چالاکیاں تو دیکھئے خود قتل کرکے آپ
اوروں سے پوچھتے ہیں کہ کیا ماجرا ہوا
کراچی کے شہریوں کےٹیکسوں سے کراچی کےلئے آنےوالا پانی اپنی ٹینکر مافیا کو بیچ کر پوچھتے ہیں کہ کراچی کو اس کےحصے کا پانی نہیں ملتا۔
پھر کراچی کے شہریوں کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ ٹینکر مافیا سے یہ پانی خریدیں
دنیامیں کہیں بھی کوئی بھی انقلاب پرامن طریقے سے نہیں آیا، ہرجگہ ظالم ومظلوم، حاکم ومحکوم، قابض قوتوں اورمقبوضہ عوام کے درمیان لڑائی کے بعد ہی انقلاب آیاہے اورمقبوضہ قوموں کو آزادی حاصل ہوئی ہے۔
18ویں صدی تک امریکہ برطانوی سلطنت کی کالونی تھا،امریکہ کے عوام سرجھکا کر برطانوی سلطنت کے ظلم کوبرداشت کرتے رہے، لیکن پھر1775ء میں امریکہ کے عوام نے سلطنت برطانیہ سے آزادی کے لئے جدوجہد شروع کردی، اس دوران باقاعدہ گھمسان کی جنگ ہوئی، یہ جنگ تقریروں اوروعظوں سے نہیں بلکہ بندوقوں سے ہوئی۔امریکہ کی اس جدوجہد آزادی کو Revolutionary War of Independence کہا جاتا ہے۔
اسی طرح برطانوی سلطنت سے آزادی کے لئے برصغیر کی جنگ آزادی برسوں تک جاری رہی۔ اسی طرح بلوچ عوام بھی 1948ء سے بلوچستان کی آزادی کے لئے لڑرہے ہیں جسے 1948ء میں فوجی طاقت کے ذریعے پاکستان میں شامل کیاگیاتھا اوراس کے خلاف مزاحمت کرنے پر بلوچوں کوقتل کیا گیا، انہیں پھانسیاں دی گئیں۔ اگرامریکہ کی آزادی کی جنگ کوRevolutionary War of Independence کہہ سکتے ہیں تو پھر بلوچوں کی اس جنگ کو Revolutionary War of Independence کوکیوں نہیں کہا جاسکتا؟ بلوچ عوام کہتے ہیں کہ ان کی سر زمین پر زبردستی قبضہ کیا گیا ہے لہٰذا تمام ایجنسیاں بلوچستان سے نکل جائیں، بلوچستان سے قبضہ ختم کیاجائے اور بلوچستان کو آزاد کردیا جائے۔ جوبلوچ مزاحمت کاراپنی آزادی کے لئے ہتھیار اٹھائے ہوئے، ان بلوچوں کو”فریڈم فائٹر“کے بجائے غداراورملک دشمن کیوں قرارد یاجاتا ہے؟ انہیں فتنہ الہندوستان کیوں کہا جاتاہے؟
دنیامیں جہاں بھی کوئی ریاست ماورائے آئین وقانون کام کرے، ریاست کے ادارے کسی بھی قوم کے لوگوں پرظلم ڈھائیں، ان کے نوجوانوں کوقتل کریں،ان کے گھروں میں داخل ہوکران کے بزرگوں اور بچوں پر تشدد کریں، ان کی ماؤں بہنوں کے سروں سے چادریں کھینچیں،ان کی بے حرمتی کریں، ان کی حرمت اورتقدس پامال کریں اورکسی قوم کو دبانےکےلئے ماورائے قانون عمل کریں تواس عمل کے خلاف لوگوں کی جانب سے بھی ”سائیکو ری ایکشنری ایکشن“ Psycho Reactionary Action یعنی نفسیاتی ردعمل ہوتا ہے اوراس نفسیاتی ردعمل میں لوگ قانون ہاتھ میں لے لیتے ہیں۔ یہ ردعمل نیوٹن کے تیسرے قانون حرکت Third Law of Motion کے تحت ہوتاہے، یعنی ہرعمل کا ردعمل ہوتاہے اورمخالف سمت میں ہوتا ہے۔