"فارم 45 کے مطابق خالد خورشید کی والدہ کو 1196 ووٹوں کی واضح لیڈ حاصل ہے، مگر میڈیا پر نتائج کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے۔ عوامی مینڈیٹ کی یہ توہین اور دھاندلی کی یہ انتہا ناقابلِ قبول ہے! #ہم_نہیں_مانتے"
سہراب برکت کا قصور ایک محب وطن پاکستانی اور کشمیری ہونا ہے۔ کشمیر کا یہ بیٹا صرف اپنی پروفیشنل زمہ داریاں ہی تو ادا کر رہا ہے۔ پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کے مفاد کےخلاف بولا جانے والا ہر سچ اب جرم بنا دیا گیا ہے۔
#سہراب_برکت_کو_رہا_کرو
عمران خان قید تنہائی میں رہ کر بھی جیت گیا جبکہ نواز شریف، بلاول، آصفہ بھٹو گلگت بلتستان کے پہاڑوں پر ماتھے رگڑنے کے باوجود ہار گئے ہیں..
یہ ہوتا ہے غیور عوام۔۔
گلگت بلتستان والو خوش کردیا ہے، ان جرنیلوں کو ہر بار ہر الیکشن میں آئین توڑنے پہ مجبور کرنا ہے ہر روز یہ پاکستان کیساتھ غداری کریں اگر لوگ باہر نہ نکلتے تو انکو فارم 47 کی ضرورت ہی نہ پڑتی اب آئین توڑ کے فارم 47 بنانے پڑیں گے!
https://t.co/jrCxUCRFf9
گلگت بلتستان کے کئی حلقوں میں پی ٹی آئی امیدوار برتری پر ہیں، پولنگ ختم ہوتے ہی مخصوص پولنگ اسٹیشنز ہائی جیک کرنے اور پوگس ووٹ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہیں۔ ہم انتخابی عمل کو ہائی جیک کرنے کی کسی بھی کوشش کو نہ قبول کریں گے نہ ہونے دیں گے۔ مسلم لیگ ن کے ایک کنڈیڈیٹ کے لئیے ایک پولنگ سٹیشن میں 80 فیصد ووٹ پول کیا گیا- اک پولنگ بوکس سے 800 سے ذائد ووٹ برآمد ہوئے باقی پولنگ سٹیشنز میں بھی بوگس ووٹ ڈالنے کی کوشش جاری ہے - ابھی پی ٹی آئی آگے ہے لیکن یہی عمل جاری رہا تو نہ اس الیکشن کو مانیگے اور نہ ہی کسی کو سکون سے رہنے دینگے- اگر عوامی مینڈیٹ میں مداخلت کی گئی تو حالات کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ پر ہوگی، اور گلگت بلتستان کے عوام باہر نکلیں گے۔
— سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید خان
کچھ ہی عرصہ قبل کیپٹن ریٹائرڈ لیاقت علی ملک کو آزاد کشمیر پولیس کا آئی جی لگایا گیا ہے،
حالانکہ متعدد سینئر ترین افسران موجود تھے، پولیس محکمے کے اندر سے اس تعیناتی پر کافی مزاحمت بھی ہوئی۔
لیاقت علی ملک کی گزشتہ چار سال میں تحریک انصاف کے خلاف کریک ڈاؤن اور عمران خان کی گرفتاری میں ناقابل فراموش خدمات ہیں
نوجوان صحافی عبید بھٹی کا ٹویٹ
الیکشن کھانے کی تیاری صرف گلگت بلتستان میں نہیں کشمیر کیلئے بھی کی جا رہی ہے
جہاں عوامی حقوق کی تنظیم کو نہ صرف ban کر کے ایک قتل اور 72 کو گرفتار کیا گیا بلکہ غداری سرٹیفیکیٹ اتھارٹی اپنے سوشل میڈیا سے indian action committe تک لکھوا رہے ہیں ۔ اور ایسا کرنے والے جاہل وہ ہیں جن کا فرض پاکستان کو جوڑے رکھنا ہے
#GhostElection
پاکستان ضروری ہے یا فسطائیت ؟
رجیم چینج سازش کے بعد آنے والی تبدیلیاں۔
1) لوگوں نے نیوز چینل دیکھنا چھوڑ دیا
2) کرکٹ دیکھنا ختم کر دی
3) اخبارات بند کروا دئیے
4) لوگوں نے ملی نغمے سننا چھوڑ دیے
5) فوج اور ایجنسیوں سے اعتبار اٹھ گیا
6) سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن سے باقاعدہ نفرت ہوگئی
7) کٹھ پتلی سیاسی جماعتوں سے گھن آنے لگی
8) مذہبی جماعتوں کی منافقت مذید عیاں ہو گئی
9) فتویٰ ساز ملاں ننگے ہو گئے
10) عمران خان کی عزت و احترام دل میں اور بھی زیادہ بڑھ گیا۔
پپو سانوں تنگ نہ کر
بڑے ضروری کم لگے آں
جی کردا سی ووٹاں پائیے
مارشل لاء توں جان چھڈائیے
ووٹاں شوٹاں پا بیٹھے آں
اے جمہوری رولا رَپـا
کنے سال ہنڈا بیٹھے آں
سوچی پئے آں ہُن کی کرئیے
#GhostElection
پاکستان تحریک انصاف آزاد جموں و کشمیر (AJK) حکومت کے اس اچانک اور افسوسناک فیصلے پر گہری تشویش اور مایوسی کا اظہار کرتی ہے جس کے تحت جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کو ایک کالعدم تنظیم قرار دیا گیا۔ اسی طرح راولاکوٹ میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے، جس میں اطلاعات کے مطابق ایک بے گناہ شہری جان کی بازی ہار گیا جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے، کی بھی شدید مذمت کی جاتی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کا واضح مؤقف ہے کہ سیاسی، سماجی اور آئینی نوعیت کے مسائل کا حل جمہوری عمل، بامعنی مذاکرات اور آئینی راستوں کے ذریعے نکالا جانا چاہیے، نہ کہ پابندیوں، جبر اور طاقت کے استعمال کے ذریعے۔
