ایلون مسک کے نت نئے تجربات نے ایکس (ٹوئٹر) کو ایک خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ سوشل میڈیا کی اصل طاقت اس کا Network Effect ہوتی ہے، یعنی یوزرز کی مسلسل سرگرمی، آزادانہ اظہار اور باہمی تعامل۔ مگر نان ویریفائیڈ صارفین پر ٹویٹ، ری ٹویٹ اور کمنٹس کی سخت پابندیاں دراصل اسی بنیاد پر ضرب ہیں۔
جب کسی پلیٹ فارم کے زیادہ تر صارفین خود کو “سیکنڈ کلاس ممبر” محسوس کرنے لگیں تو ان کی دلچسپی، وابستگی اور اعتماد تیزی سے ختم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ایکس پر بڑھتی ہوئی بے زاری واضح دکھائی دینے لگی ہے۔
یہ درست ہے کہ ایکس ایک بہت بڑا پلیٹ فارم ہے اور ایسے دیو ہیکل ادارے ایک دن میں نہیں گرتے، مگر سوشل میڈیا کی دنیا میں زوال کی رفتار پہلی ٹھوکر کے بعد بہت تیز ہو جاتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ MySpace اور Orkut جیسے طاقتور پلیٹ فارمز بھی صارفین کی ناراضگی، ناقص فیصلوں اور بدلتے رجحانات کے باعث دیکھتے ہی دیکھتے ماضی کا قصہ بن گئے۔
ممکن ہے ان پابندیوں کا مقصد پریمیم سبسکرپشن سے زیادہ آمدنی حاصل کرنا ہو، لیکن جب 80 فیصد سے زائد صارفین خود کو محدود، غیر اہم اور نظر انداز محسوس کریں گے تو وہ آہستہ آہستہ اس پلیٹ فارم سے دور ہونا شروع ہو جائیں گے۔
اور جس دن صارفین کی اکثریت بوریت اور مایوسی کے باعث یہ فورم چھوڑنے لگی، اُس دن سوشل میڈیا کا یہ برجِ خلیفہ بھی ریت کی دیوار کی طرح زمین بوس ہونے میں زیادہ وقت نہیں لے گا۔
@elonmusk
قیدی نمبر 804 دی نظر دوہڑہ
کُجھ دیر اے "راز" اندھیر تے نہی بڑی جلد کرشمے ظاہر ہوسن✊
محتاج ہوسن 45 دے جیہڑے 47 دے ماہر ہوسن۔۔۔
ترمیم دی وت ترمیم ہوسیں نویں "راز"مقدمے دائر ہوسن ۔۔۔
ہک بندہ جیل چوں باہر آسیں کئی بندے ملک تو باہر ہوسن✌️
عمران خان زندہ باد 🇧🇫