سُتھرا پنجاب کے ملازمین تنخواہ نا ملنے پہ احتجاج کر رہے تھے۔
پھر پنجاب پولیس کے دلیر جوانوں نے اکیلے اکیلے ملازم کو تھپڑ مارے گھسیٹا اور بتایا کہ احتجاج کا حق نہیں ہوتا بادشاہت میں۔
کل تک یہ ملازمین میڈم چیف منسٹر کے ہیروز تھے اور پھر ہیروز کو ہیروز والی عزت بھی دے دی۔
درست بات ہے۔ یہ نام ہمارے ہیروز سے منسوب ہونے چاہئیے۔
سابق وزیرِ سائنس صاحب ایک میزائل بنائیں گے جو فقط 55 روپے پر کلومیٹر کی cost پر دشمنوں پر قہر ڈھائے گا۔ اور انڑسیپٹرز کو چکمہ دے کر دائیں بائیں سے نکل جائے گا۔ اس صلاحیت کا prototype سابق وزیر سائنس کا اسلام آباد میں پولیس کو چکمہ دے نکل جانے کی کوشش میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔
اس میزائل کو اُس ہبل ٹیلوسکوپ کی مدد سے خلا سے مانیٹر کیا جاسکے گا جسے وزیرِ سائنس کے دور میں سپارکو نے خلا میں بھیجا تھا۔
اس میزائل کا نام فواداہاک PKR55 ایویڈر (evader) رکھیں گے 🙂
بہت سے ارسطو کہہ رہے ہیں مولانا فضل الرحمان اسی اسمبلی سے تنخواہ لے رہے ہیں اور اسی پر تنقید کر رہے ہیں، رؤف کلاسرا صاحب نے بھی کالم لکھا اس عنوان پر، اب بندہ پوچھے کہ وکلاء یہاں تک کے ججز بھی جب سیمینارز میں تقریر کرتے ہیں تو جوڈیشل سسٹم پر تنقید کرتے ہیں تو کیا وہ وہاں سے تنخواہ نہیں لے رہے؟ صحافی حضرات الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر تنقید کے نشتر چلاتے ہیں کیا وہ تنخواہ نہیں لے رہے؟ اسی طرح کی میں درجنوں مثالیں دے سکتا ہوں، آپ کیا چاہتے ہیں یہاں زبان پر تالے پڑ جائیں، کیا یہ جمہوری روایات اور اظہار رائے کی آزادی کیخلاف نہیں کہ بندہ پارلیمنٹ میں گردن جھکا کے بیٹھا رہے چاہے ملک میں جو تماشہ بھی لگا ہو، باقی جو تنقید نہیں کر رہے وہ مکمل حلال کھا رہے ہیں؟ مولانا فضل الرحمان صرف پارلیمنٹ پر تنقید نہیں ک��تے وہ ہر ادارے پر کرتے ہیں، بلوچستان، کشمیر، خیبرپختونخوا کے معاملات سمیت ہر معاملے پر بات کرتے ہیں، کیا ایک اچھے پارلیمنٹیرین کی یہ کوالٹی نہیں ہے؟ تنخواہ تو مولانا پہلے بھی پارلمنٹ سے لے رہے تھے لیکن کسی ارسطو کو پہلے خیال نہیں ��یا، میں ہمیشہ کہتا ہوں بغض عقل کو کھا جاتا ہے
ابے او فرنگی کے درآمد شدہ سیاسی نمونے!
قیادت سرحدوں پر بندوق نہیں اٹھاتی، قوم کی رہنمائی کرتی ہے؛ سرحدوں پر وطن کے سپاہی اور جوان اپنی جانیں پیش کرتے ہیں۔ اور یاد رکھو، بارڈر پر کھڑا ہر پختون سپاہی ہمارے لیے باعثِ عزت ہے—یہ سب مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے روحانی بیٹے ہیں۔
رہی بات کروڑ روپے کی تو مولانا فضل الرحمان صاحب کے لیے ہمارے پاس حق حلال کمائی کا پاکیزہ پیسہ بہت ہے تو اپنے پیسے حریم شاہ کو دے جو تمھارا اصل اسٹیس ہے
واقعی وقت بھی کیا آ گیا ہے!
خبروں سے اوجھل ہونے کے بعد میڈیا اسکرین پر اپنی موجودگی ثابت کرنے کے لیے اب مولانا فضل الرحمٰن صاحب جیسی قومی و دینی قیادت پر زبان درازی ہی واحد سہارا رہ گئی ہے۔
جس کا سیاسی قد دلیل سے بلند نہ ہو، وہ شور، الزام اور بدزبانی سے خود کو بڑا دکھانے کی کوشش کرتا ہے۔
فیا للعجب!
✍️ مفتی ابو محمد عفی عنہ
ہوسکتا ہے کسی کو حکومت کی مجبوریاں کمزور کردے۔۔
ہوسکتا ہے کسی کو اپنی مفادات کی مجبوریاں کمزور کردے۔۔
الحمدللہ نہ مفادات کی لالچ ہے اور نہ اقتدار کی لالچ ہے اللہ کیلئے اسکے میدان میں نکلے ہیں لڑتے رہیں گے۔۔
مولانا فضل الرحمن صاحب حفظہ اللہ
#لشکر_نہیں_خود_لڑو#مولانا_قدم_بڑھاؤ
#NationStandsWith_Maulana
#مولانا_کی_للکار
#پروپیگنڈہ_چھوڑو_امن_دو
مدرسہ طلباء زیادتی کیس
راولپنڈی کی عدالت نے تھانہ پیرودھائی مدرسے کی طلباء سے زیادتی جھوٹے کیس میں مفتی شاہنواز کو باعزت بری کر دیا گیا جنھوں نے روتے ہوئے عدالت کے باہر سجدہ شکر ادا کیا !!
مشہور کیس مفتی صاحب نے اپنے آپ کو وڈیو کے ذریعے صفائی دی میڈیکل کےلیے پیش کیا لیکن کسی نے نہیں مانا بیگم کی وڈیو بھی سامنے آٸی تھی کہ میرے شوہر پاک ہیں بے گناہ ہیں لیکن لوگ باٸیکاٹ کرتے رھے میڈیا بھی علماء کی پگڑی اچھالنے میں سرگرم رہا لیکن اب میڈیا بھی خاموش ہے سوشل میڈیا بھی خاموش
ہمیں پرواہ نہیں کہ کتنے بیانات ہمارے خلاف دلوائے جائیں،یہ بیانات جبر کے سائے میں پیدا ہوئے ہیں،ان کی کوئی قدر نہیں،عوام اور تاریخ ہمارے ساتھ ہے،ہم کسی زبردستی کے بیانات کو اپنے مؤقف کے مقابلے میں تولنے کو تیار نہیں۔