بس والدین اپنی انائیں لیکر جنگ لڑ رہے ہوتے ہیں مرد کی خواہش بچے اس کے پاس رہیں خاتون کی خواہش بچے اس کے پاس رہیں ۔۔۔ اس دوران ذلالت ساری چھوٹی عمر میں بچے کاٹتے ہیں
یہ ویڈیو سلو موشن کی ہے اسے تسلی سے دیکھ لیجئے اس وقت ادارے بھی دیکھ رہے ہوں گے فریم بائے فریم ایک ایک چیز واضح ہو جائے گی ایسا نہی کہ کوئی وردی والا آفیسر آیا اور اچانک فائرنگ شروع کر دی پہلے اس کی بیوی کا راستہ روکا پھر اس پر حملہ کیا سب نظر آ رہا ہے
@War_Analysts جب ادارہ خود پروپیگنڈہ کاشکار ہوکر یکطرفہ و جلدبازی میں شرپسند عناصرکیخلاف کاروائی کی بجائےاپنےہی آفیسر کےخلاف کاروائی کااعلان کردے اس سےبڑی زیادتی کیا ہوگی
آفیسر کاردعمل آئینی و قانونی تھاکیونکہ پاکستان کا آئین ہرشہری کواپنےسیلف ڈیفنس کااختیار دیتاہےجسکااستعمال آفیسرنےبخوبی کیا
@dtnoorkhan جب ادارہ خود پروپیگنڈہ کاشکار ہوکر یکطرفہ و جلدبازی میں شرپسند عناصرکیخلاف کاروائی کی بجائےاپنےہی آفیسر کےخلاف کاروائی کااعلان کردے اس سےبڑی زیادتی کیا ہوگی
آفیسر کاردعمل آئینی و قانونی تھاکیونکہ پاکستان کا آئین ہرشہری کواپنےسیلف ڈیفنس کااختیار دیتاہےجسکااستعمال آفیسرنےبخوبی کیا
@bankay_mian62 جب ادارہ خود پروپیگنڈہ کاشکار ہوکر یکطرفہ و جلدبازی میں شرپسند عناصرکیخلاف کاروائی کی بجائےاپنےہی آفیسر کےخلاف کاروائی کااعلان کردے اس سےبڑی زیادتی کیا ہوگی
آفیسر کاردعمل آئینی و قانونی تھاکیونکہ پاکستان کا آئین ہرشہری کواپنےسیلف ڈیفنس کااختیار دیتاہےجسکااستعمال آفیسرنےبخوبی کیا
@kabeerraja786 جب ادارہ خود پروپیگنڈہ کاشکار ہوکر یکطرفہ و جلدبازی میں شرپسند عناصرکیخلاف کاروائی کی بجائےاپنےہی آفیسر کےخلاف کاروائی کااعلان کردے اس سےبڑی زیادتی کیا ہوگی
آفیسر کاردعمل آئینی و قانونی تھاکیونکہ پاکستان کا آئین ہرشہری کواپنےسیلف ڈیفنس کااختیار دیتاہےجسکااستعمال آفیسرنےبخوبی کیا
@ZardSi جب ادارہ خود پروپیگنڈہ کاشکار ہوکر یکطرفہ و جلدبازی میں شرپسند عناصرکیخلاف کاروائی کی بجائےاپنےہی آفیسر کےخلاف کاروائی کااعلان کردے اس سےبڑی زیادتی کیا ہوگی
آفیسر کاردعمل آئینی و قانونی تھاکیونکہ پاکستان کا آئین ہرشہری کواپنےسیلف ڈیفنس کااختیار دیتاہےجسکااستعمال آفیسرنےبخوبی کیا
جب ادارہ خود پروپیگنڈہ کاشکار ہوکر یکطرفہ و جلدبازی میں شرپسند عناصرکیخلاف کاروائی کی بجائےاپنےہی آفیسر کےخلاف کاروائی کااعلان کردے اس سےبڑی زیادتی کیا ہوگی
آفیسر کاردعمل آئینی و قانونی تھاکیونکہ پاکستان کا آئین ہرشہری کواپنےسیلف ڈیفنس کااختیار دیتاہےجسکااستعمال آفیسرنےبخوبی کیا
