@FHF_org
"To establish, maintain, run, manage and administer aid programmes providing relief and help to the needy, the poor and the destitute, undertake charitable and philanthropic activities for benefit of mankind and work for alleviation of human sufferings from catastrophes"
رسولِ اکرم ﷺ جب رات کے پُرسکون لمحات میں تہجد کے لیے قیام فرماتے تو اپنے ربّ کے حضور یہ جامع اور ایمان افروز دعا عرض کرتے:
«اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيَّامُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، أَنْتَ الْحَقُّ وَوَعْدُكَ الْحَقُّ وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، أَنْتَ إِلَهِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ»
ترجمہ
اے اللہ! تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں، تو آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔
تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں، تو آسمانوں اور زمین کو قائم رکھنے والا ہے۔
تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں، تو آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب کا رب ہے۔
تو ہی حق ہے، تیرا وعدہ حق ہے، تیری ملاقات حق ہے۔
جنت حق ہے، جہنم حق ہے، قیامت حق ہے۔
اے اللہ! میں نے اپنے آپ کو تیرے سپرد کیا، تجھ پر ایمان لایا، تجھ پر توکل کیا، تیری طرف رجوع کیا، تیرے ہی لیے جدوجہد کی اور تیرے ہی حضور فیصلہ پیش کیا۔
پس میرے اگلے اور پچھلے، پوشیدہ اور ظاہر، تمام گناہ معاف فرما دے۔
تو ہی میرا معبود ہے، تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔
حوالہ : یہ مبارک دعا جامع الترمذی (حدیث: 3418) میں مروی ہے، اور اس کے الفاظ دیگر کتبِ حدیث میں بھی منقول ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“اللہ تعالیٰ اس شخص کو تروتازہ رکھے جس نے میری کوئی حدیث سنی اور اسے آگے پہنچا دیا، کیونکہ بسا اوقات جس تک حدیث پہنچتی ہے وہ سننے والے سے زیادہ فہم رکھنے والا ہوتا ہے۔”
یہ حدیث سنن ابن ماجہ (حدیث: 232) میں روایت کی گئی ہے۔
یہ دعا بندگی، یقین، توکل اور مغفرت کی کامل تصویر ہے۔
تہجد کے لمحات میں اسے پڑھنا دل کو نورِ ایمان سے منور کر دیتا ہے اور بندے کو اپنے رب سے قریب کر دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اس دعا کو سمجھ کر پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اللہ پر بھروسہ کرو!*
نبی ﷺ نے فرمایا:
*اگر تم لوگ ال��ہ پر توکل (بھروسہ) کرو جیسا کہ اس پر توکل (بھروسہ) کرنے کا حق ہے تو تمہیں اسی طرح رزق ملے گا جیسا کہ پرندوں کو ملتا ہے کہ صبح کو وہ بھوکے نکلتے ہیں اور شام کو آسودہ واپس آتے ہیں*
ترمذی : 2344 (حسن)
اللہ پر بھروسہ کرو!*
نبی ﷺ نے فرمایا:
*اگر تم لوگ اللہ پر توکل (بھروسہ) کرو جیسا کہ اس پر توکل (بھروسہ) کرنے کا حق ہے تو تمہیں اسی طرح رزق ملے گا جیسا کہ پرندوں کو ملتا ہے کہ صبح کو وہ بھوکے نکلتے ہیں اور شام کو آسودہ واپس آتے ہیں*
ترمذی : 2344 (حسن)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
اگر کوئی شخص جھوٹ بولنا اور دغا بازی کرنا ( روزے رکھ کر بھی ) نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے ۔
(صحیح البخاری : 1903)
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
جس نے رمضان کے روزے ایمان اور احتساب کے ساتھ رکھے، اُس کے گزشتہ گناہ بخش دیئے گئے.
بخاری 38
(مسلم 1781؛ ترمذی 683؛ ابوداؤد 1272؛ نسائی 2205 - 2207؛ ماجہ 1641)
اوکاڑہ نواحی گاؤں کی مسجد کے لئے مندرجہ ذیل قاعدے نماز کی کتب اور دینی کتب کی ضرورت ھے مدنی قاعدے 100 عددنماز مترجم مولانا محمد شفیع اوکاڑوی صاحب کی 100 عدد احیاءالعلوم مکمل سیٹ دو عدد امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کی جامع الا حادیث ا��ام جلال الدین سیوطی کی مکمل سیٹ دو عدد
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
جو شخص ایمان و اخلاص اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے، تو اُس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں،
مشکوٰۃ 1958
(بخاری 2014، 1901؛ مسلم 1781؛ ترمذی 683؛ ابوداؤد 1372؛ نسائی 5030؛ دارمی 1817؛ حبان 3682؛ مسند احمد 7278، 10121، 10544)
﷽
قسم ہے فجر کے وقت کی،
اور دس راتوں کی،
اور جفت کی اور طاق کی،
اور رات کی جب وہ چل کھڑی ہو (کہ آخرت میں جزا و سزا ضرور ہوگی)
ایک عقل والے ( کو یقین دلانے ) کے لیے یہ قسمیں کافی ہیں کہ نہیں؟
(سورۃ الفجر : 1،5)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اللہ پاک فرماتا ہے کہ انسان کا ہر نیک عمل خود اسی کے لیے ہے مگر روزہ کہ وہ خاص میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔
(صحیح بخاری، ۱۹۰۴)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پسندیدہ اور پاکیزہ ہے۔
(صحیح بخاری، ۱۸۹۴)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
روزہ دار کو دو خوشیاں حاصل ہوں گی ( ایک تو جب ) وہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور ( دوسرے ) جب وہ اپنے رب سے ملاقات کرے گا تو اپنے روزے کا ثواب پا کر خوش ہو گا۔
(صحیح بخاری، ۱۹۰۴)