The sacrilege of religious sentiments of Muslims by drawing caricatures will destroy peace around the world. It's not freedom of expression but an act of terrorism.
#Stopblasphemouscartooncontest
جیو نیوز پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاکے نشر کرنا ناجائز اور حرام ہیں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق دستوری طور پر اور پیمرا قوانین کے مطابق بھی یہ درست نہیں
ان میں سے کسی بھی لنک پر کلک کریں تو آپ کے ای میل ایپ میں آپ کی طرف سے چیئرمین پیمرا کو ایک تیار شدہ ای میل نظر آئے گی۔ آپ نے بس send کا بٹن دبانا ہے اور آپ کی طرف سے شکایت پہنچ جائے گی
https://t.co/Nf2zwqjAK7
https://t.co/yAIzPYkQth
https://t.co/j50T6JBQwN
https://t.co/c52CDyM1v6
https://t.co/7UVmrVJNsE
https://t.co/gkgVgEjy6a
جیو نیوز کا ایک پروگرام میں نبی کریم ﷺ اور اہلِ بیتؓ کے بصری نقوش دکھانا بدترین گستاخی ہے۔ جیو گروپ پر مستقل پابندی عائد کی جائے اور گستاخی کے ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ جیو نیوز کا محرم الحرام کے مقدس مہینے میں ’سفرِ عشق‘ کے نام سے پروگرام نشر کرنا، جس میں نبی کریم ﷺ اور اہلِ بیتؓ کے بصری نقوش دکھائے گئے نہ صرف دینی لحاظ سے بدترین گستاخانہ عمل ہے اور سختی سے منع ہے بلکہ آئینِ پاکستان کی بھی صریح خلاف ورزی ہے۔ جیو جیسے ٹی وی چینل کا سیکولر، لبرل طرزِ عمل سب پر واضح ہے۔ جیو نے لاکھوں مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا ہے۔ اِس بے ادبی اور گستاخی پرقانون کو فوری طور پر حرکت میں آ کر ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دینی چاہیے تھی۔ PEMRAکی15دن کی عارضی پابندی ناکافی ہے۔ ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ مملکتِ خداداد پاکستان میں دینی مقدسات کی ہر نوعیت کی گستاخی کو روکنے کے لیے چوکنا رہیں۔ حکومت، PEMRA اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ ہے کہ جیو نیوز پر بھاری جرمانہ، لائسنس کی منسوخی اور چھوٹے بڑے تمام ذمہ دار افراد کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی متعلقہ دفعات کے تحت سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ کوئی ٹی وی چینل یا سوشل میڈیا پر موجود شر پسند ایسے اندوہناک واقعات کا اعادہ کرنے کی جرات بھی نہ کر سکے۔
شجاع الدین شیخ
(امیر تنظیم اسلامی پاکستان
جیو کی وضاحت میں بہت خامیاں ہیں یہ کہنا کہ یہ غیر ارادی تھا ادارے کی پالیسی کے خلاف تھا تو اتنی حساس ترین ڈاکیومینٹری جو نبی کریم ﷺ کی ذات بارے تھی اس پر اس قدر غفلت کیسے ہو گئی ؟
پھر لکھا ہم کاروائی کر رہے جیو اس رپورٹر اور ایڈیٹورل بورڈ کے نام سامنے لائے قانونی کاروائی کے لئے پیش کرے جیو اس سلسلہ میں خود منصف نہی ہو سکتا ہے
جن لوگوں کے مزہبی جذبات کی دل آزاری ہوئی ان کو حق حاصل وہ ان لوگوں ان کے عقائد کو جان سکیں ساتھ ہی عوام کو پتہ ہو کیسے لوگ حساس چیزیں چیک کرتے ان کو نشر کرنے کی اجازت دیتے ہیں معاملہ صرف اس ویڈیو کا نہی بلکے جیو میں اہم عہدوں پر کن مشکوک عقائد لوگوں کو بٹھا رکھا یہ جاننا لازم ہے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو ( مصیبت کے وقت ) اپنے رخسار پیٹے، گریبان پھاڑ ڈالے، اور جاہلیت کی پکار پکارے۔
(صحیح بخاری،۳۵۱۹)
ذوالحجہ کےدس دنوں کو دیگر دنوں پر جو امتیازی مقام اور فضیلت حاصل ہے، اس کی وجہ یہ ہےکہ ان دنوں میں اسلام کی تمام بنیادی اور بڑی عبادتیں ایک ساتھ جمع ہو جاتی ہیں؛ یعنی: نماز، روزہ، صدقہ اور حج۔ اور یہ تمام عبادتیں سال کے کسی اور حصے میں اس طرح ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتیں۔
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں انجیل میں لکھا ہوا تھا :
نہ بدزبان ،نہ سخت، نہ بازاروں میں شور کرنے والے، نہ برائی کا بدلہ برائی سے دینے والے بلکہ وہ معاف کرتے ہیں اور درگزرکرتے ہیں۔
(السلسلۃ : 2172)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
سورۃ البقرہ کی آخری دو آیتیں (”اٰمن الرسول” سے آخر تک) ایسی ہیں کہ جو شخص رات میں انہیں پڑھ لے وہ اس کے لیے کافی ہو جاتی ہیں۔
(صحیح بخاری،۴۰۰۸)
قالَ ﷺ:
جب تم میں سے کوئی اپنی مسجد میں نماز (باجماعت) ادا کر لے تو اپنی نماز میں سے اپنے گھر کے لئے بھی کچھ (نفل وغیرہ) رکھے. کیونکہ الله اس کے گھر میں اس کے نماز پڑھنے کی وجہ سے خیر و بھلائی رکھے گا.
