آخر کار فضیلہ قاضی بھی صبر تمام ہوگیا!!🔥
فضیلہ قاضی نے, اقرار الحسن کی معافی کو رد کرکے اقرار الحسن کو زہنی مریض قرار دے دیا!!
کیا زبردست کلاس کی ہے, اقرار الحسن غلیظ کی!!
زبردست فضیلہ قاضی صاحبہ!!👏
اسی طرح سب کو آگے آکر اب بولنا چاہیے!!
پنجاب پولیس کا یہ سب انسپکٹر ایک بزرگ سے رشوت مانگتا ہے سادہ شہری جیب سے پانچ سو روپے نکالتا ہے تو سب انسپکٹر برا منا کر چلا جاتا ہے
کیسے کیسے بے شرم اور بے حس لوگ ہیں دعوی کرتے ہیں محافظ کا مگر حفاظت کی بجائے لوٹتے ہیں
@MaryamNSharif@OfficialDPRPP
سوات، خاص طور پر جانشئی میڈوز اور کالام کے علاقوں میں، درختوں کی بے دریغ کٹائی مسلسل جاری ہے۔ کبھی گھنے جنگلات سے سجا یہ خطہ اب تیزی سے اپنے قدرتی حسن اور ماحولیاتی توازن سے محروم ہوتا جا رہا ہے۔ ٹمبر مافیا کے سامنے برسوں سے جاری یہ خاموش تباہی ایک بڑا سوال ہے کہ آخر خیبر پختونخوا حکومت کیوں مؤثر کارروائی میں ناکام دکھائی دیتی ہے؟ سیاحت کے اس اہم مرکز کو بچانے کے لیے فوری اور سخت اقدامات ناگزیر ہیں
@SohailAfridiISF@CSKPOfficial
پھر تو صدر پاکستان بننے کیلئے کم ازکم عمر کی حد 45 سال ہے پھر ووٹر کی عمر بھی 45 سال کریں، سیدھی بات کے اعتراف کی جرات کریں کہ ایک بندے نے جیل میں بیٹھ کر بھی تمہاری سیاست کا کچومر نکال دیا ہے، حد ہے ویسے آمریت کی، منافقت کی، کئی ملک ووٹرز کی عمر 16 سال کرنے پر سوچ رہے ہیں، اور ہم عمران خان کے خوف سے 25 سال کرنے پہ تلے ہیں کیونکہ زیادہ سے زیادہ یوتھ کو کاٹنا ہے، ن۔لیگ تباہ شد، ختم شد، بات ختم
پاکستان کے جنگلات خاموشی سے ختم کیے جا رہے ہیں، اور اس تباہی کی قیمت آنے والی نسلیں ادا کریں گی۔
ضلع اپر دیر میں گزشتہ 7 سال کے دوران 1300 کنال سے زائد قدرتی جنگلات کا مکمل صفایا کر دیا گیا۔ وہ درخت جو صدیوں میں پروان چڑھے، چند برسوں میں زمین بوس کر دیے گئے۔
یہ صرف درختوں کی کٹائی نہیں، بلکہ ہمارے موسم، پانی، ہوا اور مستقبل پر حملہ ہے۔
جنگلات ختم ہوں گے تو بارشوں کا نظام متاثر ہوگا، سیلاب بڑھیں گے، زمین بنجر ہوگی اور درجہ حرارت مزید خطرناک حد تک پہنچ جائے گا۔
ان دو تصاویر میں صرف زمین کا فرق نہیں، بلکہ ایک سرسبز ماضی اور خوفناک مستقبل نظر آ رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہم ترقی کے نام پر اپنی آنے والی نسلوں سے جینے کا حق چھین رہے ہیں؟
اگر آج بھی جنگلات کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے وقت میں پاکستان ماحولیاتی بحران کی ایسی دلدل میں پھنس سکتا ہے جہاں سے نکلنا ناممکن ہوگا۔
سیالکوٹ کا یہ واقعہ ہے ٹریفک وارڈن نے ایک شخص کا اوورسیز لائسنس ہی پھاڑ دیا
یہ کب سے بدمعاش بن گئے ہیں یہ ظلم و زیادتیاں کیوں اب زیادہ جنم لے رہی ہیں
اس پاکستانی کی آواز ہر جگہ پہنچنی چاہئے
"ہاتھ پاؤں باندھ کر کیمرے کے سامنے ریپ کیا جاتا"
"کھانا فرش پر پھینک کر چاٹنے پر مجبور کیا جاتا"
اقوام متحدہ کی نمائندہ کی زبانی اسرائیلی قید میں موجود فلسطینیوں کی دل دہلا دینے والی رودار
One of the most brutal scenes in human history has been exposed.
Israeli soldiers opened fire on thousands of starving Gazans as they ran in desperation for a piece of food during the war on Gaza.
A moment the world must never forget.
Poor kid.
This story alone embodies enough abuse, brutality, and injustice that, if we were living in a normal world, it would represent a turning point between two eras. Yet this daily normalization of Zionist savagery is a dangerous reminder of where things are headed.
شیعہ سنی اختلافات کو اس وقت نہیں اچھالنا چاہیے، ایران پر امریکہ نے اسلئے حملہ کیا کیونکہ وہ مسلمانوں کا نمائندہ سمجھا جاتا ہے اور ایران امریکہ کے مقابلے میں ڈٹ کر کھڑا ہے۔ مفتی تقی عثمانی
اپنی وفات سے کچھ عرصے قبل قائد اعظم نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا افتتاح کیا۔ یہ آخری سرکای تقریب تھی جس میں قائداعظم اپنی علالت کے باوجود شریک ہوئے وہ مقررہ وقت پر تقریب میں تشریف لائے ۔انہوں نے دیکھا کہ شرکاء کی اگلی نشستیں ابھی تک خالی ہیں انہوں نے تقریب کے منتظمین کو پروگرام شروع کرنے کا کہا اور یہ حکم بھی دیا کہ خالی نشستیں ہٹا دی جائیں۔ حکم کی تعمیل ہوئی اور بعد میں آنے والے شرکاء کو کھڑے ہو کر تقریب کا حال دیکھنا پڑا۔ ان میں کئی وزراء اور سرکاری افسر ان کے ساتھ ساتھ اس وقت کے وزیراعظم لیاقت علی خان بھی شامل تھے ۔
1920ء میں جب قائداعظم محمد علی جناح کی شادی ہوئی تو انہوں نے اپنے غسل خانہ کی تعمیر میں اس وقت کے پچاس ہزار روپے خرچ کئے۔ مگر یہی جب گورنر جنرل کے عہدے پر فائز ہوئے تو قائداعظم ڈیڑھ روپے کا موزہ لینے سے انکار کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ غریب مسلمان ملک کے گورنر کو اتنی مہنگی چیز نہیں پہننی چاہیے۔
ایک مرتبہ برطانیہ کے سفیر نے آپ سے کہا کہ برطانیہ کے بادشاہ کا بھائی آ رہا ہے آپ انہیں ایئرپورٹ لینے جائیں۔ قائد اعظم نے یہ شرط رکھی کہ میں تب ایئر پورٹ جاؤں گا اگر میرے بھائی کی برطانیہ آمد پر وہاں کا بادشاہ اسے لینے آئے۔
1943ء کوالہ آباد یونیورسٹی میں ہندو اور مسلمان طلباء کے درمیان اس بات پر تنازعہ ہو گیا کہ یونیورسٹی میں کانگریس کا پرچم لہرا یا جائے۔ مسلمان طلباء کا کہنا تھا کہ کا نگریس کا پرچم مسلمانوں کے جذبات کا عکاس نہیں اور چونکہ الہ آباد یورنیورسٹی میں مسلمان طلبہ کی اکثریت زیر تعلیم تھی اس لیے یہ پر چم اصولاً وہاں نہیں لہرایا جا سکتا ابھی یہ تنازعہ جاری تھا کہ اسی سال پنجاب یونیورسٹی کے مسلم طلباء کی یونین سالانہ انتخاب میں اکثریت حاصل کر گئی یو نین کے طلباء کا ایک وفد قائداعظم کے پاس گیا اور درخواست کی کہ وہ پنجاب یورنیوسٹی ہال پر مسلم لیگ کے پر چم لہرانے کی رسم ادا کریں قائداعظم نے طلباء کو مبارک باد دی اور کہا اگر تمھیں اکثریت مل گئی ہے تو یہ خوشی کی بات ہے لیکن طاقت حاصل کرنے کے بعد اپنے غلبے کی نمائش کرنا نا زیبا حرکت ہے کوئی ایسی با ت نہ کرو جس سے کسی کی دل آزاری ہو۔ ہمارا ظرف بڑا ہونا چاہیے۔ کیا یہ نامناسب بات نہیں کہ ہم خود وہی کام کریں جس پر دوسروں کو مطعون کرتے ہیں۔
