لاہور شہر جہاں سادہ وردی میں ملبوس اشخاص تحریکی ورکرز کی پکڑ دھکڑ کررہے ہیں۔ کس چیز کا خوف ہے؟ یا لاہور پر غصہ ہے کہ عمران خان کے نام پر ہمیشہ نکلتے ہیں اور گوالمنڈیلا کو لال جھنڈی کرادی تھی؟
إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
راولپنڈی پی ٹی آئی کارکن اعجاز ستی صاحب کے گھر پنڈی پولیس کا ریڈ دوران حراست اعجاز احمد ستی صاحب وفات پا گئے۔
یا اللہ رحم، یہ کیسی بے رحمانہ سیاست کی بُنیاد ڈالی جا رہی ہے اِس مُلک میں، انسان کی جان سے بڑھ کر ہو گئی کیا یہاں سیاست، یہ بدترین ظلم ہے ، خدارا سیاست میں اِتنے اندھے نہ ہوں کہ انسانیت نظر آنا بند ہو جائے۔۔!!
سینئیر وائس پریزہڈنٹ راوپنڈی اعجاز ستی صاحب کے گھر مبینہ طور پر پولیس گردی، ریڈ اور حراست کے دوران ستی صاحب دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے۔
یہ مظالم عوام کب تک برداشت کریگی؟ اس گھر اس خاندان کے اس ناقابل تلافی نقصان کا مداوا کون کرےگا؟
What the hell
یہ کیا بکواس ہے
جواب دو اس کا پنجاب پولیس ۔
پہلے چار بچیوں کا باپ رکشے والا
پھر ستوکتلہ تھانہ بندہ گھر میں تیسری منزل سے گرا
پھر دو خواتین کی ڈیتھ
پھر اشتیاق کھولتے تیل میں گرا اور اب یہ
۔۔۔۔ کوئی پوچھنے والا ہے کہ نہیں
@OfficialDPRPP
Why is Suleman Sohail not an issue?
Why are we not talking about his disappearance the way we should?
Why is it normal for us that a young man has gone missing?
Why isn’t his disappearance being discussed with the same urgency as the DHA apartment fight?
Why isn’t this a major news story for our media?
Why?
#SulemanSohail
Hindistan'da bir Hindu fenomen, Müslümanlara yaptığı alçakça hakaretleri sosyal medyada marifetmiş gibi paylaştı.
Bu zorbalığı görmezden gelme, PAYLAŞ!
#Hindistan#SonDakika#DünyaGündemi
پاکستان میں سسٹم اس دن تباہ ہو گیا تھا جب 9 مئی کی صبح ملک کی 78 سالہ تاریخ میں سب سے مقبول ترین لیڈر قوم کے حقیقی قائد عمران خان کو گریبان سے پکڑ کر گھسیٹا گیا تھا !
