پہلے ہی کہا تھا جو جیتے اسے جیتنے دو جو ہارے اسے ہارنے دو، میری جیتی ہوئی سیٹ پر فارم 45 کے مطابق پی ٹی آئی جیتی ہے۔ لہذا اپنے ضمیر اور اپنی جماعت کی اخلاقی روایات کے مطابق اپنی صوبائی اسمبلی کی سیٹ چھوڑنے کا اعلان کرتاہوں اور مطالبہ کرتاہوں کہ ہمیں ہماری ساری جیتی ہوئی سیٹیں واپس کی جائیں۔
ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے انٹرا پارٹی الیکشن کا بھی جائزہ لیا جائے ۔
حافظ نعیم الرحمن (امیر جماعت اسلامی کراچی) کا چیپ الیکشن کمیشنر @ECP_Pakistan کو خط میں مطالبہ۔
میئر کراچی انتخاب کا نتیجہ زورزبردستی، پولیس گردی اور سیاسی دہشت گردی کے زور پر بدلا گیا۔ 3 لاکھ ووٹ والے کو جتوایا اور 9 لاکھ والے کو ہروا دیا گیا۔ 70 کے الیکشن میں 81 ووٹ والوں نے 161 ووٹ کا مینڈیٹ نہیں مانا تھا۔ 77 میں امیدواران اغوا کر لیے گئے تھے، وہی تاریخ ایک دفعہ پھر دہرائی گئی۔ یہ جمہوریت کی تاریخ اور کراچی کے عوام کےلیے سیاہ ترین دن تھا۔ کراچی کے عوام کے مینیڈٹ کے تحفظ کے الیکشن کمیشن اور عدالت سے بھی رجوع کریں گے اور گلی کوچوں اور سڑکوں پر بھی موجود ہوں گے۔ ان شاءاللہ
تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا
اس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھا
کوئی ٹھہرا ہو جو لوگوں کے مقابل تو بتاؤ
وہ کہاں ہیں کہ جنہیں ناز بہت اپنے تئیں تھا
آج سوئے ہیں تہ خاک نہ جانے یہاں کتنے
کوئی شعلہ کوئی شبنم کوئی مہتاب جبیں تھا
سچ بات!!
سب دوست جانتے ہیں کہ 2018 کے الیکشن میں اسٹیبلشمنٹ کے غیر آئینی تعاون سے عمران خان صاحب کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ہم ان کی دوہری پالیسیوں کے سخت ناقد رہے۔ یو ٹرن ہوں یا اسٹییبلشمنٹی ایمپائر کی مدد سے وکٹوں کا اڑنا، جہانگیر ترین کے جہاز کی کرامات ہوں یا راجہ ریاض احمد
ہم ایک آزاد، اسلامی، جمہوری اور فلاحی ریاست نہ کل تھے اور نہ آج ہیں!!!
تمام انصاف پسند پاکستانیوں کو اس اندھیر نگری کے خلاف آواز اٹھانی چاہیئے۔
کاش کہ ہمارے سیاست دان، جج اور جرنیل یہ سمجھ پاتے کہ۔۔۔۔۔