ہماری دوستی بھی اللہ سبحانہ وتعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے ہیں اور ہماری دشمنی بھی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے ہے.جو ہمارے نبی حضرت محمد صلی الله عليه وسلم کا نہیں وہ ہمارا نہیں ۔
قال رسول الله ﷺ
إذا كنز الناس الذهب والفضة فاكنزوا أنتم هؤلاء الكلمات
اللهم إني أسألك الثبات في الأمر والعزيمة على الرشد وأسألك شكر نعمتك وحسن عبادتك وأسألك قلبا سليما وأسألك لسانا صادقا وأسألك من خير ما تعلم ، وأعوذ بك من شر ما تعلم ، وأستغفرك لما تعلم ، إنك أنت علام الغيوب .
Break the spell of media desensitization‼️
Was it really just an accidental glitch? Or a calculated pattern years in the making?
Before you accept the corporate apology laundering you need to see the complete record.
For years Geo didn’t just broadcast obscenity in the name of entertainment they systematically engineered a shift in our collective conscience and testing our boundaries!
Open the video. Watch the pattern unfold. Share this everywhere.
An ode that left hearts intoxicated with love at the Sunan Abi Dawud graduation and scholarly authorisation ceremony held in Yavuz Sultan Selim Mosque, Istanbul.
May Allah bless the reciter and writer of this ode 🌹
With the Monsoon 2026, round the corner, it's time to make plans for planting in your home & neighbourhood
I am sharing a list of Pakistan's local trees, hoping people & Govt entities will avoid exotic plants
Tree planting is perhaps our best bet to fight climate change
کیا یہ واقعی ایک "غلطی" تھی؟
ایک خبر آتی ہے۔ اسکرین پر کچھ ایسا دکھایا جاتا ہے جو ہمارے ایمان کی بنیادوں کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔ ہم تڑپ اٹھتے ہیں۔سراپا احتجاج بن جاتے ہیں۔ ردِعمل آتا ہے۔ سوشل میڈیا پر طوفان برپا ہوتا ہے۔ پھر ایک حسبِ روایت معافی نامہ جاری کیا جاتا ہے۔
تکنیکی غلطی...
ادارتی کوتاہی.....
ہم شرمندہ ہیں....
اور پھر... سب کچھ خاموش۔ اگلے دن وہی چینل، وہی لوگ، وہی معمول!
لیکن کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ یہ
Normality
خود کیسے قائم ہوتی ہے؟
ہم اسے "گستاخی" کہتے ہیں۔
وہ اسے ادارتی کوتاہی
(Editorial Lapses)
کا نام دے کر فائل بند کر دیتے ہیں۔
لیکن، اگر میں آپ سے کہوں کہ یہ کوئی حادثہ نہیں ہے؟ اگر میں یہ ثابت کر دوں کہ یہ ایک سائنسی تجربہ ہے ایک ایسی سوشل انجینئرنگ جو ہماری غیرتِ ایمانی کے تھریش ہولڈ
(Threshold)
کو ٹیسٹ کر رہی ہے؟
ہم جس معاشرے میں جی رہے ہیں وہاں میڈیا صرف خبروں سے آگہی یا محض انٹرٹینمنٹ کا ذریعہ نہیں ہے۔۔۔۔
وہ ہماری
Cognitive Boundaries
کو سرجیکل طریقے سے کاٹ رہا ہے۔ جس چیز کو کل تک ناقابلِ تصور سمجھا جاتا تھا آج وہ قابلِ بحث ہے اور کل وہ نارمل ہوگی۔ یہ میڈیا ہاؤسز انجانے میں نہیں، بلکہ پورے شعور کے ساتھ
Desensitization
کے اس عمل کے معمار بنے ہوئے ہیں۔
