1990 کی دہائی تک بھارتی جاسوس پنجاب کی سرحد سے آجاتے تھے یہاں۔سربجیت سنگھ اس کی مثال۔ بھارت جس فتنہ کو سپورٹ کرے تو لائن آف کنٹرول اور انٹرنیشنل بارڈر سے بھی کرلے مگر پنجاب میں وہ ٹیرر انفراسٹرکچر نہیں جو افغانستان کے سرحدی صوبوں میں ہے۔ کلبھوشن بھی ایران کی طرف سے آیا تھا
کیا پی ٹی ایم اور محسن داوڑ جیسے لر او بر کا نعرہ لگانے والوں یا خیبر پختونخوا کے حکمرانوں کو واقعتاً اس بات کی پرواہ ہے کہ طالبان دھشت گرد خیبر پختونخوا میں کیا کر رہے ہیں؟ قوم پرست سیاست دانوں اور خیبر پختونخوا کے حکمرانوں کے دوہرے معیار کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہوگا کہ جب جنوبی خیبر پختونخوا کے اضلاع اور سابقہ فاٹا میں طالبان کے مسلح ٹولے سرعام گشت کرتے ہیں، پورا علاقہ نو گو ایریا بن جاتا ہے اور تاجروں کا کاروبار، سیاحت اور معیشت تباہ ہوتی ہے، تو ان کی زبانوں پر تالے لگ جاتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اپنے صوبے کو AI انٹیلی جنس فیوژن سینٹر، سی ٹی ڈی کی جدت اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس کر کے اپنے شہریوں کو محفوظ بنانے کی کوشش کی، تو ان قوم پرستوں اور خیبر پختونخوا کے حکمرانوں کو تکلیف شروع ہو گئی۔
پنجاب بڑا بھائی ہے اور یہ صرف پنجابیوں کا صوبہ نہیں ہے، بلکہ صدیوں سے آباد نسلاً لودھی، نیازی، درانی اور حالیہ دنوں منتقل ہونے والے ڈیڑھ کروڑ پختونوں کا بھی صوبہ ہے۔ یہ عرب سے آئے اعوان، قریشی اور سید زادوں کا صوبہ ہے، ڈی جی خان اور تونسہ شریف کے بلوچوں کا صوبہ ہے، قیامِ پاکستان کے وقت ہجرت کر کے ��نے والے لاکھوں مہاجرین اور کروڑوں کشمیریوں کا صوبہ ہے، یہ لاکھوں گلگتیوں کا صوبہ ہے یہ لاکھوں ہزاراوالوں کا صوبہ ہے اور یہاں پنجابی کے بعد سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان سرائیکی ہے۔ اس لیے پنجاب کے تحفظ کی خواہش صرف پنجابیوں کی نہیں، بلکہ وہاں بسنے والی ہر قوم اور ہر شہری کی سلامتی کی ضمانت ہے۔
آخر ہم یہ تلخ حقیقت کیوں تسلیم نہیں کرتے کہ ہمارے اپنے صوبے کے بیشتر اضلاع میں شام کے بعد ریاستی رٹ ختم ہو جاتی ہے؟ جہاں وزرا اور تاجر باقاعدہ بھتہ دے کر اپنی جان بخشی کرواتے ہیں! اگر جدید پولیسنگ، ٹیکنالوجی کا استعمال اور اپنے شہریوں کو محفوظ بنانا غلط ہے، تو ان قوم پرستوں کے پاس اس کا متبادل کیا ہے؟ صرف طالبان کے سامنے گھٹنے ٹیکنا، پنجابیوں کے خلاف نفرت انگیز بیانیہ بنانا اور صوبائی تعصب کی سیاست سے پختونوں کے جذبات کا سودا کرنا؟
پنجاب حکومت اگر سی ٹی ڈی اور انٹیلی جنس کو جدید آلات سے لیس کر رہی ہے، تو یہ اپنے ڈیڑھ کروڑ پختونوں سمیت ہر شہری کے تحفظ کے لیے ایک انتہائی ذمہ دارانہ اقدام ہے۔
9/11 is the only time we lost 4 black boxes from the Twin Towers crash
Flight 93 is the only crash in American history that left no aeroplane wreckage
Despite all of this, the FBI recovered 4 passports belonging to terrorists
No passports of other passengers were recovered
سندھ کا وزیر تعلیم حامد میر کے اس بیان پر سیخ پا ہے کہ سندھ کے محکمہ تعلیم نے بڑی تعداد میں جو ٹیچرز بھرتی کیے ہیں وہ انڈر میٹرک ہیں-
جناب چھوڑیں حامد میر کی بات کو- حقیقت یہ ہے کہ سندھ میں بھرتی ہونے والے تمام ہی ٹیچرز انڈر میٹرک ہیں چاہے انکے پاس گریجویشن یا پوسٹ گریجویشن کی ڈگریز ہی کیوں نہ ہوں-
پاکستان کا ہر فرد جانتا ہے کہ امتحانات میں کھلے عام نقل, جعلی ڈگریاں اور غیر قانونی طریقوں سے کوالیفیکیشنز حاصل کرنا سندھ کا کلچر ہے-
پچھلے سال سندھ کے ایک سرکاری افسر دوست نے جسکی گریڈ اٹھارہ سے گریڈ انیس میں پروموشن ڈیو تھی, اسنے ��جھ سے اپنی سالانہ خفیہ رپورٹ لکھوائی- اسکے بیس گریڈ کے باس نے کہا تھا کہ آپ خود بہترین سی رپورٹ لکھ لائیں, میں وہی چھاپ دونگا- جب میں نے دوست سے استفسار کیا کہ تمہارا باس خود کیوں نہیں لکھ دیتا, تو دوست نے جواب دیا کہ "اسے خود کب لکھنا آتا ہے"-
جب میں نے مطلوبہ رپورٹ میسج کے ذریعے لکھ کر دی تو اٹھارویں گریڈ کے دوست نے مجھ سے میری انگلش تحریر میں سے چھ الفاظ کے معنی پوچھے- میں نے دوست کو بتا دیئے- پھر خود ہی ہنستے ہوۓ کہنے لگا کہ "یار باس نے بھی ان الفاظ کے معنی مجھ سے پوچھ لینے ہیں"- 😆😆
گردن اڑانے والے بھی آپ کے ہی ہیں. دوسروں کے ہاتھ دیکھنے سے پہلے اپنے کچھ لوگوں کے ہاتھ دیکھ لیں. گندے ہاتھ ادھر ہی مل جائے گے. دوسری طرف دیکھنے کی نوبت ہی نہیں آنی.
