فرسودہ جاگیردارانہ نظام اورموروثی سیاست کے خاتمے کیلئےغریبوں کی حکمرانی کاانقلاب لازمی ہے
پاکستان 2 فیصدحکمراں اشرافیہ کا نہیں بلکہ 98 فیصد غریبوں، مزدوروں اورمتوسط طبقہ کے عوام کا ہے
صوبہ پنجاب کے شہر شیخوپورہ میں اے پی ایم ایس اوکے 48 ویں یوم تاسیس کے اجتماع سے خطاب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان کو انگریزوں کے ایجنٹوں نے دوطبقات میں تقسیم کردیاہے، ایک طبقہ وہ ہے جس کے آباؤاجداد نے 1857 ء کی جنگ آزادی میں حریت پسندوں کا ساتھ دیا اوردوسرا طبقہ وہ ہے جس نے جنگ آزادی کوناکام بنانے اوربرصغیرکے عوام کوغلام بنائے رکھنے کے لئے انگریزوں کا ساتھ دیا، بدقسمتی سے یہی طبقہ آج پاکستان کا مالک ومختار بنابیٹھاہے اورانگریزوں کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے پاکستان سے فرسودہ نظام کی تبدیلی کیلئے اٹھنے والی ہرآواز کو ریاستی طاقت سے دباتاچلاآرہا ہے۔
پنجاب کے عوام کو اسٹیبلشمنٹ اور حکمرانوں نے ہمیشہ یہی تاثر دیا ہے کہ صرف صوبہ پنجاب کے لوگ ہی پاکستان کے وفادار ہیں جبکہ باقی صوبوں کے سندھی، بلوچ، پختون،مہاجر، سرائیکی، کشمیری، گلگتی اوربلتستانی پاکستان کے وفادار نہیں ہیں۔ پنجاب اور سندھ کے جن بڑے بڑے زمیندار خاندانوں نے انگریزوں کا ساتھ دیا تھا، انگریزوں نے انہیں انعام کے طورپاکستان قائم کرکے دیدیا۔ 14، اگست1947ء کو جب پاکستان قائم ہوا تو انہی لوگوں پر مبنی فوج بنائی گئی جو حریت پسندوں کے خلاف انگریزوں کا ساتھ دے رہے تھے۔ پاکستان کا نظام حکومت چلانے کیلئے سیاسی جماعتیں تشکیل دی گئیں اورانہی خاندانوں کوان سیاسی جماعتوں میں ایڈجسٹ کیا گیا۔ پیپلزپارٹی ہو یا مسلم لیگ (ن) ہو، ان جماعتوں نے کبھی ملک کے غریب، لوئرمڈل کلاس اورمڈل کلاس کے تعلیم یافتہ افراد کو ملک کے منتخب ایوانوں میں نہیں بھیجا۔ پاکستان کے 98 فیصد غریب ومتوسط طبقے کے عوام اس موروثی سیاست، وڈیرہ شاہی، فرسودہ جاگیردارانہ نظام اور دوفیصد حکمراں اشرافیہ کے غلام بنادیئے گئے مگرکسی سیاسی جماعت نے ملک پر مسلط فرسودہ جاگیردارانہ اوروڈیرانہ نظام کے خلاف آواز نہیں اٹھائی۔
آل پاکستان متحدہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن، پاکستان کی واحد طلبا تنظیم ہے جس نے عوامی جماعت ایم کیوایم کو جنم دیا جوپاکستان کی واحد سیاسی جماعت ہے جس نے ملک کے فرسودہ جاگیردارانہ نظام،موروثی سیاست اور کرپشن کے نظام کی تبدیلی کیلئے عملی جدوجہد کی۔ایم کیوایم نے عوام کو شعوردیاکہ پاکستان دوصرف فیصد جاگیرداروں، وڈیروں اورزمینداروں کا نہیں بلکہ 98 فیصد غریب ومتوسط طبقے کے کروڑوں عوا م کا ہے اورپاکستان میں صحیح جمہوریت اسی وقت آسکتی ہے جب ہم غریب ومتوسط طبقے کے تعلیم یافتہ افراد کو ملک کے منتخب ایوانوں میں بھیجیں گے، ایم کیوایم نے محض نظام کی تبدیلی کانعرہ ہی نہیں لگایا بلکہ عملی طورپر غریب ومتوسط طبقے کے تعلیم یافتہ افراد کو منتخب ایوانوں میں بھیج کرناممکن کوممکن کردکھایا۔
