The torture body found behind Turbat University has been identified as 30-year-old Mah Gul, wife of Saul Muhammad and daughter of Aziz, a resident of Kalag. Family sources said that she was forcibly abducted from her home last night by armed men travelling in a vehicle.
بہاولنگر میں مسلم لیگ ن کے رہنما عدیل افضل نے اپنے خلاف شکایت درج کرانے والی خاتون کو تھانے کے اندر ایس ایچ او کے سامنے تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کا ہاتھ توڑ دیا۔
یہ ہے ہماری ریاست اور قانون کی رٹ جو ان امیروں کے سامنے بے بس ہو چکی ہے!
#مزاحمت_بڑھاؤ_خان_چھڑاؤ
اللہ گواہ ہے میں گھر جا کر سو گیا تھا مجھے صبح چار بجے ایڈمنسٹریشن نے جگایا کہ آپ صرف ایک ایپلیکیشن ڈالیں باقی کام ہمارا ہے میں نے کہا یہ کام ہم سے نہیں ہو سکتا ہر پولنگ اسٹیشن پر آپ کے پولنگ ایجننٹ بیٹھے ہوتے ہیں وہاں سے نعرے لگ جائیں کہ آپ ہار گئے تو پھر آپ کو اگر جتوا دیا جائے تو ایسی جیت کا کیا فائدہ ! جاوید عباسی ۔۔
9/11 is the only time we lost 4 black boxes from the Twin Towers crash
Flight 93 is the only crash in American history that left no aeroplane wreckage
Despite all of this, the FBI recovered 4 passports belonging to terrorists
No passports of other passengers were recovered
Sunday was the first day of school for eight-year-old Wafaa Akila. Wafaa never made it home. She was killed alongside her father by an Israeli strike on their car in western Gaza. Israel says it was targeting a ‘Hamas militant.’
نیازی صاحب نوازشریف کی تعریف کا کوئی سچا واقعہ ڈھونڈ لیں۔ جنرل جہانگیرکرامت اوراورنوازشریف کاتنازعہ چوہدری نثارکےبھائی جنرل افتخارعلی خان کوبطورCGS ایکسٹینشن پرآیا۔ جب ایکسٹینشن نادی گئی اورجنرل افتخارکی جگہ جنرل علی قلی خان CGS بنائے گئے تونوازشریف نےجنرل افتخارکوسیکریٹری دفاع تعینات کردیا۔ جہانگیر کرامت جو جنرل افتخار کے باس تھے اب انکے ماتحت بن گئے تھے۔ اس تنازعے پر جہانگیر کرامت نے استعفی دیا۔۔۔کسی بیان پر نہیں۔
🚨 BREAKING:
UN Special Rapporteur Francesca Albanese:
"My credit card doesn't work, I can't pay or make transfers; my health insurance was canceled, and I can't book hotels. I feel like Pablo Escobar. All because I said, 'Israel is committing genocide in Gaza.'"
اگر آپ نے جلدی بوڑھا ہونا ہے، چہرے پر جھریاں لانی ہیں، اپنے دل گردے جگر پتے کو جلدی ختم کرنا ہے تو ایک کام کیجئے۔ جتنا ہوسکے میٹھی چیزیں کھائیں۔ چینی کھائیں۔ گڑ کھائیں۔ (جعلی) شہد کھائیں۔ آئیس کریم اور کیک کھائیں۔ فریش جوس پیں۔ پیپسی سے لطف اندوز ہوں۔ حلوہ کھائیں۔ کھیر چخیں۔ جلیبیاں نوش جان فرمائیں۔ آپ جلد اپنا ہدف حاصل کر لیں گے۔ اور آسانی سے پندرہ بیس سال آگے چلے جائیں گے۔
دنیا کی مشہور گلوکوز ماہر sugar expert، فرانسیسی بائیو کیمسٹ جیسی انچاوسپے Jessie Inchauspé کی گفتگو کا خلاصہ
یقین کریں مجھے اس کا کوئی اندازہ نہيں تھا کہ میٹھا اتنا تباہ کن ہے۔
😢😢😢😢😢
صرف ایک غلط فیصلے سے 28 سالوں میں پاکستان کا تقریباً دو ہزار ارب روپے کا نقصان ہوا
نواز شریف کا یہ کارنامہ پاکستان کیلئے اربوں کا نقصان ثابت ہوا۔ لاہور اور اسلام آباد کے درمیان موٹرو ے بنائ جسنے دونوں شہروں کے درمیان فاصلہ 100 کلومیٹر زیادہ کر دیا۔ 28سال سے روزانہ تقریباً ایک لاکھ گاڑیوں کو 100 کلومیٹر زیادہ سفر کرنا پڑا۔ 28 سالوں میں تقریباً دو ہزار ارب روپے کی مالیت کا اضافی پٹرول استعمال ہوا۔
اٹھائیس سال کے بعد پتہ چلا کہ موٹر وے ایسے بھی بن سکتی تھی جس سے ایک سو کلومیٹر کا اضافی فاصلہ طے نا کرتا پڑتا۔ نئی موٹر وے لاہور سے سیالکوٹ اور سیالکوٹ سے کھاریاں اور کھاریاں سے راولپنڈی اسلام آباد، جو اب تعمیر ہو رہی ہے۔ اسکا فاصلہ سو کلومیٹر کم ہوگا۔
یاد رہے کہ اُسوقت ڈائیوو کمپنی کا چیرمین جنوبی کوریا میں پانچ سال کیلئے جیل چلا گیا تھا کیونکہ اُس نے پاکستان میں لاہور اسلام آباد موٹروے پر کسی کو کئی ملین ڈالر رشوت دی تھی۔
Everyone can see horizon, few can see beyond…..