#زنجیریں_توڑو_خان_کو_چھوڑو
اوکاڑہ: سلمان اکرم راجہ مرکزی جنرل سیکرٹری پاکستان تحریک انصاف کی چوہدری عبداللّٰہ طاہر مرحوم کی رہائشگاہ آمد
سلمان اکرم راجہ کی چوہدری عبداللّٰہ طاہر کی وفات پر ان کی والدہ سے فاتحہ خوانی و تعزیت
#زنجیریں_توڑو_خان_کو_چھوڑو
اگر یہاں کاکروچ جنتا پارٹی کا چیئرمین مال روڈ لاہور پر احتجاج کرنے آئے، تو یہ خدشہ پیدا ہو جاتا ہے کہ رات کے اندھیرے میں اس کی بوڑھی ماں کا دوپٹہ کھینچ لیا جائے، اس کی بہن کو اغوا کر لیا جائے، اور اس کے والد و بھائی کو تشدد کا نشانہ بنایا جائے۔ اگر کوئی عدالت اس کے تحفظ کے لیے حکم جاری کرے، تو اس پر عملدرآمد کرنے کے بجائے متعلقہ جج کے کسی عزیز کو اغوا کر کے اسے تشدد کا نشانہ بنایا جائے۔
بیرسٹر ابوزر سلمان نیازی @Salmankniazi1
#خان_کے_لیے_متحد
#مزاحمت_سے_انقلاب_آئے_گا
ایک بے بس باپ اپنا 3سالہ بچہ ڈھونڈ رہا ہے کراچی شفیق کالونی
میں؟ پوچھنا چاہتی ہوں کہاں گئے ایم پی اے کہاں گئے ایم این اے
کہاں گئے میئر کراچی
جو گلی کوچوں میں گٹر لائن کے دو چار سیوریج کے لائن بچھا کے اس کے بعد فوٹو سیشن اور اس کے اوپر پروگرامات کرتے ہیں
پروگرام ایسے کرتے ہیں جیسے یہ خرچہ انہوں نے اپنے جیبوں سے کیا ہو
اج ایک بے بس باپ جو دو دن سے اپنے بچے کو ندی کے اندر تلاش کر رہا ہے مگر یہ لوگ نظر نہیں ا رہے ہیں ؟؟؟؟؟!😢😢😢😢😢😢
میں ایک پاکستانی لڑکی ہوں، اور آج دل سے ایک بات کہنا چاہتی ہوں۔
جو لوگ اب بھی ٹک ٹاک کو صرف ایک عام سوشل ایپ سمجھتے ہیں، وہ ذرا حقیقت کا سامنا کریں۔ آج کل ٹک ٹاک لائیوز میں ایسے مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں جو نہ صرف ہماری اخلاقی اقدار بلکہ ہماری آئندہ نسل کے لیے بھی انتہائی خطرناک ہیں۔
ایسے لائیوز میں بعض اوقات شادی شدہ جوڑے صرف ڈالر، گفٹس اور شہرت کے لیے انتہائی نامناسب حرکات کرتے ہیں، اور ہزاروں لوگ انہیں لائیو دیکھتے ہیں جبکہ بعد میں انہی ویڈیوز پر لاکھوں، بلکہ ملینز میں ویوز آتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر یہ سب کیوں ہو رہا ہے؟
ہر رات لاکھوں موبائل سکرینوں پر ایسے لائیوز چلتے ہیں جہاں فحش حرکات، گالم گلوچ، غیر اخلاقی چیلنجز اور بے حیائی کو تفریح بنا دیا گیا ہے، جبکہ لوگ گفٹس بھیج کر اس رجحان کو مزید بڑھا رہے ہیں۔
اصل مسئلہ صرف چند افراد نہیں، بلکہ وہ نظام بھی ہے جو اس سب سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ ٹک ٹاک ایک منافع بخش کمپنی ہے، اور اس کا کاروبار زیادہ سے زیادہ انگیجمنٹ پر چلتا ہے۔ کمیونٹی گائیڈ لائنز ضرور موجود ہیں، لیکن اکثر کارروائی رپورٹ ہونے کے بعد ہوتی ہے، جبکہ اس دوران گفٹس اور کمائی ہو چکی ہوتی ہے۔
ایک اور تشویشناک بات یہ ہے کہ ٹک ٹاک پر کم از کم عمر 13 سال مقرر ہے، مگر اکاؤنٹ بناتے وقت صرف تاریخِ پیدائش لکھنی ہوتی ہے۔ کوئی شناختی تصدیق لازمی نہیں، اس لیے کم عمر بچے آسانی سے غلط عمر درج کر کے اکاؤنٹ بنا لیتے ہیں۔