یہ تحریر اس انڈسٹری کو بے نقاب کرنے کے لیے ہے جو ہماری محبتِ رسول ﷺ کو ایک
Evaluated Product
سمجھ کر ٹیسٹ کر رہی ہے۔
یہ سوال اب صرف ایک چینل کا نہیں، یہ اس سسٹم کا ہے جس نے معافی مانگنے کو ایک تکنیکی چال بنا لیا ہے تاکہ وہ اپنے اصلی ایجنڈے کو جاری رکھ سکے۔
اس پٹرن کو ڈی کوڈ کرنے کی کوشش کروں گی۔ ہم یہ ثابت کریں گے کہ یہ کیوں اور کیسے کیا جا رہا ہے۔ ہم خاکوں سے لے کر ڈراموں تک اور قانونی قوانین کے خلاف مہم سے لے کر سوشل میڈیا کے ٹرینڈز تک اس پورے 'تانے بانے' کو جوڑیں گے تاکہ آپ دیکھ سکیں کہ اس جنگ کا اصل ہدف کیا ہے۔ اب خاموش رہنے کا نہیں سمجھنے اور بے نقاب کرنے کا وقت ہے
مدعایش سلطنت بودی اگر
خود نکردی با چنین سامان سفر
اگر آپ کا مقصد کوئی دنیاوی حکومت، تاج و تخت یا اقتدار حاصل کرنا ہوتا، تو آپ کبھی بھی اپنے چھوٹے بچوں، خواتین اور مختصر ترین بے سروسامانی کے قافلے کے ساتھ اس کٹھن سفر پر روانہ نہ ہوتے۔
دشمنان چون ریگ صحرا لاتعد
دوستان او بہ یزدان ہم عدد
میدانِ جنگ میں ظالم دشمنوں کی تعداد صحرا کے ذرات کی طرح ان گنت (بے شمار) تھی، جبکہ آپ کے مخلص دوستوں اور جانثاروں کی تعداد نہایت مختصر (صرف اللہ پر توکل کرنے والی یعنی 72) تھی۔
سر ابراہیم و اسمعیل بود
یعنی آن اجمال را تفصیل بود
واقعہِ کربلا دراصل حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اسی قدیم قربانی کا پوشیدہ راز تھا؛ گویا جو قربانی عہدِ قدیم میں ایک مختصر اشارہ (اجمال) تھی، امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کربلا میں اسے پوری تفصیل کے ساتھ پورا کر دکھایا۔
عزم او چون کوہساران استوار
پایدار و تند سیر و کامگار
امام عالی مقام کا عزم پہاڑوں سے زیادہ مضبوط اور پائیدار تھا، جو باطل کو مٹانے میں بجلی کی طرح تیز رفتار تھا اور انجام کار ابدی کامیابی و کامرانی سے ہمکنار ہوا۔
تیغ بہر عزت دین است و بس
مقصد او حفظ آئین است و بس
آپ کا تلوار اٹھانا اور جنگ کرنا صرف اور صرف دینِ اسلام کی عزت و حرمت کے لیے تھا آپ کا واحد مقصد شریعتِ محمدیﷺ کے قانون اور قرآنی نظام کا تحفظ کرنا تھا۔
ماسوی اللہ را مسلمان بندہ نیست
پیش فرعونی سرش افکندہ نیست
آپ نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ ایک سچا مسلمان اللہ کے سوا کسی دوسرے کا بندہ اور غلام نہیں ہو سکتا؛ اور اس کا غیرت مند سر کسی بھی دور کے فرعون یا جابر حکمران کے سامنے کبھی نہیں جھک سکتا۔
خون او تفسیر این اسرار کرد
ملت خوابیدہ را بیدار کرد
امام حسین کے خونِ پاک نے توحید، حریت اور بندگی کے ان تمام چھپے ہوئے اسرار کی عملی تفسیر دنیا کے سامنے پیش کر دی اور ملوکیت کی گہری نیند سوئی ہوئی مسلم امت کو ہمیشہ کے لیے بیدار کر دیا۔
تیغ لا چون از میان بیرون کشید
از رگ ارباب باطل خون کشید
جب آپ نے کلمہ توحید کی نفی یعنی 'لا' (خدا کے سوا سب کا انکار) کی تلوار میان سے نکالی، تو اس ضربِ حیدری سے باطل قوتوں اور جابروں کی رگوں سے کفر و غرور کا خون نچوڑ کر رکھ دیا۔
نقش الا اللہ بر صحرا نوشت
سطر عنوان نجات ما نوشت