پاکستان کی ہرسیاسی ومذہبی جماعت کا سربراہ بلدیاتی، صوبائی، قومی اورسینیٹ کے انتخابات میں حصہ لیتا رہا ہے جبکہ الطاف حسین پاکستان کا واحد سیاسی رہنما ہے جوپاکستان کافرسودہ نظام بدلنے کیلئے میدان سیاست میں آیا، الطاف حسین نے اپنی ذات یا اپنے خاندان کے مفادات کے بجائے عوام کے اجتماعی مفادات کیلئے تحریک کی بنیاد رکھی، الطاف حسین نے نہ تو خود الیکشن لڑا اور نہ اپنے بہن بھائیوں کو لڑایا، غریب ومتوسط طبقے کے تعلیم یافتہ کارکنوں کو مئیرز، ڈپٹی مئیرز،ایم پی اے، ایم این اے اورسینیٹر بناکر منتخب ایوانوں میں بھیجا۔ ایم کیوایم نے ملک میں برسوں سے قائم اسٹیٹس کو کوچیلنج کیا اسی لئے اس نظام کی محافظ قوتوں نے ایم کیوایم کوبرداشت نہیں کیا، اسے ریاستی طاقت سے کچلنے کے لئے ریاستی آپریشن کیا، ملک سے فرسودہ جاگیردارانہ نظام کے خلاف عملی جدوجہد کی پاداش میں جہاں تحریک کے ہزاروں کارکنوں کو شہیدکیاگیا وہیں الطاف حسین کے بڑے بھائی ناصر حسین، بھتیجے عارف حسین اور بہنوئی اسلم ابراہانی بھی شہیدوں میں شامل ہیں۔ایم کیوایم کے خلاف مظالم پنجاب میں بھی کئے گئے اور پنجاب سے ایم کیوایم کی ایک محنتی کارکن طاہرہ آصف جو قومی اسمبلی کی رکن تھیں، انہیں نوازشریف کے دور میں لاہورمیں گولیاں مارکر شہید کردیا گیا۔ ایم کیوایم نے پنجاب کے علاوہ کراچی میں بھی میرٹ کی بنیادپر متعدد پنجابیوں، سندھیوں، بلوچوں، پختونوں، گلگتیوں، بلتستانیوں اورکشمیریوں کو منتخب ایوانوں کارکن بنایا۔
فرسودہ جاگیردارانہ نظام اورموروثی سیاست کے خلاف میری عملی جدوجہد کے باعث اسٹیبلشمنٹ میری جان لینے کے درپے ہوگئی،مجھ پر متعدد قاتلانہ حملے کیے گئے اورجب کراچی میں مجھ پرقاتلانہ حملے کیلئے ہینڈ گرنیڈاستعمال کیے گئے تو میں ساتھیوں کے مشورے سے کچھ دنوں کیلئے لندن چلاآیا
1/2
اے پی ایم ایس اونے پاکستان کے فرسودہ نظام کوللکارا اور اسٹیٹس کوتوڑا۔ الطاف حسین
#11JuneAltafHai
ہم کوٹہ سسٹم کے خلاف اب تک مطالبات کرتے رہےلیکن اب ہم اس سسٹم کے ساتھ زندہ نہیں رہ سکتے
لندن میں اے پی ایم ایس او کے 48ویں یوم تاسیس کے اجتماع سےخطاب
اے پی ایم ایس او واحد طلبہ تنظیم ہے جس نے سیاسی افق پر ایم کیوایم کوجنم دیا۔ آجAPMSO کی جدوجہد کو48 سال ہوگئے جس پر میں اپنے تمام تحریکی ساتھیوں اورعوام کومبارکباد پیش کرتاہوں۔
اے پی ایم ایس او نے پاکستان کے ایلیٹ کلچر میں ایک ایسی تنظیم کی بنیادرکھی جوغریب ومتوسط طبقہ سے تعلق رکھتی ہے، جس کامنشورتمام قوموں کے غریب ومتوسط طبقہ کے عوام کوانکے حقوق دلاناہے، اے پی ایم ایس اونے پاکستان کے فرسودہ نظام کوللکارا اوراسٹیٹس کوکوتوڑتے ہوئے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ غریب ومتوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کوملک کی اسمبلیوں میں بھیجا۔پاکستان کی ہر سیاسی جماعت کاسربراہ خود کئی کئی نشستوں سے الیکشن لڑتاہے لیکن ایم کیوایم کے سربراہ نے اپنے کارکنوں کوایوانوں میں بھیجا اورخود الیکشن نہیں لڑا۔