ذولفقار علی بھٹو کی وصیت کے مطابق پیپلز پارٹی کی کمان مرتضی بھٹو کو دی جانی تھی۔محترمہ نصرت بھٹو کی یہ تقریر اس کا ثبوت ہے۔نصرت بھٹو چاہتی تھیں کہ بینظیر اپنے بھائی کی کمان میں سیاست کریں۔ مگر بینظیر بھٹو کا سسرال اس کے خلاف تھا۔ آج PPP زرداری خاندان کی ہے
عذیر بلوچ کی جے آئی ٹی کے مطابق عبدالقادر پٹیل کا اس کے جرائم میں کیا کردار رہا:
عذیر بلوچ کے "دوستوں" / سپورٹرز میں شامل:
رپورٹ میں انہیں عذیر بلوچ کے قریبی "friends" میں شمار کیا گیا ہے، جن میں ڈاکٹر ذوالفقار مرزا، فریال تالپور، نثار مورائی، سینٹر یوسف بلوچ، اور شرجیل میمن شامل تھے۔
ہتھیار اور مالی مدد فراہم کرنے والا:
عذیر بلوچ کے مطابق، عبدالقادر پٹیل (آصف علی زرداری کی ہدایات پر) PPP کے کلیدی رہنماؤں میں سے ایک تھے جو عذیر کو ہتھیار اور مالی مدد دیتے تھے۔
قتل کا حکم دینے والا:
ایک مخصوص واقعہ میں عذیر نے اعتراف کیا کہ 2011 میں عبدالقادر پٹیل نے انہیں ایک شخص (جلیل) کو قتل کرنے کا ٹاسک دیا، کیونکہ اس کے بھائی (رزاق کمانڈو) نے پٹیل کے کوآرڈینیٹر (عیدہی امین) کو قتل کیا تھا۔ یہ قتل انتقامی تھا۔
لیاری میں سیاسی/انتظامی اثر و رسوخ:
پٹیل نے عذیر بلوچ کی سفارش پر محمد ریسی کو لیاری ڈسٹرکٹ کا ایڈمنسٹریٹر بنوایا (آغا سراج درانی کے ذریعے)، جس کے بعد بھتہ خوری کا نیٹ ورک چلا۔
زمین ہڑپنے میں مدد: عذیر بلوچ نے پٹیل کو سرکاری زمین ہڑپنے میں مدد کی، اور اس بدلے میں لاکھوں روپے لیے۔
ایم کیو ایم مخالف کارروائیوں میں سپورٹ:
PPP لیڈرشپ (بشمول پٹیل) کی ہدایات پر عذیر نے ایم کیو ایم کی لیڈر شپ اور ورکرز کے خلاف جرائم کیے۔
#JITonGulPlaza
#TruthAboutSindh
@PPP_Org
مراد علی شاہ، مرتضی وہاب اور بلاول بھٹو کو فی الفور حراست میں لے کر تفتیش کا۔ آغاز کیا جائے۔ ان کے بیرون ملک جانے پر پابندی لگائی جائے۔
تحقیقات کا نکتہ بلاول کی فہم کی جو بنایا جائے جس میں وہ کراچی کے تاجروں کی فیلڈ مارشل سے شکایات پر برہمی کا اظہار کر رہا تھا اور سنگین نتائج کی دہمکیاں دے رہا تھا
سندھ حکومت کو عارضی طور پر معطل کرا جائے تا کہ تحقیقات پر اثرانداز نا ہوں ۔
#JITonGulPlaza
بلدیہ فیکٹری میں جب آگ لگی تھی تو ایم کیو ایم کا دور تھا اس لئے ایف آئی آر ایم کیو ایم کیخلاف کٹی تھی
اس وقت سندھ حکومت، شہری حکومت پیپلز پارٹی کی ہے تو پی پی کے خلاف کتنی ایف آئی آر کٹیں؟؟
:::انتہائی اہم ترین:::
ڈاکٹر عمران فاروق کا قتل کس نے کروایا، کس نے قاتل بھیجے، کون قاتلوں کو لینے ائیرپورٹ گیا تھا، کس کے ساتھ قاتل بیٹھے ہیں سب ان 3ویڈیوز میں موجود ہے، اب آپ کی ذمہ داری ہے کہ کراچی سے خیبر تک ہر واٹس ایپ فیس بک ٹوئیٹر تک انکو پہنچائیں
#مہاجر_سول_سوسائٹی سے درخواست ہے کہ اس منسلکہ بلاگ کو پڑھیں اور اس کے ریپلائز میں @ARYNEWSOFFICIAL کی انتظامیہ اور @WaseemBadami صاحب سے تقاضہ کریں کہ وہ صحافتی اقدار کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوے @OfficialMQM کے ترجمان کو لندن سے یکساں موقع فراہم کریں تا کہ وہ اپنا موقف بھی پاکستان کی عوام تک پہنچا سکیں۔
شکریہ
آج کل مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس کا بہت چرچا ہے اسی طرز کی پریس کانفرنس انہوں نے اپنی واپسی پر بھی کی تھی مارچ 2016 میں مصطفی کمال نے ایم کیو ایم چھوڑ تے وقت بھی الطاف حسین پر سنگین الزامات لگائے۔ ان الزامات میں الطاف حسین کے بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی را سے روابط، منی لانڈرنگ اور دیگر جرائم شامل تھے۔ اس وقت کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اور فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) سندھ کے ڈائریکٹر شاہد حیات نے ان الزامات کی تصدیق کے لیے مصطفی کمال سے ثبوتوں کا تقاضہ کیا۔ یہ تقاضے میڈیا میں نمایاں طور پر سامنے آئے اور حکومت کی جانب سے تحقیقات کی بنیاد بنے۔
اس ضمن میں چوہدری نثار علی خان نے 5 مارچ 2016 کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں مصطفی کمال کے الزامات کو 'پرانی کہانیاں' قرار دیا اور کہا کہ ان کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہیں۔ انہوں نے تمام پاکستانیوں بشمول مصطفی کمال سے اپیل کی کہ اگر کوئی ثبوت ہیں تو ایف آئی اے اور نیب سے شیئر کریں۔
"the minister said the former Karachi mayor did not offer any evidence and 'narrated old stories'."