مسلم 1822
(ماجہ 1376؛ احمد 14448؛ ابی شیبہ 6511؛ بیہقی 3036؛ مشکوٰۃ 1297)
"اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے متقی ولیوں اور نیک بندوں کے دلوں پر ان کی پاکیزگی کی وجہ سے وہ علم و معرفت کے دروازے کھول دیتا ہے جو وہ دوسروں پر نہیں کھولتا۔
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ
مجموع الفتاوى (13-245)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ ان میں اپنے دین پر صبر کرنے والا آدمی ایسا ہو گا جیسے ہاتھ میں چنگاری پکڑنے والا“ ۔
(جامع ترمذی،۲۲۶۰)
ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےان سےفرمایا کہ پھر آنا۔ اس نےکہا: اگر میں آؤں اور آپ کو نہ پاؤں تو؟ گویا وہ وفات کی طرف اشارہ کر رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا کہ اگر تم مجھے نہ پا سکو تو ابوبکر کےپاس چلی آنا۔
(بخاری،۳۶۵۹)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ :
اللہ سے قبولیت کے یقین کے ساتھ دعا کرو، اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ لا پرواہ و غافل دل کی دعا قبول نہیں کرتا
(السلسلۃ : 2738)
ریاض الجنہ کے یہ دو مقام بہت ہی خاص اور معتبر ہیں:
🔵 نیلا دائرہ:
یہ وہ مقام ہے جہاں سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امامت فرمایا کرتے تھے۔ ترک بہت عاشق اور ادب کرنے والے لوگ تھے، اس لیے اس متبرک مقام کو محراب کے اندر محفوظ کر لیا گیا تاکہ اس پاک زمین پر کسی کا پاؤں نہ پڑے۔ جب لوگ سجدہ کرتے، تو ان کے سر اس پاک مقام سے کچھ پیچھے رہتے جہاں سرکار دو عالم ﷺ کے قدم مبارک ہوا کرتے تھے۔
🟢 سبز دائرہ:
یہ وہ مقام ہے جہاں درختوں میں سے سب سے خوش نصیب درخت حنانہ لگا ہوا تھا۔ حضور ﷺ اس درخت کے پاس ٹیک لگا کر خطبہ ارشاد فرماتے تھے۔
روایات اور سبق:
حضرت سَیِّدُنا حسن بصری علیہ رحمۃ اللہ القوی جب یہ واقعہ بیان فرماتے تو روتے اور ارشاد فرماتے:
"اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندو! جب ایک درخت کا بے جان تَنا فِراقِ مصطفیٰ میں رو سکتا ہے تو تمہیں فراقِ رسول ﷺ میں رونے کا زیادہ حق ہے۔"
(ماخذ: وفاء الوفاء، 1/388 تا 390؛ دلائل النبوۃ للبیہقی، 2/556 تا 561)
یہ دونوں مقام ہمیں حضور ﷺ کی قربت اور ان کی محبت کی اہمیت یاد دلاتے ہیں، اور دلوں میں ادب و احترام اور عشقِ رسول ﷺ کی روح جگاتے ہیں۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی کام سخت تکلیف و پریشانی میں ڈال دیتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے:
“يا حي يا قيوم برحمتك أستغيث ”
اے زندہ اور ہمیشہ رہنے والے! تیری رحمت کے وسیلے سے تیری مدد چاہتا ہوں“۔
(جامع ترمذی ،۳۵۲۴)