ایشیا کے مختلف ممالک میں 20 جون 2026 کو فی کس آمدن (پاکستانی روپے کے مطابق)
پاکستان 4 لاکھ 11 ہزار پاکستانی روپے
بھارت 7 لاکھ 49 ہزار پاکستانی روپے
بنگلہ دیش 7 لاک�� 20 ہزار پاکستانی روپے
چین 36 لاکھ 96 ہزار پاکستانی روپے
سری لنکا 13 لاکھ 90 ہزار پاکستانی روپے
فیصل جاوید خان"
یہ شخص اسلام آباد کے ایک پرائیویٹ ریڈیو چینل پر رات کے شو "پبلک بولتی ہے" کی میزبانی کرتا تھا۔
آجکل یہ اور انکی زوجہ 3 ارب پتی کمپنیوں کے مالک ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہوا؟
اس کا کڑا احتساب ہونا چاہیے.
کچھ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار مجھے شرمندہ کرنے کے لئے پیٹرول کی قیمت ڈنمارک سے ملا رہے وہ بھی پاکستانی روپے میں میں بدل کر ان کی سوچ پر ترس آتا ہے ڈنمارک میں ایک غیر ہنر مند مزدور جو صفائی کرتا یا برتن دھوتا وہ بھی فی گھنٹہ 150کرون یا 6400روپے ایک گھنٹے میں کماتا اگر وہ 8 گھنٹے کام کرے تو 51ہزار پاکستانی کماتا ہے اس کی ایک گھنٹے کی کمائی سے ساڑھے نو لیٹر پیٹرول آتا ہے اگر تو پاکستان میں بھی مزدور کی ایک گھنٹے کی کمائی سے نو لیٹر پیٹرول آتا تو آپ شوق سے موازنہ کر لیں
ڈنمارک کا موازنہ تب کرو جب لوگوں کی کمائی اور تنخواہ ڈنمارک والی دو آپ تو پندرہ ہزار مہینے پر ٹیچر رکھتے اتنا تو مزدور دو گھنٹے میں کما لیتا ہے
“ٹیلی کام بل” کی قومی اسمبلی سے منظوری کو کوئی دلیل، کوئی جواز اور کوئی وضاحت قابلِ دفاع نہیں بنا سکتی۔
اس بل کو پیش کرنے والے، اس کی حمایت کرنے والے اور اس کے حق میں ووٹ ڈالنے والے, سب برابر کے ذمہ دار ہیں!
خواجہ آصف کی بھانجہ شیزا فاطمہ خواجہ وفاقی وزیر آئی ٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن
اس بندی نے قومی ا سمبلی میں بل پیش کیا کہ
لائسنس یافتہ ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیاں جس گھر پر چاہیں ٹاور لگا سکتی ہیں، منع کرنے کی صورت میں 5 کروڑ روپے جرمانہ ہوگا۔
قومی اسمبلی سے بل منظور ہو گیا پیپلزپارٹی نے بھی ووٹ دئیے۔
سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ بعد میں پیپلز پارٹی کو پتہ چلا بل میں تو یہ لکھا ہے تو سینٹ سے بل کو منظور ہونے سے روک لیا گیا
اس بل کی شق کے مطابق اگر کوئی کمیونیکشن کمپنی آپ کے گھر، پلاٹ یا کھیت پر ٹاور لگانا چاہے تو وہ صرف 30 دن کا نوٹس تھما دے گی۔ نہ معاوضے کا ذکر، نہ مشاورت، اور اگر آپ نے انکار کیا تو جرمانہ تیار ہے 5 کروڑ روپے تک۔
اسکا سادہ سامطلب یہ نکلا زمین آپ کی، فیصلہ کسی اور کا، اور قیمت بھی آپ ہی چکائیں۔
انکار کا حق آپکو نہیں ہے
قانون کی بنیاد یہ ہونی چاہیے کہ ریاست سڑک، اسکول یا ہسپتال جیسے سچے عوامی مقصد کے لیے زمین لے سکتی ہے، مگر مالک کو منصفانہ معاوضہ ملے اور عدالت میں سوال اٹھانے کا ح�� رہے۔ لیکن جب بل میں “انکار پر جرمانہ” بولڈ ہو جائے، تو یہ عوامی فلاح نہیں رہتی۔ یہ جبر ہے، بغیر رضامندی، پریشر کے ذریعے زمین چھین لینا اور ��ب قانون خود مالک سے “NO” کہنے کا حق چھین لے، تو وہ قانون نہیں رہتا، بلکہ اشرافیہ کے لیے عوامی زمینوں پر قبضے کا آئینی راستہ بن جاتا ہے۔
ن لیگ کے اصل رنگ۔۔۔۔۔
“‘ ٹیلی کام بل’ کو پاس کروانے کے لیے پیسے پکڑے گئے ہیں۔ وزیر اعظم کو اسکا نوٹس لے کر انکوائری کروانی چاہیے اور شزا فاطمہ کو برطرف کر دینا چاہیے۔” نجم سیٹھی
یہ ایک غریب بندے نے مجھے بجلی کا بل بھیجا ہے سو یونٹ کا بل ہے اس پر 900روپے فکسڈ ٹیکس ڈال دیا ہے میں نے پوچھا سولر لگوایا تو آگے سے رو پڑا کہ گنجائش نہی ہے
یہ غریب کہتا 30ہزار اس کی تنخواہ ہے اگلے مہینے بیٹی کی شادی ہے اور سارا مہینہ یہ میٹر کے یونٹ دیکھتے رہتے کہ یونٹ نا بڑھ جائیں گرمی میں پنکھے نہی چلاتے مگر اس کے باوجود 900کا فکسڈ چارج اور دیگر ٹیکس ہیں 2500اس کا بل بنا دیا ہے
ہو سکتا یہ آپ کو بڑی رقم نا لگے مگر جس کی کل آمدن تیس ہزار ہو اس کے لئے یہ بڑی رقم ہے غریب پر یہ ظلم بند کریں
ہر بجٹ میں عوام پر بوجھ، ہر فیصلے میں غریب نشانہ! پیٹرولیم لیوی کے نام پر لوٹ مار بند کی جائے اور عوام کو فوری ریلیف دیا جائے۔
Jamaat e Islami
#پیٹرول225روپےلیٹر_کرو
اس سال اپریل میں شہباز حکومت نے ایک دن میں 137 روپے پیٹرول کی قیمت بڑھا دی تھی اگر ایک دن میں بغیر کسی کمیٹی کے 137 روپے لیٹر بڑھ سکتی تو اس وقت 100روپے سے کم کمی سوائے مذاق کے کچھ نہی ہو گا
بیس تیس یا 35 روپے پر حکومت کی تعریف کرنے نا بیٹھ جانا ورنہ پیٹرول کبھی سستا نہی ہو گا اور تین سو سے اوپر ہی رہے گا اسے ہر صورت 260تک واپس لائیں تاکہ غریب کچھ سانس لے سکے
یہ پنجاب میں ایک بھائی کو صرف 2 یونٹس استعمال کرنے پر 1522روپے بل تھما دیا گیا. اس میں اتنے ٹیکس بھیجے ہیں کہ اس اردلی حکومت کے پاس ٹیکس کے نام بھی کم پڑ گئے.
بجلی کے صرف 2 یونٹس کا بل 1522 روپے
واپڈا کے یہ ظالمانہ بل تیزی سے حکومت کو عوام میں غیر مقبول کر رہے ہیں
حالت یہ ہے کہ ان کو خود بھی نہیں پتا کہ یہ لوگ عوام پر کون کون سے ٹیکس لگا رہے ہیں