بیشرمو اپنے دہشتگردی والے بیانیے کی کچھ دیر تو لاج رکھ لیتے ۔ اتنی بھی کیا جلدی ہے معدنیات نکالنے اور بیچنے کی کیا خیبر پختوانخواہ کی زمین کہیں بھاگی جا رہی ہے ؟
البانیہ کی ٹاوٹ سپریم کورٹ کو مظاہرین نے احتجاج میں آگ لگا دی، یہ وزیراعظم کا استعفیٰ مانگ رہیں ہیں۔
ابھی تک فرانس کی طرح البانیہ کی فوج نے بھی کسی کو گولی نہیں ماری۔
ایک غدار نے یورپ میں جائیدادیں بنانے کی بجائے کراچی میں تیسرا شوکت خانم ہسپتال کھڑا کر دیا ہے، جس کا افتتاح 29 دسمبر 2026 کو ہونے جا رہا یے، ان شاءاللہ
فرانس میں اب تک مظاہرین نے تمام بڑی بلڈنگوں پر قبضہ کرلیا، سٹور لوٹ لیے، پولیس کو سرینڈر تک کرنا پڑا لیکن فرانس کا صدر اسے ٹرمپ کی ایران پر جنگ کو زمہ دار ٹھہرا رہا ہے اپنی عوام کو دہشت گرد نہیں کہہ رہا، فرانس کا آرمی چیف یا فوج میدان میں گولیاں چلاتے نظر نہیں آرہی
پختونوں کو پہلے جنگوں سے مارا پھر ڈرون حملوں پھر دہشتگردوں سے اور اب باری ہے نایاب معدنیات کی۔ نہ صرف پختونوں کا سرمایا لوٹنے لگے ہیں بلکہ ان کے بچوں کے لیئے تابکاری، کینسر جیسی بیماریاں ،بھوک اور موت چھوڑ کے جائیں گے۔جو جرنیلوں کی راجدھانی کے لیئے نہایت ضروری ہیں۔
یہ ہے ابوبکر کا بھائ قاری بلال جو دہست گرد ہے جس کو کل کا اٹھایا ہے ابھی تک کوئ پتا نہیں جرم یہ ہے میرا بھائ ہے امام مسجد ہے اس نے کوئ آئن نہیں توڑا کوئ الیکشن نہیں چوری کیا کسی ماں کے بیٹے کو گولیاں نہیں ماری کوئ 53ارب کی کرپشن نہیں کی بلکے بچوں کو اللہ کا کلام سیکھاتا ہے اور گھر سے اغوا کر لیا مدرسہ بند بچوں کی تعلیم بند ہے
شمالی وزیرستان میں ہر ہفتے ہفتہ اور اتوار کے دن پاکستانی فوج کرفیو نافذ کرتی ہے، اور دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ سب فوجی نقل و حرکت کے لیے ضروری ہے۔ مگر حقیقت ویڈیو میں صاف دیکھی جا سکتی ہے۔
فوجی نگرانی میں ٹرکوں کے ذریعے سامان کی ترسیل بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہتی ہے، جبکہ اسی سڑک پر ایک بیمار مریض، ایک بے بس ماں، ایک معصوم بچہ اور عام شہری گھنٹوں اذیت، بے بسی اور انتظار کا شکار رہتے ہیں۔
ہم برسوں سے یہی کہتے آ رہے ہیں کہ یہ کرفیو عوام کے تحفظ یا سہولت کے لیے نہیں، بلکہ مخصوص سامان کی نقل و حمل کو یقینی بنانے کے لیے نافذ کیا جاتا ہے۔
اس دوران عام لوگوں کی زندگی، ان کی تکلیف، ان کی بیماری اور ان کے بنیادی حقوق کی کوئی حیثیت نظر نہیں آتی۔
جب سامان آسانی سے اپنی منزل تک پہنچ سکتا ہے تو پھر صرف عوام ہی کیوں قید، پریشان اور سزا کے مستحق بنائے جاتے ہیں؟
