آج پنجاب کے 5 اضلاع میں گرین الیکٹرک بس سروس کا افتتاح
لیہہ
چنیوٹ
سیالکوٹ
اوکاڑہ
مری
یہ عوام کیلئے بہترین پبلک ٹرانسپورٹ سہولت یے
جو حکومت پنجاب صوبے بھر میں مہیا کر رہی یے
سولین آمر بھٹو کو بھی اپنی مقبولیت دیکھ کر لگتا تھا وہ ریاست سے بڑا ہو گیا ہے پھر اس کا علاج کر دیا گیا
کراچی کے غنڈے الطاف حسین کو بھی لگتا تھا وہ ریاست سے بڑا ہو گیا ہے پھر اس کا بھی علاج کر دیا گیا
خادم حسین رضوی اور اسکے بیٹے کو بھی لگتا تھا وہ ریاست سے بڑا ہو گۓ ہیں اور ریاست ہم پر ہاتھ نہیں ڈال سکتی پھر انکا بھی علاج کر دیا گیا
عمران احمد نیازی کو بھی لگتا تھا وہ ریاست سے بڑا ہو چکا ہے اور ریاست اس کو ہاتھ نہیں لگا سکتی اور آجکل وہ بھی زیرِ علاج ہے
فتنہ الخوارج TTPeeکو بھی لگا انہوں نے ریاست کو یرغمال بنا لیا ہے اور آجکل وہ بھی آئ سی یو میں زیرِ علاج ہیں
ملک ریاض کو بھی لگتا تھا وہ ریاست سے بہت بڑا ہو چکا ہے پھر اسکا بھی علاج کر دیا گیا
زرداری نے بھی سوچا وہ بھی ریاست سے بڑا بنے گا اور اینٹ سے اینٹ بجانے والا بیان دے دیا لیکن جلد سمجھ گیا کہ میرا ”ایک ہی بیٹا ہے“ پھر زرداری صاحب سنبھل گۓ
مولانا فضل الرحمن کو چاہیے خود کو ریاست سے بڑا سمجھنا چھوڑ دیں کیوں کہ" چوہدری ریاست " بہت ڈاڈا ہے اور اسکی مثال ہاتھی کے سر جیسی ہے جو کچھ بھولتا نہیں بس مناسب وقت پر مناسب علاج کرتا ہے
سننے میں آیا ہے کہ فضل الرحمان صاحب اداروں کو بلیک میلنگ کا شکار کر کے اپنے بیٹے کی کرپشن کا این آر او چاہتے ہیں
تاکہ انکے بیٹے اور انکی کرپشن پر پردہ پڑا رہے ۔
مولانا فضل الرحمن، پی ٹی آئی، اے این پی، افغانی، اجیت ڈیول، عمران خان، اچکزئی وغیرہ میں سے کسی ایک پر تنقید دراصل پختونوں پر تنقید ہوتی ہے اور آپ نسل پرست پنجابی ہوتے ہیں جو ملک توڑنا چاہتے ہیں۔
ایہہ جے اصل پمبل پوسا
جس طرح عین جنگ کے دوران پپل پارٹی نے بھارت کی گود میں بیٹھ کر مانک شاہ ڈاکٹرائن کے عین مطابق پاکستان کو دو حصوں میں تقسیم کرکے اپنے مطالبات منوا لئے تھے، کچھ دیگر احباب سیاست کا خیال ہے کہ وہ افغانوں کی لال ہونے سے پہلے اپنے مطالبات منوا لیں۔
حق اے
حق اے
تمھارے لیے، تمھارے بیٹے کی شہادت کی دلی دعا ہے، حافظ حماداللہ۔ جب اسے دفنا کر آؤ تو بتانا۔ میں جواباً تمھیں بتاؤں گا: خیر ہے یار مولوی۔ تمھارا فوجی بیٹا بھی تو تنخواہ لیتا تھا۔
پاکستان میں 99 فیصد دھشتگردی میں بلوچ اور پشتون ملوث ہیں۔ یہ دونوں اقوام اپنے ہم قبائلیوں کو ہر قسم کی لاجسٹک، رہائشی، سفری، مالی اور اسلحی امداد فراہم کرتی ہیں۔ خود کش پر جانے والوں کو جنسی خدمات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔ اپنا پرانا کہنا ہے کہ ان دونوں اقوام کے ارکان کی دھشتگردی کے حوالے سے بات کھل کر ہونی چاہیے۔ پنجابی طالبان بھی کبھی حقیقت تھے۔ ان کو پنجابی معاشرے نے قبولیت نہ بخشی۔ بلوچ اور پشتون گھروں میں آج بھی کہیں دھشتگردوں کی خدمت کی جا رہی ہوگی، عین اس وقت۔ تم لوگ قبائلی وحشت کے نمائندے ہو۔ تمھارا تہذیب، تمدن، اور امن کی بنیاد پر کھڑی ترقی سے کچھ لینا دینا نہیں۔
پاکستانی عوام کو ساری برائیاں پنجاب میں ہی کیوں نظر آتی ہیں؟؟؟ جبکہ دوسرے صوبے کبھی اس پر اپنی حکومتوں کے خلاف بات بھی نہیں کرتے۔ بجلی پٹرول گیس وفاق کا محکمہ ہے اور اس پر بھی پنجاب حکومت ان سے گالیاں کھاتی ہے جس نے پوری پنجاب میں سرکاری ٹرانسپورٹ مفت کر دی ہے،
++
سولر پینل قومی گرڈ کیلئے خطرہ بنتے جارہے ہیں ۔ ان سے قومی گرڈ کو نئے تکنیکی اور انتظامی مسائل کا سامنا ہے ۔ وزیر توانائی اویس لغاری
دبئی میں تقریبا ایک ہزار میگا واٹ بجلی سولر سے بن رہی جو نیشنل گریڈ سے منسلک ہے۔
پاکستان میں ضلع لیہ کی تحصیل چوبارہ میں بہت بڑ سولر پارک ہے جو نیشنل گریڈ سے منسلک ہے۔
اب میں بتاتا ہوں وزیر صاحب کی اصل تکلیف!!