پاکستان میں کروڑوں لوگ ٹک ٹاک استعمال کرتے ہیں، جن میں نوجوان اور کم عمر بچے بڑی تعداد میں شامل ہیں۔ ایسے میں والدین، اساتذہ، حکومت اور معاشرے کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
میری گزارش حکومت اور متعلقہ اداروں سے ہے کہ:
- عمر کی مؤثر تصدیق کا نظام متعارف کروایا جائے۔
- لائیو گفٹنگ اور کیش آؤٹ سسٹم کی سخت نگرانی کی جائے۔
- ڈیجیٹل خواندگی اور آن لائن سیفٹی پر قومی سطح پر آگاہی مہم چلائی جائے۔
اور ایک بات ان لوگوں کے لیے بھی جو کہتے ہیں کہ "آپ ایسے معاملات کی تشہیر کر رہی ہیں۔"
تشہیر تب ہوتی ہے جب کوئی ایسے مواد کی تعریف کرے، اس کا لنک شیئر کرے یا لوگوں کو اسے دیکھنے کی ترغیب دے۔ کسی معاشرتی برائی کی نشاندہی کرنا، اس پر سوال اٹھانا اور اداروں سے کارروائی کا مطالبہ کرنا تشہیر نہیں بلکہ ذمہ داری ہے۔
میں بطور ایک پاکستانی لڑکی یہ سمجھتی ہوں کہ اگر آج ہم خاموش رہے تو کل اس کے اثرات ہمارے گھروں، ہماری بہنوں، ہمارے بھائیوں اور ہماری آنے والی نسلوں تک پہنچیں گے۔
میری درخواست ہے کہ اس مسئلے پر آواز اٹھائیں۔ ایکس، فیس بک اور دیگر پلیٹ فارمز پر ذمہ داری کے ساتھ لکھیں، متعلقہ اداروں سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کریں، اور اپنے بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر ضرور نظر رکھیں۔
یہ صرف ایک ایپ کا مسئلہ نہیں، بلکہ ہماری نسل، ہماری اقدار اور ہمارے مستقبل کا معاملہ ہے۔
اس اوورسیز پاکستانی نے کیپیٹل سمارٹ سٹی میں چھے سال پہلے پلاٹ خریدا ،رقم بھی ساری ادا کر دی۔الاٹمنٹ بھی مل گئی مگر قبضہ لینے گیا تو بتایا گیا کہ اب یہ پلاٹ دستیاب نہیں آپکو تین سال بعد نئی زمین خریدنے کے بعد پلاٹ مل گا پیسے واپس مانگے وہ بھی صاف انکار کر دیا اور جواب تھا جو کرنا کر لو۔پاکستان سٹیزن پورٹل پر شکایت کی۔جواب ملا ریلیف نہیں دے سکتے عدالت سے رجوع کریں ۔یہ حال ہے بیوروکریسی کا اوورسیز کے ساتھ۔
@MaryamNSharif@FIA_Agency@CommissionerRwp
جب اسپین میں چھری اور نیزوں سے ہزاروں بیل ہلاک ہو جاتے ہیں
اور اذیت دیتے ہوئے کہتے ہیں
"یہ تو کھیل ہے"
اور جب ڈنمارک میں ہزاروں افراد سینکڑوں ڈالفن کو قتل کر دیتے ہیں
(یہاں تک کہ سمندر سرخ ہو جاتا ہے)
یہ کہتے ہیں
"یہ تو ایک تہوار ہے"
اور جب یہودیوں کا ایک گروہ ہزار مرغیوں کو پتھر پر مار دیتے ہیں ان کے مطابق اس طرح ان کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں
وہ کہتے ہیں
"یہ ہمارا عقیدہ اور مذہب"
اور جب عیسائی نئے سال کے دن بھارتی پرندوں کو ذبح کرتے ہیں اور اس کو اپنا مقبول کھانا کہتے ہیں
لیکن جب مسلمان اللہ کی خاطر کسی جانور کو قربان کر کے اتنا احتیاط برتے کہ چھری تیز ہو جانور کو چارہ اور پانی ڈال کے اور پھر یہ خیال رکھ کے کہ سامنے کوئی اور جانور بھی نہ ہو پھر انکا گوشت مساکین میں تقسیم ہو تو کفار کے پلے ہوئے سوشل میڈیا پر نمودار ہوتے ہیں
وجہ یہ ہے کہ اسلام دین حق ہے اور حق سے شیطانوں کو تکلیف ہوتی ہے