رسول الله ﷺ نے فرمایا:
جب الله تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اُسے دنیا سے اسی طرح بچاتا ہے، جس طرح تم میں سے کوئی آدمی اپنے بیمار کو پانی (جو اُس کے لئے نقصان دہ ہو) سے بچاتا ہے.
ترمذی 2036
(حاکم 7857، 7464؛ حبان 669؛ ابی شیبہ 36855؛ مشکوٰۃ 5250)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو ( مصیبت کے وقت ) اپنے رخسار پیٹے، گریبان پھاڑ ڈالے، اور جاہلیت کی پکار پکارے۔
(صحیح بخاری،۳۵۱۹)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا:
جو شخص با وضو بستر پر لیٹا اور ذکرِ الٰہی میں مصرف رہا، یہاں تک کہ اسے اونگ آگئی، وہ رات کی کسی بھی ساعت میں اللہ تعالیٰ سے دُنیا و آخرت کی بھلائی میں سے کچھ بھی مانگے، اللہ تعالیٰ اسے وہی عطا فرما دیتا ہے۔
{ جامع ترمذی۔۳۵۲۶}
عمران خان جیسا زمانہ پھر کبھی نہیں آنا
ریئل اسٹیٹ کے بزنس مین کہتے ہیں کہ وہ دور آئیڈیل تھا کنسٹرکشن کے حوالے سے کسان کہتے ہیں کہ اتنی برکت تھی کہ جو فصل کاشت کی بمپر کراپ ہوئی اور ریٹ بھی بہترین ملا اور پیسے بھی جلدی ملے اس جیسا دور کبھی آ نہیں سکتا۔ آٹو سیکٹر والے کہتے ہیں جتنی گاڑی خان کے دور میں بک رہی تھی پاکستان کی تاریخ میں اتنا کام کبھی نہ ہوا۔ غریب کہتے ہیں کہ ہمارے جیب میں 10 لاکھ روپے کا چیک تھا جب بھی کسی کو کوئی بیماری ہوئی مفت علاج ہوا دوائیاں تک مفت ملا کرتی تھیں۔۔
واقعی ایک غریب پرور اللہ کا خوف والا حکمران پاکستان میں آیا تھا۔ جب سے گیا یے ملک برباد ایسے ہو رہا ہے جیسے کسی نے تیار فصل میں خنزیر چھوڑ دئیے ہوں
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی کام سخت تکلیف و پریشانی میں ڈال دیتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے:
“يا حي يا قيوم برحمتك أستغيث ”
اے زندہ اور ہمیشہ رہنے والے! تیری رحمت کے وسیلے سے تیری مدد چاہتا ہوں“۔
(جامع ترمذی ،۳۵۲۴)
رسول اللہ ﷺ نے ( حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجتے وقت) فرمایا:
مظلوم کی بددعا سے بچنا، کیونکہ اس (کی بددعا) اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ (یا رکاوٹ) نہیں ہوتا۔
(صحیح البخاری : 2448)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جمعہ کا دن تمہارے بہترین دنوں میں سے ہے، لہٰذا اس دن میرے اوپر کثرت سے درود ( صلاۃ ) بھیجا کرو، اس لیے کہ تمہارے درود مجھ پر پیش کئے جاتے ہیں ۔
(سنن ابوداؤد ،۱۵۳۱)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ” ہر نبی کو ایک دعا حاصل ہوتی ہے ( جو قبول کی جاتی ہے ) اور میں چاہتا ہوں کہ میں اپنی دعا کو آخرت میں اپنی امت کی شفاعت کے لیے محفوظ رکھوں ۔“ (صحیح بخاری : 6304)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جمعہ کا دن تمہارے بہترین دنوں میں سے ہے، لہٰذا اس دن میرے اوپر کثرت سے درود ( صلاۃ ) بھیجا کرو، اس لیے کہ تمہارے درود مجھ پر پیش کئے جاتے ہیں ۔
(سنن ابوداؤد ،۱۵۳۱)
قال ﷺ :
یقیناً اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر عمل کا نتیجہ ہر انسان کو اس کی نیت کے مطابق ہی ملےگا۔ پس جس کی ہجرت(ترک وطن) دولت دنیاحاصل کرنےکےلیےہو یا کسی عورت سےشادی کی غرض ہو۔ پس اس کی ہجرت ان ہی چیزوں کےلیے ہو گی جن کے حاصل کرنے کی نیت سےاس نے ہجرت کی ہے۔
(بخاری،١)
حضرت حذیفہ ؓ نے ایک شخص کو دیکھا جو رکوع اور سجدہ پوری طرح نہیں کرتا تھا، جب اُس نے اپنی نماز پوری کرلی تو حضرت حذیفہ ؓ نے فرمایا:
"تم نے نماز ہی نہیں پڑھی، اگر تم ایسی ہی نماز پر مر جاتے تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ سلام کی سنت کے خلاف حالت میں مرتے."
بخاری 389، 791
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
کیا تمہیں بڑے بڑے ( کبیرہ ) گناہوں کے بارے میں نہ بتا دوں؟
صحابہ نے عرض کیا : کیوں نہیں؟
اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا :
اللہ کے ساتھ شرک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا اور جھوٹی گواہی دینا یا جھوٹی بات بولنا
(جامع ترمذی : 2301)