آج راولپنڈی واقع والے تاریک انتشار کے دہشت گرد کی ایک اور وڈیو منظر عام پر جہاں وہ تیراہ میں سہیل شاہ رنگیلا کے چرس کے کھیتوں کا معائنہ کر رہا ہے
یہ سہیل رنگیلے کا کارخاص تھا جو ان کی گندی سیاست کی بھینٹ چڑھ گیا
🟥🔴ایرانی جنرل محمد رضا نقدی نے کہا ہے کہ ایران بیلسٹک میزائل اس رفتار سے تیار کر رہا ہے جو ان کے استعمال کی رفتار سے کہیں زیادہ ہے، جبکہ ڈرونز کی پیداوار بھی ان کے میدانِ جنگ میں استعمال سے کئی گنا زیادہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر جنگ کئی سال تک بھی جاری رہی تو ایران کے پاس بیلسٹک میزائلوں کی اتنی پیداوار موجود رہے گی کہ وہ مسلسل دشمن پر برسائے جا سکیں۔
خبر یہ ھے سپریم کورٹ ججز کی ماہانہ تنخواہ و مراعات 10 دسمبر 2025 سے بڑھا دی گئی ہیں ۔ مطلب نو مہینوں کا بقایاجات بھی ملے گا اب فرض کیجیے تنخواہ دس لاکھ بڑھی تو ہر جج کو نوے لاکھ روپے ملیں گے ہمارے وزیروں اور چیئرمین سینٹ اور سپیکر کی تنخواہ بھی آٹھ مہینے پیچھے سے بڑھائی کروڑوں کے بقایاجات بیرون قرضہ حاصل کر کے ادا کئے گئے
نا اس پر آئی ایم ایف کو اعتراض ہوا نا ان سے منظوری لینی پڑی
سابق وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کی صاحبزادی اور جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کی پروفیسر ڈاکٹر نگہت شاہ کو ریٹائر ہونے سے محض ایک روز قبل صوبائی کابینہ کے فیصلے کی روشنی میں 3 برس کے لیے پروفیسر مقرر کرنے کی ہدایت کردی گئی۔
اس سلسلے میں سیکرٹری بورڈز و جامعات عباس بلوچ نے باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا ہے ۔ تاہم دلچسپ امر یہ ہے کہ جس پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم اینڈ ڈی سی) کے نوٹیفکیشن کو اس تقرری کی بنیاد بنایا گیا ہے، اسی نوٹیفکیشن میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ریٹائرڈ فیکلٹی کی کنٹریکٹ پر خدمات حاصل کرنے کی اجازت محض “enabling in nature” یعنی سہولت فراہم کرنے والی ہے، اسے کسی ادارے پر لازمی یا پابند کرنے والا حکم تصور نہیں کیا جائے گا اور متعلقہ ادارہ اپنی ضرورت، قواعد، ضوابط اور وسائل کے مطابق خود فیصلہ کرنے کا مجاز ہوگا۔
نوٹیفکیشن میں 5 اگست کو ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس کے ایجنڈا آئٹم نمبر 16 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کابینہ نے ’’وسیع تر عوامی مفاد‘‘، خصوصی طبی خدمات کے تسلسل، اکیڈمک لیڈرشپ، پوسٹ گریجویٹ میڈیکل ایجوکیشن، تحقیق، جدت اور ادارہ جاتی معیار کو یقینی بنانے کے لیے وائس چانسلر کو ہدایت کی ہے کہ ڈاکٹر نگہت شاہ کو 3 سال کے لیے جے ایس ایم یو میں پروفیسر مقرر کرنے پر غور کیا جائے۔
تاہم خط کے اگلے ہی حصے میں ’’غور کرنے‘‘ کی عبارت عملاً باقاعدہ ہدایت میں تبدیل ہوگئی ہے اور وائس چانسلر کو کہا گیا ہے کہ وہ پروفیسر ڈاکٹر نگہت شاہ کی 3 سال کے لیے بطور پروفیسر تقرری کے لیے فوری ضروری کارروائی کریں۔