Beyond The Horizon with Ahmad Jawad
شوبز کی اداکارہ سعدیہ امام نے روتے ہوے اک ویڈیو مسیج بیان ریکارڈ کرایا ۔انتہای جذباتی کر دینے والا بیان ۔یہ الفاظ نہی اس ملک کے نظام کا نوحہ ہے
میں مر گئی۔ یہ الفاظ کسی نے یونہی نہیں لکھے ہیں۔ یہ الفاظ اس وقت نکلے ہیں جب شوبز سٹار سعدیہ امام ایک ماں نے اپنی سکرین پر وہ رپورٹ پڑھی جس میں ایک معصوم بچی کی دونوں ٹانگوں کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں۔
کتنا وحشی ہوگا وہ انسان جس نے یہ کیا۔ کتنا جانور ہوگا وہ جسم جو انسان کہلاتا ہے مگر انسانیت اس میں کہیں باقی نہیں بچی۔
گجرات میں ایک چار سالہ بچی۔ بھکر میں ایک معذور بچی۔ چکوال میں ایک پیر کے ہاتھوں ایک کمسن بیٹی۔ راولپنڈی میں بارہ برس کی ایک زندگی۔ میاں چنوں میں آٹھ برس کی ایک مسکراہٹ۔ منڈی بہاؤالدین میں ایک سولہ سالہ بیٹا۔
یہ صرف نام نہیں ہیں۔ یہ وہ بچے ہیں جو صبح سکول جانے کے لیے تیار ہوتے تھے۔ یہ وہ بچیاں ہیں جو اپنی ماں کے ساتھ لپٹ کر سوتی تھیں۔
اور ہم کہتے رہے کہ ریاست ماں ہے۔ ریاست ہمیں بچائے گی۔ مگر ریاست کہاں ہے۔
پمز ہسپتال میں آگ بھڑکی۔ بچے جل کر مر گئے۔ اور کسی ڈاکٹر کسی نرس کو ایک آنچ تک نہ آئی۔ یہ سوال میڈیا پوچھتی رہی۔ یہ سوال ایک ماں کا دل پوچھتا رہا۔ کوئی جواب نہیں آیا۔
زینب سے نور مقدوم تک۔ آیت النور سے ان گنت گمنام بچیوں تک۔ کتنے مجرموں کو سزا ملی۔ کوئی گنتی نہیں۔ کوئی فیصلہ وقت پر نہیں ہوتا۔ کوئی سزا سرعام نہیں ہوتی۔ اور مجرم جانتا ہے کہ اسے سزا نہیں ملنی۔ پیسہ چلے گا تو راستہ نکل آئے گا۔ تو وہ پھر وہی کرے گا۔
میں ایک ماں ہوں۔ میں ہاتھ جوڑتی ہوں۔ میرا دل اس وقت پھٹ رہا ہے۔اس ماں پر کیا گزرتی ہو گی جو اپنی بچی کا خون سے لت پت پمپر دیکھا ہو گا کسی نے ٹوٹی ہوی ہڈیاں دیکھی ہو گی ۔
دنیا اپنی رفتار سے چلتی رہے گی۔ ایوارڈ شوز چلیں گے۔ محفلیں سجیں گی۔ مگر ایک بات ہمیں کہنی ہوگی۔ کیونکہ ہم سب سے پہلے کسی کی بیٹی ہیں۔ کسی کی بہن ہیں۔ کسی کی ماں ہیں۔
اور خاموشی اب گناہ بن چکی ہے۔ جو خاموش ہے وہ بھی برابر کا شریک ہے۔ جس نے دیکھا اور کچھ نہ بولا وہ بھی شریک ہے۔ جس نے چھپایا وہ سب سے بڑا مجرم ہے۔
آج ایک پولیس افسر کی بیوی ڈمبل اٹھا کر ایک کمزور عورت کو مارتی ہے۔ اور کہتی ہے کہ نظام میرا ہے۔ طاقت میری ہے۔ قانون میرے ہاتھ میں ہے۔ قانون کہاں چلا گیا۔ انصاف کہاں چلا گیا۔
ہمارے حکمران اپنے علاج کے لیے لندن جاتے ہیں۔ جرمنی جاتے ہیں۔ امریکہ جاتے ہیں۔ اور عام آدمی سرکاری ہسپتال کی دہلیز پر دم توڑ دیتا ہے۔