ہرایکشن کاری ایکشن ہوتاہے، یعنی اگرآپ قانون کے خلاف کسی کے ساتھ زیادتی کریں گے تو زیادتی کانشانہ بننے والے بھی خلاف قانون ردعمل کا اظہار کرتے ہیں، پتھرمارتے ہیں، یاردعمل میں کچھ بھی کرتاہے، دنیامیں ہرجگہ اسی طرح نفسیاتی ردعمل ہوتا ہے۔ اگردنیامیں کہیں بھی کوئی انقلاب آتا ہے تو اس کے پیچھے عوام کا ”سائیکو ری ایکشنری ایکشن“ Psycho Reactionary Action یعنی نفسیاتی ردعمل کارفرما ہوتا ہے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر فکری نشست نمبر478 سے خطاب
2، اکتوبر2026ء
2/2
میں اپنی فلاسفی حقیقت پسندی (Realism) اورعملیت پسندی (Practicalism)کے مطابق بات کرتا ہوں۔دنیا میں مختلف نظاموں کیلئےکیپٹل ازم، سوشل ازم، کمیونزم اور ڈیموکریسی کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔اگرچہ جمہوریت بڑااچھانظام ہے اور دنیا میں غیرمسلم جمہوری ممالک بالخصوص یورپی ممالک میں عملاً جمہوری نظام رائج ہےلیکن کیا کسی غیرمسلم جمہوری ملک نے اسرائیل کی جارحانہ کارروائیوں کے خلاف ٹھوس اورعملی قدم اٹھایا جس سے اسرائیل کو جارحیت سے باز رکھا جاسکے؟ فرانس، جرمنی، آسٹریا، سوئٹزرلینڈ، سوئیڈن اورناروے سمیت کس ملک نے کہاکہ ہم اسرائیلی جارحیت کے خلاف ہیں اوراسے طاقت کے ذریعے جارحیت سے روکیں گے؟
میں سمجھتا ہوں کہ دنیا میں صرف مذاکرات سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ مسائل کے حل اورمقصد کے حصول کے لئے میدان عمل میں آکرعملی اقدامات بھی اٹھانے پڑتے ہیں۔ دنیامیں یہی ہوتا آیا ہے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر فکری نشست نمبر478 سے خطاب
2، اکتوبر2026ء
عدالتوں کے فیصلوں کے پرخچے اڑائے جارہے ہیں پھربھی مذاکرات، مذاکرات کا کھیل کھیلا جارہا ہے،
اگرمذاکرات ہرمسئلہ کاحل ہوتے تو پھر دنیا میں کہیں بھی جنگیں نہیں ہوتیں۔ الطاف حسین
………………………………
صوبہ بلوچستان اورصوبہ خیبرپختونخوا سمیت پورے ملک میں امن عامہ کی صورتحال سب کے سامنے ہے، کہنے کو ملک میں جمہوریت ہے میڈیا کا کردار وہی ہے جو مارشل لا دور میں ہوا کرتا ہے، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں وہی نشر وشائع کیاجاتا ہے جو حکومتِ وقت چاہتی ہے، تمام ٹی وی چینلز پر جوٹاک شوز اور تجزیئے پیش کیے جاتے ہیں وہ عموماً طےشدہ ہوتےہیں کہ کس موضوع پر کیا کہنا ہے اور ریڈلائن کیا ہوگی۔
