1-جب فیض ڈی جی ISI تھا تو مجھے کہتا ھے کہ آپ نے جو کرنا ھے سسٹم کے اندر رہ کر کریں۔
2- باجوہ اور موجودہ ڈی جی ISI نے پہلے مجھے کہا کہ تحریک عدم اعتماد لاؤ میں نے انکار کردیا کہ اسطرح تو ھم آپ کے رحم وکرم پہ آجائیں گے
پھر زرداری صاحب کے راستے یہ کام شروع کیا گیا پھر زرداری صاحب نےمسلم لیگ کو بھی آن بورڈ لیا اورجب مجھے کہا گیا تو میں نے انکو بتایا کہ اس پر تو مجھ سے رابطہ کیا گیا تھا میں نے انکار کردیا تھا آپ بھی انکار کردیں اور اسمبلی سے استعفی کا آپشن لیں کیونکہ ایسے تو ھم اسٹیبلشمنٹ کے رحم وکرم پہ آجائیں گے کہ وہ ایم کیو ایم، ق لیگ اور باپ پارٹی کو بھیجیں گے تو کامیاب ھونگے، لیکن جب سب نے اتفاق کیا تو ھم نے بھی کرلیا کیونکہ پھر عمران لو بچانے کا الزام ھم پر آتا۔ پھر تحریک عدم اعتماد پیش ھوئ اور بالکل آئینی پراسس سے گزر کر انجام تک پہنچ گئ۔
3- جب تحریک اعتماد پیش ھوگئ بات آگے چل پڑی تو آخر میں باجوہ صاحب نے نجانے کس پریشر میں کہا کہ آپ عدم اعتماد واپس لیں میں اسمبلی تڑواتا ھوں تو ھم نے کہا کہ آپ کس حیثیت میں ھمیں عدم اعتماد واپس لینے کا کہہ رھے ھیں اب تو ھم کسی صورت عدم اعتماد واپس نہیں لیں گے۔
اب مولانا فضل الرحمن صاحب کی ان تینوں باتوں کو علیحدہ علیحدہ رکھ کر اپنے طور پر متضاد ثابت کرنے کی کوشش ھورھی ھے جس پر حیرت ھے