مزید یہ کہ کابینہ کے فیصلے پر ’’بلا تاخیر، من و عن‘‘ عملدرآمد اور کارروائی کی رپورٹ ترجیحی بنیادوں پر محکمہ جامعات و بورڈز کو فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
دوسری جانب اس تقرری کے لیے حوالہ بنائے گئے پی ایم اینڈ ڈی سی کے 19 مئی 2026 کا نوٹیفکیشن کا متن حکومتی ہدایت کے حوالے سے اہم سوالات اٹھاتا ہے۔
پی ایم اینڈ ڈی سی نے سرکاری میڈیکل و ڈینٹل اداروں کو 65 سال کی عمر تک ریٹائرڈ فیکلٹی کی خدمات خالصتاً کنٹریکٹ بنیادوں پر حاصل کرنے کی اجازت دی تھی، مگر ساتھ ہی واضح کیا تھا کہ یہ فیصلہ کسی ادارے کے لیے لازمی نہیں ہوگا۔
پی ایم اینڈ ڈی سی کی سرکاری ویب سائٹ بھی 19 مئی 2026 کو سرکاری میڈیکل و ڈینٹل اداروں سے متعلق اس پبلک نوٹس کے اجرا کی تصدیق کرتی ہے۔
پی ایم اینڈ ڈی سی کے نوٹیفکیشن میں یہ بھی دوٹوک طور پر درج ہے کہ ریٹائرڈ فیکلٹی کی ایسی تقرری سے مستقل تقرری، سینیارٹی یا ملازمت میں مستقل انضمام کا کوئی حق حاصل نہیں ہوگا، جبکہ اس اقدام سے جونیئر فیکلٹی کی ترقی کے امکانات، کیریئر پروگریشن یا کیڈر اسٹرکچر بھی متاثر نہیں ہونا چاہیے۔
نوٹیفکیشن سے یہ سوال بھی سامنے آیا ہے کہ جب پی ایم اینڈ ڈی سی نے فیصلہ کرنے کا اختیار متعلقہ یونیورسٹی پر چھوڑ رکھا ہے تو ایک مخصوص ریٹائرڈ فیکلٹی رکن کی تقرری کا معاملہ صوبائی کابینہ تک کیوں لے جایا گیا اور کابینہ کی جانب سے ایک مخصوص نام کے لیے فوری کارروائی اور عملدرآمد رپورٹ طلب کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ بالخصوص پی ایم اینڈ ڈی سی کا نوٹیفکیشن کسی مخصوص فرد کی تقرری کا حکم نہیں دیتا بلکہ تمام سرکاری میڈیکل و ڈینٹل اداروں کے لیے عمومی پالیسی کی حیثیت رکھتا ہے۔
نگہت شاہ کی تقرری سے ایسوسی ایٹ پروفیسر ے ڈاکٹر شازیہ نصیب، ڈاکٹر نسرین فاطمہ، ڈاکٹر صبا خان، ڈاکٹر ارم ماجد اور ڈاکٹر میمونہ رحمان کی سنیارٹی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
شاہ محمود قریشی وفات پاگئے ہیں
یاسمین راشد اب ہم میں نہیں ہیں
عمران خان بھی وفات پاچکے ہیں
ناظرین یہ ہے وہ پروپیگنڈہ ڈس انفارمیشن فیک نیوز جسے عمران خان کی جماعت پھیلا رہی ہے اور مقصد صرف ویوز حاصل کرنا اور وی لاگ ذریعے یوٹیوب سے ڈالروں کی بوچھاڑ ہے اور اس گولے پر جتنے بھی کلٹ ماضی قریب میں وقوع پذیر ہوئے ہیں ان زومبیز نے کلٹ کے اختتام پر اپنے ہی گرو کی لاش کے ساتھ ہمیشہ یہی سلوک روا رکھا ہے۔ خان جی جو چکر دئیے تھے وہ واپس تشریف لارہے ہیں
گلبرگ کراچی کا واقعہ بتایا جارہا ہے جہاں نوجوان پر تشدد کیا جارہا ہے جس پر لڑکی سے چھیڑ چھاڑ کا الزام ہے جس سے وہ ویڈیو میں انکار کررہا ہے۔
امید ہے پولیس اس واقعے میں ملوث ان تمام افراد کو لڑکے سمیت گرفتار کرکے حقائق سامنے لائے گی۔
لنک
https://t.co/PCIRnhwx8j
*یورپ میں:*
چار مہینے بعد پہلا الٹراساؤنڈ ہوتا ہے۔ اگر والدین چاہیں تو بچے کی جنس بھی بتا دی جاتی ہے۔
ڈیلیوری کے وقت شوہر بیوی کا ہاتھ تھامے پاس کھڑا ہوتا ہے۔ کمرے میں ایک دو نرسیں ہوتی ہیں۔ کوئی درد کی دوا زبردستی نہیں دی جاتی۔ عورت درد سے گزرتی ہے اور نرس صرف حوصلہ دیتی ہے: "بس تھوڑا صبر"۔
%99 ڈیلیوری نارمل ہوتی ہے۔ نہ پہلے انجیکشن، نہ بعد میں۔
بچہ پیدا ہوتے ہی ناف باپ کے ہاتھ سے قینچی سے کٹتی ہے۔ بچے کو فوراً ماں کے سینے سے، بغیر کپڑے کے لگایا جاتا ہے تاکہ ماں کا جسم اس کا درجہ حرارت سنبھالے۔
پہلے دن سے صرف ماں کا دودھ۔ ماں اور بچے دونوں کو کوئی دوا نہیں، سوائے پیدائش کے فوراً بعد لگنے والے ایک حفاظتی ٹیکے کے۔
اور سب سے بڑی بات: حمل کے پہلے دن سے ڈیلیوری تک سب فری۔ ڈیلیوری کے بعد بچے کی پرورش کے لیے حکومت کی طرف سے امداد شروع۔
*پاکستان میں:*
لیڈی ڈاکٹر آتے ہی کہتی ہے: "یہ پہلی پریگنینسی ہے، کیس رسکی ہے، جان کا خطرہ ہے۔ آپریشن کرنا پڑے گا۔"
%99 کوش یہی ہوتی ہے کہ نارمل کیس کو آپریشن میں بدل دیا جائے۔
ڈیلیوری سے پہلے اور بعد میں دوائیاں کلو کے حساب سے۔
ڈیلیوری کے وقت شوہر تو دور، ماں بہن کو بھی اندر جانے کی اجازت نہیں۔ اندر کیا ہوتا ہے، یہ بس اللہ جانتا ہے اور وہ عورت۔
نارمل ڈیلیوری 20 سے 30 ہزار۔
آپریشن 1 لاکھ سے 3 لاکھ ۔
تو بھلا ڈاکٹر نارمل کیوں کرے؟ اس کے بھی تو خرچے ہیں۔ بچوں نے اچھے اسکول جانا ہے، نئی گاڑی لینی ہے، بڑا گھر بنانا ہے۔
اسلام کہاں گیا؟ انسانیت کہاں گئی؟ سچ کی قیمت کیا ہے؟
بس پیسہ۔
ہمیں سکھایا گیا کہ ڈاکٹر مسیحا ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ صحت کا شعبہ اب پاکستان کی سب سے بڑی مافیا بن چکا ہے۔ جہاں مریض نہیں، صرف گاہک ہوتا ہے۔ جہاں دین، اخلاق اور انسانیت سب بیچ دیے جاتے ہیں۔.......
🚨 بھارت کے اتر پردیش میں تین مسلم خواتین کو بجرنگ دل کے ارکان نے اُس وقت تشدد کا نشانہ بنایا جب وہ اپنی ہی گائے گھر لے جا رہی تھیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ حملہ ’’گؤ رکشا‘‘ کے نام پر کیا گیا۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر مملکت نے سپریم کورٹ کے ججز کی تنہواہ مراعات پینشن میں اضافے کی منظوری دی
ہر جج کی تنہواہ میں 5 لاکھ کا اضافہ دسمبر 2025 کی تاریخ سے ہوا
عوام کے لئے 1.70 روپے پیٹرول سستا
مورخ آج کی تاریخ لکھتے ہوئے پوچھے گا قائد نے اس دن کے لئے آزادی دلائی تھی ؟
ن لیگی ورکر نے غصے میں آ کر ایک گاڑی کا شیشہ توڑا تھا تو "گلو بٹ" پورے پاکستان میں مشہور ہوا، کئی برس جیل رہا اور پھر کبھی صحتمند نہ ہو سکا، وفات پا گیا۔
گھڑی چور پارٹی کا دھشتگرد باقاعدہ فوج پر حملہ آور ہوا لیکن اب تک سب صحافی نئی نئی توجیحات گھڑ رہے
یہ رہا آج راولپنڈی مال روڈ میں سکیورٹی فورسز پر فائرنگ کرنے والے کا ٹک ٹاک اکاونٹ!
