برطانیہ میں نام نہاد “ایکشن کمیٹی” کے حق میں منعقدہ ایک اجلاس کے دوران پاکستان مخالف گفتگو کی جا رہی تھی۔ اس موقع پر ایک باہمت نوجوان نے کھڑے ہو کر مقرر کو دوٹوک الفاظ میں خاموش رہنے کا کہا اور پاکستان کے خلاف ہونے والی ہرزہ سرائی پر بھرپور احتجاج ریکارڈ کروایا۔
یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی اور پاکستان سے محبت کرنے والے لوگ اپنے وطن کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے اور منفی بیانیے کو ہرگز قبول نہیں کرتے۔ ایسے بہادر نوجوان قوم کا فخر ہیں۔ پاکستان سے محبت اور وفاداری کے اس جذبے کو سلام🇵🇰
ایک متاثر کن خاتون نے انسٹاگرام پر لاہور میں ہراسانی کا واقعہ شیئر کیا۔ شکایت موصول ہونے پر پنجاب پولیس نے صرف دو گھنٹوں میں ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ کمنٹس میں کراچی کی ایک لڑکی نے بتایا کہ وہ طویل عرصے تک ہراسانی کا شکار رہی مگر شکایات کے باوجود کارروائی نہ ہوئی۔ اس نے خوشی کا اظہار کیا کہ پنجاب میں ایسے معاملات کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف خواتین کے تحفظ اور ہراسانی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔
گزارش ہے کہ تحصیل ظفروال, ضلع نارووال سے تعلق رکھنے والا "عقیل احمد" @Aqeeljutt17 ایک پڑھا لکھا محنتی اور خوددار نوجوان ہے- یہ کچھ عرصہ قبل موٹر سائیکل ایکسیڈنٹ میں بری طرح زخمی ہوا اور علاج معالجے کے اخراجات ادا کرتے کرتے اپنے کاسمیٹکس کے سٹال سے ہاتھ دھو بیٹھا- اب اسکے پاس نہ اپنی موٹر سائیکل رہی اور نہ ہی کاروبار دوبارہ شروع کرنے کیلئے کافی سرمایہ بچا-
اس خوددار نوجوان نے بہت آس اور امید کیساتھ مجھے یہ درخواست ارباب اختیار و اقتدار تک پہنچانے کیلئے کہا ہے کہ اسے ظفروال کے جمعرات بازار/اتوار بازار میں ایک سٹال الاٹ کر دیا جائے- عقیل احمد جیسے تیسے کر کے وہاں اپنا کاسمیٹکس کا کاروبار دوبارہ شروع کر دیگا-
(اسے کسی قسم کی مالی اعانت کی ضرورت نہیں ہے-)
رابطہ نمبر عقیل احمد: 3819814-0370
امید کرتا ہوں کہ اس خوددار نوجوان کیلئے ظفروال کے جمعرات بازار/اتوار بازار میں ایک سٹال الاٹ کروانے کیلئے دست تعاون ضرور دراز کیا جائیگا- شکریہ
@MaryamNSharif@betterpakistan@RashidNasrulah@DcNarowal@SKG_ZWL
دو مرد، دو کردار، دو انجام۔
ایک شخص ڈاکٹر کی جان لینے آیا تھا، نفرت اور ظلم کے ساتھ۔ اور دوسرا اپنی جان کی پروا کیے بغیر اسے بچانے کے لیے آگے بڑھا۔
ایک مارا گیا مگر اپنے پیچھے نفرت، بدنامی اور لعنت چھوڑ گیا، جبکہ دوسرا زخمی ہو کر بھی لوگوں کے دلوں کا ہیرو بن گیا۔
یہی فرق ہوتا ہے حق اور باطل میں، تباہی پھیلانے والوں اور انسانیت بچانے والوں میں۔ نام وہی زندہ رہتے ہیں جو دوسروں کے لیے ڈھال بن جاتے ہیں۔
نواز شریف جیسے بڑے لیڈر کو گلگت کمپین پر لے جانے والے اب جواب دیں کیا بلاول نواز شریف سے زیادہ مقبول ہیں ؟
پنجاب کی ترقی کا ماڈل الیکشن کا سلوگن بنانے والے اب جواب دیں کیا سندھ کا ترقی کا ماڈل جیت گیا ؟
سوشل میڈیا کمپین راتب خوروں کے حوالے کرنے کے یہی نتائج نکلتے ہیں اب راتب خور کہہ رہے کہ نون نے قربانی دے دی تو جناب قربانی ہی دینی تھی تو کمپین بھی ویسی ڈیزائن کرتے تاکہ یہ بہانہ تو رہتا کہ ہم نے اسے سیریس ہی نہی لیا