کیا آپ یقین کریں گے کہ سمندر کے بیچ ایک قدرتی راستہ دو جزیروں کو آپس میں ملا دیتا ہے؟
وینزویلا کے لاس روکیس نیشنل پارک میں واقع موسیز پاس قدرت کا ایک ایسا سحر انگیز شاہکار ہے، جہاں سمندر کے عین وسط میں ریت کی ایک قدرتی پٹی دو خوبصورت جزیروں کو آپس میں ملاتی ہے۔
یہاں آنے والے سیاحوں اور مقامی لوگوں نے اس راستے کی حیرت انگیز بن��وٹ اور بصری مماثلت کی وجہ سے اسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سمندر پار کرنے کے معجزے سے منسوب کر رکھا ہے۔ کم لہروں کے دوران جب یہ چمکتی ہوئی سفید ریت پانی سے اوپر ابھرتی ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے سمندر دو حصوں میں تقسیم ہو گیا ہو اور انسان پانی کی لہروں کے بیچوں بیچ خشک زمین پر چل رہا ہو۔
کیریبین کے شفاف اور فیروزی پانی کے عین درمیان واقع یہ مقام دنیا بھر کے مہم جوؤں اور فطرت کے شیدائیوں کے لیے کسی جنت سے کم نہیں۔
مشکلات سے نہ گھبرا، تو ایک چٹان ہے
تیرے اندر چھپا، اک نیا آسمان ہے
گرتے ہیں شہسوار ہی میدانِ جنگ میں
ہر ہار کے بعد ہی، جیت کا نشان ہے
یہ کٹھن راستے تو تجھے پرکھنے آئے ہیں
تیری ہمت ہی تیری، اصل پہچان ہے
تاریک رات کے بعد ہی تو سحر ہوتی ہے
تپ کر ہی کندن بنتا، ہر انسان ہے
اٹھ، کمر کس اور مسکرا کے آگے بڑھ
تیرے پکے عزم کے آگے، ہر مشکل آسان ہے
کراچی ڈیفنس میں خاتون پر چوری کا الزام لگا کر پولیس کی مدد سے تشدد کرنے والی فیملی ایس ایس پی کی رشتہ دار ہے, تشدد کی فوٹیج سامنے آنے کے بعد چوری کی دفعات واپس لے لی گئی ہیں اور پولیس کا موقف بدل گیا ہے, نمائندہ جیو نیوز کاشف مشتاق
سندھ پولیس میں افسران غنڈے اور بدمعاش بن گئے ہیں, ویڈیو دیکھیں
اس میں ایک خاتون ڈمپل سے میاں بیوی کو تشدد کا نشانہ بنارہی ہیں ان محترمہ کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ یہ محترمہ سندھ پولیس کے ایک سینیئر آفیسر کی سالی صاحبہ ہیں
#HaseebElahi#Karachi@SindhPoliceDMC@KarachiPolice_
شکر صرف الحمدللہ کہہ دینا نہیں،
شکر یہ ہے کہ دل اللہ کے فیصلے سے نہ الجھے۔
جب دل یہ مان لے کہ
جو ملا، جو چھن گیا،
جو رُکا، جو مل گ��ا—
سب اللہ کی طرف سے ہے،
تو شکوہ خود بخود خاموش ہو جاتا ہے۔
یہی دل کا شکر ہے۔
صوفیاء کے نزدیک شکر کے تین درجے ہیں:
دل کا شکر
ہر حال میں اللہ کو فاعل دیکھنا۔
نقصان میں بھی، فائدے میں بھی۔
جو اللہ کرے، وہی بہتر۔
زبان کا شکر
الحمدللہ کہنا
لیکن عادت سے نہیں،
دل کے وزن کے ساتھ۔
عمل کا شکر
آنکھ کو گناہ سے بچانا
زبان کو فضول سے
وقت کو غفلت سے
مال کو غرور سے
یہی شکر ہے جو عمل بن جائے۔
حضرت شیخ ناظمؒ فرماتے تھے:
"الحمدللہ کہو تو دروازے کھلتے ہیں،
شکوہ کرو تو بند ہو جاتے ہیں۔"
نفس شکوے سے طاقت پکڑتا ہے،
دل شکر سے زندہ ہوتا ہے۔
شکر کرنے والا انسان
کم الجھتا ہے
کم غصہ کرتا ہے
کم شکوہ کرتا ہے
اس کے پاس شاید سب کچھ نہ ہو،
مگر سکون ضرور ہوتا ہے۔
