پاکستان میں اگر آپ وردی میں اپنی کسی بہن، بیٹی کو اوباش نوجوانوں سے بچاتے ہیں تو گرفتار ہونا پڑتا ہے۔
یہ واقعہ سرحد یونیورسٹی کے اسلام آباد کیمپس میں پیش آیا۔ ویڈیو بتا رہی ہے کہ قصوروار کون ہے، لیکن گرفتار پھر بھی وہی ہوا جس نے وردی پہن رکھی تھی۔
مجھے فخر ہے اس بیٹے ، بھائی ، باپ اور شوہر پر جس نے اپنے گھر کی عزت کیطرف اٹھنے والے ہاتھ کو روکا
یونیفارم پہننے کا یہ مطلب نہیں کہ آپ بیہودگی کے سامنے ہاتھ جوڑے خاموش تماشائی بنے رہیں
سرحدوں کے محافظ اپنے گھر کی بھی حفاظت کرنا جانتے ہیں
یہ ویڈیو لاس اینجلس کی ہے،امریکہ میں تقریباً 7 لاکھ 45 ہزار بے گھر افراد میں سے تقریباً 2 لاکھ 66 ہزار افراد سڑکوں، گاڑیوں یا کھلے آسمان تلے رات گزارنے پر مجبور ہیں۔جبکہ پناہ گاہوں میں رہنے والے افراد کی تعداد الگ ہیں۔
میری سب سے چھوٹی بہن کے دل میں سوراخ تھا۔
وہ پونے2سال کی تھی جب اسکا انتقال ہوا۔
اور ڈاکٹروں کو سمجھ ہی اسکے انتقال سےچند دن پہلے لگی کہ اسکو دل کا مسئلہ ہو سکتا
اسکے ٹیسٹ کی رپورٹس اسکے انتقال کے بعد آئیں مگر اسکے انتقال کے بعد اسکے جسم کے نیلا ہونے پر ہم جانے اسکا دل دکھتاتھا💔
لاہور،بڑی کمپنی کےکولڈ سٹور ميں دو ہزار کلو سے زائد ايکسپائرڈ آئس کريم پکڑی گئ۔کولڈ سٹور سيل،بھاری جرمانہ عائد۔بچے بڑے سب آئس کريم شوق سے کھاتے ہيں۔اگر کسی کا خيال ہے کہ منفی 22ڈگری ميں کوئ چيک کرنے نہيں آئے گا تو يہ بھول ہے۔محفوظ خوراک وزيراعلی مريم نواز شريف کی اولين ترجيح ہے
لاہور،کولڈ سٹور کی چيکنگ کے دوران بڑی تعداد ميں خراب سيب ملنے پر گودام سيل کر ديا گیا۔گلے سٹرے پھلوں سے سرکہ اور مربع بنانا مضر صحت عمل ہے،اس کی روک تھام کے ليۓ ٹھوس اقدام کيۓ جا رہے ہيں۔ملاوٹ شدہ،ناقص اور مضر صحت خوراک پر زيرو ٹالرينس وزيراعلی مريم نواز شریف کی توجہ کا مرکز ہے
محترمہ @SalmaButtPMLN ایک قومی فریضہ سرانجام دے رہی ہیں ۔ بچوں کو موت کے منہ تک پہنچانے والے اس معروف برانڈ کا نام پوری قوم تک پہچانا بھی صدقہ جاریہ ہے ۔
جس دن سپریم کورٹ کے فیصلے کو حکومتی وزراء تک ویلکم کر رہے تھے اور پوری عوام سمیت میڈیا کو یقین تھا عمران خان شفاء ہسپتال شفٹ ہوں گے یہ منیب فاروق تھے جنہوں نے کہا تھا انہیں شفاء شفٹ نہیں کیا جائے گا۔
آخر اتنے اعتماد کے ساتھ اتنی بڑی خبر منیب فاروق نے زرائع سے دی یا اپنا تجزیہ شئیر کیا تھا۔۔؟
مکمل پروگرام لنک
👇
https://t.co/Ds7Xkpufr4 via @YouTube@muneebfaruqpak@NeoNewsUR@fawadnb@NasrullahMalik1
فیلڈ مارشل ایران پہنچے تو اُن کا استقبال صرف وزیرِداخلہ سکندر مومنی نے کیا ہے ناں وزیرخارجہ پہنچا ناں صدر ناں اسپیکر
ہمارے ہاں کوئی ایرانی کن ٹُٹاں بھی آ جائے تو لاؤ لشکر لیکر پہنچ جاتے ہیں
یہ ہے وہ جنسی درندہ جدون خان یہوتھیا جس نے آج سرحد یونیورسٹی میں سارا کھیل رچا
اس پر خواتین کو ہراساں کرنے کے درجنوں الزامات تھے ڈاکٹر آئینہ نے اس کے خلاف بچیوں کی طرف سے شکایت کی جس پر اس نے ان کے دفتر میں ان پر حملہ کیا
ڈاکٹر آئینہ نے اس پر پولیس میں شکایت بھی جس پر اس نے تحریری معافی مانگی
جب اس کی حرکات پر اسے فارغ کیا گیا تو اس نے چند اسٹوڈنٹس کو ساتھ ملا کر پھر سے ہلڑ بازی کی تصویر کے دوسرے رخ کو دیکھا جائے اور ان کرداروں کو بھی کیفر کردار تک پہنچانا ضروری ہے
چودہ سال بعد اس گاؤں کے سرکاری سکول کے بچوں کا میٹرک میں ہزار سے زائد نمبرز کا سنگِ میل، بدلتے معیار اور محنت کا نتیجہ ہے؛ بچوں کا اعتماد خود بتا رہا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی تعلیمی اصلاحات سکولوں تک پہنچ رہی ہیں۔
#سرکاری_سکول_معیاری_سکول
میاں نواز شریف صاحب جیسا اعلیٰ ظرف انسان نہیں دیکھا جب جیل میں تھے تو جو قیدی جرمانہ ادا نا کرنے کی وجہ سے ابھی تک قید تھے میاں نواز شریف صاحب اُنکا جرمانہ ادا کر کے اُنکو رہا کروا دیتے تھے
ہر غیرتمند شوہر بیوی پر کسی حملے کی صورت پر لڑنے پہنچ جاتا ہے لباس بدلنے نہیں لگتا۔
اور پھر جب جتھہ حملہ آور ہو اور آہنی راڈ سر پر مارا جا رہا ہو تو پستول کی حفاظت نہیں کی جاتی پستول سے اپنی حفاظت کی جاتی ہے۔
بات ختم !
سرحد یونیورسٹی واقعے کے محرکات کچھ بھی ہوں مگر جس کے تن پر وردی اسے اس ادارے کی تکریم کا سوچنا چاہیے جس نے یہ عزت دی ہے ایک افسوسناک واقعہ مگر اچھی بات یہ کہ ادارے نے تحفظ نہی دیا مزمت بھی کی اور گرفتار بھی کر لیا ہو سکتا نوکری سے بھی جائے
محسن نقوی ایسا نہ کہتے تو زیادہ مناسب تھا ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا صوبوں پر سسٹم پر بات کرنے کی پوزیشن میں صرف سیاسی جماعتیں ہیں کسی انفرادی شخص کو یہ حق نہیں چاہے وہ کتنی بھی بڑی پوزیشن پر بیٹھا ہو ۔ ملک احمد خان
پھر کہوں گا کرنل کو نوکری سے برخاست کردیں کورٹ مارشل ذریعے پھائے لگادیں لیکن اس عمل دوران وردی پر بکواس کرنے والے اور عوام کو بغاوت کیلئے اکسانے والے کتی کے بچوں پر قانون مطابق کاروائی ضرور کریں اور اگر ایسا نہیں کرسکتے تو سمجھ جائیں کہ آپ کی غیرت کے پرزہ میں بدترین کچرا پھس چُکا ہے اور یہاں سلام ہے اس کرنل پر جس نے غیرت کھاتے ہوئے اپنی نوکری قربان کردی لیکن آوارہ کتوں کے آگے لما نہیں پڑا اور کم از کم اپنی بقیہ زندگی اپنی بیوی اور بچوں کے سامنے عزت سے گزار سکے گا
عالمی شہرت یافتہ امراض دل کے ماہر ڈاکٹر حسنات مریم نواز کے ویژن کی تعریف کررہے ہیں اور بتارہے ہیں کہ جناح کارڈیالوجی میں جلد آرٹیفیشل دل کے ٹرانسپلانٹ بھی شروع کیے جائیں گے،ایسا تو یورپ میں بھی نہیں ہوتا،ویلڈن مریم نواز
سرحد یونیورسٹی کے معاملات سے واقف صحافی ندیم عارف بٹ کی فیسبک پوسٹ
سرحد یونیورسٹی کا معاملہ اس وقت شروع ہوا جب الائیڈ ہیلتھ سائنسز ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر جدون خان نے اخلاقی حدود کو پامال کرتے ہوئے شعبہ اسٹوڈنٹ افیئرز کی سربراہ ڈاکٹر آئینہ کو ہراساں کیا۔ ڈاکٹر آئینہ نے اس ناانصافی پر خاموش رہنے کے بجائے قانون اور اصول کا راستہ چنا اور انتظامیہ کے پاس باقاعدہ شکایت درج کرائی۔ یونیورسٹی نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایچ او ڈی کو معطل کر دیا اور واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی۔
