I am shocked to see that @amazon@AmazonAE don't have any contact email or number. I applied return item successfully but courier didn't picked it up even after 2 weeks. Now showing failed to return pick up without any reason.
یہ اے ایس ایف کے آفیسر، محمد وسیم تھے۔ انہیں 20 مئی کو بلوچ دھشتگردوں نے قلات سے اغوا کیا اور انہیں بےپناہ تشدد کر کے قتل کرنے کے بعد ان کی لاش پھینک دی۔ اور ہاں، یہ پنجابی نہ تھے۔ کراچی سے تھے۔ امید ہے کہ کراچی کے دیسی لبرل مہاجر و سندھی ٹائپ دانشور کافی سکون محسوس کریں گے۔
مکی پا جی... وراثتی تقسیم موت کے بعد ہی ہے اور بطور بیٹیوں کے باپ مجھے اس تقسیم پر بھی اعتراض ہے سب سے بہتر طریقہ اپنی زندگی میں انتقال جائداد ہے اس میں کوئی قانونی مسائل نہیں ہیں میرا خیال ہے.
پاکستان میں will کی قانونی حیثیت بنانا ہو گی ۔ وہ بھی ساری جائیداد کے لیے ۔
اور اس کا باقاعدہ عدالتی اندراج ہو جیسے پاور آف اٹارنی کا ہوتا ہے ۔
لیکن جائیداد کی وراثتی تقسیم کو نافذ العمل وفات کے بعد ہی ہونا چاہیے
سر جی سادہ سی بات ہے بندے نے گاڑی لے لی لیکن اسے چلانے کی تمیز نہیں ہے میں نے ہاول H7 رکھی بالکل نئی اس کا سیفٹی فیچر اتنا اچھا ہے کہ گاڑی فٹ پاتھ پر جا ہی نہیں سکتی چاہے ریس دیں. اس بندے نے AEB and ABS کو آف رکھا ہو گا کیونکہ اسے رف چلانی تھی
شٹائل مارنا تھا
@Khurram_zakir
ایک دوست بتا رہا تھا کہ انہوں بے Haval پٹرول ویرنٹ لیا جو کہ اس وقت نو ملین (90لاکھ )سے اوپر ہے سڑک پر جاتے ہوے اچانک بریک لگانے سے گاڑی فٹ پاتھ پر چڑھی نیچے سے موبل آئل چمبر لیک ہو گیا اور انجن سپورٹ کا نقصان ہوا
جب وہ ہیول کی متعلقہ کسٹمر سروس کے پاس گاڑی لےکر گئے تو انہوں نے سپیر پارٹس اور مزدوری کی مد میں ان سے تین ملین (30لاکھ )سے زیادہ بل مانگ لیا
ان کے تو ہوش اڑ گئے انہوں نے خاموشی سے واپسی کی راہ لی اور اب کسی لوکل مکینک سے اسکی مرمت کروانے کی کوشش کر رہے جو کہ ناپائیدار ہو گی
یہ الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیاں اور ان کے سپئر پارٹس بہت ہی مہنگے ہیں ان کو خریدنے سے پہلے یہ پہلو بھی مدنظر رکھنا چاہییے ۔۔
کسی زمانے میں تھوڑا کام کر رکھا ہے تو عرض ہے کہ پونچھی ویسے بھی گرم مزاج ہیں اور انہیں وہم ہے کہ وہ کشمیریت کے وارث ہیں۔ راولا کوٹ کے اس طرف، پونچھ کا علاقہ ہی وہ علاقہ تھا جہاں شاید 1989 سے قوم پرست مزاحمت شروع ہوئی تھی جو بعد از 1992-93 میں مذہبی مزاحمت کی جانب گریجؤیٹ کر گئی۔