آپ نے کربلا کے تپتے ہوئے صحرا پر اپنے خون سے 'الا اللہ' (صرف ایک اللہ کی حاکمیت) کا ابدی نقش ثبت کر دیا، اور رہتی دنیا تک کے انسانوں کے لیے ظلم سے نجات کا روشن عنوان لکھ دیا۔
رمز قرآن از حسین آموختیم
ز آتش او شعلہ ہا اندوختیم
ہم نے قرآنِ مجید کے اصل فلسفے، غیرت اور روح کو امام حسین کی قربانی سے سیکھا ہے، اور حریت کا جو جذبہ آج ہمارے اندر موجود ہے، وہ انہی کے عشق کی تپش اور شعلوں کا فیض ہے۔
شوکت شام و فر بغداد رفت
سطوت غرناطہ ہم از یاد رفت
بنو امیہ کے دمشق کی ظاہری شوکت، بنو عباس کے بغداد کی شان و شوکت اور ہسپانیہ کے غرناطہ کا دبدبہ سب تاریخ کے اوراق میں گم ہو کر بھلا دیے گئے۔ ظالم بادشاہوں کے نام و نشان مٹ گئے۔
تار ما از زخمہ اش لرزان ہنوز
تازہ از تکبیر او ایمان ہنوز
لیکن امام حسین کے کردار کا مضراب آج بھی ہماری زندگی کے تاروں کو چھیڑ کر بیدار کر رہا ہے، اور میدانِ کربلا میں دی گئی آپ کی تکبیر (اللہ اکبر) کی صدا سے مومنین کا ایمان آج بھی تروتازہ اور زندہ ہے۔
ای صبا ای پیک دور افتادگان
اشک ما بر خاک پاک او رسان
علامہ اقبال آخر میں نہایت عاجزی سے کہتے ہیں کہ: اے صبا! اے ہم جیسے دور بیٹھے ہوئے مجبور اور تڑپنے والے عاشقوں کی قاصد! ہماری عقیدت، محبت اور غم کے یہ آنسو اڑا کر لے جا اور کربلا میں امام حسین کی پاک مٹی پر نچھاور کر دے۔
آن شنیدستی کہ ہنگام نبرد
عشق با عقل ہوس پرور چہ کرد
کیا تم نے تاریخ کے صفحات میں پڑھا اور سنا ہے کہ جب میدانِ کربلا میں معرکہ برپا ہوا، تو سچے عشقِ الٰہی نے مصلحت اندیش، اقتدار کی بھوکی اور ہوس پرست عقل کے سامنے کیا شاندار کردار پیش کیا؟
آن امام عاشقان پور بتول
سرو آزادی ز بستان رسول
وہ عاشقوں کے امام، حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لختِ جگر (حضرت امام حسین) ہیں، جو رسول اللہﷺ کے چمنِ پاک کے وہ بلند و بالا درخت ہیں جس کا دوسرا نام ہی حریت اور آزادی ہے۔
اللہ اللہ بای بسم اللہ پدر
معنی ذبح عظیم آمد پسر
سبحان اللہ! کیا شان ہے اس گھرانے کی جن کے والدِ گرامی (مولی علی) علمِ قرآن کی 'بائے بسم اللہ' ہیں اور وہ خود (امام حسین) قرآنِ مجید میں مذکور قربانیِ اسماعیل یعنی 'ذبحِ عظیم' کی سچی اور عملی تفسیر بن کر سامنے آئے۔
بہر آن شہزادہ ی خیر الملل
دوش ختم المرسلین نعم الجمل
امتِ مسلمہ کے اس عظیم شہزادے کے احترام اور لاڈ کا یہ عالم تھا کہ خود سرورِ کائنات، ختم المرسلینﷺ کا مبارک کندھا ان کے لیے سب سے بہترین سواری بنا، جس پر آپﷺ انہیں بچپن میں بٹھایا کرتے تھے۔
سرخ رو عشق غیور از خون او
شوخی این مصرع از مضمون او
امام حسین کے خونِ پاک کی سرخی کی بدولت کائنات کا غیرت مند عشق تاریخ میں سرخرو اور سرفراز ہوا اور اقبال کہتے ہیں کہ میری اس شاعری میں جو تڑپ، خوبصورتی اور شوخی ہے، وہ انہی کے تذکرے اور مضمون کا صدقہ ہے۔
در میان امت ان کیوان جناب
ہمچو حرف قل ہو اللہ در کتاب
امتِ مسلمہ کے درمیان امام عالی مقام کا مرتبہ اور بلند مقام ایسا ہی بے مثل ہے جیسے پورے قرآنِ مجید میں سورہ اخلاص کا 'قل ھو اللہ احد' کا لفظ ہے، جو توحید کا نچوڑ اور مرکز ہے۔
موسی و فرعون و شبیر و یزید
این دو قوت از حیات آید پدید