اگر JAAC واقعی ایک دہشتگرد تنظیم تھی تو حکومت نے گزشتہ کئی ماہ تک اس کے ساتھ مذاکرات کیوں کیے؟ اس کے ساتھ معاہدے کیوں کیے گئے؟ اس کے مطالبات کو تسلیم کیوں کیا گیا؟ اس کی قیادت کے ساتھ بیٹھ کر اسے ایک جائز فریق کے طور پر کیوں تسلیم کیا جاتا رہا؟
یہ ہڑتال کال اس وقت دی گئی جب حکومت نے اپنے ہی کیے گئے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ JAAC مختلف سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے افراد پر مشتمل ایک پلیٹ فارم ہے، جو پیپلز پارٹی اور نون لیگ کی بدترین طرزِ حکمرانی کے خلاف عوامی ردعمل کے طور پر سامنے آیا۔
یہی ناکام ماڈل پہلے بھی پی ٹی آئی کے خلاف استعمال کیا گیا، پرامن احتجاج کو دبانا، سڑکیں بند کرنا، مواصلاتی نظام معطل کرنا، شہریوں کو ہراساں کرنا اور پھر ہر جمہوری مطالبے کو ریاست کے خلاف خطرہ قرار دینا۔
پاکستان تحریک انصاف مسلسل اس بات پر زور دیتی رہی ہے کہ سیاسی مسائل کا حل مذاکرات، آئینی عمل اور عوامی مینڈیٹ کے ذریعے ہونا چاہیے، نہ کہ پابندیوں، کنٹینرز، گرفتاریوں، انٹرنیٹ بندش اور انسداد دہشتگردی کے قوانین کے ناجائز استعمال کے ذریعے۔
آزاد جموں و کشمیر کے عوام کو درپیش مسائل حقیقی اور جائز ہیں۔ اگر مہاجر نشستوں، انتخابی نمائندگی یا قانون ساز اسمبلی کے اختیارات پر کوئی اختلاف ہے تو اس کا حل کھلی بحث، عدالتی جائزہ اور سیاسی مکالمے میں ہے، نہ کہ عوامی پلیٹ فارمز کو دہشتگرد قرار دینے میں۔
کشمیر کوئی معمولی سیاسی معاملہ نہیں بلکہ پاکستان کا قومی مقدمہ ہے، ایک اصولی مؤقف اور کشمیری عوام کی قربانیوں کی علامت ہے۔ بطور محب وطن پاکستانی، ہماری ذمہ داری ہے کہ اس مقدمے کو دانشمندی، اتحاد اور ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھائیں۔ آزاد کشمیر میں کسی بھی قسم کی داخلی بے چینی کو انتہائی حساسیت کے ساتھ سنبھالنا ہوگا، کیونکہ بھارت ہمیشہ ایسے مواقع کی تلاش میں رہتا ہے تاکہ حقائق کو مسخ کرے، پروپیگنڈہ پھیلائے اور پاکستان کے مؤقف کو کمزور کرے۔
لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسا کوئی تاثر پیدا نہ کرے کہ آزاد کشمیر میں عوام کے جائز مطالبات کو طاقت کے ذریعے کچلا جا رہا ہے۔ ایک مضبوط اور جمہوری آزاد کشمیر ہی عالمی سطح پر پاکستان کے مؤقف کو تقویت دے سکتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کا استعمال کبھی دیرپا سیاسی حل فراہم نہیں کر سکا۔ سقوطِ مشرقی پاکستان سے لے کر بلوچستان کی مسلسل بے چینی تک، یہ حقیقت واضح ہے کہ سیاسی مسائل کا حل صرف سیاسی طریقوں سے ہی ممکن ہے۔ جبر وقتی خاموشی تو لا سکتا ہے مگر نفرت اور تقسیم کو گہرا کر دیتا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف مطالبہ کرتی ہے کہ:
حکومت فوری طور پر اس پابندی کے فیصلے پر نظرثانی کرے، مواصلاتی نظام بحال کرے، پرامن اجتماع کے حق کا تحفظ کرے، اجتماعی سزا سے گریز کرے اور تمام فریقین کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کا آغاز کرے۔
آزاد کشمیر کو بلوغت، سنجیدگی اور آئینی دانشمندی کے ساتھ سنبھالنے کی ضرورت ہے۔
جاری کردہ:
مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ
پاکستان تحریک انصاف
اتنے بڑے عہدےلےکرتین بندوں کےساتھ گلگت جاتےاورپانچ پولیس والوں کےہاتھوں صوبہ بدرہوکرآجاتےہیں۔ یونین کاونسل لیول بندہ فاتحہ پرجاتاہےتو20بندےاورپانچ گاڑیاں ساتھ ہوتی۔ کچھ توسنجیدگی دکھائیں۔ کیوں مایوسیاں بٹوررہےہیں؟ جب پوچھوکہ تنظیم کیوں نہیں بناتے توزاتیات پر اتر آتے ہیں۔
۔۔۔میں بولتا ہوں تو الزام ہے بغاوت کا
میں چپ رہوں تو بڑی بے بسی سی ہوتی ہے۔۔۔۔
بلوچ ناراض نوجوان ۔۔۔پختونخوا کا ناراض نوجوان ۔۔۔اور اب گلگت بلتستان کا ناراض نوجوان ۔۔۔
صاحب ۔۔۔کچھ تو خیال کریں