ملک کریم داد محمد حسنی ایک قبائلی رہنما تھے جنہیں چاغی کے علاقے میں فتنہ الہندوستان کی دہشتگرد تنظیم بی ایل اے نے گزشتہ روز ٹارگیٹ کلنگ کے زریعے نشانہ بنا کر شہید کردیا۔
ملک کریم داد محمد حسنی کا گناہ صرف اتنا تھا کہ اس نے کہا پاکستان ہے تو ہم ہیں، اگر پاکستان نہیں ہے تو کچھ نہیں ہے۔
ملک کریم داد محمد حسنی کی عمر 80 سال سے زائد بتائی جارہی ہے۔
#Balochistan
وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کی دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے حوالے سے گفتگو کو سوشل میڈیا پر منفی انداز میں پیش کیا جانا نہایت افسوسناک اور تمام گفتگو کے تناظر کو مسخ کرکے پیش کرنے کی مذموم اور قابل مذمت کوشش ہے۔ وزیراعلی پنجاب نے دہشت گردوں کی بین الصوبائی نقل و حرکت اور اس سے لاحق خطرات کی بات کر رہی تھیں جسے سیاسی حاسدین نےصوبایت اور لسانیت ��ا دانستہ اور سیاسی نمبرسکورنگ کے گھٹیا مقصد کا رنگ دے دیا گیا۔ وزیراعلی مریم نواز شریف صوبوں اور ان میں بسنے والی تمام اقوام کا ہمیشہ احترام کرتی ہیں۔ ایسے عناصر دہشت گردوں کے سہولت کار اور قوم میں تقسیم چاہتے ہیں . انسدادِ دہشت گردی کے معاملے کو صوبایت سے جوڑنا انتہائی گھٹیا اور افسوسناک ہے,
مریم اورنگزیب مرکزی سیکرٹری اطلاعات مسلم لیگ ن
اسطرف غیرت نہیں کھانی کہ تھوڑے سے ہیسے پکڑ کر دہشتگردوں کو رہائش نہیں دینی۔
بچیوں کے رشتے نہیں دیکھنے ۔
صرف دو لاکھ روپے لےکر 150 پولیس اہلکار شہید کروا دیا پشاور پولیس لائن میں۔
کم از کم انسان کو مارنے کا ریٹ ہی زیادہ کر دو شاید کچھ قتل و غارتگری کم ہو
Why shd only one side stay silent in the name of national interest? Where is the lie in what she said?
Cant Punjabis have grievances from other provinces?
بچیاں تم بیچو
چرس تم بیچو
افیون تم بیچو
پوست تم بیچو
دو نمبر گاڑیاں تم بیچو
دہشت گردوں کو بچیوں کے رشتے تم دو
دہشتگردوں کو اپنے حجروں میں پناہ تم دو
شہداء کے مذاق تم اڑاؤ
دہشتگردوں کو شہید تم کہو
تو منافق کی اولادو پھر یہی کہا جائے گا نا....