سب سے بڑا شکر یہ ہے کہ
مشکل میں بھی کہہ دیا جائے:
"یا اللہ! جو تو چاہے، وہی بہتر ہے"
جب شکر دل میں اتر جائے
تو زندگی خود ذکر بن جاتی ہے۔
الحمدللہ علیٰ کل حال
سورۃ یٰسین میں تدبر
سورۃ یٰسین میں ایک عجیب و غریب قصہ بیان ہوا ہے جس میں ایک عام انسان کا ذکر ہے جو نہ نبی تھا اور نہ رسول۔ اس کا نام بھی ظاہر نہیں کیا گیا،( روایات میں حبیب النجار) لیکن قرآن مجید نے اس کے قصے پر ان تینوں انبیاء سے زیادہ توجہ دی اور ان سے زیادہ اس کا ذکر فرمایا جنہیں اس قوم کی طرف بھیجا گیا تھا اور ان کے نام بھی نہیں بتائے گئے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس قوم کی نسبت بھی ان انبیاء کی طرف کرنے کے بجائے اسی شخص کی طرف کی:
وَمَا أَنزَلْنَا عَلَىٰ قَوْمِهِ مِن بَعْدِهِ مِن جُندٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَمَا كُنَّا مُنزِلِينَ
(یٰسین: 28)
"اور ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نہیں اتارا اور نہ ہی ہمیں اتارنے کی حاجت تھی"
یہ شرف قرآن کریم میں اس شخص کے علاوہ کسی اور کو حاصل نہیں ہوا۔ لازماً اس شخص کے پاس کوئی ایسا عجیب راز تھا!
جب ہم ان آیات کریمات کا تدبر کرتے ہیں جن میں اس غریب انسان کی داستان کا ذکر ہے، تو اس کی درج ذیل صفات نمایاں ہوتی ہیں:
1...دین کی فکر اور دعوتِ الٰہی کا جذبہ:
وَجَاءَ مِنْ أَقْصَى الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعَىٰ (یٰسین: 20)
"اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا"
وہ اس تمام نزاع سے دور رہتا تھا اور چاہتا تو پوری زندگی الگ تھلگ رہ سکتا تھا، لیکن اس نے لوگوں کو اصلاح کے راستے کی طرف بلانے کی خاطر خود سے م��قتیں برداشت کرنا گوارا کیا۔
2...اخلاصِ نیت:
قَالَ يَا قَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِينَ
(یٰسین: 20)
(ترجمہ: "اس نے کہا: اے میری قوم! ان رسولوں کی پیروی کرو")
اس نے یہ نہیں کہا کہ "میری بات مانو" یا "میری پیروی کرو"، بلکہ اس کا تمام تر مقصد اور فکر صرف یہ تھی کہ لوگ دینِ حق کی پیروی کریں۔
3...حق بات کہنے کی شجاعت اور اس کی قیمت چکانا:
اس کی قوم نے اسے تکلیف پہنچائی اور شدید تعذیب کا نشانہ بنایا، یہاں تک کہ وہ اس پر ٹوٹ پڑے، اسے پاؤں تلے روندا اور بالآخر وہ شہید ہو گیا۔
4...دعوت میں انتہائی نرم اور منطقی اسلوب کا استعمال:
5...اس نے مخالفت کرنے والوں کے شبہات کی تردید آسان اور عقلی دلائل سے کی:
اتَّبِعُوا مَن لَّا يَسْأَلُكُمْ أَجْرًا وَهُم مُّهْتَدُونَ (یٰسین: 21)
(ترجمہ: "ان کی پیروی کرو جو تم سے کوئی اجر نہیں مانگتے اور وہ خود ہدایت یافتہ ہیں")
اگر یہ رسول خیر کا کام کر رہے ہیں اور اس کا حکم دے رہے ہیں، تو ان کی بات ماننا سب سے زیادہ ضروری ہے۔ اور جب وہ اپنی اس دعوت پر تم سے کوئی اجرت یا معاوضہ نہیں مانگتے، تو ان کا کوئی ذاتی مفاد نہیں کہ وہ جھوٹ بولیں؛ بلکہ وہ تو تمہاری تکذیب اور برے رویے کے باوجود تکلیف اٹھا رہے ہیں۔