تاریخِ انسانی میں حضرت موسیٰ علیہ السلام و فرعون اور امام حسین (شبیر) و یزید کا معرکہ دراصل حق اور باطل کی ان دو ازلی و ابدی قوتوں کا ٹکراؤ ہے جو زندگی کے اندر سے ہمیشہ نمودار ہوتی رہی ہیں۔
زندہ حق از قوت شبیری است
باطل آخر داغ حسرت میری است
کائنات میں آج اگر حق زندہ ہے اور سچائی کا بول بالا ہے تو وہ امام حسین کی قربانی (قوتِ شبیری) کی مرہونِ منت ہے، جبکہ باطل کا انجام ہمیشہ حسرت، رسوائی اور مٹ جانے کی موت ہے۔
چون خلافت رشتہ از قرآن گسیخت
حریت را زہر اندر کام ریخت
جب ملوکیت اور ذاتی اقتدار کے آنے سے خلافت کا تعلق قرآن کے عادلانہ اور جمہوری اصولوں سے ٹوٹ گیا، تو اس جابرانہ نظام نے انسانی آزادی اور حریت کے حلق میں زہر انڈیل دیا۔
خاست آن سر جلوہ ی خیرالامم
چون سحاب قبلہ باران در قدم
ایسے نازک موڑ پر امتِ مسلمہ کا وہ عظیم جلوہ (امام حسین) باطل کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا، جو قبلہ (مکہ/مدینہ) کی طرف سے اٹھنے والے ان رحمت کے بادلوں کی طرح تھا جس کے قدموں میں زندگی بخشنے والی بارش ہوتی ہے۔
بر زمین کربلا بارید و رفت
لالہ در ویرانہ ہا کارید و رفت
آپ نے کربلا کی تپتی ہوئی سرزمیں پر اپنے اور اپنے جانثاروں کے خون کی بارانِ رحمت برسائی اور ظلم و استبداد کے مادی ویرانے میں حریت اور غیرت کے سرخ لالہ زار کھلا کر رخصت ہو گئے۔
تا قیامت قطع استبداد کرد
موج خون او چمن ایجاد کرد
آپ نے قیامت تک کے لیے ہر قسم کے ظلم، آمریت اور ملوکیت کی جڑوں کو کاٹ کر رکھ دیا اور آپ کے مبارک خون کے تلاطم نے اسلام کے چمن کو ایک نئی اور ابدی زندگی عطا کی۔
بہر حق در خاک و خون غلتیدہ است
پس بنای لاالہ گردیدہ است
آپ سچائی اور خدا کی رضا کے لیے کربلا کی خاک پر خون میں تڑپ گئے، یہی وجہ ہے کہ آپ کا یہ معرکہ اور سجدۂ آخریں کلمہ توحید 'لا الہ الا اللہ' کی بقا اور اس کی اصل بنیاد بن گیا۔
زندگی سے ڈرتے ہو؟
!زندگی تو تم بھی ہو زندگی تو ہم بھی ہیں!
زندگی سے ڈرتے ہو؟
آدمی سے ڈرتے ہو؟
آدمی تو تم بھی ہو آدمی تو ہم بھی ہیں
آدمی زباں بھی ہے آدمی بیاں بھی ہے
اس سے تم نہیں ڈرتے!
حرف اور معنی کے رشتہ ہائے آہن سے آدمی ہے وابستہ
آدمی کے دامن سے زندگی ہے وابستہ
اس سے تم نہیں ڈرتے
''ان کہی'' سے ڈرتے ہو
جو ابھی نہیں آئی اس گھڑی سے ڈرتے ہو
اس گھڑی کی آمد کی آگہی سے ڈرتے ہو
پہلے بھی تو گزرے ہیں
دور نارسائی کے ''بے ریا'' خدائی کے
پھر بھی یہ سمجھتے ہو ہیچ آرزو مندی
یہ شب زباں بندی ہے رہ خداوندی
تم مگر یہ کیا جانو
لب اگر نہیں ہلتے ہاتھ جاگ اٹھتے ہیں
ہاتھ جاگ اٹھتے ہیں راہ کا نشاں بن کر
نور کی زباں بن کر
ہاتھ بول اٹھتے ہیں صبح کی اذاں بن کر
روشنی سے ڈرتے ہو
روشنی تو تم بھی ہو روشنی تو ہم بھی ہیں
روشنی سے ڈرتے ہو
شہر کی فصیلوں پر
دیو کا جو سایہ تھا پاک ہو گیا آخر
رات کا لبادہ بھی
چاک ہو گیا آخر خاک ہو گیا آخر
اژدہام انساں سے فرد کی نوا آئی
ذات کی صدا آئی
راہ شوق میں جیسے راہرو کا خوں لپکے
اک نیا جنوں لپکے
آدمی چھلک اٹھے
آدمی ہنسے دیکھو، شہر پھر بسے دیکھو
تم ابھی سے ڈرتے ہو؟
ہاں ابھی تو تم بھی ہو
ہاں ابھی تو ہم بھی ہیں
تم ابھی سے ڈرتے ہو
ن م راشد