Soft speach,Clean heart,Peaceful eyes, Focused mind and determined decisions. I am perfectly imperfect.
A proud Pakistani...supporting my Leader Imraan khannnnn
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اِنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ غَيۡبَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِؕ وَاللّٰهُ بَصِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ ۞
ترجمہ:
اللہ زمین اور آسمانوں کی ہر پوشیدہ چیز کا علم رکھتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو وہ سب اس کی نگاہ میں ہے
Floods. Fires. Blasts. Target killings. Corruption. Inflation. Poverty. Bribery. Theft. Robbery. Load shedding. Gas shortages. Unsafe drinking water. Adulterated food. Poor quality fuel. Broken healthcare. Failing education. Dysfunctional railways. Weak airlines. Terrible public transport. Broken roads. Filthy streets.
This is what the average Pakistani is forced to survive every single day.
میں صدق دل سے سمجھتا ہوں کہ نواز شریف اور زرداری کو اڈیالہ جیل جاکہ عمران خان کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کردینا چاہیئے کیونکہ جو سیٹ اپ آگے آنے والا ہے عمران خان پہ جو گزرنی تھی وہ سہہ رہا ہے آپ نہیں سہہ سکیں گے سیاستدانوں کو مشترکہ ہدف کیلئے اتحاد کرنا ہوگا ورنہ اس ملک سے سیاست کا بوریا بستر ہمیشہ کیلئے گول ہونے جارہا ہے مجھے حیرانی ہوتی ہے کہ جس عمر میں لوگ صرف اپنی لیگیسی کی فکر کرتے ہیں نواز شریف اور زرداری نے پالش کا رستہ چنا اور اس میں ہر حد ہی پار کرگئے نواز شریف تو چلیں ہے ہی جرنیلی پروڈکٹ انکا فرنٹ مین لیکن آخر سب نے مرنا ہے کوئی لیگیسی بھی تو چھوڑ جائے یا قبر پہ بوٹ کا نشان کندہ کروایا جائے گا؟
جماعت اسلامی گلہ کرتی ہے کہ عوام ان کے ساتھ نہیں نکلتی۔ اس کے لئے جماعت کو اپنے ماضی پر بھی نظر دوڑانی چاہئے کہ عوام کیوں ان پر اعتماد نہیں کرتے۔ میرے خیال میں ان وجوہات میں جماعت اسلامی کا مذہبی انتیاپسندی، جہاد کے نام پر دہشتگردی اور فوج کے ایجنڈے پر جانا شامل ہیں
جنرل ضیاء الحق بہت طاقتور ڈکٹیٹر تھا
اس نے روس کو توڑ دیا
مگر بجلی کی لوڈ شیڈنگ پہ قابو نہیں پا سکا
جنرل مشرف بھی بڑا طاقتور ڈکٹیٹر تھا ، امریکہ کا براہِ راست اتحادی تھا ، نو سال دبا کر حکومت کی مگر اس کے دور میں بھی بجلی کی بدترین لوڈ شیڈنگ جاری رہی
موجودہ ڈکٹیٹر بھی بہت طاقتور ہے
مگر بجلی کی لوڈ شیڈنگ روکنا اس کی بھی اوقات سے باہر ہے
سوچیں جو پچاس سالوں میں ملک کی سب سے بنیادی ضرورت بجلی کا نظام درست نہیں کر سکے
وہ پورا ملک کیسے چلا سکتے ہیں ؟؟
#پاکستان
امریکہ میں 10/12 سال کی عمر سے بچوں کے سکولوں میں مختلف کھیلوں کے ٹورنامنٹ کروائے جاتے ہیں۔۔۔
بچوں کے ڈانس، میوزک، پیٹنگ، کوکنگ اور کئی قسم کے مقابلے کروائے جاتے ہیں۔۔۔
ماں باپ اسپیشل چھٹی لے کر وہ دیکھنے آتے ہیں۔۔۔
آدھے سے زیادہ بچے اُسی عمر سے اپنا راستہ اور منزل منتخب کر لیتے ہیں۔۔۔
بچوں کو مشغلے مل جاتے ہیں۔۔بچوں کے اندر خود اعتمادی پیدا ہوتی۔۔۔
12/15 سال کے بچے کی گفتگو میں میچورٹی ہوتی ہے۔۔۔