7...اندرونی فطرت کو اپیل کرنا:
وَمَا لِيَ لَا أَعْبُدُ الَّذِي فَطَرَنِي وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ (یٰسین: 22)
(ترجمہ: "اور مجھے کیا ہوا ہے کہ میں اس کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے")
جب اللہ ہی نے ہمیں پیدا کیا ہے تو وہ ان من گھڑت واسطوں سے زیادہ عبادت کا حقدار ہے۔
أَأَتَّخِذُ مِن دُونِهِ آلِهَةً إِن يُرِدْنِ الرَّحْمَٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغْنِ عَنِّي شَفَاعَتُهُمْ شَيْئًا وَلَا يُنقِذُونِ (یٰسین: 23)
(ترجمہ: "کیا میں اس کے سوا ایسے معبود بنا لوں کہ اگر رحمٰن مجھے کوئی تکلیف پہنچانا چاہے تو ان کی سفارش میرے کچھ کام نہ آ سکے اور نہ وہ مجھے بچا سکیں؟")
میں خدا کے مقابلے میں ایسے واسطے کیسے بنا لوں جو اللہ کے فیصلے کو روکنے کی طاقت ہی نہیں رکھتے؟
8..دوسروں کے لیے خیر خواہی اور تڑپ:
اس شخص کا دل ایسا پاک، صاف اور اپنی قوم کی خیر خواہی سے لبریز تھا جس کی مثال ملنا نایاب ہے:
قِيلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ ۖ قَالَ يَا لَيْتَ قَوْمِي يَعْلَمُونَ * بِمَا غَفَرَ لِي رَبِّي وَجَعَلَنِي مِنَ الْمُكْرَمِينَ (یٰسین: 26-27)
(ترجمہ: "کہا گیا: داخل ہو جا جنت میں! اس نے کہا: کاش! میری قوم کو معلوم ہو جاتا کہ میرے رب نے مجھے ب��ش دیا اور مجھے عزت داروں میں شامل کر دیا")
قوم کے شدید مظالم اور دردناک شہادت کے بعد بھی، اس کے دل میں اپنی قوم کے لیے خیر خواہی ہی رہی۔ وہ جنت میں پہنچ کر بھی تمنا کرتا ہے کہ کاش اس کی قوم کو اس انجام کا علم ہو جائے تاکہ وہ بھی توبہ کر کے اس نعمت کو حاصل کر سکیں۔
انہی پاکیزہ، مخلصانہ اور خیر خواہانہ صفات کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے اس کے ذکر کو قرآنِ مجید میں ہمیشہ کے لیے جاویداں بنا دیا۔
اَللّٰھُمَّ اجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِیْعَ قَلْبِیْ وَ نُوْرَ صَدْرِیْ وَ جَلَاءَ حُزْنِیْ وَ ذَھَابَ ھَمِّیْ"
"اے اللہ! قرآن کو میرے دل کی بہار، میرے سینے کا نور، میرے غموں کا مداوا اور میری پریشانیوں کو دور کرنے کا ذریعہ بنا دے۔"
ثناءاللہ حسین
#موناسکندر
یہ کسی سمجھد��ر شخص نے بہت ہی قیمتی ویڈیو بھیجی ھے خود ان کھانے کی اشیاء کو استعمال کرنے سے پہلے چیک کر کے کھائیں اور ہو سکے تو اپنے پیاروں کو بھی فارورڈ کر دیں تاکہ وہ بھی مستفید ہو جائیں
بارش میں بھیگتی دوئم جماعت کی پیاری پشتون بچی، جو صرف اس لیے اسکول گئی کہ اسکا پیپر تھا اور اسکی تیاری کرنی تھی، چھتری نہ ہونے پہ امی نے شاپر کا رین کوٹ بنادیا۔
ویڈیو بنانے والی خاتون نے پیشکش کی کہ چھتری کے نیچے آجاؤ تو منع کرکے معصومیت سے خاتون کے سوالوں کے جواب دئیے۔
“میڈا عشق وی توں”
میڈا یار وی توں
میڈا دین ایمان وی توں...
