لوگ ناراض ہوتے ہیں کہ فلاں نے FIR درج کروا دی، فلاں نے کچھ پڑھ دیا۔
بابا! ان سے گلہ مت کرو، یہ پھنسے ہوئے لوگ ہیں۔ انہوں نے ایجنسیوں سے مراعات لی ہیں۔ انہیں جو بھی حکم آئے گا، وہ اسے ضرور پڑھیں گے۔ گورنر ہاؤس میں سب بیٹھے ہوئے تھے، اور ایک آدمی کچھ پڑھ رہا تھا۔
"تفتان اور گوادر، یہ دو راستے ہیں۔ چمن کے حوالے سے ہم بالکل واضح کہتے ہیں کہ اگر ہمارے بچے—خواہ وہ بلوچ ہوں یا پشتون—ایران سے کوئی غیر قانونی اسمگلنگ کرتے ہیں، تو آپ انہیں گولی مار دیں۔ اگر وہ چرس یا اسلحہ کی اسمگلنگ میں ملوث ہیں، تو انہیں بے شک گولی مار دیں۔
لیکن اگر کوئی یہاں سے ایک ٹن ڈالڈا (گھی) بھی لے کر جاتا ہے، تو صورتحال مختلف ہوتی ہے۔ آج پاکستان کے تمام شہر غیر ملکی اشیاء سے بھرے پڑے ہیں، صرف یہاں کے تاجر ہی بدقسمت ہیں۔ چمن یا دیگر علاقوں سے جب تاجر سامان لاتے ہیں، تو ان کے پاس تمام قانونی کاغذات اور ٹیکس کی رسیدیں (GDs وغیرہ) موجود ہوتی ہیں، لیکن کسٹمز والے انہیں ماننے کو تیار نہیں ہوتے۔ جب یہ مال کراچی کے گوداموں تک پہنچتا ہے تو کسٹمز کے اہلکار دھاوا بول دیتے ہیں اور اربوں روپے کا مال لوٹ لیتے ہیں۔ بھائی! اگر وہ اسمگلنگ سے بھی لائے ہیں، تو وہ کسی کو رشوت دے کر ہی آئے ہوں گے، وہ آسمان سے تو نہیں اترے۔
ہندوستان کے ساتھ آپ کی چار جنگیں ہوئیں، لیکن لاہور کے بارڈر پر نہ کوئی روک ٹوک ہے اور نہ کوئی باڑ۔ آپ لاہور کی منڈیاں جا کر دیکھیں، وہ ہندوستانی کپڑوں اور ٹائروں سے بھری پڑی ہیں۔ وہاں کوئی چھاپہ نہیں مارتا، سکھر میں کوئی چھاپہ نہیں پڑتا، لاہور میں کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔ صرف بلوچستان کے لوگوں کے گوداموں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، چھاپے مارے جاتے ہیں اور پھر تنازعات پیدا ہوتے ہیں۔
میں حکام کو خبردار کرتا ہوں کہ ہمیں مجبور نہ کریں۔ اگر ہمارا یہ راستہ نہ کھولا گیا تو میں بلوچ اور پشتون بھائیوں سے کہوں گا کہ چمن کی طرح ہم بھی تمام راستے بند کر دیں گے۔ ہم ویسے بھی بھوک کا شکار ہیں، اگر مجبور ہوئے تو راستے بند کریں گے، پھر جو حالات پیدا ہوں گے اس کے ذمہ دار آپ ہوں گے۔
لوگوں کا پیچھا چھوڑیں، آپ انہیں کیوں مجبور کر رہے ہیں؟ تفتان سے لے کر گوادر اور چمن سے کوئٹہ تک، یہ تمام تجارتی راستے محفوظ اور فعال ہونے چاہئیں۔ میں تاجر برادری سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ اگر میری بات مانی جائے تو چھ ماہ کے لیے مکمل ہڑتال کر دیں تاکہ انہیں معلوم ہو کہ ہم کیا ہیں۔ ہم محنت مزدوری کر کے ان کی مارکیٹوں کو دنیا بھر کی نعمتوں سے بھر دیتے ہیں، مگر احسان کے بدلے ہمیں صرف ہراساں کیا جاتا ہے۔ یہ ہمارا موقف ہے۔"
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی