معدنی ذخائر سے مقامی عوام کو کیا ملا؟
قدرتی وسائل کسی علاقے کی معاشی ترقی کا ذریعہ بننے چاہییں۔ مولانا فضل الرحمٰن کے اٹھائے گئے سوالات کی روشنی میں ضروری ہے کہ بتایا جائے کہ سابق قبائلی علاقوں کے معدنی ذخائر سے حاصل ہونے والی آمدن کہاں خرچ ہو رہی ہے اور مقامی آبادی کو تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولتوں میں کتنا فائدہ پہنچا؟
جےیوآئی سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا ملتان میں مفتی محمود کانفرنس سے خطاب
#اسٹیبلشمنٹی_راج_نامنظور
#دہشتگرد_بہانہ_ذخائر_نشانہ
#مولانا_کا_بیانیہ_جیت_گیا
#نعرےنہیں_امن_دو
#معدنیات_حساب_دو
افغانستان کے ساتھ لڑائی پوری مغربی سرحد بند ہو گئی، تجارت بند ہو گئی، لوگوں کے روزگار اور کاروبار تباہ ہو گئے، چین ہمارے اوپر اعتماد ختم کر چکا ہے، اور میں کہتا ہوں اگرچہ ابھی تک آن ریکارڈ کوئی بات نہیں ہے، باضابطہ پر کوئی بات نہیں ہے لیکن تم نے جو ایمرجنسی لگائی ہے فاٹا کے علاقوں پر یہ وہاں کے معدنی ذخائر پر قبضہ ہے اور صرف قبضہ ہ�� نہیں امریکیوں کے ساتھ جو تم نے سودے کئے ہیں اور جس طرح ہماری سر زمین پر ہمارے وسائل کا مالک تم امریکہ کو بنا رہے ہو اور ان کے سرمایہ کاری کے لیے راستے کھول رہے ہو اور اس کے بدلے میں اگر کچھ سکے آپ کو مل جائیں اور آپ اکتفا کرنے کی طرف جا رہے ہو، یاد رکھو! یہ سیاست اب ہمیں قبول نہیں ہے اور چین اور روس کو اس پر تحفظات ہیں، خطے میں آپ باہر کی قوتوں کو لا رہے ہیں میں کہتا ہوں ملٹی نیشنل کمپنی آتی ہیں، امریکہ میں بھی جاتی ہیں، یورپ میں بھی جاتی ہیں، چائنا میں بھی جاتی ہیں، روس میں بھی جاتی ہیں، سرمایہ کاری کرتی رہتی ہیں لیکن کیا وجہ ہے کہ افغانستان میں سرمایہ کاری کے لیے لوگ آ رہے ہیں اور پاکستان سے سرمایہ کار اپنا پیسہ باہر لے جا رہے ہیں؟ سرمایہ کاری کے لیے سب دنیا دو تین چیزوں کو دیکھتی ہے سب سے پہلی بات یہ کہ جہاں کوئی امن ہو، سیکیورٹی ہو، تو وہاں پر وہ سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ نمبر دو یہ کہ وہاں پر معاہدات اور معاملات میں شفافیت ہو تو وہاں جا کر وہ سرمایہ کاری کرتے ہیں اور تیسری بات ہے کہ جس ملک میں قانون کی حکمرانی ہو وہاں پر لوگ جا کر سرمایہ کاری کرتے ہیں، ان تین حوالوں کو سامنے رکھتے ہوئے آپ اپنے آپ سے خود سوال کریں کہ ان تین باتوں کے ہوتے ہوئے افغانستان میں کیوں سرمایہ کاری ہو رہی ہے اور پاکستان میں کیوں نہیں ہو رہی؟ اور ہمارا اپنا پاکستانی سرمایہ کار اپنا سرمایہ باہر کیوں لے جارہا ہے؟ ان کی معیشت کو تباہ و برباد کر دیا آپ لوگوں نے اور ناز کیا جا رہا ہے کہ ہم ملک کو بچا رہے ہیں۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن
عوام کے وسائل، عوام کا مستقبل
مولانا فضل الرحمٰن نے سوال اٹھایا کہ صوبوں کے قدرتی وسائل اور معدنی ذخائر سے متعلق فیصلوں میں عوام کے حقوق کو کیسے محفوظ رکھا جائے گا۔ کسی بھی انتظامی تبدیلی کی شفافیت، آئینی حیثیت اور مقامی آبادی کے مفادات کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
جےیوآئی سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا ملتان میں مفتی محمود کانفرنس سے خطاب
#اسٹیبلشمنٹی_راج_نامنظور
#دہشتگرد_بہانہ_ذخائر_نشانہ
#مولانا_کا_بیانیہ_جیت_گیا
#نعرےنہیں_امن_دو
#معدنیات_حساب_دو
صوبائی خودمختاری محض لفظ نہیں
مولانا فضل الرحمٰن نے یاد دلایا کہ آئین صوبوں کو اختیارات اور وسائل پر حقوق دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر کسی انتظامی فیصلے کے نتیجے میں صوبائی اختیار محدود ہوتا ہے تو اس کی آئینی بنیاد، مدت اور عوام پر اثرات کے بارے میں مکمل وضاحت کیوں نہ کی جائے؟
جےیوآئی سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا ملتان میں مفتی محمود کانفرنس سے خطاب
#اسٹیبلشمنٹی_راج_نامنظور
#دہشتگرد_بہانہ_ذخائر_نشانہ
#مولانا_کا_بیانیہ_جیت_گیا
#نعرےنہیں_امن_دو
#معدنیات_حساب_دو
سوال واضح ہے: امن یا وسائل پر اختیار؟
ملتان کی مفتی محمود کانفرنس میں مولانا فضل الرحمٰن نے بدامنی، معدنی ذخائر، صوبائی خودمختاری اور ایمرجنسی کے معاملے پر اہم سوالات اٹھائے۔ ان سوالات کا جواب شفافیت، آئینی وضاحت اور عوامی مفادات کو سامنے رکھ کر دیا جانا چاہیے۔ عوام کو امن بھی چاہیے اور اپنے وسائل پر آئینی حق بھی۔
جےیوآئی سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا ملتان میں مفتی محمود کانفرنس سے خطاب
#اسٹیبلشمنٹی_راج_نامنظور
#دہشتگرد_بہانہ_ذخائر_نشانہ
#مولانا_کا_بیانیہ_جیت_گیا
#نعرےنہیں_امن_دو
#معدنیات_حساب_دو