حضرت خواجہ غلام فریدؒ کا یہ مشہور کلام سرائیکی صوفی شاعری کا شاہکار ہے۔
استاد پٹھانے خان مرحوم کی گائگی نے کمال کر دیا۔ ایک بار ضرور سنیں
میں اپنا بچہ ضائع کروانا چاہتی ہوں
لیکن میرے حمل کا یہ 32واں ہفتہ ہے یعنی آٹھواں مہینہ..."
کچھ دن پہلے مجھے ایک میسج آتا ہے کہ "میں نے آپ کو پہلے بھی بتایا تھا کہ میں پریگننٹ ہوں، لیکن میرے شوہر اب میرے ساتھ نہیں رہے، ہماری پہلے بھی بات ہوئی ہے۔ آپ میری مدد کریں!" میں نے پوچھا کہ بتائیں کیا مدد چاہیے؟ انہوں نے کہا کہ "میں آپ کو اپنی رپورٹس دکھا رہی ہوں، آپ دیکھ کر بتائیں۔"
جب میں نے رپورٹس دیکھیں تو معلوم ہوا کہ وہ حاملہ ہیں اور ان کا آٹھواں مہینہ چل رہا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ "مجھے اپنا بچہ ضائع کروانا ہے۔"
میں نے ان سے اطمینان سے پوچھا کہ انہیں ایسا کیوں کرنا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ ان کے اور ان کے ہسبینڈ کے بیچ دسمبر 2025 میں آخری بار تعلقات بنے تھے اور تبھی سب ختم ہو گیا تھا، ہم دونوں علیحدہ ہو گئے تھے۔ لیکن اس کے بعد سے بچہ میرے اندر ہی ہے، میں نے تب ضائع نہیں کروایا لیکن اب میں اس بچے کو نہیں رکھ سکتی، میں اسے لے کر نہیں چلنا چاہتی۔ آپ مجھے اپنے کلینک کا پتہ بتا دیں تاکہ میں بچہ ضائع کروانے آ سکوں۔
میں نے انہیں بتایا کہ یہ مکمل طور پر غیر قانونی ہے، آپ ایسا نہیں کر سکتیں۔ اور اسلامی طور پر بھی یہ مکمل طور پر ایک قتل کہلائے گا۔ اس لیے مجھے نہیں لگتا کہ آپ کو ایسا کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ آخری مہینہ رہ گیا ہے، اسے بھی گزر جانے دیں، اس کے بعد اللہ تعالیٰ اس بچے کے لیے بہتر کرے گا۔
واللہ اعلم، وہ میرا دل رکھنے کے لیے ایسے ہی راضی ہو گئیں یا انہوں نے جان چھڑانے کے لیے کہا، لیکن انہوں نے مجھ سے کہا: "ٹھیک ہے، میں بچہ پیدا کروں گی اور اپنی کسی سہیلی کو دے دوں گی کیونکہ اس کے پاس اولاد نہیں ہے۔"
��یکن اس کے بعد کچھ سوچیں میرے ذہن میں گھومنے لگیں۔ میرے ذہن میں آنے لگا کہ جب ایک میاں بیوی میں بن ہی نہیں پا رہی، تو کیا مجبوری ہے اولاد پیدا کرنے کی؟ کیا مجبوری ہے کہ آدمی عورت کو حاملہ کر کے چھوڑ دے اور اس کی ذمہ داری تک اٹھانے سے انکار کر دے؟ اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کا پارٹنر اچھا نہیں ہے یا آپ کی اس سے نہیں بن پائے گی، تو بچہ پیدا مت کریں۔