حضرت پیر سید عطا اللہ شاہؒ اپنے دور کے بہت نیک سیرت اللہ کے بندوں میں شمار ہوتے تھے انہوں نے ایک مرتبہ فرمایا کہ محمد علی جناح اللہ کا ولی ہے۔ اس پر لوگوں نے کہا کہ آپ اس شخص کی بات کر رہے ہیں جو دیکھنے میں گورا یعنی انگریز نظر آتا ہے اور اس نے داڑھی بھی نہیں رکھی ہوئی۔تو امیر ملت پیر سید عطا اللہ شاہؒ صاحب نے فرمایا ’’ کہ تم اس کو نہیں جانتے وہ ہمارا کام کر رہا ہے‘‘۔پیر صاحب کے اس دور میں تقریبا 10 لاکھ مرید تھے۔آپ نے اعلان فرمایا تھا کہ اگر کسی نے مسلم لیگ اور قائداعظم کو ووٹ نہ دیا۔ وہ میرا مرید نہیں۔آخر میں شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؒ کا ایک قول جو انہوں نے قائداعظم کے لئے فرمایا "محمد علی جناح کو نہ تو خریدا جا سکتا ہے اور نہ ہی یہ شخص خیانت کر سکتا ہے‘‘۔
ایک مرتبہ سرکاری استعمال کے لئے سینتیس (37)روپے کا فرنیچر لایا گیا۔ قائداعظم نے لسٹ دیکھی توسات روپے کی کرسیاں اضافی تھیں، آپ نے پوچھا یہ کس لئے ہیں توکہا گیا کہ آپ کی بہن فاطمہ جناح کے لئے۔ آپ نے وہ کاٹ کے فرمایا کہ اس کے پیسے فاطمہ جناح سے لو۔
کابینہ کی جتنی میٹنگز ہوتی تھیں قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے منع فرمایا تھا کہ کچھ بھی کھانے کے لئے نہ دیا جائے۔ 1933ء سے لے کر 1946ء تک قائداعظم محمد علی جناحؒ نے ایک اندازے کے مطابق 17 قرار دادیں پیش کیں جس میں فلسطین کے حق خود ارادیت کی بات کی گئی۔ یہ وہ دور تھا جب پاکستان بھی وجود میں نہیں آیا تھا مگر اس کے باوجود ان کے دل میں امت مسلمہ کے لئے جذبہ کوٹ کوٹ کے بھرا ہواتھا۔
اس وقت انگریزوں نے ایک قانون بنایاتھا کہ جس کے پاس بھی سائیکلیں ہیں اس کے آگے لائیٹ لگائی جائے۔ ایک مرتبہ قائداعظم کچھ نوجوانوں سے بات کر رہے تھے۔ آپ نے پوچھا کہ کون کون پاکستان میں شامل ہو گا سب مسلمان بچوں نے ہاتھ کھڑے کئے پھر آپ نے پوچھا کہ کس کس بچے کی سائیکل پر لائیٹ موجو د ہے۔ صرف ایک بچے نے ہاتھ کھڑا کیا۔ آپ نے فرمایا کہ صرف یہ پاکستان میں جائے گا، نوجوانوں نے وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا جو قانون پر عمل نہیں کرتا اسے ہمارے ملک میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔
قائد اعظم جب بیمار تھے تو ایک خاتون نرس
(Nathaniel)
ان کی خدمت پر مامور تھیں۔ آپ نے اس سے پوچھا کہ تم نے میری بہت خدمت کی ہے بتاؤ میں تمہاری کیا مدد کر سکتا ہوں تو اس نے کہا کہ میری ٹرانسفر میرے آبائی شہر میں کروا دیں تو آپ نے کہا کہ یہ میرا کام نہیں یہ وزارتِ صحت کا کام ہے۔
BREAKING: Syria’s Ahmed Al-Shara’a Asserts That Hezbollah Should Be Disarmed
Around 24 hours ago, Israel used Syria’s territory to launch an infiltration into Lebanon, which Hezbollah thwarted.
Al-Shara’a is now interfering in Lebanese affairs to side with Nawaf Salam in forcing the Lebanese army to disarm the only group capable of protecting Lebanon.
Al-Shara’a is a pro-US dictator who led Al-Qaeda in Syria & now engages in direct talks with the Israelis.