3 خبریں اور ان کا نتیجہ ؟
⬅️راولپنڈی کی سیکیورٹی 6 ماہ کیلئے فوج کے حوالے
⬅️لانگ مارچ کی تاریخ 27 ستمبر
⬅️عمران خان کا عدالتی حکم کے باوجود علاج کرانے سے انکار
نتیجہ : خان کی زندگی کیلئے اگلے 6 ماہ اہم بھی ہیں اور خطرناک بھی
پی ٹی آئی کو ایک بات ذہن نشین کرلینی چاہیئے کہ وزارت عظمیٰ کی کرسی عمران خان کیلئے بہت چھوٹی ہوگئی ہے عمران خان کی جدوجہد بہت بڑی ہے وہ جیت گیا تو پاکستان سنور جائے گا!
جنید اکبر کا انکشاف ہے کہ تحریک انصاف کو قومی اسمبلی میں محسن نقوی پر تنقید کی اجازت نہیں۔ علی امین گنڈاپور نے فرمایا عمران خان کی رہائی کی سب سے زیادہ کوششیں محسن نقوی نے کیں۔ آج تحریک انصاف ُنے محسن نقوی کو توہین عدالت کی درخواست میں فریق ہی نہیں بنایا۔
بیٹا تم سے نہ ہوپائے گا۔
وفاقی دارالحکومت کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال PIMS میں مریضوں کو ’’صاف پینے کا پانی‘‘ پلایا جا رہا ہے، جسے پی کر شاید اچھا بھلا مریض بھی اللہ کو پیارا ہو جائے۔
کیا پدی، کیا پدی کا شوربا! شہباز شریف کی اتنی حیثیت بھی نہیں کہ وہ عمران خان کے ہسپتال جانے یا نہ جانے کا فیصلہ اپنی مرضی سے کر سکیں۔ وہ ایک قدم بھی اجازت کے بغیر نہیں اٹھاتے۔ عمران خان سے متعلق اصل فیصلے hybrid نظام کے ہوتے ہیں!لاہوری منا۔
کیا پاکستانی مافیا کیلئے ایسا کوئی جج ہے ؟
جیووانی فالکون (Giovanni Falcone) اٹلی کی تاریخ کا وہ بہادر جج تھا جس نے سسلین مافیا کی ناقابل شکست طاقت کے تصور کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔
بطور جج انہوں نے سب سے پہلے مافیا کے مالیاتی نیٹ ورک کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا۔
1980ء کی دہائی میں پالرمو میں مافیا کے ہاتھوں روزانہ سیاسی رہنما، جج اور پولیس افسران قتل ہو رہے تھے۔ فالکون اور ان کے قریبی دوست جج پاولو بورسلیو نے مل کر ایک خصوصی ججز ٹیم بنائی جس کا پہلا اصول تھا "Follow the Money" فالکون نے پہلی بار مافیا کے بینک اکاؤنٹس اور عالمی منی لانڈرنگ کا سراغ لگانا شروع کیا۔
1986ء سے 1992ء تک چلنے والا میکسی ٹرائل تاریخ کا سب سے بڑا مقدمہ تھا، جو پالرمو کی ایک خصوصاً بم پروف جیل میں منعقد ہوا۔ مافیا کے اعلیٰ ترین کمانڈروں سمیت سینکڑوں اراکین پر مقدمہ چلایا گیا۔
جنوری 1992ء میں اٹلی کی سپریم کورٹ نے فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے 338 افراد کو کل ملا کر ہزاروں سال کی قید اور 19 عمر قید کی سزائیں سنائیں۔
23 مئی 1992ء کو مافیا نے انکے راستے میں 500 کلوگرام دھماکہ خیز مواد بچھایا اور ریموٹ کنٹرول سے اڑا دیا۔ جس میں جج فالکون، ان کی اہلیہ اور تین باڈی گارڈز مارے گئے۔
مافیا کا خیال تھا کہاس سے وہ اپنا ڈر بحال کر لیں گے لیکن اس کا الٹا اثر ہوا۔ اطالوی عوام سڑکوں پر نکل آئے اور شدید عوامی غصے کے بعد مافیا کے خلاف بڑا آپریشن شروع ہوا۔ چند ہی ماہ میں مافیا کے تمام اہم سرغنہ گرفتار کر لیے گئے۔
آج جج جیووانی فالکون اور ان کے ساتھی پاولو بورسلیو کو اٹلی کے قومی ہیرو کا درجہ حاصل ہے اور پالرمو ایئرپورٹ کا نام ان کے نام پر "Falcone-Borsellino Airport" رکھا گیا ہے۔
