مصر کے عظیم ہرم کے اندر ایک ایسا کمرہ موجود ہے جس کی تعمیر آج بھی ماہرینِ آثارِ قدیمہ اور انجینئروں کے لیے غیر معمولی دلچسپی رکھتی ہے۔ اس کمرے کی دیواریں اور چھت عام چونے کے پتھر سے نہیں بلکہ سرخی مائل گرینائٹ کے دیوہیکل بلاکس سے بنائی گئی ہیں، جن میں سے بعض کا وزن کئی درجن ٹن ہے۔
یہ بادشاہ کا کمرہ (King’s Chamber) کہلاتا ہے اور تقریباً ساڑھے چار ہزار سال پہلے فرعون خوفو کے عظیم ہرم کے اندر تعمیر کیا گیا تھا۔ اس کی سب سے حیران کن بات صرف پتھروں کا وزن نہیں بلکہ یہ ہے کہ انہیں مصر کے جنوب میں واقع اسوان کے علاقے سے یہاں پہنچایا گیا تھا، جو دریائے نیل کے راستے سینکڑوں کلومیٹر دور ہے۔
اسوان کا گرینائٹ اپنی سختی اور مضبوطی کے لیے مشہور تھا۔ قدیم مصری اسے مجسموں، ستونوں، معبدوں اور شاہی تعمیرات میں استعمال کرتے تھے۔ لیکن خوفو کے ہرم کے اندر اس پتھر کا استعمال ایک کہیں زیادہ مشکل منصوبہ تھا۔ پہلے پہاڑوں سے بڑے بڑے پتھر الگ کرنا، پھر انہیں تراشنا، دریائے نیل تک پہنچانا، کشتیوں کے ذریعے شمال کی طرف منتقل کرنا اور آخرکار ہرم کے اندر ایک مخصوص بلندی پر نصب کرنا تھا۔
تصویر میں کمرے کی چھت کو دیکھیے۔ یہ گرینائٹ کے بڑے بڑے شہتیروں سے بنائی گئی ہے، جو ایک دیوار سے دوسری دیوار تک پھیلے ہوئے ہیں۔ ان میں سے بعض کا وزن اندازاً پچاس سے ستر ٹن تک بتایا جاتا ہے۔ یہ پتھر اس وقت اپنی جگہ نصب کیے گئے جب ہرم ابھی زیرِ تعمیر تھا۔ یعنی معماروں کو پہلے ہی معلوم تھا کہ عمارت کے اندر کس مقام پر یہ بھاری کمرہ بنانا ہے اور اس کے اوپر ہزاروں ٹن پتھروں کا بوجھ کس طرح سنبھالنا ہوگا۔
اس کمرے کے اوپر بھی گرینائٹ کے بھاری شہتیروں کی کئی تہیں موجود ہیں۔ ان کے درمیان خالی جگہیں رکھی گئی تھیں، جبکہ سب سے اوپر ڈھلوانی پتھروں کا ایک نظام بنایا گیا۔ یہ پیچیدہ ساخت بالائی تعمیر کے بوجھ کو سنبھالنے اور تقسیم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
یہاں اصل حیرت قدیم مصری معماروں کی منصوبہ بندی پر ہوتی ہے۔ انہوں نے صرف ایک کمرہ نہیں بنایا بلکہ اس کے اوپر پتھروں کا ایک ایسا نظام بھی تعمیر کیا جو ہزاروں سال سے قائم ہے۔
آج ہمارے پاس بڑی بڑی کرینیں، بھاری ٹرانسپورٹ گاڑیاں اور پتھر کاٹنے والی جدید مشینیں موجود ہیں۔ لیکن تقریباً 2560 قبل مسیح میں مصری کاریگروں کے پاس یہ سہولتیں نہیں تھیں۔ وہ رسوں، لکڑی کی سلجوں، افرادی قوت، پیمائش کے آلات اور تعمیراتی راستوں کی مدد سے کام کرتے تھے۔ قدیم مصر میں بھاری پتھر منتقل کرنے کے شواہد موجود ہیں، تاہم خوفو کے ہرم میں ہر بلاک کو اس کی آخری جگہ تک پہنچانے کا مکمل طریقہ آج بھی تحقیق کا موضوع ہے۔
ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ عظیم ہرم کی تعمیر میں استعمال ہونے والے لاکھوں پتھروں کی اکثریت مقامی چونے کے پتھر کی تھی، لیکن بادشاہ کے کمرے جیسے مخصوص حصوں کے لیے دور دراز سے گرینائٹ منگوایا گیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ معمار مختلف پتھروں کی خصوصیات کو سمجھتے تھے اور انہیں ضرورت کے مطابق استعمال کرتے تھے۔
کمرے کے اندر موجود گرینائٹ کا بڑا صندوق نما تابوت بھی اسی پتھر سے تیار کیا گیا تھا۔ اس کی جسامت اور اندرونی راستوں کی بناوٹ سے یہ امکان مضبوط ہوتا ہے کہ اسے کمرے کی تعمیر مکمل ہونے سے پہلے ہی وہاں پہنچا دیا گیا ہوگا۔
اب ایک لمحے کے لیے اس پورے عمل پر غور کیجیے۔ اسوان کی کانوں میں ایک دیوہیکل پتھر الگ کیا جاتا ہے، اسے دریائے نیل تک پہنچایا جاتا ہے، کشتی پر لادا جاتا ہے، طویل سفر کے بعد جیزہ لایا جاتا ہے اور پھر ایک زیرِ تعمیر ہرم کے اندر کئی منزلوں کے برابر بلندی تک پہنچا کر نہایت درست جگہ پر نصب کردیا جاتا ہے۔
اور یہ کام صرف ایک پتھر کے ساتھ نہیں بلکہ متعدد بھاری گرینائٹ بلاکس کے ساتھ انجام دیا گیا۔
تقریباً ساڑھے چار ہزار سال گزرنے کے باوجود یہ کمرہ اپنی اصل جگہ پر قائم ہے۔ اس کی دیواروں اور چھت کے بھاری پتھر آج بھی قدیم مصریوں کی انجینئرنگ، تنظیم اور تعمیراتی مہارت کا غیر معمولی ثبوت ہیں۔
عظیم ہرم کے بارے میں سب سے دلچسپ سوال شاید یہ نہیں کہ اتنے بھاری پتھر اٹھائے کیسے گئے، بلکہ یہ ہے کہ ان معماروں نے ایک ایسی عظیم تعمیر کا پورا منصوبہ کس مہارت سے ترتیب دیا ہوگا جس میں سینکڑوں کلومیٹر دور سے آنے والے گرینائٹ کے شہتیر بھی اپنی مقررہ جگہ پر پہنچنے تھے، اور جسے ہزاروں سال تک قائم بھی رہنا تھا۔
ایران کی معیشت کیسی ہے؟
ایران ایک ایسی معیشت ہے جسکا انحصار نا آئ ایم ایف پر ہے نا ورلڈ بینک پر ہے نا چینی قرضوں پر ہے، نا سعودی قرضوں پر ہے، نا امریکہ پر ہے، نا یورپ پر ہے۔
ایسا ملک جو ان بیساکھیوں کے بغیر اپنی عوام کو بہترین اور ماڈرن انفراسٹرکچر دیتا ہے، اپنی عوام کو مہنگائی سے محفوظ رکھتا ہے، ایران میں اشیأ ضرورت پاکستان سے بھی زیادہ سستی ہیں، اپنی عوام کو تعلیمی میدان میں عالمی معیار پر رکھتا ہے، خواتین پی ایچ ڈیز پیدا کرنے میں دُنیا میں سرفہرست ہو، صحت کے میدان میں ریسرچ میں دُنیا کے بڑے ممالک کا مقابلہ کرتا ہو، دُنیا کی دو سُپر پاور کو شکست دیتا ہے، اپنی جنگی حکمت سے دُنیا کی وارفیر کو بدل دیتا ہے، جسکے حکمرانوں کا رہن سہن ریاست مدینہ کے خلفاۓ راشدین کی طرح آج کے دور میں دُنیا میں واحد نمونہ ہو، جسکے حکمران طبقے کے بیرون ملک اثاثے نا ہوں،
کیا کوئ کمی رہ جاتی ہے؟ کہ ایران کی معیشت کی مزید وضاحت کرسکے۔
Everyone can see horizon, few can see beyond…..