پنجاب میں کیمپ نہیں لگایا لیکن اسلام آباد سبزی منڈی کے سامنے پوری بستی آباد ضرور کروا دی تھی جس سے سارا گند پنجاب میں پھیل گیا تھا
پنجاب میں کیمپ نہیں لگایا لیکن پنجاب نے دس اگست 2026 تک ڈیڑھ لاکھ افغانی ڈی پورٹ کر دیا ہے ابھی بھی یہ نمک حرام گند موجود ہے kp اور بلوچستان والے گند کا بوجھ نکال دیں کس نے روکا ہے ؟
سندھ کی تقسیم کی بنیاد اس د�� رکھ دی گئی تھی جس دن کوٹہ سسٹم نافذ ہوا تھا۔
شہری اور دیہی سندھ کی تقسیم آپ نے کی ہے
ہم نےنہیں۔
کسی بھی طبقےکوپچاس برس تک کوٹےکےنام پرمحروم نہیں رکھاجاسکتا۔
اس کوٹہ سسٹم کے بینیفشریز /اس تقسیم کےمستفید
تقسیم نامنظور کا نعرہ لگائیں
تو ہنسی آتی ہے
یہ بیچارے روٹی کو چوچی کہتے ہیں. اتنے معصوم ہیں کہ پنجابی کہے تو پھٹنے لگ جاتے ہیں. سیدھی طرح کہو ہمیشہ سے کسی کو کراۓ کے قاتل اور ڈاکو چاہیے ہوتے تھے تو اس پرامن قوم سے ہی ملتے تھے.
بنانے والو میں بھی پشتون اشرافیہ ساتھ ہی بیٹھی مفید ہو رہی ہوتی ہے. بس نسل پرستی دیکھنے نہیں دیتی
As a Pashtun from South Pakhtunkhwa, I absolutely agree with you. Pashtunwali tribalism is the root cause of the chaos in Pakhtunkhwa. This barbaric tribal endless wars should never be imported to Punjab, the ply many of us (Pashtuns) escaped to, from this tribal barbarism.
آپ تو پنجاب کو پچھلے 75 سالوں سے لاشیں تحفے میں بھیجوا رہے ہیں اور گلہ کرتے ہیں کہ پروفائلنگ کیوں ہو رہی ہے بلوچوں کی واہ واہ بچے، پنجابی ایک پڑھی لکھی سلجھی ہوئی قوم ہے باقی صوبوں سے آئے ہوئے لوگ تخریب کاریاں زیادہ کرتے ہیں اور پڑھائی کم، پنجاب کو پورا حق ہے کہ وہ پروفائلنگ کرے، آپ لوگوں نے اپنے صوبوں کا تو بیڑا غرق کیا ہے پنجاب اپنا ماحول آپ لوگوں کے لیے ��راب نہیں کر سکتا.
لشکر جھنگوی سے لے کر سپاہ صحابہ تک جتنے نام تم نے لیے ہیں سب کے سب کو پنجاب میں جہاں سے نکلے تھیں وہیں تن دیا گیا ہے کب کا تازہ مثال TLP والے ہیں،
اب تم بتاو کیا وجہ ہے کے پی گورنمنٹ 467 سرب ��وپے لے کے سی ٹی ڈی نہیں بنا سکی آج تک؟ TTP کے سہولت کاروں کو کب ختم کرے گی KP گورنمنٹ؟
تمھارے صوبے کا وزیراعلی لکھ کر دیتا ہے کہ ہاں 12 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کر لو کیونکہ ہمارا صوبہ بجلی چور ہے جو 125 ارب کی بجلی چوری کرتا ہے پنجاب جو بجلی لیتا ہے اُس کے پیسے دیتا ہے مفت نہیں لیتا
معدنیات کے ٹھیکے تمھارے پختونوں کے پاس ہے
اب ہر چیز کا جواب پنجاب والا بروقت دے گا ✊
حیات محسود عرف حیات برغل صاحب، بدزبانی اور گالی گلوچ ہمیشہ وہ لوگ کرتے ہیں جن کے پاس نہ کوئی دلیل ہوتی ہے اور نہ ہی بات کرنے کا اخلاق۔ آپ کی گالی صرف آپ کی اپنی سوچ اور تربیت کا آئینہ دار ہے۔
میرا تعلق خیبر پختونخوا کے سب سے بڑے قبیلے یوسفزئی سے ہے، جو صوبے کے 10 اضلاع مردان، صوابی، ملاکنڈ، لوئر دیر، اپر دیر، لوئر سوات، اپر سوات، شانگلہ، بونیر اور تورغر میں آباد ہے۔ اللہ تعال��ٰ کے فضل و کرم سے یہ خطہ دنیا میں خوبصورتی، زرخیزی اور امن کا گہوارہ ہے۔ اللہ نے اس قوم کو زرخیز زمین کے ساتھ زرخیز دماغ، وقار اور اختیار سے نوازا ہے، اور یہ خطہ اپنی شاندار تاریخ، خاندانی ظرف، اعلیٰ تعلیم اور مضبوط تربیتی اقدار کے لیے جانا جاتا ہے۔
ہمارے ہاں نہ تو کسی غیر اخلاقی فعل کی گنجائش ہے اور نہ ہی یوسفزئی قوم کسی قبیح عمل یا بے راہ روی میں ملوث ہے۔ ہمارے ہاں بچوں اور جوانوں کی پرورش والدین اور بڑوں کی سخت نگرانی میں ہوتی ہے، جہاں حیا، شائستگی اور پشتونولی کے اصول پوری طاقت سے قائم ہیں۔ ہمارے مرد زلفیں چھوڑتے ہیں نہ لچپنے اور ڈانس کرتے ہیں اور نہ ہی ہماری روایات میں ایسی کسی اخلاقی گراوٹ کی جگہ ہے۔