کیا آپ کو پتہ ھے پاکستان میں سب سے خالص چیز کون سی ملتی ھے نمبر ایک بندوق کی گولی نمبر دو رشوت جو ہر دفتر ہر ادارے ہر فیکٹری میں خالص چیز ھوتی ھے جس میں دو نمبری نہیں ھوتی
چیونٹی…!
وہ ایک منظم قطار بنائے،
ایک دوسرے کے پیچھے ہم آہنگ چل رہی تھیں
نہ کوئی اتنی تیز تھی کہ قطار سے نکل جائے،
نہ ہی کوئی اتنی سست کہ پیچھے رہ جائے
ایک نظم و ضبط، ایک کامل ہم آہنگی،
جس نے مجھے حیرت اور تجسس میں ڈوبو دیا
ہزاروں سوالات ذہن میں اُبھر آئے
میں نے اپنے جادوئی قلم سے خود کو بدلا،
اور اس قطار کا حصہ بن گیا
"چلتے جاؤ، چلتے جاؤ!"
"رکنا نہیں، آگے بڑھو!"
"ہم سب بہادر ہیں!"
ہر چیونٹی ایک ہی آواز میں یہ تین جملے دہرا رہی تھی
میں نے غور سے ان کی ساخت کا جائزہ لیا،
جو میں خود بھی اختیار کر چکا تھا
چھ ٹانگیں، ایک سخت خول،
جو دو حصوں میں منقسم تھا
سب کی جسامت یکساں،
ہر ایک اپنی طاقت سے دس سے پچاس فیصد زیادہ بوجھ اٹھائے ہوئے
وہ بوجھ جو مجھ پر بھی تھا،
لیکن میرے لیے اب اٹھانا ناممکن ہو چلا تھا
ایک ننھی سی مخلوق،
جس کا ہونا یا نہ ہونا،
شاید کسی انسان کے لیے کوئی معنی نہ رکھتا ہو
لیکن وہ بے پروا، اپنی دھن میں چل رہی تھی،
آگے بڑھ رہی تھی
کیونکہ یہ چیونٹی اپنی زندگی کا مقصد پورا کر رہی تھی
اسے شاید پیدائش سے معلوم تھا کہ
وہ کیوں وجود میں آئی،
اس کے حصے میں کیا کام ہے،
اور اسے مکمل کر کے مرنا ہے
ہر چیونٹی کے چہرے پر اطمینان تھا،
کیونکہ وہ اپنی منزل سے بھٹکی نہیں تھی
ان کی نگاہیں صرف اپنے قدموں پر تھیں،
کسی دوسرے کے قدموں پر نہیں
اب چیونٹیاں اپنے بل میں جا پہنچیں
وہ اپنا بوجھ اتار کر رکھ رہی تھیں
ان کے استقبال کے لیے دوسری ٹولیاں موجود تھیں:
ایک خوراک کے لیے،
ایک تعمیراتی مواد کے لیے،
اور ایک پانی کے قطرے کے لیے
خوراک والی چیونٹیاں دانوں کو الگ کمرے میں جمع کرتیں
تعمیراتی مواد فوراً استعمال ہوتا
لیکن پانی کا قطرا…
وہ ایک موٹی، نرم جسم والی چیونٹی کو پلایا جاتا،
جو بظاہر حاملہ دکھائی دیتی تھی
شاید وہ بہت سے بچوں کی ماں بننے والی تھی،
اس لیے اس کا خاص خیال رکھا جا رہا تھا
میں اس بل میں کئی دن رہا،
ان کی ہر حرکت پر نظر رکھی
ان کی ایک سردار چیونٹی تھی،
جو صرف تخت پر نہیں بیٹھتی تھی،
بلکہ ہر کام کی نگرانی کرتی
رات کو چیونٹیاں ایک دوسرے سے پاؤں جوڑ کر سوتیں،
کبھی ایک لمحے کو الگ نہ ہوتیں
کوئی چیونٹی کبھی اپنی ڈیوٹی بدلنے کا مطالبہ نہ کرتی
میں نے کسی کے چہرے پر شکایت نہ دیکھی،
نہ ہی کسی کو حسد کرتے پایا
انسان تو ایسی حالت میں مقابلہ بازی کرتے،
لیکن یہ چیونٹیاں سچی سوشلسٹ تھیں
ان کے منہ سے کبھی "اف" تک نہ نکلا
کچھ دن بعد حالات خراب ہوئے
