عقل کا اندھا عمران خان 12 ہزار کروڑ پاؤنڈ لینے سے انکار کرنےکی بجائے پاکستان لے کر آتا؛ یہودیوں کی دولت سے پاکستان کا سارا قرضہ اتارتا تو کوئی بات بھی تھی۔
یہودیوں کو اتنے پیسے چھوڑ دیے اور خود گھڑیاں چراتا رہا اور چندے خیرات کے پیسوں سے جوا کھیلتا رہا۔۔۔
اسے جیل ہی سجتی ہے !
بندہ بات کرتے تھوڑا اپنا ماضی ہی دیکھ لیتا ہے ، 2018 کا الیکشن ہار کر سٹے آرڈر پر بیٹھے رہے ، تحریک عدم اعتماد میں آرٹیکل 6 کے مرتکب ہوئے آئین و قانون کی دھجیاں بکھیری اور بیغرتی اور بے شرمی دکھاتے ہوئے چھپ کر ملک سے فرار ہوئے اور باہر بیٹھ کر بھاشن دے رہے ، فیض کے تلوے چاٹ کر جناب نے عہدہ حاصل کیا اور قومی اسمبلی کی نشست پر بیٹھے رہے
اتنا مہان کپتان تھا کہ وہ مکمل کنگلا تھا ساری زندگی ایک ٹکا نہی کمایا تھا جب طلاق ہوتی تو میاں بیوی دونوں کی جائداد تقسیم ہوتی یہ کپتان کی عظمت یہ بیان کرتے کہ وہ ایک عورت کی جائداد سے طلاق پر آدھا حصہ لے کر امیر ہوتا یہ مقام لعنت ہے مقام فخر نہی ہے کیا عمران کی آدھی دولت جمائمہ کو نہی ملنی تھی؟
جمائمہ کی نیٹ ورتھ 2002میں بیس ملین پاؤنڈ یعنی دو کروڑ پاؤنڈ تھی اس کا آدھا بارہ ہزار کروڑ کیسے ہو گیا ؟
جمائمہ کے باپ کی دولت ڈیڑھ بلین ڈالر تھی یہ 111کروڑ پاؤنڈ بنتے ہیں جبکہ اس کی تین بیویاں ایک رکھیل Laure Boulay تھی تین بیویوں سے چھ بچے اور رکھیل سے دو بچے تھے یعنی آٹھ بچے ٹوٹل تھے یہ 111کروڈ ان سب میں تقسیم ہوئے تھے
لعنتئ کردار جھوٹی کہانیاں گھڑ لیتے ہیں
میں نے اپنا بیٹا کیپٹن سلمان سرور شہید اس تنخواہ کیلئے شہید نہیں کروایا جس کا ذکر مولانا نے کیا ہے کیونکہ سیاست اور مذہب فروشی آپکا پیشہ ہے
شہدا کے وارثان میدان میں تشریف لاچکے ہیں اور اگر مولانا نے اپنے بیان پر رجوع نہ کیا تو یہ بیان مولانا کی سیاست مُکانے کیلئے کافی ہوگا
اگر ماضی کے بیانات پر ہی کھیلنا ہے تو مولانا فضل الرحمان کے والد کا بیان ڈاکٹر اسرار احمد کی زبانی سن لیجئیے
ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہیں ہیں
مولانا صاحب سناؤ فیر
ایک سو ستر روپے کی گیس پر 600روپے فکسڈ ٹیکس اور دو سو دیگر ٹیکس لگا کر ایک ہزار بل بنا دیا
دنیا کے کسی بھی اصول اور ضابطے میں اصل بل سے چار گنا ٹیکس نہی ہوتا یہ معاشی غنڈا گردی ہے
نون لیگ اس پر صرف لعنت کی مستحق ہے جبکہ راتب خور چاہتے اس کی تعریفیں کی جائیں
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ میں مجوزہ ترمیمی بل میں غیرآئینی شقیں 27 اے ون کو دفعہ 2 کی ضمنی دفعہ qb کے ساتھ ملا کر پڑھیں تو حکومت اور حکومتی سوشل میڈیا ٹیم کا یہ جھوٹ بے نقاب ہوتا ہے کہ بل کے اندر عام شہری کی جائیداد زبردستی زیر استعمال لانے کی کوئی شق موجود نہیں ہے۔