(ڈان نیوز، 5 مارچ 2016)
"There was no documentary evidence provided by Mustafa Kamal to support his allegations, they were mere verbal claims." (ڈان نیوز، 5 مارچ 2016)
یہ بیان حکومت کی جانب سے الزامات کی سنجیدگی کو تسلیم کرتے ہوئے ثبوتوں کی ضرورت پر زور دیتا ہے، کیونکہ اس وقت چوہدری نثار صاحب اسٹبلشمنٹ کی کرش ایم کیو ایم اور مائنس الطاف پالیسی کے آرکیٹیکٹ بنے ہوے تھے اور یہ پریسر اس وقت کے سیاسی ماحول میں ایم کیو ایم پر دباؤ بڑھانے کا بھی حصہ تھا۔
چوہدری نثار نے اس ذہنی مریض مصطفیٰ کمال کی بات کو اسقدر سنجیدہ لیا کہ اگلے دن پھر 6 مارچ 2016 کو، چوہدری نثار نے ایک اور پریس کانفرنس میں عدالتی کمیشن قائم کرنے کی مطالبات کو مسترد کر دیا اور کہا کہ مصطفی کمال نے کوئی دستاویزی ثبوت پیش نہیں کیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ہر پریس کانفرنس کے بعد کمیشن بنایا جائے؟
: "former Karachi mayor Syed Mustafa Kamal did not present any documentary evidence against the Muttahida Qaumi Movement (MQM) and its chief Altaf Hussain." (ایکسپریس ٹریبیون، 6 مارچ 2016)
"Every other day, there’s a press conference, should the government constitute a commission after every such news conference?" (ایکسپریس ٹریبیون، 6 مارچ 2016)
لیکن پھر بھی انہوں نے ایف آئی اے سندھ کے ڈائریکٹر شاہد حیاتکو ہدایت کی کہ مصطفی کمال اور ان کے ساتھیوں سے رابطہ کیا جائے اور الزامات کی تفتیش کے لیے ثبوتوں کی درخواست بھی کی جائے ۔ 13 مارچ 2016 کو، مصطفی کمال نے ایک سینئر ایف آئی اے افسر سے ملاقات کی جہاں ان سے ایم کیو ایم اور 'را' کے روابط کی تصدیق کے لیے تعاون مانگا گیا۔
بعد میں مصطفی کمال نے کہا کہ ان کے پاس کوئی نئے ثبوت نہیں ہیں اور حکومت کو پہلے سے موجود شواہد پر کارروائی کرنی چاہیے۔
حوالہ جات اور ان خبروں کے متن کے اہم مندرجات کچھ یوں ہیں:
: "Mr Kamal told a press conference that he did not have any new evidence and the government should first take action on the basis of proofs it already had." (ڈان نیوز، 13 مارچ 2016)
"Three Muttahida Qaumi Movement dissidents, including former Karachi nazim Syed Mustafa Kamal, met a senior official of the Federal Investigation Agency on Sunday and sought time to consider whether they should furnish evidence..." (ڈان نیوز، 13 مارچ 2016)
اب آپ کف افسوس ہی مل سکتے ہیں @WaseemBadami اور دیگر نیوز اینکرز پر کے انہوں نے ایک ذہنی مریض کے ہذیان بکنے کو اس قدر اہمیت دی اور اپنا اور اپنے چینل کا @ARYNEWSOFFICIAL کا وقت تو ضایع کیا لیکن ساتھ ہی پاکستان کے معاشی حب کراچی میں بے امنی اور بے چینی کو ہوا دینے کی ناکام کوشش میں حصہ ڈال کر ملک کے ایک انتہائی اہم رہنما الطاف حسین کی کردار کشی میں معاونت کی۔