واپڈ اور پالیسی میکرز کی نالائقیوں کی وجہ سے تنگ آجر جب عوام نے اپنا تمام لوڈ سولر پر شفٹ کر لیا جو کہ ہاکستان کی ٹوٹل ڈیمانڈ کا تقریبا پچیس فیصد ہے تو واپڈ کی کمائی کم ہو گئی اب ٹکریں مار رہے کہ سولر گریڈ کیلئے تکنیکی مسائل ہے۔
یہ جو دفتروں اور اسمبلیوں میں اشرافیہ بیٹھی ہے ان کو صرف غریب کا چار،پانچ کلو واٹ کا سولر ہضم نہیں ہو رہا۔
آج صبح بلوچستان میں شہید ہونے والے 40 سالہ بلال غنی اور 20 سالہ بلال قدیر کی میتیں خانپور فلڈ کالونی پہنچی تو انہیں سلامی پیش کی گئی مقامی MNA اور MPA شریک تھے ریاست نے دونوں میتوں کی قبر پر پاکستان کا جھنڈا رکھا “ اہلخانہ کو پنجاب حکومت کی طرف سے امدادی چیک دیا گیا اہلخانہ سے ایک ایک فرد کو سرکاری نوکری دینے کا لیٹر تھمایا گیا
نوٹ ۔ اوپر لکھی بکواس سب جھوٹ ہے کیونکہ ہم جہانگیر کے مقبرے چمکانے میں لگے ہیں شکریہ
پنجاب کے پنجابیوں یہ ووٹ لینے آئیں تو گریبان سے پکڑ کر پوچھنا ہمارے جوانوں کے قتل پر تم خاموش کیوں تھے ؟
محمود صاحب
آپ تو سکندر یونانی کے سپاہی بھرتی ہوئے تھے۔ سکندر یونانی کو تو پنجاب میں مزاحمت اور موت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ آپ جا کر مودی سے اپنا ڈی این اے میچ کروائیں۔ آپ تو ان کے ہیں۔ افغانستان میں قابض ہونے والی ہر رجیم کی ایجنٹی اختیار کرنا آپ کا شیوہ رہا ہے۔
دلی دعا ہے ہے کہ مولانا کا کوئی بیٹا، بیٹی، نواسہ، نواسی، پوتا، پوتی، بھائی، بہن عین اس وحشت کا شکار ہو جس وحشت کا شکار عام آدمی اور لڑنے والے سپاہی ہوتے ہیں۔ جب مولانا کا کوئی پیارا اس وحشت کا شکار ہو جائے تب ہی تو مولانا کی اخلاقی پوزیشن کو دیکھنے کا لطف آئے گا۔
بلوچستان میں پنجابیوں کے قتال پر عین وہی خاموشی ہے جو ہوتی ہے۔ اب اس کی خیر ہے کہ توقع بھی نہیں ہوتی۔ پنجابیوں کے قتال پر اسلام، حقوق، انسانیت، دانشوری وغیرہ سب نشہ کر کے سو رہے ہوتے ہیں۔ پنجابیوں کو بھلے اب بھی پہل نہیں کرنی چاہیے، مگر جوابی نفرت کرنا لازما سیکھنا چاہیے اور اس کے اظہار میں کنجوسی کرنا ترک کر دینا چاہیے۔ یہ خواہش تو نہیں، مگر خدشہ موجود ہے کہ پنجابی بھی پنجاب میں بالخصوص بلوچوں کو جواب دینا شروع کریں۔ شاید جب پنجاب سے بلوچستان لاشیں جائیں تو بلوچوں کو عین وہی مزہ ملے جو وہ پنجابیوں کو عطا اللہ مینگل کی چیف منسٹری کے دنوں سے دیتے آ رہے ہیں۔ پنجابیوں کے قتل پر کوئی نہیں بولتا: مولوی، لبرل، دانشور، ایکٹوسٹ، سیاستدان۔ اور تو اور، پنجاب کی ماں بھی نہیں بولتی۔ یہ بلکہ پنجاب کی ماں کے لیے موقع ہے کہ پانچ پنجابی نائیوں کے قتل پر وہ بلوچوں کے لیے پانچ سکالرشپ مزید بڑھا دے۔