🚨🚨 بریکینگ نیوز : فیلڈ مارشل کی گا ۔ گے ۔ گی والی پالیسی . شہباز گل تن کر رکھ دیا ۔🔥🔥😂
فیلڈ مارشل نے بلوچستان میں اہم شخصیات سے ملاقات کیں ۔ اور اُنہوں نے جو بیان جاری کئے تھے, وہ سارا ( گا ۔ گی ۔ گے ) مطلب فیوچر کے ہیں ۔ مثلآ : بلوچستان اور پاکستان کا حال و مستقبل ایک ہے, اور ہمیشہ ایک رہے گا ۔ شرپسندوں کے تمام ناپاک عزائم خاک میں ملائے جائینگے ۔ اور صوبے میں خوشحالی کا دور جاری رہے گا ۔ ریاست کے غیر متزلزل پُرامن اور فیصلہ کُن ردعمل سے مذموم عزائم کو ناکام بنا دیا جائیگا ۔ یہی عوام کے اپنی مستقبل ترقی اور خوشحالی کا سمت کا تعین کرینگے ۔امن و استحکام سے بلوچستان میں سرمایا کار لائیں جائینگے ۔ جھوٹے بیانیوں کو بے نقاب کیا جائے گا ۔ فتنۃالہندوستان اور فتنۃالخارج کا فیصلہ کُن مقابلہ کیا جائے گا ۔ ان مذموم عزائم کو قوم کے اجتماعی عزم اور ریاست کے غیر متزلزل پر عزم اور فیصلہ کُن ردعمل کے ذریعے نا کام بنایا جائے گا ۔دشمن کے عزائم ناکام بنائیں گے ۔" یہ ان کی صورتحال ہے, ۔ " گا ۔ گے ۔ گی" ۔ چار سالوں میں کخ نہیں کیا ۔ بس آگے کرینگے , گے گے گے , شہبازگل 🔥🔥🚨
@anishakhanpti یہ فوج ایک مکار فریبی ادارا ہے یہ سب زیادہ ظالم اور مکروہ لوگوں کے قبضے میں یہ جھوٹ بول کر ٹرک کی بتی کے پیچھے لگاتے ہیں ان کو عادل راجہ جانتا ہے یا میں
جہاں سٹی انجیو کی مشین ہی فعال نہیں پمز کے اس کارڈیک ہسپتال میں عمران خان کو لایا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ صرف آنکھ اور بی پی ہی چیک ہوا۔ بظاہر اس کا مطلب ہے کہ پمز میں عمران خان کا آنکھ کے علاوہ علاج ہی ممکن نہیں۔
ڈاکٹر عظمیٰ خان جب اڈیالہ سے باہر آئیں تو ساڑھے بج چکے تھے اس کے بعد عزیر بھنڈاری صاحب سے 9 بجے کے قریب رابطہ ہوا انہوں نے توہین عدالت فائل پر کام شروع کیا کل جمع کا دن تھا جمعے کے دن فائلنگ محدود وقت گیارہ ساڑھے گیارہ بجے تک ہوتی ہے یہ ناممکن تھا کہ دو گھنٹوں میں تمام واقعات کے حوالے سے دستاویزی ثبوت حاصل کیے جاتے ان کو بائنڈ کیا جاتا اور گیارہ بجے تک فائل کیا جاتا۔
بالفرض ایسا ہو بھی جاتا جو ممکن نہیں تھا تو کیا کل عدالت بارہ بجے لگ جاتی؟ سپریم کورٹ میں جب آپ کوئی چیز فائل کرتے ہیں تو وہاں ایک پڑتال کی برانچ ہے وہاں جاتا ہے معاملہ تین چار دن وہاں لگتے ہیں اس کے بعد عدالت میں آتا ہے۔ایسا نہیں ہوتا کہ آج فائل کیا اور ایک گھنٹے میں عدالت لگ گئی سوائے ایک مثال کے جو بلے کا نشان ہم سے چھیننا تھا رات 8 بجے پٹیشن دائر ہوئی اور صبح 9 عدالت لگ گئی یہ ایک غیر معمولی اور غیر سنجیدہ واقعہ تھا۔
سلمان اکرم راجہ
@salmanAraja
#StopTortureOnNationalHero
Please write to your MP and ask them to lobby Govt to get off the fence and actively object to this cruelty.
You can find your MP’s name and details here: https://t.co/RBGLX5BbOc
Without a meaningful intervention, the Pakistani govt will undoubtedly kill off @ImranKhanPTI simply because they know that for as long as he lives, he is a threat to their power and corruption