سلمان بلوچ کو 13 نومبر 2022 کو کوئٹہ سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔
تین سال گزرنے کے باوجود وہ تاحال لاپتہ ہیں۔
اہلِ خانہ روزانہ اذیت اور غیر یقینی صورتحال میں جی رہے ہیں۔
جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بند کیا جائے۔
#ReleaseSalmanBaloch
The inclusion of Baloch political and human rights activists in Pakistan’s so-called Fourth Schedule under the Anti-Terrorism Act is a deliberate attempt to criminalize dissent and suppress legitimate political expression in Balochistan.
Dozens of peaceful activists, students, and social workers are being targeted without due process or legal justification. This unlawful act violates the rights to free expression, association, and movement guaranteed under international human rights law.
Labeling peaceful advocacy as “terrorism” exposes the state’s ongoing campaign to silence the Baloch struggle for justice, dignity, and democratic rights. Such repressive measures deepen mistrust and further isolate an already marginalized population.
Baloch Voice for Justice calls on the international community, including @UNHumanRights, @amnesty, and @hrw, to take urgent notice of this systematic repression and pressure Pakistan to immediately remove the names of all peaceful Baloch activists from the Fourth Schedule and end the misuse of anti-terrorism laws for political persecution.
#StopStateTerrorism
پاکستانی فورسز کے ہاتھوں غنی امان چانڈیو کے جبری گمشدگی کے خلاف کراچی پریس کلب کے سامنے جاری احتجاجی کیمپ میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنماء سمی دین بلوچ کی شرکت اور خیالات کا اظہار
Attempting to crush voices of dissent like @SammiBaluch & Dr. @SabihaBaloch_ will never succeed because the leaders of BYC represent the will of the Baloch people.
Instead of addressing the long-standing grievances of the Baloch people as well as the growing and intensifying insurgency in Balochistan, the State itself is creating more space for resentment and violence by continuing its crackdown on peaceful dissent and on those who have always tried to engage in dialogue.
The government of Balochistan has placed human rights defenders @SammiBaluch and Dr @SabihaBaloch_ on the Fourth Schedule, even though the BYC is not a proscribed organization and not a single terrorism charge has been proven against its jailed leadership in the past seven months. No wonder terrorism continues unabated, since Pakistan’s counterterrorism strategy consists of targeting peaceful Baloch women.
جنید حمید کو آج سے ایک سال قبل 8اکتوبر کو 2024 کو حب سے جبکہ اس کے دوسرے بھائی یاسر حمید کو 11 اکتوبر 2024 کو قلات سے فورسز نے اٹھاکر جبری گمشدگی کا شکار بنایا_جو تاحال لاپتہ ہیں انسانی حقوق کی تنظمیں ان کی بازیابی کے لئے کردار ادا کریں!
#ReleaseJunaidAndYasirHameed
Baloch Voice for Justice appeals to all people committed to peace and human rights across the globe to join the online campaign for Dr. Mahrang Baloch on 9th October 2025 from 9:00 PM – 12:00 AM with the hashtag #NobelPeacePrizeForMahrang
@NobelPeaceOslo
یہ ایک ایسا نظام ہے جہاں انصاف اور امید محض سراب ہیں۔ ایک ایسا سراب جس کے پیچھے دوڑتے رہنے کے باوجود مایوسی اور کرب ہی نصیب ہوتے ہیں۔ جہاں بار بار اسی انصاف کے دروازے کو کھٹکھٹانا پڑتا ہے جس کے پیچھے صدیوں کی نامیدی و ناانصافیوں کی کہانی ہے، ایک ایسی خاموشی جو مظلوموں کے نالوں اور سسکیوں کو بھی نگل جاتی ہے۔
اس جہدوجہد میں ہر بار بکھر جانا، پھر ٹوٹے ہوئے وجود کو سنبھالنا، زخموں کو سہلانا، خود کو سمیٹ کر دوبارہ کھڑا کرنا، اور پھر ایک نئی امید کے ساتھ جینا… لیکن آخرکار یہ کڑوی حقیقت قبول کرنا پڑتی ہے کہ کوئی آپ کی صدا نہیں سنے گا۔ یہ اذیت شاید دنیا کا سب سے بڑا کرب ہے، وہ کرب جو جسم کو نہیں، روح کو چھلنی کرتا ہے۔
مایوسی کو تصویروں میں قید کرنا، مایوسی کے کرب کو فائلوں اور الماریوں میں دفن کر دینا، اور خود کو بار بار یہ جھوٹی تسلی دینا کہ انصاف اس سرزمین پر مظلوموں کے لئے نہیں۔ پھر ہر بار خالی ہاتھ لوٹنے کی اذیت کو اپنے دل میں جگہ دینا، یہ دکھ اپنی نوعیت میں اتنا شدید ہے کہ اسے بیان کرنے کے لئے الفاظ ہمیشہ کم پڑ جاتے ہیں۔
مگر اس سب کے باوجود، وہ زخم جو پیاروں کی گمشدگی نے ہمارے دلوں پر لگائے ہیں، وہ دکھ اتنا وسیع اور اتنا گہرا ہے کہ اس کے سامنے باقی تمام دکھ چھوٹے، معمولی اور بے معنی محسوس ہوتے ہیں۔ یہ ایسا غم ہے جو ہمارے وجود کے ہر گوشے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے، جو ہمارے خوابوں کو اجاڑ دیتا ہے، ہماری ہنسی چھین لیتا ہے، اور ہمیں ایک نہ ختم ہونے والے جدوجہد اور اذیت میں دھکیل دیتا ہے۔
یہی غم ہمیں مایوسی کے اندھیروں میں ڈوبنے نہیں دیتا۔ یہی دکھ ہمیں سونے نہیں دیتا، ہمیں بھلا دینے نہیں دیتا۔ یہی کرب ہماری مزاحمت کی بنیاد بنتا ہے۔ یہ دکھ ہمیں ہر دن یاد دلاتا ہے کہ جب تک ہمارے پیارے واپس نہیں آتے، جب تک جبری گمشدگیوں کا سلسلہ ختم نہیں ہوتا، جب تک ظلم کی دیواریں نہیں گرتیں۔ ہماری جدوجہد سڑکوں پر جاری رہے گی۔
یہ مزاحمت صرف ایک احتجاج نہیں، یہ ہمارے زخموں کی زبان ہے۔ یہ ان ماؤں کی چیخ ہے جن کے بچے چھین لئے گئے، یہ ان بہنوں کی سسکی ہے جو برسوں انتظار میں ہیں، یہ ان بچوں کی معصوم آنکھوں کی پکار ہے جو اپنے والد کے لمس کو ترس گئے۔ اور جب تک یہ زخم زندہ ہیں، یہ مزاحمت بھی زندہ رہے گی۔
مھکم باتے ✌️
Request to my Baloch mothers, sisters & daughters to please end the peaceful sit-in camp in Islamabad, which has gone on for more than 70 days now. You have shown the entire country what peaceful resistance means and how to find hope in the most hopeless situation.
We will always stand by you and demand the release of your loved ones, and the release of all BYC Leaders.
دالبندین: پاکستان فوج کا ایک گھر پر چھاپہ، فائرنگ اور گولہ باری کے نتیجے میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (پجار) کے سابق چیئرمین ایڈوکیٹ زبیر بلوچ جانبحق ہوگئے۔
آج صبح چھ بجے سریاب، کوئٹہ میں سیکیورٹی ایجنسی کے اہلکاروں نے بلوچ یکجہتی کمیٹی @BalochYakjehtiC کے مرکزی سنگت، بیبگر بلوچ کے گھر پر چھاپہ مارا اور انہیں ان کے بھائی، ڈاکٹر حمل زہری سمیت گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔ تاحال ان کی سلامتی کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔
گزشتہ کئی دنوں سے سیاسی کارکنوں اور عام شہریوں کی جبری گمشدگیوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے، جو نہایت تشویشناک صورتحال ہے۔