#دہشتگرد_بہانہ_ذخائر_نشانہ #وطن_فروش_چوکیدار #StopPashtunGenocide #معدنیات_فروش
جنرل عاصم منیربتائیں کہ کتنےمیں سودا ہوا؟
کیاخفیہ ڈیل ہوئی؟
یہ قومی اثاثےپاکستان کےہیں
یہFMکو وراثت میں نہیں ملے
خیبرپختونخوا واحد اسمبلی ہے،جو ان قومی اثاثوں کوFMکی جعلی حکومت کے حوالےکرنےکیلیےتیار نہیں ہوئی انکےحکم پرقانون منظور نہیں کیا۔
گورنرراج بہانہ،7کھرب ڈالرنشانہ ہے
امریکہ نے دنیا بھر سے ریئر ارتھ منرلز نکالنے کی کوششیں اور معاہدے کئے۔ کہیں قانون نے روک دیا کہیں عوام سامنے آگئی اور کہیں سیاستدان، NGOs اور حکومتیں ڈٹ گئیں۔ وجہ یہ منرلز نکالتے وقت پھیلنے والی خوفناک تابکاری ہے جسے روکنے کا کوئی طریقہ ابتک دریافت نہیں ہوا۔
ایسے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے منرلز کا بکسہ پیش کیا اور منرلز نکالنے کے لیے دربدر امریکی کمپنیوں کو ٹرمپ لے زریعے اپنا وطن پیش کردیا۔ اور امریکی آنکھ کا تارہ بننے کی پوزیشن میں آگئے۔
اب قبائلی علاقوں سے معدنیات نکالنے کے لیے فیلڈ مارشل کو ایکسٹینشن اور استثنیٰ مل چکا۔ عملدرآمد کے راستے کی آخری رکاوٹ صوبائی حکومت کو بھی گرا دیا گیا۔ کام شروع ہوا تو تابکاری پھیلے گی اور قبائلی بدترین مسائل اور دردناک خاموش موت کا شکار ہوں گے۔
امریکی کمپنیاں صرف منافع چاہتی ہیں اس لیے وہ کبھی بھی عالمی سٹینڈرڈز کا خیال نہیں رکھیں گی اور نہ ہی ان پر یہاں ایسا کوئی دباؤ ہوگا۔ ویسے بھی مہنگے پروٹوکولز بھی کچھ حد تک ہی تابکاری سے بچا سکتے ہیں اسکی تباہی کو روک نہیں سکتے۔ اگر روکنے کا کوئی طریقہ ہوتا تو امریکہ اپنے ملک، یورپ اور دیگر ممالک سے یہی منرلز نکال رہا ہوتا۔
افسوس فیلڈ مارشل کے زاتی مفاد پر مبنی ایک فیصلے نے لاکھوں قبائلیوں اور انکی نسلوں کو خطرے میں ڈال دیا۔
اب پاکستانیوں خصوصاً قبائلیوں کے پاس کیا آپشنز ہیں۔ اس غیر انسانی اور قاتل مائیننگ کے خلاف لڑنا ہوگا یا ہمیشہ کے لیے اپنے علاقوں کو چھوڑ کر کہیں بہت دور نئے گھر بنانے ہوں گے۔ یا پھر تابکاری کے ہاتھوں سسک سسک کر اپنی اور اپنے پیاروں کی جانیں دینی ہوں گی۔
میں نے یہ ویڈیو دیکھی اور سچ کہوں تو ڈاکٹر دعا اظہر کی باتیں سن کر میرے ہوش اڑ گئے۔ وہ بتا رہی ہیں کہ بل گیٹس اور پاکستان کے وزیراعظم کی اقوام متحدہ میں جو ملاقات ہوئی ہے، اس کا اصل مقصد پاکستان میں زراعت اور بیجوں کے نظام پر قبضہ کرنا ہے۔ وہ کہہ رہی ہیں کہ ہمارے دیسی بیجوں کی بجائے زبردستی جینیاتی طور پر تبدیل شدہ یعنی جی ایم او (GMO) بیج لائے جا رہے ہیں، جنہیں اگانے کے لیے ایک خطرناک کیمیکل گلائفوسیٹ کی ضرورت پڑتی ہے جو کہ کینسر کی بہت بڑی وجہ ہے اور سبزیوں یا پھلوں کو دھونے سے بھی نہیں نکلتا۔