Beyond The Horizon with Ahmad Jawad
ہالی ووڈ ایکٹر ٹام کروز سے بھی زیادہ امیر مگر پھر بھی زہر بیچ رہا ہے ۔
Dhruv Rathee نے Indian Bollywood Actor Shah Rukh Khan کی تاریک حقیقت بے نقاب کر دی۔
انہوں نے کہا کہ شاہ رخ کی دولت 1.4 بلین ڈالر دولت ہو گئی جو کہ ہالی ووڈ ایکٹر ٹائم کروز سے کہیں زیادہ ہے ۔۔
مگر اتنی دولت رکھنے کے باوجود بھی شاہ رخ نے پان مصالحہ کے اشتہار میں پچھلے کئی سالوں سے کام کر رہے ہیں ۔
جس کی وجہ سے انڈیامیں منہ کی بیماریاں پھیل رہی ہیں ۔۔ ویڈیو دیکھیے انہوں نے جس انداز سے شاہ رخ خان کی دولت کا نقشہ کھنچا ہے وہ سننے کے قابل ہے ۔۔
سیلبرٹیز جن برائنڈ کو پیسوں کیلے پرموٹ کرتے ہیں اور ہم اس کو یہ کہ کر خرید لیتے ہیں کہ اتنا بڑا شخص پرموٹ کر رہا ہے تو پروڈکٹ اچھا ہو گا اس ویڈیو کو دیکھنے کے بعد اپکا نظریہ مکمل طور تبدیل ہو جاے گا ۔۔
لہٰذا اللہ کی تسبیح کرو اُس وقت بھی جب تمہارے پاس شام آتی ہے، اور اُس وقت بھی جب تم پر صبح طلوع ہوتی ہے اور اُسی کی حمد ہوتی ہے آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی اور سورج ڈھلنے کے وقت بھی (اُس کی تسبیح کرو) اور اُس وقت بھی جب تم پر ظہر کا وقت آتا ہے۔
﴿سورۃ الروم،۱۷-۱۸﴾
[صحیح بخاری: 7121]
ابوہریرہ ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک دو عظیم جماعتیں جنگ نہ کریں گی۔ ان دونوں جماعتوں کے درمیان بڑی خونریزی ہوگی۔ حالانکہ دونوں کا دعویٰ ایک ہی ہوگا اور یہاں تک کہ بہت سے جھوٹے دجال بھیجے جائیں گے۔ تقریباً تین دجال۔ ان میں سے ہر ایک دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے اور یہاں تک کہ علم اٹھا لیا جائے گا اور زلزلوں کی کثرت ہوگی اور زمانہ قریب ہوجائے گا اور فتنے ظاہر ہوجائیں گے اور ہرج بڑھ جائے گا اور ہرج سے مراد قتل ہے اور یہاں تک کہ تمہارے پاس مال کی کثرت ہوجائے گی بلکہ بہہ پڑے گا اور یہاں تک کہ صاحب مال کو اس کا فکر دامن گیر ہوگا کہ اس کا صدقہ قبول کون کرے اور یہاں تک کہ وہ پیش کرے گا لیکن جس کے سامنے پیش کرے گا وہ کہے گا کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے اور یہاں تک کہ لوگ بڑی بڑی عمارتوں پر آپس میں فخر کریں گے۔ ایک سے ایک بڑھ چڑھ کر عمارات بنائیں گے اور یہاں تک کہ ایک شخص دوسرے کی قبر سے گزرے گا اور کہے گا کہ کاش میں بھی اسی جگہ ہوتا اور یہاں تک کہ سورج مغرب سے نکلے گا۔ پس جب وہ اس طرح طلوع ہوگا اور لوگ دیکھ لیں گے تو سب ایمان لے آئیں گے لیکن یہ وہ وقت ہوگا جب کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان لانا فائدہ نہ پہنچائے گا جو پہلے سے ایمان نہ لایا ہو یا اس نے اپنے ایمان کے ساتھ اچھے کام نہ کئے ہوں اور قیامت اچانک اس طرح قائم ہوجائے گی کہ دو آدمیوں نے اپنے درمیان کپڑا پھیلا رکھا ہوگا اور اسے ابھی بیچ نہ پائے ہوں گے نہ لپیٹ پائے ہوں گے اور قیامت اس طرح برپا ہوجائے گی کہ ایک شخص اپنی اونٹنی کا دودھ نکال کر واپس ہوا ہوگا کہ اسے کھا بھی نہ پایا ہوگا اور قیامت اس طرح قائم ہوجائے گی کہ وہ اپنے حوض کو درست کر رہا ہوگا اور اس میں سے پانی بھی نہ پیا ہوگا اور قیامت اس طرح قائم ہوجائے گی کہ اس نے اپنا لقمہ منہ کی طرف اٹھایا ہوگا اور ابھی اسے کھایا بھی نہ ہوگا۔
جب ارادے مضبوط ہوں تو کوئی بھی بوجھ بھاری نہیں لگتا۔ اس عقاب نے اپنے وزن سے کہیں زیادہ بھاری مچھلی کا شکار کر کے اپنی بے پناہ طاقت کا ثبوت دے دیا۔ ناقابلِ یقین منظر! 🔥🦅
ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا:
’’یا رسول اللہ ﷺ! کون سا صدقہ سب سے زیادہ اجر والا ہے؟‘‘
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
’’یہ کہ تم اس وقت صدقہ کرو جب تم صحت مند ہو، مال کی محبت تمہارے دل میں ہو، تمہیں غربت کا خوف ہو اور دولت کی امید ہو۔ اور صدقہ کرنے میں اس وقت تک تاخیر نہ کرو جب جان حلق تک پہنچ جائے اور تم کہنے لگو: فلاں کو اتنا دینا، فلاں کو اتنا دینا، حالانکہ وہ مال تو فلاں کا ہو ہی چکا ہے۔‘‘
حسن بصریؒ کے پاس کچھ لوگ آئے اور کہنے لگے:
’’اے ابو سعید! کیا آپ کو محمد بن اہتم کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کا علم ہے؟‘‘
انہوں نے پوچھا:
’’کیا ہوا اسے؟‘‘
لوگوں نے کہا:
’’ہم اس کے پاس گئے، وہ موت کے آخری لمحوں میں تھا۔ اس نے کہا: اس صندوق کو دیکھو، اس میں اسی ہزار دینار ہیں۔ میں نے ان کی زکوٰۃ ادا نہیں کی، نہ ان سے رشتہ داروں کا حق ادا کیا، نہ کسی محتاج نے ان میں سے کچھ کھایا۔‘‘
ہم نے پوچھا:
’’اے ابو عبداللہ! پھر تم یہ سب مال کس کے لیے جمع کرتے رہے؟‘‘
اس نے جواب دیا:
’’زمانے کے اچانک مصائب سے بچنے کے لیے، بھائیوں سے بڑھ کر رہنے کے لیے اور حکمران کی سختی سے محفوظ رہنے کے لیے۔‘‘
حسن بصریؒ نے فرمایا:
’’دیکھو، اس کے شیطان نے اسے کہاں سے پکڑا! اسے زمانے کے خوف، اپنے لوگوں سے مقابلہ کرنے اور حکمران کے ظلم کا خوف دلاتا رہا۔‘‘
اے وارث! خبردار، کہیں تم بھی اپنے اس پیش رو کی طرح دھوکا نہ کھا جانا۔
یہ مال تمہارے پاس آیا ہے، مگر اسے حاصل کرنے کے لیے تمہارا ہاتھ نہیں تھکا، نہ تمہاری پیشانی پر پسینہ آیا۔ یہ مال تمہیں اس شخص سے ملا ہے جو اسے جمع کرنے اور روک کر رکھنے میں لگا رہا؛ کچھ مال اس نے باطل طریقے سے جمع کیا اور کچھ حق داروں کو ان کا حق نہ دے کر روک لیا۔
شیطان کے داخل ہونے کے سب سے بڑے دروازوں میں سے ایک غربت کا خوف ہے۔
وہ انسان سے کہتا ہے:
’’اپنا مال سنبھال کر رکھو۔ ممکن ہے آج تمہیں اس کی ضرورت نہ ہو، لیکن کل پڑ جائے۔ صدقہ دینے سے تمہیں کیا ملے گا؟ اگر کل تمہیں ضرورت پڑ گئی تو کون دے گا؟ اگر بیماری آگئی اور ہسپتال کے اخراجات ہوئے تو کون تمہاری مدد کرے گا؟ دن تیزی سے گزر رہے ہیں، کل بچے بڑے ہو جائیں گے، پھر یونیورسٹیوں کی فیس کہاں سے دو گے؟ اگر ملازمت چلی گئی تو کیا کرو گے؟ اس لیے اپنے برے دنوں کے لیے کچھ مال ضرور بچا کر رکھو!‘‘
اور اگر تم چاہو تو اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان پڑھ لو:
﴿الشَّيْطَانُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَيَأْمُرُكُم بِالْفَحْشَاءِ وَاللَّهُ يَعِدُكُم مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَفَضْلًا وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ﴾
’’شیطان تمہیں فقر و محتاجی کا خوف دلاتا ہے اور بے حیائی کا حکم دیتا ہے، جبکہ اللہ تم سے اپنی بخشش اور فضل کا وعدہ کرتا ہے، اور اللہ بڑی وسعت والا، خوب جاننے والا ہے۔‘‘
یہ بات بالکل درست ہے کہ انسان اپنے مال میں سے کچھ حصہ مستقبل کے لیے بچا کر رکھے۔ اس میں کوئی حرج نہیں۔ بلکہ یہ تو عقلمند اور دوراندیش لوگوں کا طریقہ ہے، جو جانتے ہیں کہ زمانہ گردش میں ہے اور حالات بدلتے رہتے ہیں۔
لیکن بچت ایک چیز ہے، اور زندگی بھر مال جمع کرتے رہنا، گویا انسان خود ایک پیسے کی صندوقچی بن جائے، دوسری چیز ہے۔
اپنی تنخواہ کا کچھ حصہ بچا کر رکھنا ایک بات ہے، اور یہ سمجھنا کہ جو مال تم نے صدقہ کیا وہ تمہارے ہاتھ سے ہمیشہ کے لیے نکل گیا، دوسری بات ہے۔
اسی طرح اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں سوچنا اور ان کے لیے کچھ چھوڑنے کی کوشش کرنا بھی کوئی بری بات نہیں؛ بلکہ یہ عقل مندی ہے۔
نبی کریم ﷺ نے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے فرمایا:
’’تم اپنے وارثوں کو خوش حال چھوڑو، یہ اس سے بہتر ہے کہ انہیں محتاج چھوڑو کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔‘‘
لیکن شرط یہ ہے کہ تم اپنے آپ کو نہ بھولو۔
یہ نہ بھولو کہ تمہاری ایک ایسی کتابِ اعمال بھی ہے جسے تمہیں صدقے سے بھرنا ہے، اور ایک ایسی قبر بھی ہے جسے لوگوں کی مدد کے ذریعے روشن کرنا ہے۔
اور پورے یقین کے ساتھ اعتماد رکھو کہ اللہ تعالیٰ اس بات سے کہیں زیادہ عادل اور رحم کرنے والا ہے کہ تم لوگوں کی مدد کے لیے اپنا ہاتھ بڑھاؤ اور پھر وہ تمہیں دوبارہ لوگوں کے سامنے سوال کرنے کے لیے ہاتھ پھیلانے پر مجبور کر دے۔
جو شخص کسی فقیر کا سوال کرنے والا ہاتھ روک دیتا ہے، اللہ اس کے ہاتھ کو سوال سے بے نیاز کر دیتا ہے۔ اور جو کسی مسکین کی ضرورت پوری کر دیتا ہے، اللہ اسے اس بات سے محفوظ کر دیتا ہے کہ وہ کبھی خود مسکین بن کر رہ جائے۔
اس یقین کے ساتھ معاملات کو دیکھو۔
ہر چیز کو صرف کاغذ اور قلم کے حساب سے نہ تولو۔
اور یقین رکھو کہ صدقہ مال کو کم نہیں کرتا۔
بائبل کے مطابق فرعون غرق نہیں ہوا تھا- یہودی عقیدے کے مطابق فرعون کی ساری فوج غرق ہوگئی تھی مگر فرعون کنارے پہ کھڑا رہا تھا اور زندہ سلامت واپس اپنے محل میں آگیا تھا پھر اس کے بعد وہ طبعی موت مرا تھا- عہد نامہ قدیم اور عہد نامہ جدید میں کسی ایک جگہ بھی فرعون کے غرق ہونے کی خبر نہیں ہے جبکہ قرآن اس کے متضاد بات کرتا ہے-
سورہ یونس 90 تا 92 میں فرعون کے پانی میں غرق ہونے, اس کے معافی مانگنے اور اس کی لاش کو محفوظ کرنے کی تفصیل آئی ہے-