ایم کیوایم نےمذہبی منافرت کی مخالفت کی اوریہ پیغام دیاکہ پاکستان صرف مسلمانوں کانہیں تمام مذاہب کے ماننے والوں کاوطن ہے، پاکستان میں آباد عیسائی، ہندو، سکھ اورتمام غیرمسلم بھی برابرکے پاکستانی ہیں، پاکستان کے شہری کی حیثیت سے ان کابھی پاکستان پر برابر کاحق ہے اوران کے ساتھ مذہب کی بنیادپر امتیازنہیں برتاجاناچاہیے، اسی طرح شہریوں میں فقہ اورمسلک کی بنیادپر بھی لوگوں میں آپس میں نفرت نہیں ہوناچاہیے اورہمیں کسی کواس کے فقہ یامسلک کی بنیادپر کافر قرار نہیں دیناچاہیے، ایم کیوایم نے کاروکاری جیسی فرسودہ رسومات کی بھی کھل کی مخالفت کی اوراس کاشکارہونے والی لڑکیوں کے لئے اپنے دروازے کھولے اورانہیں اپنے مرکزمیں پناہ دی، ایم کیوایم نے غیرمسلم لڑکیوں کے اغوااور ان سے جبراً مذہب کی تبدیلی اور جبری شادیوں کے خلاف آوازاٹھائی۔ پاکستان میں رائج اس اسٹیٹس کو اور اس ظالمانہ نظام کے خلاف آوازبلند کرنے پراسٹیبلشمنٹ نے مجھے غدارقراردیا گیا۔ بدقسمتی سے پاکستان میں جس کسی نے بھی اسٹیٹس کو اورکرپٹ فوجی جرنیلوں کی پالیسیوں کے خلاف آوازبلند کی تواس کی قسمت میں یا توپھانسی، یاقیدہوتی ہے یاجلاوطنی ہوتی ہے۔ مجھے جلاوطن ہونے پر مجبورکردیا گیا، عمران خان کابھی قصور یہ ہے کہ اس نے کرپٹ جرنیلوں اوران کے آقاؤں کوللکارا۔
ہماری جدوجہدانصافیوں کے خلاف ہے، 53سال گزرجانے کے باوجود کوٹہ سسٹم جیساغیرمنصفانہ نظام آج بھی رائج ہے جوسندھ میں شہری اوردیہی عوام کوتقسیم کرتاہے، جس کی بنیادپر شہری علاقوں کے عوام کے ساتھ ناانصافیاں کی جاتی ہیں۔ ہم کوٹہ سسٹم کے خلاف اب تک مطالبات کرتے رہے لیکن اب ہم اس کے ساتھ زندہ نہیں رہ سکتے، اس ظالمانہ اورغیرمنصفانہ سسٹم کواب ختم ہوناچاہیے۔ میں غریب سندھیوں، ہاریوں اورمزدوروں سے بھی کہتاہوں کہ وہ بھی اس سسٹم کے خلاف آوازاٹھائیں کیوں کہ اس سے غریب سندھیوں کونہیں بلکہ وڈیروں کو فائدہ پہنچ رہاہے، یہ وڈیرے غریب سندھیوں پر بھی ظلم ڈھاتے ہیں اورانکی بچیوں تک کواٹھالے جاتے ہیں۔ غریب سندھیوں کوچاہیے کہ وہ ان وڈیروں سے نجات کے لئے میدان عمل میں آئیں۔میں تمام غریب اورپڑھے لکھے سندھی نوجوانوں کوبھی دعوت دیتاہوں کہ وہ الطاف حسین کے قافلے میں شامل ہوجائیں، ہم متحد ہوکراس فرسودہ جاگیردارانہ وڈیرانہ نظام کے خلاف جدوجہد کریں گے۔
میں یوم تاسیس منانے کے لئے جمع ہونے پر ایم کیوایم لیگل ایڈ کمیٹی کے سینئربزرگ رکن ادریس علوی ایڈوکیٹ، یوٹیوبرتحسین عباسی، ان کے بیٹے اوردیگربزرگ کارکنوں کی گرفتاریوں کی شدیدمذمت کرتا ہوں۔ میں سوال کرتاہوں کہ کیاکسی سیاسی جماعت کایوم تاسیس منانا جرم ہے؟ اسی طرح ایم کیوایم کے سابق رکن قومی اسمبلی نثارپہنور، ان کے بیٹے محسن پہنور، فیصل مجیب اوردیگرساتھی بھی کئی ماہ سے لاپتہ ہیں۔ میں مطالبہ کرتاہوں کہ ان تمام کورہا کیاجائے اوریہ ظلم وستم بند کیاجائے۔
فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر صاحب سے الطاف حسین کا مطالبہ
#11JuneAltafHai
متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائد جناب الطاف حسین نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج مورخہ 11جون 2026ء بروز جمعرات APMSO (آل پاکستان متحدہ اسٹوڈینٹس آرگنائزیشن) کا 48 واں یوم تاسیس پرامن طورپر پورے پاکستان میں منایاجارہا ہے۔اس سلسلے میں کراچی میں آئی آئی چندریگر روڈ کی ایک عمارت کی دوسری منزل پرواقع سینئر صحافی، یوٹیوبر اوروی لاگرتحسین عباسی کے دفتر میں ایک چھوٹی سی تقریب کا انعقاد کیا جارہاتھا کہ کراچی پولیس کی بڑی نفری نے وہاں چھاپہ مارکرایم کیوایم لیگل ایڈ کمیٹی کے سینئر اوربزرگ رکن ادریس علوی ایڈوکیٹ اورتحسین عباسی سمیت دس کارکنوں کوگرفتارکرلیاجوآئین وقانون کے سراسر منافی ہے۔
آپ جناب فیلڈمارشل عاصم منیرسے مطالبہ ہے کہ فی الفورمداخلت کرکے بزرگ رکن ادریس علوی ایڈوکیٹ سمیت تمام گرفتار شدگان کی فوری رہائی کے احکامات جاری کریں اورکراچی سمیت سندھ بھر کی پولیس کواحکامات صادرفرمائیں کہ وہ بند کمروں میں اے پی ایم ایس او کے یوم تاسیس منانے کے لئے جمع ہونے والے ایم کیوایم کے پرامن کارکنوں اورہمدردوں کے خلاف کسی قسم کی کوئی کارروائی نہ کریں۔
الطاف حسین
11جون 2026ء
166 دن سے میرے والد نثار پنھور اور میرے بھائی محسن پنھور لاپتہ ہیں۔166 دن سے ہمارا گھر انتظار، بے بسی اور اذیت کی تصویر بنا ہوا ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ وہ کہاں ہیں، کس حال میں ہیں، کس کے رحم و کرم پر ہیں، یا ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جا رہا ہے۔
پانچ ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، مگر آج بھی ہم اپنے پیاروں کی ایک جھلک دیکھنے اور ان کی خیریت جاننے کے منتظر ہیں۔ ایک بیٹی اپنے والد کی راہ تک رہی ہے، ایک بہن اپنے بھائی کی واپسی کی دعا کر رہی ہے، اور ایک خاندان مسلسل کرب اور بے یقینی کی زندگی گزار رہا ہے۔
آخر ان کا قصور کیا ہے؟ کیوں ایک خاندان کو اتنی طویل سزا دی جا رہی ہے؟ اگر کوئی الزام ہے تو قانون کے مطابق پیش کیا جائے، مگر کسی کو مہینوں تک لاپتہ رکھنا نہ انصاف ہے اور نہ انسانیت۔
ہم متعلقہ حکام، انسانی حقوق کی تنظیموں، صحافیوں اور ہر صاحبِ ضمیر انسان سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے پر آواز بلند کریں۔ خاموشی ظلم کو مزید طاقت دیتی ہے۔
خدارا، نثار پنھور اور محسن پنھور کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور ہمارے خاندان کی اس طویل اذیت کا خاتمہ کیا جائے۔ اب یہ ظلم اپنی تمام حدیں پار کر چکا ہے۔
#ReleaseNisarAndMohsinPanhwar
امریکہ کے تھنک ٹینک ”امریکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ (American Enterprise Institute) کے سینئر فیلو اور تھنک ٹینک مڈل ایسٹ فورم (Middle East Forum) کے ڈائریکٹر آف پالیسی اینالیسز مائیکل روبن (Michael Rubin) نے 10مئی کو اپنے مضمون پر مشتمل اپنے ٹوئیٹ میں پاکستان اور پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر صاحب کے بارے میں جو بیہودہ الفاظ استعمال کئے ہیں وہ انتہائی شرمناک ہیں جسے پڑھ کر ہر سچے پاکستانی کاسرشرم سے جھک گیا۔