کچھ لوگ بولیں گے کہ "یہ کیا بات ہوئی آپ کی؟ یہ تو آپ نے اسلام کے خلاف بات کر دی کہ اگر میاں بیوی کے بیچ نہیں بن رہی تو وہ ازدواجی تعلق بھی برقرار نہ رکھیں اور بچہ پیدا نہ کریں۔"
دیکھیں! اسلام کریٹیکل سوچ (تدبر و تفکر) پر یقین رکھتا ��ے۔ اسلام دانشوری اور عقلمندی کا نام ہے، اس کو خالی رٹ لینا اسلام نہیں ہے۔ اسلام وہ مذہب ہے جس کو سمجھ کر پڑھنا اور سمجھ کر اس سے فیصلے کرنا ضروری ہوتا ہے۔
پہلی بات تو یہ کہ اسلام زبردستی کے نکاح کو نہیں مانتا۔ دوسری بات یہ کہ اسلام یہ بھی نہیں چاہتا کہ مرد یا عورت، دونوں میں سے کسی پر بھی کسی قسم کا بوجھ پڑے۔ اگر نہیں بن پا رہی تو عزت سے ایک دوسرے سے علیحدہ ہو جائیں، نہ کہ کسی ایک پر بوجھ ڈال کر اسے اکیلا چھوڑ دیا جائے۔ اور تیسری بات یہ کہ اگرچہ اسلام طلاق کو پسند نہیں کرتا، لیکن اس کے باوجود پتہ نہیں کتنے ہی مرد عورتوں کو طلاق دیتے ہیں اور کچھ عورتیں خود بھی خلع مانگنے پر لگی رہتی ہیں۔
اور ہمارے بڑے بوڑھے... وہ تو اس سوچ سے کبھی باہر ہی نہیں آ پائے! وہ لڑکیوں کو بار بار یہی کہتے رہتے ہیں کہ "کوئی بات نہیں، تم ایڈجسٹ کرو، تم نبھاؤ، بچہ ہوگا تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔"
بچہ ہونے کے بعد کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوتا، بلکہ چیزیں مزید خراب ہو جاتی ہیں! کیونکہ والدین میں سے ہمیشہ ایک ہی انسا�� ایفرٹ کرتا رہتا ہے، اور وہ ہوتی ہے ماں، کیونکہ وہ بچے کے پاس موجود ہوتی ہے۔ لیکن جب وہ دیکھتی ہے کہ بچے کا باپ اس کے لیے کوئی ایفرٹ نہیں کرنا چاہ رہا، تو ماں بھی پیچھے ہٹنے لگتی ہے، اس کا دل بھی چھوٹا ہونے لگتا ہے۔ کبھی وہ مجبور ہو جاتی ہے کہ اس بچے کو ساتھ لے کر چلنا ہے، تو کبھی وہ مزید سوچ میں پڑ جاتی ہے۔ کبھی وہ مجبورا خود کو باندھ لیتی ہے کہ اب مجھے اسی کے ساتھ چلنا پڑے گا�� لیکن اسلام یہ ظلم نہیں چاہتا۔
قرآن پاک میں بہت سی جگہوں پر آیا ہے کہ دستور کے مطابق چلیں اور اعتدال کا راستہ اپنائیں۔ یعنی جب آپ کے سر پر کوئی مشکل آن پڑے اور آپ کو کسی مسئلے کا حل نہ سوجھ رہا ہو، تو وہاں اعتدال کا راستہ اختیار کر لینا چاہیے تاکہ آپ کی آئندہ زندگی مشکل نہ ہو۔
: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
کیا میں تمہیں سب سے بڑے کبیرہ گناہوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ صحابہؓ نے عرض کیا: کیوں نہیں، یا رسول اللّٰہ!