لیکن کہانی کا دوسرا اور تلخ رخ اس وقت سامنے آیا جب معطل شدہ ایچ او ڈی کی بحالی کے لیے طلبہ کی ایک بڑی تعداد نے یونیورسٹی میں احتجاج شروع کر دیا۔ ڈاکٹر آئینہ، جو کہ ایک ذمہ دار عہدیدار ہیں ، مظاہرین سے بات چیت کرنے اور صورتحال کو سنبھالنے کے لیے خود ان کے پاس گئیں۔ مگر وہاں قانون اور احترام کی دھجیاں اڑا دی گئیں۔ بات چیت تلخ کلامی میں بدلی اور بپھرے ہوئے ہجوم میں سے ایک لڑکے نے تمام حدیں پار کرتے ہوئے ڈاکٹر آئینہ کے گریبان پر ہاتھ ڈال دیا اور سرِعام دھمکی دی کہ "آج ہم تمہاری عزت خراب کر دیں گے۔" ڈاکٹر آئینہ نے اس ہجوم سے، جہاں یونیورسٹی کے گارڈز بے بس اور ناکافی ثابت ہو رہے تھے، بمشکل اپنی جان اور عزت بچائی۔
پھر ڈاکٹر آئینہ نے اپنے شوہر کو فون کیا، جو پاک فوج میں ایک افسر ہیں۔ جب ایک غیرت مند شوہر اور فوجی افسر کے کانوں میں یہ الفاظ پڑے کہ اس کی شریکِ حیات کے گریبان پر ہاتھ ڈالا گیا ہے، تو اس کا دماغ گھوم گیا۔ غصے اور غیرت کی اس شدید لہر میں وہ یہ بھی بھول گئے کہ وہ ایک فوجی افسر ہیں انہوں نے نہ تو پولیس کو اطلاع دی اور نہ ہی اپنے ساتھ کوئی دستہ یا جوان لیے۔ وہ یہ سوچے بغیر کہ وہاں درجنوں بپھرے ہوئے طلبہ ان پر حملہ کر سکتے ہیں، تنِ تنہا یونیورسٹی کی طرف روانہ ہو گئے۔ ایسے حالات میں ایک غیور انسان کا دماغ نہیں، بلکہ اس کا دل اور جذبات فیصلہ کرتے ہیں۔
جیسے ہی یہ فوجی افسر یونیورسٹی پہنچے، ڈاکٹر آئینہ سہمے ہوئے قدموں سے بھاگتی ہوئی ان کے پاس گئیں اور روتے ہوئے اس نوجوان کی طرف اشارہ کیا جس نے ان کی عزت پر ہاتھ ڈالا تھا۔ فوجی افسر سیدھے اس لڑکے کی طرف بڑھے اور اسے جھنجھوڑتے ہوئے کہا: "تمہیں شرم نہیں آتی؟" اور ایک بڑے بزرگ کی طرح، جو کسی چھوٹے کو غلطی پر تنبیہ کرتا ہے، انہوں نے اپنی اسٹک سے اسے ایک دو بار ہلکا سا مارا۔
مگر وہ ہجوم تو پہلے ہی سے کسی اشتعال کے انتظار میں تھا۔ طلبہ نے فوری طور پر اس فوجی افسر کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔ افسر نے انہیں سمجھانے اور بات کرنے کی کوشش کی، لیکن نوجوان مار پیٹ پر اتراؤ تھے۔ اسی دھکم پیل میں کسی نے ڈاکٹر آئینہ کو زور دار دھکا دیا اور دو لڑکوں نے آگے بڑھ کر ان کے بازو پکڑنے کی کوشش کی۔ اپنی بیوی کو اس حال میں دیکھ کر وہ افسر ان کے سامنے ڈھال بن گیا، لیکن اس کوشش میں ڈاکٹر آئینہ زمین پر گر گئیں۔
بیوی کو زمین پر گرا دیکھ کر اور دانستہ طور پر اپنی فوجی وردی کو پھٹتا دیکھ کر افسر کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ اپنی اور اپنی زوجہ کی جان کو شدید خطرے میں پا کر، انہوں نے دفاعی طور پر اپنی پستول نکالی، ہجوم کو پیچھے دھکیلا اور انہیں ڈرانے کے لیے ہوائی فائرنگ کی تاکہ بپھرا ہوا ہجوم پیچھے ہٹ سکے۔ یہ ہے پوری اور اصل کہانی ۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ فوجی افسر اکیلا کیں گیا !! اگر فوجی افسر پلاننگ سے یہ سب کرنے جاتا تو ساتھ درجن بھر جوان لے جاتا
فوجی افسر غلط ہوکر بھی غلط نہیں ہے بلکہ اس نے اپنی عزت کا دفاع کیا ہے ۔ اگر وہ پولیس کو اطلاع کرتا وہ تاخیر سے پہنچتی تو کیا ہوتا ۔ اگر اس کی نیت طلبہ پر تشدد کی ہوتی تو وہ اپنے ساتھ آٹھ دس فوجی جوان لاسکتا تھا لیکن اس کی نیت تو صرف نوجوان کی سرزنش کی تھی کہ تمہارے گھر میں ماں بہن نہیں ہیں ۔ لیکن بات کو کیا سے کیا بنادیا گیا
اس معمالے پہ عمرانڈوز کی سوشل میڈیا پہ من گھڑت مہم جاری ہے