قحط پڑا، پانی کی کمی ہوئی،
ہر طرف خوف چھا گیا
لیکن یہ خوف شاید صرف مجھے تھا
چیونٹیاں تو پہلے سے تیار تھیں
ہر چیونٹی اپنے سے پچاس گنا زیادہ خوراک لاتی رہی،
جو اگلے پچاس مہینوں تک سب کے لیے کافی تھی
اور پانی؟ وہ کہاں سے آتا؟
تب دیکھا کہ وہ "حاملہ" چیونٹیاں
حقیقت میں حاملہ نہیں تھیں۔
وہ اپنے جسم میں پانی اور مٹھاس ذخیرہ کر رہی تھیں۔
ہر چیونٹی ان کے ہونٹوں سے لگتی،
اور وہ ایک گھونٹ پانی اس کے حلق میں اتارتیں۔
میں نے اس سے پہلے ایسی بے لوث محبت نہ دیکھی تھی،
جس میں صلے کی کوئی توقع نہ ہو۔
میرے جادو کا آخری دن تھا۔
شدید پیاس سے میں نے اس مادہ چیونٹی کے ہونٹ چومے۔
اس نے میری پیاس بجھائی اور ایک مسکراہٹ دی،
اور کہا:
"میرے سپاہی، جیتے رہو!
میں جو ہوں، تم سب کی بدولت ہوں۔
اگر تم نہ ہوتے،
تو میں اس قحط میں کب کی مر چکی ہوتی۔"
رات ہوتے ہی میں اپنی دنیا میں لوٹ آیا۔
کئی مہینوں تک چیونٹیوں کے بارے سوچتا رہا۔
وہ جتنی نازک ہیں، اتنی ہی بہادر۔
اپنے مقصد سے کبھی نہیں ہٹیں۔
ان کے چھوٹے دماغوں میں سینکڑوں رگیں ہیں،
جو احساس سے بھری ہیں۔
کوئی خود غرض نہیں،
ہر برائی ان سے دور ہے۔
وہ بس چل رہی ہیں،
بنا رہی ہیں،
ختم ہو رہی ہیں،
اور اپنی زندگی کا حق ادا کر رہی ہیں!
ماشاءاللہ! ایک تو سڑک بنتی نہیں، اور جیسے ہی بنتی ہے کسی نہ کسی کو کوئی کام یاد آجاتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ سڑک رمضان میں بنائی گئی اور اسی مبارک مہینے میں اس کا افتتاح بھی ہوا، مگر اب دوبارہ اس کی کھدائی شروع کر دی گئی ہے۔ یہ واقعی بہت دکھ کی بات ہے
#HaseebElahi#Karachi
میں ذہنی طور پر اب تھک چکی ہوں
اتنا تھک چکی ہوں کہ میرا دل کرتا ہے کہ اب میں سب کچھ چھوڑ کر کہیں دور بھاگ جاؤں لیکن میں بھاگ نہیں سکتی
اس لیے نہیں کہ مجھے کسی سے ہمدردی ہے
بس اس لیے کہ پھر میں مدتوں اپنی ماں کو نہیں دیکھ سکوں گی
میں اپنی پوری طاقت لگا کر خود کو اس بات پر 1/2
رشتوں میں ایک اہم اصول:
“وضاحت پوچھ لو، شیطان کو ترجمہ کرنے کا موقع نہ دو۔
کیونکہ کتنی ہی باتیں ایسی ہوتی ہیں جن کا وہ مطلب ہوتا ہی نہیں جو ہم سمجھ لیتے ہیں۔
شیخ الحدیث حضرت مولانا ادریس صاحب کی شہادت انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ ہے۔
وفاقی اور صوبائی حکومت فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرے، قاتلوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، اور خیبر پختونخوا میں امن و امان کے قیام کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
عوام، علماء، مساجد اور مدارس کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ خیبر پختونخوا مزید بدامنی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