آپ ﷺ نے فرمایا: اللّٰہ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، پھر آپ ﷺ ٹیک لگائے ہوئے تھے سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا: خبردار! جھوٹی بات کہنا (اور جھوٹی گواہی دینا بھی۔) آپ ﷺ یہ بات بار بار دہراتے رہے۔
(صحیح البخاری، 5976)
@lostguy79 درست سنا ہے۔ محکمہ کو کال کریں تو 3000/- فی کتا لے جانے کا کہتے ہیں اب تو باہر نکلنے سے بھی ڈر لگتا ہے۔ اتنے زیادہ تعداد میں ہو گئے ہیں۔ حکومت نوٹس لے - یا پھر ان کا علیحدہ شہر بنا دیں۔ تاکہ ہم چین کی سانس لے سکے
لوگ کہتے ہیں آخر تم نے ابھی دیکھا ہی کیا ہے...؟ 🤔
میں نے دیکھا ہے لوگ کیسے دوسروں کے گھر...! 🏚️
اجاڑتے ہیں، میں نے دیکھا ہے دوسروں کو زمانے میں..! 🌍
بدنام کیسے کیا جاتا ہے، میں نے دیکھا ہے مان کیسے...! 🥺
ٹوٹتے ہیں، میں نے دیکھا ہے الزام کیسے لگائے جاتے...! 🚫
ہیں، میں نے دیکھی ہیں، رشتوں کی منافقت...! 🎭
میں نے دیکھی ہیں دوستوں کی منافقت...! 👥
میں نے دیکھا ہے ٹوٹ کر کیسے سنبھلا جاتا ہے...! 💪
میں نے دیکھا ہے کیسے ایک غلطی پر آپ کا خلوص...! 💔
آپ کے منہ پر مار دیا جاتا ہے، میں نے دیکھا ہے...! 🌬️
ہر ایک کی چالاکیاں، میں نے دیکھا ہے کیسے دولت کے...! ����
نشے میں رشتے توڑے جاتے ہیں، اور یہ بھی میں نے دیکھا ہے..! 🔗
کیسے دوسروں کا حق کھایا جاتا ہے، پھر یہ لوگ کہتے ہیں.. دل میں نہ لینا تم نے ابھی دیکھا ہی کیا ہے...۔ 🥀
دجال کون ہے؟ اسرائیل میں دجال کو میسحا کیوں سمجھا جاتا ہے؟
کیا دجال کی آمد نزدیک ہے؟ مقبوضہ علاقوں میں دجال کے استقبال کی تیاریاں؟
کیا دجال جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرے گا؟ مسلمان کس طرح گمراہ ہوں گے؟
دیکھئے دجال سے متعلق رسول اللہ ﷺ کی پیشگوئیوں اور موجودہ مشرق وسطیٰ کے حالات پر تہلکہ خیز ویڈیو۔
مکمل ویڈیو لنک: https://t.co/Oo3dfcVnQ0
گنجے پن کا علاج
کیا آپ کے سر کے بال گر رہے ہیں؟
کیا آپ گنجے پن کا شکار ہیں؟
کیا آپ مہنگے پروڈکٹس استعمال کر کے تھک چکے ہیں؟
گھبرائیں نہیں۔ اب گنجے پن سے شرمانے کی ضرورت نہیں۔
گنجے پن کی وجوہات اور کامیاب علاج
جس طرح مخالف ہوائیں آپس میں ٹکرا کر طوفان بن جاتی ہیں، بالکل اسی طرح سر کی شر��انوں میں خون کی روانی متاثر ہوتی ہے تو بال کمزور ہو کر گرنے لگتے ہیں۔ مارکیٹ میں بہت سے جعلی آئل دستیاب ہیں جو دعوے تو بڑے بڑے کرتے ہیں مگر نتیجہ صفر۔