@miandawoodadv@TahirArayin یہ نواز لیگی حرامخور (گوگے اور گوگیاں) ملک کو اپنے باپ کی جائیداد سمجھنے لگے ہیں۔ عوام کو ان کو سبق سکھانا ہو گا ورنہ یہ حرامخور تمہارے حقوق تلف کرتے جائیں گے اور جو تھوڑا بہٹ تمہارا بچا ہے سب کچھ شیرِ مادر کی طرح بے ڈکار ہضم کر جائیں گی۔
باواں ٹُنگ لؤ تے تُن دئیو اینہاں نوں۔
ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت فیلڈ مارشل اور وزیراعظم کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے۔ ایران امریکہ امن معاہدہ اس صدی کی سب سے بڑی کامیابی ہے جس میں پاکستان ڈرائیونگ سیٹ پر ہے اور جو لوگ پاکستان کو ہر قیمت پر کمزور دیکھنا چاہتے ہیں وہ یہ بات ہضم نہیں کر پا رہے ہیں۔ آرمی چیف کی کسی بھی سوچ کو میڈیا تک پہنچانے کا واحد معتبر ذریعہ ڈی جی آئی ایس پی آر ہے، کوئی اور جو چیف کا ترجمان بننے کی کوشش کر رہا ہے وہ جعلی ہے۔
سینئر صحافی حیدر نقوی کی X پوسٹ کا اردو ترجمہ
اصل خبر:- شہباز شریف نے اشرافیہ اور مافیاز کی نوکری برقرار رکھنے کیلئے غریب سے غریب تر پاکستانی کا بھی خون نچوڑ لیا۔ آئندہ بجٹ میں اشرافیہ اور مافیاز کا یہ نوکر غریب سے غریب ترین پاکستانیوں کا مزید خون نچوڑنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
نون لیگ کی حکومت اور اویس لغاری کو نا کشمیریوں کی 3 روپے یونٹ بجلی نظر آتی ہے
نا ہی گلگتیوں کی 5/6 روپے یونٹ
نا پٹھانوں کی اور اندرون سندھ کی 40 سے 50٪ والی بجلی چوری نظر آتی نا ہی بلوچوں کی مفت بجلی کنڈے نظر آتے ہیں
ان نمرودں کو اگر کچھ نظر آتا ہے تو پنجابیوں کی جیب
پاکستانی کی معاشی حالت جوں جوں خراب ھورہی ھے پاکستانی قوم پاکستان کی حکومت سے بیزار ھورہی ھے اگر یہ معاشی حالت بہتر نہ ھوئی تو پاکستانی ایک بار پھر بھارت میں شامل ھونا پسند کرینگے اور اسلام کے نام پر بنا پاکستان دنیا کے نقشے سے مٹ جاۓ گا بہتر ھے چور بازاری بند کرو اور پاکستان کو قائم رہنے دو
کشمیر میں موجودہ حقوق کی تحریک کو سمجھنے کے لئے آپ کو کچھ انتظار کرنا ہو گا۔ وہاں حکومت کس کی بنوائی جاتی ہے اور وہاں کا صدر کون لگتا ہے۔ یہ دونوں فریق موجودہ حالات کو خراب کرنے کے ذمہ دار ہیں دونوں فریقین آپ کے سامنے بے نقاب ہو جائیں گے۔
انشااللہ
مسلم لیگ(ن) کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ عام آدمی کو نہ بین الاقوامی سیاست سے دلچسپی ہے، نہ پیچیدہ معاشی اصطلاحات سے، اور نہ ہی تشہیری مہمات سے۔ اس کے مسائل سادہ ہیں؛ مہنگائی، بجلی و گیس کے بل، روزگار، تعلیم، صحت اور امن و امان۔
حکومت آسمان سے تارے بھی توڑ لائے، مگر اگر یہ بنیادی مسائل حل نہ کئے تو عوامی پذیرائی حاصل نہی ہو گی۔
یہ ہےوہ اصل خبر جس میں پنجاب کے عوام کے اربوں روپے عیاشیوں پر خرچ کرنے کا سکینڈل بے نقاب کیا گیا ہے۔
انور حسین سمرا لاہور کے معتبر صحافی مانے جاتے ہیں، حکومت دھمکیاں دینے کی بجائے ٹھوس دستاویزات کے ساتھ خبر کو رد کرے ورنہ تسلیم کرے کہ بیوروکریٹس عیاشیاں کر رہے ہیں۔
@AnwerHSumra