مائیکل روبن نے اپنے ٹوئیٹ میں پاکستان کے بارے میں کہا کہ” پاکستان ایسی عورت نہیں ہے جس سے شادی کی جائے بلکہ ایسی طوائف ہے جس کواستعمال کرو اور پھینک دو“۔ اس ٹویٹ میں فیلڈمارشل عاصم منیر کو بھی گالی دی گئی ہے۔ یہ ٹوئیٹ ایسا ہے کہ اسے دہراتے ہوئے بھی انتہائی شرم محسوس ہوتی ہے۔ اسے پڑھ کرایک پاکستانی کی حیثیت سے میرا خون کھولا ہوا ہے مگر اس پر حکمرانوں کی خاموشی دیکھ کر مجھے بہت افسوس ہوا ہے۔
مائیکل روبن نے پاکستان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر صاحب کے بارے میں جو گندی زبان استعمال کی ہے، جوگالی دی ہے پر اس پر حکومت پاکستان کے وزراء کیوں خاموش ہیں؟ صدر آصف زرداری کہاں ہیں؟ وزیراعظم میاں شہبازشریف کہاں ہیں؟ وفاقی وزیر اطلاعات عطاتارڑ کہاں ہیں؟ بلاول زرداری کہاں ہیں؟ میاں نوازشریف کہاں ہیں؟ مریم نواز صاحبہ کہاں ہیں؟ دیگروفا قی وزراء کہاں ہیں؟
پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن کے وہ رہنما جو چیخ چیخ کر کہتے ہیں کہ”ہم پاکستان کے خلاف ایک لفظ سننا نہیں چاہتے، ہماری غیرت کوکوئی للکارے گا توہم اس کی زبانیں کھینچ لیں گے“،وہ تمام رہنماآج کہاں ہیں؟ اگران میں غیرت ہے تووہ مائیکل روبن کی جانب سے پاکستان اورفیلڈمارشل عاصم منیر صاحب کے بارے میں گالیوں بھرے ٹوئیٹ پر کوئی آواز احتجاج بلند کیوں نہیں کرتے؟ یہ ہماری قومی غیرت وحمیت کا تقاضہ ہے کہ اس پر احتجاج کیا جائے۔
میں سمجھتا ہوں کہ مائیکل روبن کے ٹوئیٹ پر صدرپاکستان آصف زرداری، وزیراعظم شہبازشریف، مریم نوازصاحبہ، بلاول زرداری اور فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کو سخت بیان جاری کرناچاہیے اوراحتجاج کرنا چاہیے۔
ٹک ٹاک پر فکری نشست کے دوران پاکستان کے مختلف شہروں اور اوورسیز میں مقیم پاکستانیوں نے بھی پاکستان کے بارے میں مائیکل روبن کے ٹوئیٹ پر اپنے شدیدغم وغصہ کا اظہارکیا۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر فکری نشست 402 سے خطاب
11مئی 2026ء
کیونکہ بانی و قائدِتحریک کا نام درحقیقت ہے ہی سچ کا استعارہ شہزاد صاحب۔
جو بھی اُس درویش کے نقش قدم پر چلتا ہوا حق و سچ کی بات کرے گا، وہ غدار، ملک دشمن اور را کا ایجنٹ بن جائے گا۔
ہماری اشرافیہ اور خاص کر مقتدر حلقوں کا مسلہ یہ رہا ہے کہ سچ کے آگے جھوٹ اور بہتان کا پہاڑ کھڑا کردو تاکہ حقیقت عوام کی آنکھوں سے اوجھل رہے۔ ہاں ایک دور تھا، آپ نے یہ کام انتہائی ہوشیاری سے کیا لیکن یہ AI اور سوشل میڈیا کا دور ہے۔ آپ نے اکیلے شخص کی آواز دبانے کے لئے ہر ہتھکنڈہ استعمال کرلیا لیکن سچ کا سورج نکل رہا ہے۔ جین زی اب اس دھوکے اور فریب سے تنگ آچکی ہے۔
نظریہ الطاف کو دوام تھا اور رہے گا کیونکہ یہ نظریہ ہر اُس مظلوم کی آواز ہے جسے یہ فرسودہ جاگیردارنہ اور وڈیرانہ نظام پچھتر سالوں سے دباتا آرہا ہے۔
میرا قائد۔ میرا غرور۔
دِلوں کے شہر میں قائد میرا امام رہے۔!!