یہ گھریلو نسخہ سستا، آسان اور موثر ہے۔
اجزاء:
- گندم کے دانے 1 کلو
- زیتون کا تیل 100 گرام
- سرسوں کا تیل 400 گرام
- امرود کے پتے باریک کٹے ہوئے 20 عدد
- زیرہ سیاہ 100 گرام (پیسا ہوا)
ترکیب:
ایک مٹی کا برتن (تقریباً 2 کلو کا) لیں۔ اس میں گندم کے دانے، زیتون کا تیل، سرسوں کا تیل، امرود کے کٹے پتے اور پیسا ہوا زیرہ سیاہ ڈال دیں۔
برتن کا منہ صاف کپڑے سے اچھی طرح ڈھانپ دیں۔ ہلکی آنچ پر 40 منٹ پکنے دیں۔ پھر اتار کر چھان ��یں اور صاف بوتل میں محفوظ کر لیں۔
استعمال:
جہاں بال گر چکے ہوں یا نئے بال اگانا ہو وہاں یہ تیل لگائیں اور ہلکی مساج کریں۔
🚨"پاکستان کے اندر لال مرچوں کے حوالے سے ایک تشویش ناک رپورٹ سامنے آئی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ بعض لال مرچوں میں ایسے زہریلے (Toxic) اور کینسر پیدا کرنے والے (Carcinogenic) عناصر پائے گئے ہیں جن کی وجہ سے یورپی ممالک نے ان کی درآمد پر پابندی عائد کر دی ہے۔
رپورٹس کے مطابق، جو مرچیں یورپ میں فروخت کی اجازت نہیں رکھتیں، ان میں سے بعض پیکٹس پر "Only to be used in Pakistan" درج ہوتا ہے، اور یہی مرچیں پاکستان کی مقامی مارکیٹ میں فروخت کی جا رہی ہیں۔"
سینئر صحافی و تجزیہ نگار عامر متین
@AmirMateen2
حضرت مریم جیسی پاکیزہ ہستی پر بھی لوگوں نے تہمت لگا دی تھی۔ ان کے بارے میں کہا گیا کہ ۔۔
اے ہارون کی بہن! تیرا باپ برا ��ہ تھا پھر یہ کیا؟
مگر حضرت مریم نے صفائی نہیں دی۔ بحث نہیں کی۔ بس اللہ کی طرف اشارہ کر دیا۔ اور پھر اللہ نے گود کے بچے سے سچ بلوا دیا۔
لوگ تم پر الزام لگائیں گے۔ تمہاری نیت پر شک کریں گے۔ تمہارے ماضی کو گھسیٹیں گے۔ کیونکہ لوگوں کو سچ سے مطلب نہیں انہیں تماشا چاہیے۔پر یاد رکھو۔۔۔۔
جو عزت اللہ دیتا ہے۔وہ کسی کی تہمت سے نہیں جاتی۔
اور جو ذلت اللہ مٹا دیتا ہے۔وہ کسی کے طعنے سے نہیں آتی۔
تم بس مریم کی طرح صبر کر لو۔ صفائی کا بوجھ اپنے کندھوں پر مت اٹھاؤ۔
اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کر دو۔
کیونکہ جب وقت آتا ہے اللہ خود تمہاری زبان بن جاتا ہے۔
اور سچ۔۔ہمیشہ بول اٹھتا ہے۔ یہ چھپ نہیں سکتا چاہے دیر لگ جاے۔اور یاد رکھو یقین رکھو
اللہ بہتان لگانے والوں سے بے نیاز ہے