#JusticeForMolanaIdrees
#KPNeedsPeace
#امن_خیبرپختونخوا
#JamaatEIslami
تنہائی کا المیہ اور ادھوری خواہشات محبت کے اس تماشے میں دونوں ہی خسارے میں رہے مرد نے عورت کی روح کو چھوڑ کر صرف اس کے بدن میں پناہ ڈھونڈی اور اپنی ہوس کو محبت کا نام دے کر خود کو ہی دھوکہ دیادوسری طرف وہ عورت جو اپنی نمائش کر کے عزت اور سچی محبت کی طلبگار تھی شاید یہ بھول گئی کہ جہاں نظریں صرف جسم پر رک رک کر گزرتی ہوں وہاں احترام کی کوئی گنجائش نہیں بچتی جب جذبات کی بنیاد ہی اتنی کھوکھلی ہو تو دل کا ٹوٹنا تو یقینی ہے آج یہ تنہائی اور یہ بکھرے ہوئے خواب اسی تضاد کا نتیجہ ہیں جہاں روح پیاسی رہ گئی اور دل ایک ایسی عزت کی بھیک مانگتا رہا جو کبھی اسے ملنی ہی نہ تھی۔
تمہاری محبت آرام کی فضاء ہے
تھک ہار کر
نڈھال جسم کے ساتھ
میں جب تمہارے سامنے بیٹھتا ہوں
اور تم میرے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر
ساری تھکن اتاردیتی ہو
تب تم مجھے میرے ہر درد کی دوا لگتی ہو
تم مجھے میری وہ دعا لگتی ہو
جو ہر وقت میرے ساتھ رہتی ہے
تمہاری محبت نے مجھے سکون سے روشناس کروایا ہے
تم میری وہ روشنی ہو جس میں کوئی مصنوعیت نہیں ہے
سنو میرے ماتھے پر ہاتھ رکھو
اور میری تھکن اتار دو کہ
تمہارے پاس محبت سے بنائے سارے علاج موجود ہیں !
عباس
پاک بحریہ نے بھارتی جہاز MV Gautam کی ریسکیو کی ویڈیو جاری کی ہے، جس میں جہاز کے تمام عملے (6 بھارتی اور 1 انڈونیشین) نے اپنی جانیں بچانے پر حکومتِ پاکستان اور پاک بحریہ کا شکریہ ادا کیا۔
عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین کا مولانا شیخ ادریس شہید کی تعزیت اور فاتحہ خوانی کے موقع پر خطاب
#ANP | #ANPPakhtunKhwa | #MianIftikharHussain
وڈیو نہ بنانا میں پرچہ دے دوں گا
پرچہ دینے کا اختیار بھی ان سے لے لینا چاہیے ۔ یہ اختیار بھی میجسٹریٹ کے پاس ہونا چاہیے۔ ایک پرچہ کسی کا بھی فیوچر تباہ کر دیتا ہے ۔ خدارا رحم کیجیے اس ملک کے لوگو پر ۔
چاہـے آپ خود کو پھول بنا کر پیش کریں یا موم کی طرح پگھل جائیں۔ ایک بات یقینی ہے کہ دوسرا شخص آپ کے ساتھ ویسا ہی برتاؤ کرے گا جیسا اس کی اپنی فطرت اور ظرف ہے..🪻
محب وہ جو آپ کو محبت کی زمین ، پیر اور پَر عطا کرے ۔۔ آپ کو اڑنا سکھائے ، آپ کو پرواز کرنے دے۔۔ اور کہے کہ جہاں تک اڑنا ہے اُڑو۔۔ میں واپسی پر یہیں منتظر ملوں گا۔۔۔ 🥰
اور محبوب وہ جو کہے کہ تم میری زمین ہی نہیں میرا آسمان بھی ہو، میرے پیر ہی نہیں ، میرے پَر بھی ہو ، میری ہر اڑان تمہارے بغیر ادھوری ہی نہیں ، ناممکن ہے۔
تمہیں سے میری دنیا مکمل ہے ۔۔