اگر ماں باپ اپنے یا کسی دوسرے انسان کے بارے گفتگو کریں تو بچے کہہ رہے ہوتے یہ آپکا مسئلہ ہے ہمیں پڑھنے دیں۔۔
اور یہاں اسی عمر کے بچے شادیوں سے طلاقوں تک،
حمل نہ ہونے سے ہونے تک۔۔
چاچے ماموں کے ساتھ جائیداد کے لین دین کی لڑائیوں میں مکمل شامل ہو رہے ہوتے۔۔۔
اخے ہمیں اپنے بچوں کی دماغی حالت کی بڑی فکر ہے۔۔۔
پاکستانی حکومتوں سے لے کر ماں باپ تک دنیا کے سب بڑے ڈرامے باز ہیں۔۔
جھوٹے پیار ، کیئر کا ڈرامہ ان سے بڑھ کر دنیا میں کوئی نہیں کر سکتا۔۔۔
معاشرہ سارا ہی جنگل ہوا پڑا۔۔
پاکستان سے غربت ایک دن میں ختم کی جا سکتی ہے اگر حکومت فیصلہ کرے کہ پیسے چھاپے اور تمام پاکستانیوں کے اکاؤنٹ میں ایک ایک کروڑ روپے ڈال دے
بلکہ پیسے چھاپنے کی بھی اب ضرورت نہیں بینکنگ کے ذریعے اکاؤنٹ میں ورچول پیسہ بھی ڈالا جا سکتا ہے
مگر ٹھہریے اس سے ہوگا کیا ؟
اگلے دن صبح سارے پاکستانی بازار جائیں گے اور تیزی سے چیزیں خریدنا شروع ہو جائیں گے یہاں تک کہ بازار میں چیزیں ختم ہو جائیں گی
پھر جو نئی چیزیں ائیں گی ان کی قیمت پہلے نہیں ساتویں اسمان پر جا چکی ہوگی کیونکہ ڈیمانڈ زیادہ ہوگی اور سپلائی کم
یعنی غربت ختم نہیں ہوگی بلکہ خوفناک طریقے سے دوبارہ سے ظاہر ہو جائے گی چند ہی گھنٹوں یا دنوں میں
یاد رکھنا اگر حکومت عوام کو پیسے دیتی ہے کسی بھی صورت میں وہ انہی کی جیب سے دیتی ہے اسمان سے نہیں رہتی
عوام کو سمجھنا چاہیے کہ حکومت سے کسی بھی قسم کی مراد یا سبسڈی مانگنے کے بجائے حکومت سے صرف کہے کہ ہمیں امن دے دو اور خود سے تجارت کرنے دو
تو پیسے کی جگہ ویلیو بنے گی جو ہی اصل ملک کو امیر کرتی ہے
دنیا جہاں کے گندے ترین ہم لوگ، نہ دانت صاف کرنے کا پتا، نہ استنجا کرنے کا۔
گندگی کے ڈھیر ہمارے گردونواح میں پڑے ہوتے ہیں اور ہمیں بدبو تک نہیں آتی۔
ہماری حرکات دیکھ کر پوری دنیا ہم سے نفرت کرتی ہے۔
دنیا کا بدترین پارلیمانی، اور معاشی نام ہمارا۔
دو نمبری میں پہلے نمبر پر ہم۔
بد ترین ممالک کی لسٹ میں تیسرا نام ہمارا۔
ملاوٹ میں سب سے زیادہ ہم مشہور۔
مزاروں اور بابوں سے مدد مانگنے والے ہم۔
نہ جانور ہماری درندگی سے محفوظ ہے اور نہ ہی کم سن بچے اور قبر میں مردہ عورتیں۔
کفن چوری میں ہم مشہور۔
بھیک مانگنے میں ہم مشہور.
مکہ و مدینہ کے مشہور جیب کترے اور بھکاری ہم۔
حمزہ اور قاری صاحب ہمارے معاشرے کے مشہور کردار۔
ٹریفک سگنل یا ساحل سمندر پر کھڑے ہو کر خارش کرنے میں ہم مشہور۔
زہریلی ادویات بنانے میں ہم مشہور۔
جذباتی، مذہبی، طبقاتی، لسانی، سیاسی، ذات برادری، عقیدہ، رنگ نسل میں تقسیم در تقسیم،
مطالعہ پاکستان اور اسلامیات کو صحیح سمجھنے والے ہم۔اپنی مرضی کے مواد بنا کے منیپولیشن کرنے والے ہم۔
موقع دیکھ کے دنڈی مارنے والے، لمیٹڈ سوچ کے مالک، نائیوں سے فقہ، فلسفہ اور تاریخ سیکھنے والے ۔سنی سنائی باتوں پہ وحی کی طرح ایمان لانے والے۔
دفتر میں سیاست کرنے والے،
اے سی ٹیکنیشن سے لے کے مزدور سے لے کر پلمبر سے مستری سے میکینک تک حرامزادگی میں ڈوبے ھوے ایک نمبر کے دو نمبر۔
سبزی والے سے لے کے پھل والے تک، آفس بوائے سے لے کے سی ای او تک، جّدھر دا لگ گیا، کرپشن کرنے والے ہم۔