اگر ایک قانون بن جائے کہ ہر وزیر اپنے ہی شہر کے سرکاری ہسپتال میں علاج کروائے۔ ہر وزیر کے بچے اسی ہسپتال میں پیدا ہوں۔ تو شاید ہسپتال بھی بدل جائیں۔ شاید نظام بھی بدل جائے۔
ہم اپنے بچوں کو کیا سکھا رہے ہیں۔ کیا ہم نے اپنی بیٹی کو سکھایا کہ غلط کے خلاف آواز اٹھانی ہے۔ کیا ہم نے اپنے بیٹے کو سکھایا کہ کسی لڑکی کو تکلیف میں دیکھ کر آگے بڑھنا ہے۔ یا ہم نے صرف موبائل نکالنا اور ویڈیو بنانا سکھایا ہے۔
آج کسی اور کی بیٹی کا ذکر آسان لگتا ہے۔ مگر یہ آگ کسی کے بھی گھر تک پہنچ سکتی ہے۔ اللہ نہ کرے یہ درد کسی اور ماں کے حصے میں آئے۔
جس ماں نے اپنی بچی کا پیمپر کھولا اور خون میں لتھڑا جسم دیکھا۔ جس ماں نے اپنی بیٹی کی ٹوٹی ہوئی پسلیاں دیکھیں۔ اس دل پر کیا گزری ہوگی۔
ہم کہاں جا رہے ہیں۔ ہم کون ہیں۔
خدا کے واسطے اپنے بچوں کی تربیت کریں۔ خدا کے واسطے مجرموں کو سزا دیں۔ سرعام سزا دیں۔ ایک ہفتے میں انصاف ہو۔ ورنہ لوگ خود انصاف کرنے نکلیں گے۔ اور جب لوگ خود انصاف کرنے نکلتے ہیں تو وہاں سے فساد شروع ہوتا ہے۔
یہ ملک لا الہ الا اللہ کہہ کر بنا تھا۔ اس کی بنیاد میں انصاف تھا۔ ہاتھ کے بدلے ہاتھ۔ جان کے بدلے جان۔ آنکھ کے بدلے آنکھ۔ یہ اصول کہاں کھو گئے۔
سوشل میڈیا کھلا ہے۔ بغیر کسی حد کے۔ بغیر کسی عمر کی قید کے۔ پوری دنیا میں اس پر قانون ہے۔ ہمارے یہاں کیوں نہیں۔
اب بس۔ اب مزید برداشت نہیں۔ ایک ماں کے ہاتھ جڑے ہیں۔ ایک قوم کا دل ٹوٹا ہوا ہے۔
خدا کے واسطے اب کوئی تو جاگے۔ خدا کے واسطے اب کوئی تو بولے۔ کیونکہ خاموشی اب سب سے بڑا گناہ بن چکی ہے
۔
ہر انسان اس پوسٹ ایک فرض کے طور اپنے عزیز و اقارب سے لازمی شیئر کرتے جائیں ۔
بریکنگ نیوز
غیرملکی کرنسی میں پنشن لینے والے ریٹائرڈ افسران کے نام سامنے آگئے
ڈالرز میں ماہانہ پنشن لینے والے تمام ریٹائرڈ افسران بیرون ملک مقیم ہیں
ہم انویسٹی گیشن ٹیم نے وزارت خارجہ سے تمام افسران کی فہرست حاصل کرلی
ان افسران کو پچھلے پانچ سال میں پاکسانی 34 کروڑ روپے کے برابرکی رقم ادا کی گئی، سرکاری دستاویزات
پاکستانی سفارتخانوں نے ان افسران کو پنشن کی ادائیگی کی
افسران امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، آسٹریلیا اور یورپی ممالک میں مقیم ہیں
گیارہ افسران کو واشنگٹن میں ساڑھے تیرہ کروڑروپے کی ادائیگی کی گئی ہے، دستاویزات
دس افسران کو نیویارک میں دس کروڑروپے کی ادائیگی کی گئی ہے، دستاویزات