اب یہ بائبل اور قرآن کا بہت بڑا تضاد ہے جس پر یہودی علما اعتراض اٹھاتے رہے ہیں کہ اگر تمہارا قرآن یہ کہہ رہا ہے کہ فرعون کی لاش محفوظ ہے تو پھر دکھاو کہ وہ کہاں ہے؟
1898 میں مصر میں انکا محکمہ آثار قدیمہ کھدائی شروع کرتا ہے تو وہاں سے فرعون کی ممی دریافت ہوجاتی ہے مگر ابھی یہ معلوم نہیں کہ یہ آخری فرعون ہے یا کوئی پہلے والا فرعون ہے-
1935 تک تحقیقات سے یہ فائنل ہو جاتا ہے کہ یہ آخری فرعون کی لاش ہے مگر یہ مرا کیسے تھا یہ فائنل نہیں ہوا- 1952 میں حضرت موسی پر بننے والی مشہور زمانہ فلمThe Ten Comandmint میں بھی اینڈ پہ فرعون کو واپس اپنے محل میں جاتے دکھایا گیا ہے-
1984 میں فرعون کے پاوں میں پھپھوندی لگ جاتی ہے- حکومت مصر اسے فرانس لے جانے کا پروگرام بناتی ہے- فرعون کا باقائدہ پاسپورٹ بنتا ہے اور فرانس کی حکومت فرعون کو دنیا کا سب سے بڑا گارڈ آف آنر دیتی ہے-
فرانس کے ڈاکٹروں کی ٹیم ڈاکٹر مورس بکائلے کی سربراہی میں فرعون کی باڈی کا معائنہ شروع کرتے ہیں تو ڈاکٹر مورس بکائلے کو یہ دیکھ کر شاک لگتا ہے کہ باڈی کے اندر سمندری نمکیات موجود ہیں- ڈاکٹر مورس بکائلے مصر کا رخ کرتا ہے پھر وہ قرآن کے الفاظ سمجھنے کے لیئے اردن کے دیہاتی ایریاز میں جاتا ہے-
وہ اپنی پوری تحقیق کے بعد 1990 میں مشہور زمانہ کتاب بائبل قرآن اور سائنس تصنیف کرتا ہے جس میں وہ اعتراف کرتا ہے کہ قرآن تاریخ, کیمسٹری, طب اور سائنس پہ زیادہ بات کرتا ہے, جبکہ بائبل زیادہ تر صرف اخلاقیات پہ بات کرتی ہے-
ہم دکھائیں گے عنقریب تم کو اپنی نشانیاں افق میں اور تمہارے اپنے نفسوں میں تاکہ یہ بات کھل جائے کہ یہی حق ہے- (فصلت 53)
ہمیں یہ بات سمجھ لینی چاہئیے کہ قرآن کی مکمل تفسیر لکھنا کسی انسان کے بس کا کام نہیں- قرآن میں ایسی ہزاروں آیات ہیں جن میں سے کچھ عیاں ہوچکی ہیں اور باقی وقت کی ترقی کے ساتھ ہوتی جائیں گی-
آپ غزہ کی ستم ظریفی کا صحیح اندازہ اس لائٹر کی قیمت سے لگا سکتے ہیں جس کی قیمت غزہ میں 30 ڈالر سے زیادہ ہے یعنی پاکستانی 8 ہزار روپے کے لگ بھگ جب کہ یہی لائٹر پاکستان میں 30 روپے کا ملتا ہے۔
وجہ یہ ہیکہ باہر سے کچھ بھی اندر لیجانے پر سخت پابندی ہے اور ختی کہ ایک معمولی ماچس کی بھی اجازت نہیں۔
غزہ اس وقت دنیا کے سب سے بڑے شیطان کی قید میں ہے۔
دعا ہے خدا اہل غزہ کو اس کے شر سے بچانے کے اسباب پیدا فرمائے
" درنجات " یہ ڈرامہ عمیرہ احمد نے لکھا ہے
یہ ڈرامہ الیٹ کلاس لوگوں کا ہے، اس میں صرف الیٹ کلاس کریکٹر ہی دیکھاۓ جا رہے ۔۔۔
مزے کی بات تو یہ ہے عمیرہ احمد خود شادی کر کے الیٹ کلاس میں گئی ہیں۔ ان کے شوہر نامدار پہلے آرمی میں تھے وہاں سے ریٹائرمنٹ لے لی اور اب بیوروکریٹ ہیں۔ کوئی حیرت نہیں وہی قلم جو پہلے آرمی اور بیوروکریسی کے اندر کی کرپشن کے بارے میں لکھتا تھا، اب اس کے گن گاتے پھرتا ہے۔
آپ لوگ بس یہ جان لو کے یہاں ہر کسی نے اپنی دکان کھول رکھی ہے اور اپنا ہی چورن بیچ رہا ہے
عمران خان نے کہا وہ اللہ توکل ہے اسے کوئی خوف نہیں موت کا اور اللہ قرآن میں کہتا ہے.
وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ بَالِغُ أَمْرِهِ ۚ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا
ترجمہ: اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ اس کے لیے کافی ہے۔ بے شک اللہ اپنا کام پورا کرکے رہتا ہے، اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔
@utggondal@MoonisElahi@fozisidd@ChotiSheikhni@OryaMaqboolJan@chrizwan356@ImranRiazKhan
کینیا اور تنزانیہ کی سرحدوں پر دریائے مارا کے کنارے زیبرا اور وائلڈ بیسٹ جمع ہونا شروع ہوگئے ہوں گے. صدیوں سے ہر سال جولائی سے ستمبر کے درمیان یہ ریوڑ دریائے مارا کے کنارے جمع ہو کر دریا کے پانی کو دیکھ رہا ہوتا ہے.
اس پانی میں مگرمچھ بھی جمع ہو رہے ہوتے ہیں. کیونکہ اگلے کچھ دنوں میں ایک یہ زیبرے اور وائلڈ بیسٹ دریا کو ضرور کراس کریں گے. یہ جانتے ہوئے بھی کہ دریا کا تیز بہاو ناہموار سطح اور خونی مگرمچھوں کا میلہ لگا ہوا ہے. یہ صدیوں کی رسم ہے.
موسم نے ایک کنارے کی گھاس ختم کر دی ہے. دوسری طرف کی گھاس کیلئے یہ خونی دریا کراس کرنا ہے. تب یہ بے زباں جانور اپنی جبلت پر کچھ حساب کتاب کرتے ہیں. یہ جمع ہونا شروع ہوتے ہیں یہاں تک کے تعداد لاکھوں میں چلی جائے. اس کے بعد کسی دن یہ اچانک یلغار کر کے دریا پار کریں گے.
ان میں ایسے بدنصیب ہوں گے جو یہ دریا پار نہیں کر پائیں گے. لیکن لاکھوں میں یہ چند درجن بدنصیب کون ہوں گے.؟ چونکہ یہ معلوم نہیں ہوتا تو ایک طرف کی یقینی بھوک کی سسکتی موت سے دوسری طرف کی بقا کی خواہش ہر ایک کو دریا میں چھلانگ لگانے پر مجبور کر دیتی ہے.
غریب ملکوں کے بچے جب خواب سجائے دور دراز ملکوں کی سرحدوں و سمندروں میں مر رہے ہوتے ہیں تب دریا مارا کا یہ کنارہ آنکھوں کے آگے گھوم جاتا ہے. زیبروں اور جنگلی گائے بیلوں کا حساب سادہ ہے. آخر یہ خونی مگرمچھ کتنا گوشت کھا لیں گے.؟ انسانی مگرمچھوں کا حساب پیچیدہ ہے کیونکہ یہ خود بھی کھاتے ہیں اور اپنی نسلوں کیلئے بھی غریبوں کا خون جمع کرتے ہیں.
انسانی معاشرے کے انسان نما خونی مگرمچھ دریا مارا کے مگرمچھوں سے زیادہ خطرناک ہیں. ان کی بھوک ختم ہی نہیں ہوتی. کیونکہ مارا کے مگرمچھ کی بھوک جبلت ہے اور انسانی مگرمچھ کی بھوک حرص و ہوس ہے.