پاکستان اللہ کے رازوں میں سے ایک راز ہے۔۔۔اس بات پہ بلا چوں چراں ایمان لانے والے ہم۔
معلم القرآن بھرتی ہوئے تو لیڈیز ہیلتھ ورکرز کو قرآن سکھانے لگا دیا۔
نہ ہمارے پاس روڈ اینڈ ٹریفک منیجمنٹ، نہ کوئی راہ اور نہ منزل اور دعوٰی یہ کہ ہم خدا کی پسندیدہ مخلوق ہیں، ہم اپنے خدا کے محافظ ہیں، ہم سچے عاشق رسول ہیں۔
اس گولے کی بدترین مخلوق۔عوام سے لے کے خواص تک سب موقع شناس اور محدود سوچ کے ساتھ جذباتی آرگومنٹ کر کے نیچا دیکھا کے اگلے کی ماں بہن ایک کرنے کے دلدادہ۔
اور سب سے بڑھ کے ۔۔کسی معجزے کی امید میں بیٹھی معصوم اور ہڈ حرام مخلوق۔
منقول
الفاظ ساتھ نہیں دے رہے۔ کیا لکھوں کیا کہوں ! یہ کوئی انسانیت ہے بچے جل رہے تھے اور ہٹی کٹی عورتیں جھاتیاں مار مار کر دیکھ رہی تھیں جیسے چیک کر رہی ہوں کہ صحیح سے جل رہے ہیں یا نہیں؟ ان میں سے اگر ایک نے ہمت کر کے بچہ نکال لیا تو کیا باقی سب بھاگ کر ایک ایک بچہ نہیں اٹھا سکتی تھیں؟ اگر حکومت بد ترین ہے تو یہ نرسیں اور ڈاکٹر کون سا انسان کے بچے ہیں ۔ شرم سے ڈوب مرو قاتلو
🚨🚨
جب تک اِس مُلک میں قانون نہیں بنتا کہ کرنل رینک سے لے کر آرمی چیف تک، سول میں گریڈ اٹھارہ سے گریڈ بائیس تک، ہائی کورٹ کے جج سے پاکستان کے چیف جسٹس تک اور پارلیمان کے ہر رُکن کے بچوں کے لیے لازم تعلیم سرکاری اسکول اور کالج جبکہ علاج بھی سرکاری ہسپتال سے ہوگا اور کوئی سرکاری گاڑی نہیں ملے گی تب تک پچیس کروڑ عوام کے لیے بُنیادی صحت اور معیاری تعلیم کی سہولت مُمکن نہیں۔ پاکستان اب صرف اشرافیہ اور اُنکے بچوں کی ٹیکس پئیر کے پیسوں پر نازبرداریوں کے لیے ہے جبکہ پچیس کروڑ عوام وہ کاکروچ ہیں جن کو یہ نظام روز اپنے بوٹ تلے روندتا ہے۔
رجیم چینج کے بعد آپ کو بنگالی بھی درست لگے۔ اب آپ کو بی ایل اے والے بھی تھوڑے تھوڑے سمجھ آتے ہیں۔ عاصم منیر دو چار سال رہ گیا تو آہستہ آہستہ آپ کے سارےکانسیپٹس کلئیر ہوجائیں گے۔
یاد رہے کہ نامزد وزیر اعظم آزاد کشمیر بیرسٹر افتخار گیلانی مظفر آباد شہر کی نشست سے نہ صرف حالیہ انتخاب ہارے بلکہ اس سے پہلے دو ہزار اکیس میں بھی شکست کا سامنا کر چکے۔
لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور کے نیو بلاک میں دو ایئرکنڈیشن سسٹم خراب ہوگئے صرف ایک ایئرکنڈیشن اس وقت کام کررہا ہے
دو سسٹم خراب ہونے سے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا
ہسپتال انتظامیہ کے مطابق خرابی دور کرنے کیلئے بیرون ملک سے پرزے منگوانے پڑے ہیں جب وہ آجائیں گے تو مرمت کرلی جائیگی
واضح رہے کہ ایمرجنسی کے دو ایکسرے مشین کی بھی اب تک مرمت نہیں ہوسکی ہے
ایکسرے مشین کے بارے میں بھی یہی بتایا گیا کہ سامان بیرون ملک سے منگوایا جا رہا ہے
رپورٹس کے مطابق سرحد یونیورسٹی میں احتجاج کرنے والے طلبہ کو یونیورسٹی سے نکال دیا گیا ہے ۔ یہ سزا کم ہے ان سب کو غداری کے مقدمات میں ڈال کر جیلوں میں بند کرنا چاہیے انہوں نے مملکت خداداد میں یہ ہمت اور جرأت کیسے کی ۔
یہ پاکستان ہے انڈیا تھوڑی ہے !
جن قیدیوں کو عمران خان کی دیکھا دیکھی نجی ہسپتال سے علاج کرانے کا آئیڈیا آیا ہے
اندازہ لگائیں
اگر انہوں نے نواز شریف کی دیکھا دیکھی لندن میں علاج کی سہولت مانگ لی تو پھر کیا ہوگا؟