تابش ہاشمی، وجیہ ثانی، فخر عالم کے بعد اداکارہ شگفتہ اعجاز بھی گٹکا خور الطافی نکلی۔۔۔
جو سچ بولے گا وہ الطافی ہے، انجانے میں #جہالوں نے الطاف بھائی کو سچ کا استعارہ بنا دیا
😂😂😂
کمالو اور کرائمخانی ٹولہ مہاجر نوجوانوں کی مخبریوں انکو گرفتار لا پتہ اور شہید کروانے میں ملوث ہے خالد مقبول کا اعتراف اور انہی کو اپنے ساتھ بٹھایا ہوا ہے
مہاجروں! کیا آپ جانتے ہو کہ انٹر بورڈ میں مہاجر بچوں کو فیل کرنے والا کون ہے؟ یہ MQMPEEکے امیدوار برائے صوبائ اسمبلی علیم خانزادہ کا بیٹا، MQMPEEکی قیادت کا انتہائی قریبی انور علیم خانزادہ ہے، یہ سارے کرپٹ ترین مہاجر دشمنوں کی پناہ گاہMQMپر قابض MQMPEEہے
کراچی مجھے دیں، 90 دن میں سارے مسائل حل کردوں گا۔ عقیل کریم ڈھیڈی۔
📌یہ وہ شخص ہے جس نے پہلے ہنستے بستے شہر کو برباد کرنے کے لئے سرمایہ فراہم کیا۔ عقیل کریم جنرل فیض حمید کا سب سے بڑا فنائنسر تھا اور اِس نے یہ مال و دولت اسٹاک ایکسچینج میں غریب آدمی کی عمر بھر کی کمائی لوٹ کر بنائی تھی اور آج بھی بنا رہا ہے۔ چہرے پر داڑھی رکھ لینے سے اعمال نہیں بدلتے۔
📌منی لانڈرنگ کا مرکزی کردار جو اسٹیبلشمنٹ سے لے کر سیاستدانوں کا کالا دھن سفید کرنے کا ماہر ہے۔ یہ شخص بولتا ہے کراچی میرے حوالے کردیں۔ یہ کون ہے؟ کس کی نمائندگی کرتا ہے؟ کس وؤٹ بینک کے بھروسے یہ بکواس کرہا ہے؟ ہے کوئی جواب؟
📌اس ملک کا یہی مسلہ ہے کہ عوامی نمائندوں پر جبری پابندی لگاؤ اور کبھی شوکت عزیز، اور کبھی معین قریشی کو وزیراعظم بنادو تاکہ انگلیوں پر نچایا جاسکے اور آج یہ شخص کراچی مانگ رہا ہے، جس شہر کو اِس کی سہولت کار اور ہمنوا پیپلز پارٹی پہلے ہی برباد کرچکی ہے۔!!
🟥🟩⬜🇧🇬
@AltafHussain_90@OfficialMQM
#اُم_رُباب_چانڈیو
یہ ام رباب نہیں ہاری ہے۔ یہ ہار سندھ میں بسنے والے ہر غریب، مجبور اور محکوم کی ہار ہے۔
اور یہ جیت ہے وڈیرانہ، جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام کی، جس کی بینیفشری پیپلز پارٹی کل بھی تھی اور آج بھی ہے۔
تِری گفتار پہ حیرت، تِرے کردار پہ لعنت
قاضئ عصر تِرے عدل کے دربار پہ لعنت
ظلم کے باب میں اک رسم نئی لکھنے کو
تُو نے قاتل کو جو پہنائی ہے دستار پہ لعنت۔!!
🟥🟩⬜🇧🇬
@AltafHussain_90@OfficialMQM