ریاض علی خٹک
#موناسکندر
ایرانی بہت مشکل لوگ ہیں
امریکی نائب صدر کہتا ہے کہ ایرانی بہت مشکل لوگ ہیں
امریکہ تو ایک سائفر بھیج کے رجیم چینج کر دیتا تھا، یا قتل کروا دیتا تھا، یا اغوا کر لیتا تھا، یہ سب تو بہت آسان تھا اور امریکہ کے سلیبس میں یہی کچھ تھا اور پھر آؤٹ آف سلیبس ایران آ گیا اور اب کہتے ہیں کہ ایرانی مشکل ہیں۔
ایرانی مشکل ہیں کیونکہ اُن کی لیڈرشپ نے امریکہ اور یورپ میں جائیدادیں نہیں بنائیں، اپنے بچوں کو امریکہ اور یورپ میں سیٹل نہیں کیا، کرپٹ نہیں ہیں، غدار نہیں ہیں۔ انکی تمام عسکری اور سیاسی لیڈرشپ جو شہید ہوئ، اُنکے زیادہ تر کے ذاتی مکان نہیں ہیں۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی بہت مشکل تھے کیونکہ اللہ پر ایمان رکھنے والا، اللہ کا خوف رکھنے والا، انصاف پر عمل کرنے والا، اپنی ذات کو قُربان کرنیوالا ہمیشہ کفار کیلئے مشکل ہوتا ہے
Everyone can see horizon, few can see beyond…..
Beyond The Horizon with Ahmad Jawad
بھادوں
بھادوں پنجابی اور نانک شاہی کیلنڈر کا چھٹا مہینا ہے جو ساؤن کے بعد آتا ہے اور آٹھویں انگریزی مہینے اگست کی 16 تاریخ سے ستمبر کی 15 تاریخ تک رہتا ہے اور اس مہینے کے 31 دن شمار کیے جاتے ہیں
بھارتی اور پاکستانی پنجاب میں ساؤن اور بھادوں بارشوں کے مہینے ہیں جس میں
1👇
یہ 5 ایپس رکھ لیں، آدھی پریشانیاں خود ختم ہو جائیں گی
روز یہی چیزیں پریشان کرتی ہیں — فون ہینگ ہو رہا ہے، ڈیٹا اُڑ رہا ہے، ویڈیو ڈاؤنلوڈ کی مگر لو کوالٹی نکلے یا واٹرمارک لگا ہو، تصویر پھیکی لگے یا عین وقت پر ضروری ڈاکومنٹ نہ ملے — یہ 5 ایپس انہی مسئلوں کا حل ہیں:
1۔ مہینہ ختم ہونے سے پہلے ہی ڈیٹا ختم ہو جائے تو بندہ پریشان ہو جاتا ہے:
گوگل ون (Google One ) مفت میں بتا دیتی ہے کہاں کہاں ڈیٹا اُڑ رہا ہے، فوراً پتا چل جاتا ہے مسئلہ کدھر ہے
2۔ کوئی ویڈیو پسند آ جائے اور سیو کرنے کا کوئی سیدھا طریقہ نہ ملے:
پروفیچ ( ProFetch ) میں لنک پیسٹ کریں اور FHD ویڈیو سیدھا فون میں، نہ Ads کا ٹارچر, نہ واٹرمارک، نہ فضول ری ڈائریکٹ۔ پلے سٹور پر موجود ہے۔
3۔ گیلری بھر جائے اور پرانی تصویریں ڈیلیٹ کرنے کا دل بھی نہ کرے:
گوگل فوٹوز (Google Photos) خود بخود بیک اپ لے لیتی ہے، فون کی جگہ بھی بچتی ہے اور یادیں بھی محفوظ رہتی ہیں
4۔ فون سے لی گئی تصویر پھیکی لگے اور پوسٹ کرنے کا دل ہی نہ کرے:
لائٹ روم (Adobe Lightroom) مفت میں تصویر کے رنگ، روشنی اور کلیریٹی سنوار کر پروفیشنل لیول تک لے جاتی ہے۔
5۔ اچانک کوئی ضروری کاغذ چاہیے ہو اور فوٹو کاپی کہیں نہ ملے:
ایڈوب سکین (Adobe Scan) سے فون کیمرے سے فوراً صاف PDF بن جاتا ہے، جیب میں پڑا فون ہی کافی ہے۔