خواجہ معین الدین چشتی اجمیری نے کہا تھا
سرداد، نہ داد دست در دست یزید
شریف اور زرداری خاندان بیعت کا وزنی طوق گلے میں اٹھائے خوار ہوتے پھر رہے ہیں اور عمران خان در زندان مزاحمت کی واحد علامت کے طور پر مستضعفین پاکستان کی آخری امید بنتا جا رہا ہے
یاد رکھیں
ایمرجنسی تب لگتی ہے جب حالات اور معاملات کنٹرول میں نہ رہیں۔ گنڈاپور کے لانگ مارچ کی طرح اگر موجودہ مارچ بھی فکس میچ ہوتا تو ایمرجنسی لگانے کی ضرورت نہ پڑتی۔
تاریخ گواہ ہے ایمرجنسی جس نے بھی لگائی وہ زیادہ دن نہیں ٹِک پایا۔