آزاد کشمیر پولیس نقاب ہوش افراد کے ہمراہ کا مظفرآباد میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مرکزی دفتر پر چھاپہ اور تھوڑ پھوڑ پولیس کو بھی اب چوروں کی طرح منہ چھپاکر کاروائی کرنے ضرورت کیوں پڑگئی یہ پولیس ہے یا غندے
واہ وزیرِ تعلیم پنجاب صاحب، کیا فارمولا دریافت کیا ہے
اگر واقعی 15 ہزار روپے میں استاد اتنا اچھا کام کر رہا ہے تو پھر ملک کے تمام مسائل حل ہو گئے
توچلیئے آغاز اوپر سے کرتے ہیں:
🔹 وزیر صاحبان 15 ہزار پر آ جائیں
🔹 مشیر حضرات 15 ہزار پر قوم کی خدمت کریں
🔹بیوروکریسی 15 ہزار میں فائلیں چلائے
🔹 جج صاحبان 15 ہزار میں انصاف فراہم کریں۔
اگر کارکردگی کا معیار تنخواہ نہیں بلکہ صرف "جذبہ" ہے، تو پھر یہ جذبہ صرف استاد کے حصے میں ہی کیوں آئے۔۔۔؟؟
عجیب منطق ہے کہ جس شخص کے ہاتھ میں قوم کے مستقبل کی تعمیر ہے، اسی کو سب سے کم وسائل دیے جائیں، پھر اس کی مجبوری کو اس کی قابلیت کا ثبوت بنا کر پیش کیا جائے۔حقیقت یہ ہے کہ استاد 15 ہزار میں اچھا نہیں کر رہا، بلکہ اپنی معاشی مشکلات کے باوجود نظام کو سہارا دے رہا ہے۔ اگر یہی استاد اپنی محنت، قابلیت اور ذمہ داری کے مطابق معاوضہ پائے تو نتائج کا معیار بھی سب کے سامنے ہوگا۔تعلیم کو خرچہ سمجھنے والے شاید بھول جاتے ہیں کہ قومیں سڑکوں، پروٹوکول اور مراعات سے نہیں، بلکہ استاد کے قلم سے بنتی ہیں۔
استاد کی کم تنخواہ پر فخر نہیں، شرمندگی ہونی چاہیے۔
لگتا ہے کہ بجلی کے بل بھی یہی بندہ تیار کرتاہے۔۔۔۔۔۔🤣🤣🤣
وہ چاہتا تو 8600 بھی بنا سکتا تھا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا 😂
کیونکہ وہ شہباز کی طرح پیٹ پہ پتھر باندھی بیٹھا ہے
بیچاری عوام پر ترس کھاتے ہوئے اتنا ہی کافی ہے
واہ وزیرِ تعلیم پنجاب صاحب، کیا فارمولا دریافت کیا ہے
اگر واقعی 15 ہزار روپے میں استاد اتنا اچھا کام کر رہا ہے تو پھر ملک کے تمام مسائل حل ہو گئے
توچلیئے آغاز اوپر سے کرتے ہیں:
🔹 وزیر صاحبان 15 ہزار پر آ جائیں
🔹 مشیر حضرات 15 ہزار پر قوم کی خدمت کریں
🔹بیوروکریسی 15 ہزار میں فائلیں چلائے
🔹 جج صاحبان 15 ہزار میں انصاف فراہم کریں۔
اگر کارکردگی کا معیار تنخواہ نہیں بلکہ صرف "جذبہ" ہے، تو پھر یہ جذبہ صرف استاد کے حصے میں ہی کیوں آئے۔۔۔؟؟