کشمیر، انڈین یا پاکستانی، اپنی اصل جغرافیائی حقیقت میں کبھی آزاد نہیں ہو گا۔ بہت سے فارمولائے دئیے جا چکے ہیں اور سب سے آسان ایل او سی کا انٹرنیشنل بارڈر یا ورکنگ باؤنڈری بننا ہی ہے۔ سردار عتیق صاحب نے ایل او سی پر "پیس پارکس" یعنی امن کی مشترکہ جگہوں کا خیال پیش کیا تھا اور یہ خیال غلط نہ تھا۔ پاکستان اور انڈیا کہیں مل بیٹھ کر تھوڑی لے دے کر کے اس معاملہ کو ختم کر دیں تو یہ تمام فریقین کے لیے بہتر ہے۔ اس گرِڈ لاک میں، انڈینز، پاکستانی اور کشمیری وہ قطعا نہیں حاصل کر سکتے جو ان کی نظریاتی پوزیشنز ہیں۔ کشمیر نہ انڈیا کو پورا ملے گا، نہ پاکستان انڈین کشمیر کو آزاد کروا پائے گا اور نہ ہی کشمیری اپنی جغرافیائی حدود کو حاصل کر پائیں گے۔
یہ معاملہ جتنی جلد نمٹا دیا جائے، اتنا ہی بہتر ہے۔ 80 سال گزر گئے ہیں۔ 80 اور گزر جائیں گے۔ نہ انڈیا بالکنائز ہو گا۔ نہ پاکستان ٹوٹے گا۔ بہت ہوا تو انڈینز پاکستان کو بلوچستان میں تنگ کرتے رہیں گے، اور پاکستان انڈینز کی تشریف بہت سارے دیگر محاذوں پر بجاتا رہے گا، جن میں کشمیر بھی شامل ہے۔
جدید ریاستوں کی بالکنائزیشن، عین ان ریاستوں کے مفاد میں بھی نہیں ہوتی جو اک دوسرے کے ساتھ بارڈرز شئیر کرتی ہیں، اور بھلے بہت ساری مرکز گریز تحاریک کو بھی تیل دئیے رکھتی ہیں۔ میں انڈیا کے پچھلے چند سالوں میں ابھرنے والے پبلک-فیسنگ امیج اور بیانیہ کی وجہ سے اسے اک ٹٹی ریاست و معاشرت سمجھتا ہوں اور مجھے انڈیا سے قطعا کوئی محبت نہیں، مگر میں اس دیش کو خراب اس لیے بھی نہیں ہوتے دیکھنا چاہتا کہ اس کا اثر، میرے وطن پر پڑتا ہے اور اپنے پاس تو صرف ایک ہی وطن ہے۔ دوسرے کی کوئی خواہش بھی نہیں۔
نظریہ جو بھی ہو، حقیقت نظریہ کو کھا جاتی ہے۔ حقیت یہی ہے کہ انڈیا اور پاکستان کو بالآخر اپنی زخمی تشریفات گھسیٹتے ہوئے، کہیں میز پر بیٹھنا ہے اور اک دوسرے کی تشریفات پر مرہم لگانے ہیں۔ حقیقت کے فریم ورک میں کشمیری بھی اگر سمجھ جائیں تو فائدہ میں رہیں گے۔ اور اگر نہیں، تے میرا کی جاندا ولا؟
کشمیر اسمبلی کی بارہ نشستوں پر بہت سے لوگوں کے تبصرے پڑھنے کو ملے لیکن ابھی تک یہ کسی نے نہیں بتایا کہ پاکستان میں مقیم کشمیریوں کیلئے یہ نشستیں کیوں مختص ہوئی تھیں؟ کیا 53 کے ایوان میں محض 12 لوگ حکومت بنا/گرا سکتے ہیں؟ پاکستان سے منتخب ہونے والوں کو ترقیاتی بجٹ کی مد میں کتنے فنڈز ملتے ہیں اور کشمیر سے منتخب ہونے والوں کو کتنے فنڈز ملتے ہیں؟ آزاد کشمیر کے بجٹ کا کتنا حصہ آزاد کشمیر کی آمدنی سے بنتا ہے اور کتنا پاکستان ادا کرتا ہے؟ پاکستان کے جن علاقوں میں بجلی بنتی ہے آیا ادھر فی یونٹ اتنے میں مِل رہا ہے جتنا اہل کشمیر کو؟ پاکستان کے جن علاقوں میں گندم پیدا ہوتی ہے آیا ادھر لوگوں کو وہ سبسڈی مل رہی ہے جتنی اہل کشمیر کو؟ کتنے پاکستانی ہیں جو کشمیر میں جائیداد خرید سکتے ہیں لیکن ہر کشمیری پاکستان میں جائیداد خرید سکتا ہے؟ کتنے پاکستانی ہیں جو کشمیر میں نوکری لے سکتا ہے لیکن ہر کشمیری پاکستان میں لے سکتا ہے؟