ویڈیو میں یہ بات سن کر واقعی ڈر لگتا ہے کہ ان بیجوں سے پیدا ہونے والے پھل اور سبزیاں سیڈلیس یعنی بغیر بیج کے ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے کسان خود اگلی فصل کے لیے بیج محفوظ نہیں کر پائیں گے۔ انہیں ہر بار یہ مہنگے بیج باہر کی کمپنیوں سے ہی خریدنے پڑیں گے، اور سارا کنٹرول انہی کے ہاتھ میں ہوگا۔ دعا اظہر یہ بھی پوچھ رہی ہیں کہ اگر یہ سب اتنا ہی اچھا ہے تو سعودی عرب اور یورپ نے اس پر پابندی کیوں لگائی ہے؟ ان کا یہ کہنا بالکل خوفناک ہے کہ اگر ہم ان جی ایم او بیجوں کے عادی ہو گئے اور کل کو کسی جنگ یا اختلاف کی وجہ سے ہمیں بیج دینے سے انکار کر دیا گیا، تو صرف چھ مہینے میں ہمارے ملک میں قحط آ سکتا ہے۔ اس سے بچنے کے لیے وہ یہ مشورہ دے رہی ہیں کہ ابھی سے اپنے پاس دیسی بیج محفوظ کرنا شروع کر دو اور جہاں بھی تھوڑی بہت زمین ملے، اپنی سبزی اور گندم خود اگاؤ۔
اس سب کے بعد جب میں نے دیکھا کہ ہمارے شوبز ستارے اس پر کیا ردعمل دے رہے ہیں، تو عمران عباس نے تو ڈاکٹر دعا کا شکریہ ادا کیا ہے کہ انہوں نے اس اہم مسئلے پر آواز اٹھائی، اور ماریہ بی نے بھی ان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بل گیٹس کے اس گیم کو سمجھنے کے لیے واقعی عقل کی ضرورت ہے۔
اور جب میں نے تحقیق کی اور مختلف آرٹیکل پڑھے تو یہ بات سامنے آئی کہ گلائفوسیٹ (Glyphosate) کے استعمال اور جی ایم او بیجوں کے حوالے سے دنیا بھر میں پہلے ہی کافی بحث اور مخالفت موجود ہے۔ بہت سی سائنسی رپورٹس میں اس کیمیکل کو صحت کے لیے نقصان دہ قرار دیا گیا ہے، جبکہ کسانوں کے حقوق اور بڑی کارپوریشنز کے اجارہ دارانہ معاہدوں (جیسے کہ بیجوں کاپی رائٹ اور بار بار خریدنے کی پابندی) پر بھی بین الاقوامی سطح پر تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو فوڈ سیکیورٹی اور خود انحصاری کے حوالے سے اٹھائے جانے والے یہ خدکات مکمل طور پر بے بنیاد نہیں ہیں۔
#BillGates #GMOSeeds
بھارتی آرمی سیاست زدہ اور سیاست عسکریت زدہ ہے
(چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ساحر شمشاد مرزا)
اس کے باوجود بھارتی آرمی چیف نے کبھی مارشل لاء نہیں لگایا،کبھی ایکسٹینشن نہیں لی اور بھارتی جرنیلوں نے کبھی مراعات، پلاٹ نہیں لئے کاروبار نہیں بنائے
کیوں؟