#مہاجر_سول_سوسائٹی اے آر وائی کی انتظامیہ اور @WaseemBadami صاحب سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ فی الفور اس یکطرفہ پروپگینڈے کو بند کرے اور الطاف حسین بھائی کے ترجمان کو بھی یکساں موقع فراہم کے۔
@AwazEHaq90@AltafHussain_90@azizabadi@AK_Forty7@NdmEhsan@Saim_Riz@hamidalibaigs@MohibeAltaf@junaidraza01
#ذہنی_مریض_نامنظور
اس ویڈیو میں سیکٹر 11 ڈی بتایا جارہا ہے ، خدا رحم کرے ٹارگٹ کلنگ کا نیا بازار گرم ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔ شکل سے کون لگ رہے ہیں ہم کہیں گے تو لسانیت کا الزام لگ جائے گا
خدا جانے کہ آپ نے چند ٹویٹس میں استعمال ہونے والی نامناسب زبان کے باعث اسقدر غیرمنطقی اور بجائے خود نسل پرستانہ موقف اپنایا ہے یا پھر کوئی اور ایجنڈہ ہے۔۔
انور مسعود صاحب کے شعر کو استعمال کیا اور الزام کہ ہجرت کرنے والوں نے اردو تھوپی، فیصلہ قائد اعظم کا تھا بھائ اور آپ اپنا موقف نہ دیں پھر اردو میں
اردو کو مٹا دیں گے ہم اک روز جہاں سے
یہ بات بھی “خوش” بخت نے اردو میں کہی ہے
بینر دکھایا کہ شہری سندھ پہ دیہی سندھ کا قبضہ نامنظور۔۔یہ اصطلاح اردو بولنے والوں نے قانون بنائی؟ کیا تلخ شکوہ محض افسانہ ہے؟
مہاجروں اور ایم کیو ایم کو چھوڑیں، پیپلز پارٹی کی کارکردگی اور بدعنوانیوں کی طویل داستان، جس کا ثبوت محض کراچی کی گلیاں نہیں لاڑکانہ کے اسکول اور ہسپتال بھی دے رہے ہیں ان پہ تنقید ملک کا کون غیرمتعصب اور باشعور فرد نہیں کرتا؟
لکھے پڑھے فرد سے ایسی توقع نہیں تھی
امید ہے آپ اپنی اداؤں پہ غور کریں گے
جھونپڑی کے لیاری کو بنانے کے بجائے اس پر فلم بنانے جا رہے ہیں۔
اس سے ان بھولڑووں کی ذہنی استعداد کا اندازاہ لگائیں۔
ڈارون ڈومکی انہی کو دیکھ کر اپنی تھیوری پیش کر گیا تھا۔
اب بھولڑووں کو سانپ سونگھ جائے گا۔۔۔۔وہ اپنی گوبر بھری عقل سے آپ پر ٹارگٹ کلنگ بھتہ خوری کے الزام داغیں گے اور کوئ انتہائ بے عقلوں کی طرح ہٹ دھرمی دکھا کر بے غیرت ہونے کا ثبوت پیش کریں گے۔۔۔مگر بھٹو کے کرپشن کے وژن کو برا نہیں سمجھیں گے نا کہیں گے۔۔۔
#پیپلز_کرپشن_پارٹی
#کراچی خون و آنسو میں ڈوبا ہوا۔
دفاتر پر فائرنگ، بھتہ خوری، شہری خوفزدہ،
ادارے بے حس، حکومت اور قانون نافذ کرنے والے خاموش تماشائی،
پیپلزپارٹی کی نااہلی شہر تباہ کر رہی ہے۔شہری سندھ انتظامی یونٹ قیام اب ناگزیر ہے ۔ورنہ یہ گدھ اس شہر کو نوچ نوچ کر برباد کردیں گے۔
سندھ میں محکمہ داخلہ،پولیس کی ذمہ داری پیپلز پارٹی کی حکومت کے پاس ۲۰۰۸ سے بلاشرکت غیرے ہیں۔ رینجرز بھی بارہا کراچی ٹارگیٹڈ آپریشن کرتی رہی ہے۔
حکومت سندھ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کراچی کو بدامنی سے پاک کرنے کے دعوے کرتے آئے ہیں، پھر کراچی کے تاجروں کو سرکاری دفاتر میں دیئے جانے والے “ٹیکس” کے باوجود بھتہ مافیا کے رحم و کرم پہ کیوں چھوڑ دیا گیا ہے؟
مستقل نظر انداز کراچی کے باسی اور تاجر یہ انصافی کیونکر سہیں؟
یہ غلط بیانی ہے کہ کراچی میں لوگ پانی خریدتے ہیں۔مرتضی وہاب
وزیر خارجہ ہوں لیکن کراچی میں پانی خریدتا ہوں ۔ بلاول بھٹو زرداری
( اب کوئی ایک سچ بول رہا ہے 🤔)