@Hisham1521265@awaheedmurad امارات میں سالک نام سے ٹول ٹیکس کمپنی ہے وہاں ایڈوانس میں ریچارج رکھتے ہیں سبھی حتی کہ پاکستانی عام لوگ بھی جن کے پاس گاڑی ہے. لیکن انہوں نے کیڑے نکالنے ہیں کیونکہ کہ پروپیگنڈہ سے تو دوکان اور روزی روٹی چلتی ان کی
@awaheedmurad کنویں کا مینڈک آپ نے سنا ہو گا جب بندے کو بین الاقوامی سطح پر رہنے اور سفر کا تجربہ نہ ہو تو پھر تجزیہ ایسے ہوتا ہے
امارات میں سالک کا نظام ہے ٹول کا وہاں آپ کو پہلے ہی ریچارج رکھنا پڑتا ہے پاکستان میں انوکھا کام نہیں ہو رہا جسے قومی خزانے میں ایڈوانس رقم دینے کا پروپیگنڈہ ہو
کنویں کا مینڈک آپ نے سنا ہو گا جب بندے کو بین الاقوامی سطح پر رہنے اور سفر کا تجربہ نہ ہو تو پھر تجزیہ ایسے ہوتا ہے
امارات میں سالک کا نظام ہے ٹول کا وہاں آپ کو پہلے ہی ریچارج رکھنا پڑتا ہے پاکستان میں انوکھا کام نہیں ہو رہا جسے قومی خزانے میں ایڈوانس رقم دینے کا پروپیگنڈہ ہو
پاک سرزمین پر ایک کمپنی کی لوٹ مار کا نظام
دس برس سے زیادہ ہو گئے پاکستان میں موٹرویز ایک کمپنی یعنی ون نیٹ ورک کے حوالے ہیں۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کب ٹینڈر جاری کرتی ہے، بولی کون کون دیتا ہے اور کتنی رقم میں ٹھیکہ ہر سال ایک کمپنی کو مل جاتا ہے اگر کسی کو معلومات ہیں تو آگاہ کر سکتا ہے۔
گزشتہ ایک برس میں ٹول ٹیکس 120 فیصد تک بڑھ چکا ہے مگر اس سے بڑھ کر لوٹ مار کے اس نظام میں ایم ٹیگ اگر کم بیلنس کے ساتھ ہے تو مانسہرہ سے اسلام آباد 150 کلومیٹر موٹروے استعمال کرنے کے 700 روپے دینا پڑیں گے، بیلنس کے ساتھ اتنا ہی فاصلہ 450 روپے میں پڑتا ہے، یعنی ایڈوانس رقم کمپنی کے خزانے میں جمع کرا کے رکھیں۔
کیا کسی کو معلوم ہے کہ یہ کمپنی قومی خزانے میں سالانہ کتنا ٹیکس جمع کراتی ہے؟
The recent matter involving a PML-N Member of the Provincial Assembly and a prominent media personality is a personal issue and will be addressed strictly on merit and in accordance with the law, however, I want to make it absolutely clear that I will not spare anyone found involved in attempting to harass, threaten, or exploit a woman. No individual, regardless of status, position, or political connections, is above the law. State institutions will perform their duties independently, impartially, and in accordance with the Constitution and the law. Any attempt to exert political pressure, abuse influence, or exploit a woman through threats of releasing personal content publicly will be met with firm and uncompromising action. Consider this a clear and serious warning to anyone involved.