چار افسران کوآسٹریلیامیں ڈھائی کروڑروپے کی ادائیگی کی گئی ہے، دستاویزات
باقی آٹھ افسران دوسرے ممالک میں تین کروڑروپے کی ادائیگی کی گئی ہے، دستاویزات
زیادہ ترافسران بیس یا تیس سال پہلے ریٹائرڈ ہوئے تھے
ڈالرز میں پنشن لینے والوں سابق سفیرولی اللہ خان کی فیملی شامل ہے، دستاویزات
سابق سائفرافسران نجمہ عابدہ اورقریشہ بیگم کے خاندان بھی ڈالرز میں پنشن وصول کرتے ہیں
نسیمہ یونس کی فیملی اوٹاوا میں پنشن لیتی ہے، دستاویزات
سابق ڈی جی مسمات شمیم خالد بھی غیرملکی کرنسی میں واشنگٹن میں پنشن وصول کرتی ہیں
سابق ڈپٹی اے جی پی اللہ ریحام نیویارک میں پنشن لیتے ہیں، دستاویزات
دوسرے افسران میں سلامت نور، مسمات لیاقت، اعجاز احمد، محمد رمضان، شیرین رحمت اللہ اور مسمات عینی شفقت شامل ہیں
جتنے مسلمان پہلی دوسری جنگ عظیم میں ہندوستانی مسلمانوں نے مارے اتنے شاید ہی کسی نے مارے ہوں۔
جتنے فلسطینی پاکستانی فوج نے مارے ہیں یہودیوں نے بھی نہیں مارے ہوں گے 36 ہزار تو صرف جنرل ضیاء الحق نے مروائے۔
جتنے بنگالی پاکستانی فوج نے مارے اتنے تو بھارت نے نہیں مارے۔
جتنے افغانی پاکستانی فوج نے مارے اتنے نیٹو افواج نے بھی نہیں مارے۔
جتنے پشتون، بلوچ پاکستانی فوج نے مارے اتنے ڈرون حملوں سے بھی نہیں مرے۔
جتنے سندھی، مہاجر پاکستانی فوج نے مارے بھارت نے بھی نہیں مارے۔
جتنے پنجابی پاکستانی فوج نے مارے کسی دشمن نے نہیں مارے۔
اب جتنے کشمیری پاکستانی فوج نے مارے بھارت سے دوسرے نمبر پر آ گئے ہیں۔
لکھ دی لعنت 🖐️
> 18 اگست سپریم کورٹ فیصلہ دیتی ہے کہ عمران خان کو دو دنوں میں شفا ہسپتال منتقل کیا جائے۔
> حکومت ایک دن میں تمام قواعد و ضوابط معطل کرتے ہوئے 20 اگست کو چیف آف ڈیفنس سٹاف کو کو آرمی نیوی اور ایئرفورس کے افسروں کو برطرف کرنے ریٹائر کرنے مدت ملازمت و مدت ریٹائرمنٹ میں توسیع دینے یا کمی کرنے کے لامحدود اختیارات کا بل پاس کرتی ہے۔
> 20 اور 21 اگست کی رات حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے کا مذاق اڑاتے ہوئے عمران خان کو پمز ہسپتال کا چکر لگوا کر واپس اڈیالہ پہنچا دیتی ہے۔
> اب سپریم کورٹ کے فاضل تین ججوں کے رد عمل سے واضح ہوجائے گا کہ فاضل ججز نے فیصلہ ائین و قانون کے تقاضوں کے مطابق دیا تھا یا چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے اختیارات میں لامحدود اختیارات کا بل پاس کرنے کی سہولت کاری کی گئی تھی۔ تاکہ حکومت کو عمران خان کا خوف دلا کر راتوں رات بل پاس کروایا جا سکے۔