عجیب منطق ہے کہ جس شخص کے ہاتھ میں قوم کے مستقبل کی تعمیر ہے، اسی کو سب سے کم وسائل دیے جائیں، پھر اس کی مجبوری کو اس کی قابلیت کا ثبوت بنا کر پیش کیا جائے۔حقیقت یہ ہے کہ استاد 15 ہزار میں اچھا نہیں کر رہا، بلکہ اپنی معاشی مشکلات کے باوجود نظام کو سہارا دے رہا ہے۔ اگر یہی استاد اپنی محنت، قابلیت اور ذمہ داری کے مطابق معاوضہ پائے تو نتائج کا معیار بھی سب کے سامنے ہوگا۔تعلیم کو خرچہ سمجھنے والے شاید بھول جاتے ہیں کہ قومیں سڑکوں، پروٹوکول اور مراعات سے نہیں، بلکہ استاد کے قلم سے بنتی ہیں۔
استاد کی کم تنخواہ پر فخر نہیں، شرمندگی ہونی چاہیے۔
لگتا ہے کہ بجلی کے بل بھی یہی بندہ تیار کرتاہے۔۔۔۔۔۔🤣🤣🤣
وہ چاہتا تو 8600 بھی بنا سکتا تھا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا 😂
کیونکہ وہ شہباز کی طرح پیٹ پہ پتھر باندھی بیٹھا ہے
بیچاری عوام پر ترس کھاتے ہوئے اتنا ہی کافی ہے
سوال یہ ہے کہ بجٹ کی تیاری میں کتنی محنت لگتی ہے جو اس کی تیاری میں حصہ لینے والی وزارتوں کے ملازمین کو چھ ماہ کی تنخواہیں اضافی ملیں گی؟
پہلے یہ اعزازیہ درجن سے زائد وزراتوں کے ملازمین کو ملتا تھا،
اب وزرات قانون و انصاف، کامرس ڈویژن اور اے جی پی آر کو بھی شامل کر لیا گیا ہے
عام ملازمین کا استحصال کر کے انکو گاجر دکھا دی جاتی ہے
مگر سوال یہ ہیں کہ۔۔۔۔
بجٹ کی تیاری کیلئے 6 ماہ کی اضافی تنخواہیں کیوں؟
کیا بجٹ بنانے والے ملازمین کوئی اضافی کام کررہے ہیں؟
کیا وہ پہلے سے سرکار کے ملازم نہیں جو ہر ماہ عوام سے بھاری تنخواہیں لیکر کام کرتے ہیں؟
مطلب لوٹ لو جسکے جو ہاتھ لگے
سوال یہ ہے کہ بجٹ کی تیاری میں کتنی محنت لگتی ہے جو اس کی تیاری میں حصہ لینے والی وزارتوں کے ملازمین کو چھ ماہ کی تنخواہیں اضافی ملیں گی؟
پہلے یہ اعزازیہ درجن سے زائد وزراتوں کے ملازمین کو ملتا تھا،
اب وزرات قانون و انصاف، کامرس ڈویژن اور اے جی پی آر کو بھی شامل کر لیا گیا ہے
عام ملازمین کا استحصال کر کے انکو گاجر دکھا دی جاتی ہے
مگر سوال یہ ہیں کہ۔۔۔۔
بجٹ کی تیاری کیلئے 6 ماہ کی اضافی تنخواہیں کیوں؟
کیا بجٹ بنانے والے ملازمین کوئی اضافی کام کررہے ہیں؟
کیا وہ پہلے سے سرکار کے ملازم نہیں جو ہر ماہ عوام سے بھاری تنخواہیں لیکر کام کرتے ہیں؟
مطلب لوٹ لو جسکے جو ہاتھ لگے
پنجاب کے بچوں سے گزارش ہے کہ تعلیم حاصل کرو تاکہ آپ10000 پر آپ ٹیچر بن سکیں۔
اگر ان پڑھ رہ گئے تو۔۔۔۔۔۔۔
اگر ان پڑھ رہے گئے تو 40000 روپے پر ستھرا پنجاب کی جاب کرنی پڑے گی
آدھا نہیں پورا سوچیں
پنجاب کے بچوں سے گزارش ہے کہ تعلیم حاصل کرو تاکہ آپ10000 پر آپ ٹیچر بن سکیں۔
اگر ان پڑھ رہ گئے تو۔۔۔۔۔۔۔
اگر ان پڑھ رہے گئے تو 40000 روپے پر ستھرا پنجاب کی جاب کرنی پڑے گی
آدھا نہیں پورا سوچیں