بالکل بھی نہیں. میری مسز کا ویزہ کل ہی ریزیڈنٹ ویزہ میں تبدیل ہوا ہے. لوگ قانون کو فالو نہیں کرتے پھر روتے ہیں. بھائی جس ملک میں ہو وہاں کا قانون فالو کرو
آپ ملاحظہ فرمائیں کہ @StateBank_Pak نے کتنی نا اہل ویبسائٹ ڈیولپمنٹ کی ٹیم رکھی ہوئی ہے کہ پہلے سے لکھی ہوئی آپشن پر بھی ایرر آتا ہے کہ لمٹ زیادہ ہے الفاظ کی. بندہ کہے او جاہل ویب ڈیلوپر یہ تم نے آپشن لکھ رکھی ہیں صارف خود سے نہیں لکھ رہا.
بصد احترام آپ نے بی بی سی میں کام کیا ہے ایٹمی دھماکے کوئی پٹاخہ نہیں کہ آپ نے سوچا اور اگلے لمحے ہو گیے اس کے لئے تیاری درکار ہوتی ہے
کچھ حقائق آپ کی نظر
ڈاکٹر اشفاق احمد 1998 میں پاکستان آٹامک انیرجی کیمشن کے چیرمین تھے جن کے زمے دھماکے کرنے کی زمہ داری تھی۔ ڈاکٹر اشفاق نے سالوں بعد اپنے ساتھ کام کرنے والے ایک افسر کو ایٹمی دھماکوں سے متعلق کچھ اہم حقائق بیان کئے اور وہ افسر خوش قسمتی سے میرے دوست ہیں
جب بھارت نے ایٹی دھماکے کئے تو ڈاکٹر اشفاق سرکاری دورے پر کینڈا میں موجود تھے اور وزیراعظم کی ہدایت پر دورہ ختم کرکے وہ 16 مئی کو وطن واپس آ گئے اور ڈاکٹر اشفاق کے مطابق اگلے روز ہی مجھے نواز شریف نے ملاقات کے لیے وزیر اعظم ہاوس بلایا اور مجھ سے پوچھا ہم کتنا جلدی دھماکے کر سکتے ہیں ڈاکٹر اشفاق کا جواب تھا کہ کم از کم ایک ماہ۔ جس پر نواز شریف نے کہا پھر تو بات ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گی اتنا انتظار نہیں کر سکتے اور ڈاکٹر اشفاق سے کہا آپ کے پاس 10 دن ہیں۔ ڈاکٹر اشفاق کے مطابق وہ 10 دن ان کی زندگی کے مشکل ترین دن تھے اور وہ شاید ہی ایک رات بھی سکون سے سو سکے ہوں
دھماکوں سے پہلے داکٹر اشفاق کے مطابق جتنے بھی مشاورتی اجلاس نواز شریف نے بلائے وہ بس ایک فارمیلٹی تھے بقول ڈاکٹر اشفاق کے وہ دھماکے کرنے کا فیصلہ پہلے دن ہی کر چکے تھے
کبھی سوچتا ہوں کہ اگر دنیا اب تک قائم ہے تو شاید ان محترم بزرگ جیسے لوگوں کی وجہ سے۔ اللہ ہی وارث ہے ان کا اور وہی پچاس روپے میں ان کا نظام چلا رہا ہے۔ ورنہ اسی شہر میں چار ہزار کا پیزا بیچ کر بھی لوگ آنسو بہا رہے ہوتے ہیں
اس جیسے گدھوں کو پتا ہی نہیں ہے کہ یہ روٹین کی کاروائی ہے ہر سال عیدالفطر کے بعد ایک تاریخ دی جاتی ہے عمرہ زائرین کو تاکہ حج سیزن شروع ہونے سے پہلے عمرہ والا کوئی یہاں نہ رہے.
لیکن یہ جمیل فاروقی جیسے م ک ل کو غلط رنگ دینا ہے بس
The Custodian of the Two Holy Mosques @KingSalman and HRH Crown Prince Mohammed bin Salman congratulate President of the Islamic Republic of Pakistan @AAliZardari on his country's National Day.