سرحد یونیورسٹی میں پیش آنے والا واقعہ افسوسناک ہے۔ اس واقعے میں جہاں کرنل اسفند یار کے اپنی اہلیہ کے یونیورسٹی واقعے میں ملوث ہونے پر سوالات ہیں وہیں پر اُن خاتون کو "ہجوم کی جانب سے ہراسانی" کے الزامات بھی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب چند دن قبل اس تلخی پر صلح ہو چکی تھی تو پھر اس معاملے نے سر کیوں اُٹھایا؟ اس معاملے میں اُن پروفیسر صاحب کا کیا کردار ہے جنہیں عہدے سے ہٹایا گیا اور ذرائع کے مطابق اس معاملے میں کچھ دن قبل پولیس کو شکایت بھی درج کرائی گئی تھی ۔بلاشُبہ کرنل صاحب کو اپنے جذبات پر نہ صرف قابو پانا چاہیئے تھا بلکہ معاملے کی حساسیت کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے تھا تاہم اس واقعے میں ملوث افراد کا پہلے حملہ آور ہونا اور گریبان سے پکڑنا قابل گرفت جُرم ہے۔ امید ہے حقائق جلد سامنے لائے جائیں گے۔
@RShahzaddk جب ادارہ خود پروپیگنڈہ کاشکار ہوکر یکطرفہ و جلدبازی میں شرپسند عناصرکیخلاف کاروائی کی بجائےاپنےہی آفیسر کےخلاف کاروائی کااعلان کردے اس سےبڑی زیادتی کیا ہوگی
آفیسر کاردعمل آئینی و قانونی تھاکیونکہ پاکستان کا آئین ہرشہری کواپنےسیلف ڈیفنس کااختیار دیتاہےجسکااستعمال آفیسرنےبخوبی کیا
@Markhorr313 یہ وضاحت پہلےدیناتھی جب آپ اپنےہی آفیسر کیخلاف پروپیگنڈہ کاشکارہوکر کاروائی کاڈھول بجارہےتھے
آفیسر کاردعمل آئینی و قانونی تھاکیونکہ پاکستان کا آئین ہرشہری کواپنےسیلف ڈیفنس کااختیار دیتاہےجس کااستعمال آفیسرنےبخوبی کیا
آپ کوچاہیےآفیسر کی بجائےان شرپسندعناصر کیخلاف کاروائی کروائیں
@Hussain484091@zarrar_11PK تمہاری گندی ذہنیت کا اندازہ لگا لو کہ تمہیں وہ فوج اچھی لگتی جنہوں نے پوری دنیا میں مسلمانوں کیخلاف مظالم کی تاریخ رقم کر رکھیں
مگر پاک فوج بری ہے
کچھ شرم کرو
ہر ملک میں واقعات رونما ہو جاتے ہیں نہیں یقین تو گوگل سرچ کرلو
@OfficialShehr شہر بانو آپ پڑھی لکھی ہونے کے باوجود ان شرپسند عناصر کو سپورٹ کررہی ہے جو اس کی فیملی کو ہراساں و پریشاں کر رہیں ہیں
قانون آپ کو سیلف ڈیفنس میں اپنی جان و مال کی حفاظت کا اختیار دیتا ہے
علیحدگی پسند اس وقت ایک اور کارڈ کھیل رہے ہیں وہ فوجی کاروائیوں کو پنجاب سے جوڑتے ہیں حالانکہ ایوب خان سے لے کر پرویز مشرف تک تمام بڑے آپریشنز پختون یا نان پنجابی جرنیلوں نے کئے تھے اور انھوں نے بھی یہ آپریشن تنگ آ کر کئے جب پہلے سوویت یونین کے ٹکڑوں پر پلنے والے Mercenaries کو انڈیا نے گود لے لیا،پنجابی مزدوروں کو شناختی کارڈ دیکھ کر مارا جاتا ہے۔ وجہ کیا ہے کہ جی چونکہ آپریشن کرنیوالے فوجی پنجابی ہیں اس لئے ہم مزدوروں کو ماریں گے، بلوچستان کا اس وقت فی کس بجٹ پنجاب سے سات گنا زیادہ ہے اسی طرح سے باقی تینوں صوبوں کا بجٹ پنجاب سے کہیں زیادہ ہے ، پوچھیں لڑ کیوں رہے ہیں ہمارے وسائل پر قبضہ ہے پنجاب کا آگے پوچھیں وہ کیسے پنجاب میں انڈسٹری ہے یہاں نہیں۔۔ پنجاب میں اس لئے انڈسٹری ہے کہ پنجاب Racist نہیں ہے اور قبائلی نہیں ہے،یہاں ہر سرمایہ دار آسکتا ہے ، کوئ سرمایہ دار قبائلی معاشرے میں پیسے نہیں لگائے گا اور جب تک قبائلی معاشرے اپنے آپ کو نہیں بدلتے خواتین کو برابری نہیں دیتے باہر سے آنیوالوں کو خوش آمدید نہیں کہتے اور جاھلانہ رسوم سے باہر نہیں آتے ان علاقوں میں ترقی نہیں ہو سکتی!