مشعال یوسفزئی، صنم جاوید، علی امین گنڈاپور، اپنے بچے کو بلیو پاسپورٹ پر فرار کروانے والے اقبال آفریدی سب کے ساتھ ویڈیوز موجود ہیں۔
ان نوجوانوں کا ذہن گندا کرنے میں عمران ریاض جیسوں کا کردار ہے۔
@junaidraza01 اسوقت سب سے اہم چیز قاتلوں کی گرفتاری ہے۔ اور انکی سزا۔ زیادہ میڈیا ٹاک اس کیس کو کمزور بھی کرسکتے ہیں۔ یہ بات وکلاء زیادہ بہتر جانتے ہیں۔
پاکولا کی ڈیڑھ لیٹر والی پانی کی بوتل لینے کے بعد جب میں نے 500 روپے دیے اور بقایا میں صرف سو سو کے نوٹوں کے ساتھ ایک 20 روپے کا نوٹ دیکھا تو میں تھوڑا سا چونک گیا۔
میرے ذہن میں فوراً خیال آیا کہ کیا ایک سرکاری ہسپتال میں عام طور پر 100 سے 120 روپے میں ملنے والی پانی کی بوتل 180 روپے میں دی جا رہی ہے؟
میں نے ذرا حیرت سے پوچھا تو دکاندار نے بتایا:
"نہیں جناب، 180 کی نہیں… صرف 80 روپے کی دی ہے۔"
اس بار حیرت کا جھٹکا پہلے سے کچھ زیادہ زور سے لگا۔
عام طور پر کسی سرکاری ہسپتال، ریلوے اسٹیشن یا تفریحی مقام پر 120 روپے کی چیز 180 میں مل جائے تو دکھ تو ہوتا ہے، لیکن حیرت نہیں ہوتی۔ موٹروے پر تو آدمی قیمت پوچھنے سے پہلے ہی اپنے دل کو سمجھا لیتا ہے کہ "چلو، مجبوری ہے!"
لیکن یہاں معاملہ الٹ تھا۔
120 روپے کی ملنے والی پانی کی بوتل 80 روپے میں!
پانی لے کر میں تو آگے چلا گیا، مگر یہ حیرت میرے ساتھ چلتی رہی۔ آخرکار واپس پلٹا اور کراچی کے فیڈرل بی ایریا میں واقع کراچی انسٹیٹیوٹ آف کڈنی ڈیزیزز کے ہسپتال میں موجود اسی کینٹین پر دوبارہ پہنچ گیا۔
میں نے دکاندار سے پھر پوچھا:
"بھائی، واقعی آپ نے مجھے 120 روپے والی بوتل 80 روپے میں دی ہے؟"
اس نے بہت سادگی سے جواب دیا:
"جی، یہ ہمارے سیٹھ کی ہدایات ہیں کہ ہر چیز کی قیمت کم رکھنی ہے۔ اور اگر کوئی شخص بہت غریب محسوس ہو یا خود کہے کہ اس کے پاس پیسے نہیں ہیں تو اسے جو چیز چاہیے، فی سبیل اللہ بھی دے سکتے ہیں۔"
بس… اس جواب نے مجھے خاموش کر دیا۔
میں آج یہاں ایک مریض کی عیادت کے لیے آیا تھا۔ ہسپتال کی فضا، مریضوں کے چہرے، پریشانی، بیماری اور لوگوں کی بے بسی کے درمیان انسان کا دل ویسے ہی بوجھل ہوتا ہے، لیکن اس چھوٹی سی بات نے دل میں ایک عجیب سی خوشی اور اطمینان پیدا کر دیا۔
کینٹین میں چائے صرف 30 روپے کی تھی، چکن بریانی کا ایک پاؤ 80 اور سموسہ 20 روپے کا تھا اور باقی چیزیں بھی عام مارکیٹ کے مقابلے میں مناسب اور کم قیمت پر دستیاب تھیں۔
ہم اکثر سوشل میڈیا پر بڑے بڑے فلاحی کاموں کی تصاویر دیکھتے ہیں، لیکن کبھی کبھی انسانیت کسی بڑے بینر، اشتہار یا اعلان کی صورت میں نہیں بلکہ 20 روپے کے سموسے، 30 روپے کی چائے اور 80 روپے کی پانی کی بوتل کی شکل میں سامنے آتی ہے۔
آج اس کینٹین سے صرف پانی کی بوتل نہیں خریدی، بلکہ ایک چھوٹا سا یقین بھی ساتھ لے کر نکلا ہوں:
انسانیت ابھی زندہ ہے۔ ❤️
اللہ اس سوچ کے مالک کو، اس کے کاروبار کو اور اس نیکی میں شریک ہر شخص کو برکت دے۔ آمین۔ 🤲
✍️ حافظ طاہر