@NoorKha44150907@soldierspeaks Yeh koi achi baat nhi. Family or dead logon ka kuch to khayal kro. Woh Jo bhi thay unka nawaz ki is life sy ab koi lena dena nhi. Kindly tahzeeb ka daman na choro
گذشتہ پندرہ ماہ میں ایک بات تو مکمل طور پر عیاں ہوگئ ہے کہ ملک کی باگ دوڑ جن طاقتوں کے ہاتھ میں ہے نہ وہ عوام کے خیر خواہ ہیں اور نہ اس ملک کی بقا اور سلامتی سے ان کو کوئی سروکار ہے۔ پہلے وفاق میں عوام کی نمائندہ حکومت پہ شب خون مارا، پھر خیبر پختونخواہ کا امن تاراج کرنے کے لیے جت گئے، اس کے بعد ملک کی ۶۰ فیصد آبادی کا آئینی حق کچل کر انہیں مکمل آمریت کے شکنجے میں کس دیا۔ آزاد کشمیر میں بے شرمی کی حدیں عبور کرتے ہوئے عوام کے ووٹ کی وہ توہین کی کہ مقبوضہ اور آزاد کا فرق ہی نہ چھوڑا اور جو کسر رہ گئی تھی وہ اب گلگت بلتستان میں پوری کی جارہی ہے۔ بظاہر ایک شخص کو نیچا دکھانا مقصود ہے لیکن بغور دیکھیں تو رجیم چینج کی سازش عمران خان کے خلاف نہیں پاکستان کے خلاف ہوئی تھی اور اس سازش پر عملدرآمد مستقل جاری ہے۔ کسی نے کیا سہی کہا تھا کہ ان کا نشانہ عمران خان نہیں پاکستان ہے۔ عمران خان تو صرف ان کے راستے میں کھڑا ہے۔
اگر عمران ریاض کے لیے آواز نہیں اٹھا سکتے تو ٹویٹر پر رہنے کا آپکو کوئی فائدہ نہیں
وہ تکلیف میں ہے اور کچھ پتہ نہیں کہاں ہے
خدارا اس کے لیے کھڑے ہوجائیں اور آواز بلند کریں
#ReleaseImranRiazKhan
📺 Buckle up, folks! This video will expose how politicians play mind games like a pro. It's a wild ride that'll leave you questioning everything. Watch it, then find a room, close your eyes, and rethink your entire political existence. 😱https://t.co/AfXyhjrjO6 #یہ_شکور_کون_ہے
وزیر داخلہ کا رات 12 بجے کے بعد پریس کانفرنس کرنا اور اب اسلام آباد پولیس کی وضاحتیں پیش کرنے سے ایک بات واضح ہو رہی ہے کہ جیلوں میں قید تحریک انصاف کی خواتین کی عزتیں محفوظ نہیں ہیں۔ تحریک انصاف کی تمام خواتین حکومت اور پولیس کی حراست میں ہیں اور ان خواتین کی حفاظت کی زمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے پریس کانفرنس کرکے حکومت اپنی زمہ داریوں سے سبگدوش نہیں ہو سکتی۔ پریس کانفرنس کے بجائے اس معاملے کی جوڈیشل انکوائری ہونی چاہیے۔ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ جیلوں میں غیر قانونی قید تمام خواتین کو فوری رہا کیا جائے اور ان تک ان کی فیملی اور وکلاءکو فوری رسائی دی جائے۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ فضلو ڈیزل تھائی لینڈ کے شہر بنکاک میں پینائل امپلانٹ (عضو تناسل کی ہوشیاری) کی سرجری کے لیے زیر علاج ہیں۔ وہ جس ہوٹل میں ٹھہرا ہے اس کی جگہ بھی بتائی گئی ہے۔
تمام انتظامات حکومت نے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری اور سفیر صاحبزادہ نے کیے ہیں۔ ایک خان صاحب کو ان کی دیکھ بھال کا کام سونپا گیا ہے۔ ملا فضلو کو ہوٹل سے متعلقہ ڈاکٹروں تک پہنچانے کے لیے سفارت خانے کی گاڑیاں استعمال کی جا رہی ہیں۔
اس طریقہ کار کے اخراجات 18 ہزار ڈالر کے لگ بھگ ہیں جو کہ پاکستانی کرنسی میں 5 ملین++ روپے کے برابر ہے!
قوم مطالبہ کرتی ہے اسے صحافیوں سمیع ابراہیم اور عمران ریاض کے بارے میں بتایا جائے کہ وہ دونوں کہاں ہیں۔
صحافی برادری کیوں اس قدر خوفزدہ اور سہمی ہوئی ہے کہ ان دونوں کے 48 گھنٹوں میں عدالت میں پیش کئے جانے کا مطالبہ نہیں کرتی حالانکہ یہ ان کا بنیادی حق ہے۔ وگرنہ تو اسے اغواء کہا جانا چاہئیے۔
یہ فسطائی ہتھکنڈے دراصل میڈیا کا گلا گھونٹنے کی ایک کوشش ہیں تاکہ ملک کی سب سے بڑی جماعت کیخلاف جاری سفاکانہ کریک ڈاؤن کو (میڈیا بلیک آؤٹ کے ذریعے) قوم کی نگاہوں سے اوجھل رکھا جاسکے۔
Proud real MVP! While 80% of YouTubers sold out for views, subs, and 💰 supporting ex-PM, I stayed true! @ImranKhanPTI I told u that u won't come in power again the day police came at my home because I was speaking against you. Karma's got his number! #RealMVP#IntegrityPrevails"
Senator Azam Swati is fighting for a principle. He was abducted, stripped naked, physically & sexually tortured & illegally taped in privacy of his bedroom w/his wife. Till we don’t have rule of law, our country cannot progress. #ReleaseAzamSwati