دل ایسے مبتلا ہوا تیرے ملال میں
زلفیں سفید ہو گئیں انیس سال میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پوری غزل ہی لاجواب اور سننے کے قابل ہے۔
آپ سب کے اعلی ادبی ذوق کی نذر 👇
جیو نیوز نے سرور کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاکے بنا کر توہینِ رسالت کی یے۔ ان کی طرف سے کی جانے والی وضاحت شرعی اصولوں کے مطابق مسترد ہے۔ ذمہ داران کے خلاف 295C کے مطابق کاروائی کی جائے۔
@AdvSahibaRana Our religion teaches us that there should not be any kind of relationship before marry but what are we doing?
This is fruit of their own choice...
اُس کا خِرام دیکھ کے جایا نہ جائے گا
اے کَبْک! پھر بَحال بھی آیا نہ جائے گا
ہم کُشتَگانِ عِشق ہیں ابرو و چَشمِ یار
سَر سے ہمارے تیغ کا سایہ نہ جائے گا
ہم رہروانِ راہِ فنا ہیں بَرنگِ عُمر
جاویں گے ایسے، کھوج بھی پایا نہ جائے گا
پھوڑا سا ساری رات، جو پکتا رہے گا دِل
تو صُبْح تک تو ہاتھ لگایا نہ جائے گا
اپنے شہیدِ ناز سے بس ہاتھ اُٹھا، کہ پھر
دِیوانِ حَشْر میں اِسے لایا نہ جائے گا
اب دیکھ لے، کہ سِینہ بھی تازہ ہُوا ہے چاک
پھر ہم سے، اپنا حال دِکھایا نہ جائے گا
ہم بیخودانِ محفلِ تصْوِیر اب گئے
آئندہ ہم سے آپ میں آیا نہ جائے گا
گو بَیسِتُوں کو ٹال دے آگے سے کوہ کن!
سنگِ گرانِ عِشق اُٹھایا نہ جائے گا
ہم تو گئے شیخ کو اِنسان بُوجھ کر !
پر اب سے، خانقاہ میں جایا نہ جائے گا
یاد اُس کی اِتنی خُوب نہیں مِیؔر ! باز آ
نادان! پھر وہ جی سے بُھلایا نہ جائے گا
میر تقی میر
کیا زمانہ تھا کہ ہم روز ملا کرتے تھے
رات بھر چاند کے ہمراہ پھرا کرتے تھے
جہاں تنہائیاں سر پھوڑ کے سوجاتی ہیں
ان مکانوں میں عجب لوگ رہا کرتے تھے
کر دیا آج زمانے نے انہیں بھی مجبور
کبھی یہ لوگ مرے دکھ کی دوا کرتے تھے
دیکھ کر جو ہمیں چپ چاپ گزر جاتا ہے
کبھی اُس شخص کو ہم پیار کیا کرتے تھے
اتفاقاتِ زمانہ بھی عجب ہیں ناصر
آج وہ دیکھ رہے ہیں جو سنا کرتے تھے
ناصر کاظمی
اپنوں کے ستم، اُن کی جفا یاد کریں گے
ہم جُرمِ محبت کی سزا یاد کریں گے
تُو آ گئی، آنا تھا جنہیں وہ نہیں آئے
ہم بھی تجھے کیا کیا نہ صبا یاد کریں گے
میں نے دمِ رُخصت جو کہا بھول نہ جانا
یہ سُن کے رُکے، اور کہا یاد کریں گے
اب حرفِ تسلّی کا تکلّف نہ کریں وہ
جو دل سے بُھلا بیٹھے، وہ کیا یاد کریں گے
ہم بُھول کے اب نام بھی لیں گے نہ وفا کا
وہ چوٹ لگی ہـے کہ سدا یاد کریں گے
ہم چشمِ تصوّر میں سجا لیں گے وہ آنکھیں
یُوں پینے پلانے کا مزا یاد کریں گے
یاروں پہ نصیرؔ آپ دل و جاں سے فدا تھے
وہ پِھر گئے سب، آپ بھی کیا یاد کریں گے
پیر سیّد نصیرالدین نصیرؔ شاہ گیلانیؒ
ہجر جب طے ہے تو بے کار نہ حجت کرنا
جانے والے کو بہت پیار سے رخصت کرنا
وہ جو بھیجے تھے تری مست نگاہوں نے پیام
ایک بار اور ذرا ان کی وضاحت کرنا
سب کے ہاتھوں میں یہ اعجاز مسیحائی کہاں
ایک ہی لمس کا منصب ہے کرامت کرنا
ہے یہ وہ راہ ک ہ جس راہ پہ بس چل پڑئیے
عشق کرنا تو بغیر اذن و اجازت کرنا
اے مرے دل، میں ترے حال سے واقف ہوں مگر
چند سانسوں کا سفر اور ہے، ہمت کرنا
جان دینے میں تآمل نہیں اے عشق، مگر
اتنا دیرینہ تعلق ہے، رعایت کرنا
چلنا پڑتا ہے کسی نقش ِ قدم کے پیچھے
اتنا آسان نہیں پاس ِ رفاقت کرنا
یہی ہونا تھا مرے دل، جو ترے ساتھ ہُوا
کتنا ۔سمجھایا تھا سب سے نہ مروت کرنا
درد اٹھتا بھی رہے، آنکھ سے چھلکے بھی نہیں
سیکھتے سیکھتے آتا ہے شکایت کرنا
دل سے اس دشت جنوں خیز میں کون آتا ہے
پھر بھی کمزور فصیلیں ہیں، حفاظت کرنا
ہم کو آداب محبت نہیں آتے سیما
ہم کو بس ٹوٹ کے آتا ہے محبت کرنا
سیما نقوی