میرا کام پاکستان کے عوام کے سامنے سچ کہنا ہے چاہےکسی کو اچھا لگےیا برا لگے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت تحریک انصاف کے بانی عمران خان اپنے ساتھیوں کے ہمراہ تین برسوں سے جیل میں قید ہیں، 9،مئی2023ء کے کیسوں میں عمران خان اور ان کے ساتھی تو جیلوں میں قید ہیں لیکن انہی مقدمات میں ملوث پی ٹی آئی کے وہ رہنماء جو جیل میں قید تھے لیکن جب انہوں نے پریس کانفرنس کرکے تحریک انصاف اور عمران خان سے لاتعلقی کا اعلان کیا تو انہیں رہا کردیا گیا، کتنے اخبارات نے جرات کرکے کھل کر اس پر اداریئے لکھے جب یہ لوگ بھی مقدمات میں ملوث ہیں توپھر عمران خان سے علیحدگی کااعلان آرام سے اپنے گھرکیسے چلےگئے؟ کتنے ٹی وی چینلز نے اس اہم نکتہ پر کھل کراظہارخیال کیا؟
18، اگست2026ء کو سپریم کورٹ کی جانب سے حکمنامہ جاری کیا گیا کہ عمران خان صاحب کو دوروز کے اندراندر شفاانٹرنیشنل اسپتال اسلام آباد منتقل کیاجائے اورمیڈیکل بورڈ تشکیل دیکر ان کامکمل طبی معائنہ کرایا جائے۔ عدالت عظمیٰ کے اس حکم کے بعد کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ حکومت ملک کی سب سےبڑی عدالت کے فیصلے پر عملدرآمد نہ کرے لیکن سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود موجودہ حکومت، عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال کے بجائے پمز اسپتال لے گئی اور ایک گھنٹے بعد انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کردیا۔ ملک کی آخری امید عدالت عظمیٰ ہوتی ہے، موجودہ حکومت نے عدالت عظمیٰ کافیصلہ نہیں مانا لیکن اس حکومتی عمل کےخلاف ٹی وی چینلز کے کسی بھی تجزیئے میں یہ نہیں کہا گیا کہ عدالتی حکم عدولی پر موجودہ حکومت کو فی الفور برطرف کردینا چاہیے اور وزیراعظم سمیت پوری وفاقی کابینہ کو توہین عدالت کے جرم میں گرفتارکیا جانا چاہیے۔
تحریک انصاف کی جانب سے 27 ستمبر 2026ء کو لانگ مارچ کا اعلان کیا گیا لیکن پھر لانگ مارچ ملتوی کردیا گیا اور اب 4، اکتوبر2026ء کو لانگ مارچ کرنے کااعلان کیا گیا ہے اور اس دوران پی ٹی آئی کے رہنماؤں اورحکومتی ارکان میں مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔کہا جارہا ہے کہ تحریک انصاف کے متعدل مزاج رکھنے والوں کے ذریعے مذاکرات کیے جارہے ہیں اورمعتدل مزاج رکھنے والوں کی کوئی ریڈ لائن نہیں ہوتی بلکہ ایسا مزاج رکھنے والا چاہتا ہے کہ کسی بھی طریقے سے مذاکرات کامیاب ہوجائیں اورہم وہی فیصلہ کریں جو حکومت چاہتی ہے اور اس طرح ہم لانگ مارچ ایک مرتبہ پھر ملتوی کردیں۔
عمران خان صاحب کے بنیادی نکات یہی ہیں کہ ہمیں ہرطرح سے آزادی چاہیے تاکہ ہم اپنے فیصلے خود کرسکیں اور کوئی ہمیں ڈکٹیشن دینے والا نہ ہو۔ میں پی ٹی آئی کے لوگوں سے سوال کرتا ہوں کہ عمران خان کو جیل میں قید ہوئے تین سال ہوچکے ہیں لیکن انکے چاہنے والوں نے ابھی تک احتجاجی سیاست کیوں نہیں کی؟ PTI کےرہنما کیوں کہتے ہیں کہ ہمیں احتجاجی سیاست کے بجائے مذاکرات کرنے چاہئیں؟ کیا دنیا کے بڑے مسائل مذاکرات کےذریعے حل ہوئے ہیں؟ جہاں عوامی حکومتوں کی آواز کو بندوق کے ذریعے دبایاجاتا ہو، عدالتوں کے فیصلوں کے پرخچے اڑائے جاتے ہوں اس ملک میں باربارمذاکرات کا کیا نتیجہ نکلا؟ کیا سپریم کورٹ اوراسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلوں پر عملدرآمد کیا گیا؟ پھربھی مذاکرات، مذاکرات کا کھیل کھیلا جارہا ہے، اگرمذاکرات دنیا میں ہر مسئلہ کاحل ہوتے تو پھر دنیا میں کہیں بھی جنگیں نہیں ہوتیں۔
1/2
وزیراعظم شہباز شریف نے آج صومالیہ میں قزاقوں کےہاتھوں شہید ہونےوالے پاکستانیوں کے اہل خانہ کو ایک کروڑ 25 لاکھ روپےکی مالی معاونت کرنے،انہیں رہائش اور انکے بچوں کو مفت تعلیم فراہم کرنےکا اعلان کیا ہے۔بہت شکریہ۔
کاش کہ وزیراعظم صاحب ان صومالی قزاقوں کو تاوان کی رقم اداکردیتےتو یہ پاکستانی زندہ واپس آجاتے، یہ پیسے، اور یہ امداد کئی گنا بھی دیدی جائے تو وہ بھی ان فیملیز کے پیارے واپس نہیں آسکتے۔
وزیراعظم صاحب ! ان شہیدوں کے اہل خانہ آپ سے صرف یہ چاہتے ہیں کہ ان کے شہیدوں کی میتیں اور زخمی جلد از جلد ان تک پہنچادیں
” سندھ اورکراچی “ کےالفاظ پر نام نہاد سندھی قوم پرستوں کو بہت تکلیف ہوتی ہے
لیکن
آج پیپلزپارٹی کےچیئرمین بلاول زرداری نےکراچی کیلئے مگرمچھ کے آنسو بہاکر”سندھ اور کراچی “ کےالفاظ استعمال کیے
اب دیکھنا ہے کہ اس پر
نام نہاد سندھی قوم پرست ، دانشور اور صحافی کیا ردعمل دیتے ہیں
اگر بلاول زرداری، ان کےوالد آصف زرداری ، ان کی والدہ بینظیر بھٹو اور ان کے نانا ذوالفقار علی بھٹو نے کراچی کو اپنا شہر سمجھا ہوتا تو اس شہر پر کوٹہ سسٹم کے ذریعے تعلیم اور روزگار کے دروازے بند نہ کرتے اور اپنا حق مانگنے پر اپنے ہر دور حکومت میں کراچی کے لوگوں کا قتل عام نہ کرتے
میں کل بھی پاکستان کے کرپٹ سیاسی نظام کوتبدیل کرنا چاہتا تھا اور آج بھی کرپٹ سیاسی نظامِ حکومت کی تبدیلی چاہتا ہوں۔ الطاف حسین
#17SepBirthdayOfAltafHussain
میں پاکستان کوجاگیرداروں اوروڈیروں کے تسلط سے نجات دلانا چاہتا ہوں، میں ملک میں ایسا سسٹم چاہتا ہوں کہ ہرشہری کو یکساں حقوق حاصل ہوں،خواہ ان کا مذہب یاعقیدہ کوئی بھی ہو۔میری مخالفت کسی فرد، صوبے یا جماعت سے نہیں، بلکہ اس نظام سے ہےجس میں طاقت قانون سے بالاتر ہوجائے۔ میں سندھ کے وڈیرانہ نظام، پنجاب اور دیگر صوبوں کے جاگیردارانہ ڈھانچوں، بدعنوانی اور ایسے سیاسی انتظام کا مخالف ہوں جس میں جمہوری ادارے عسکری نظام کے تابع ہوں۔ میں فوج کے خلاف نہیں بلکہ میری مخالفت فوج کے ان چند جرنیلوں کی پالیسیوں سے ہے جن کے فیصلوں کے نتیجے میں ملک اور قوم کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ ماضی میں مذہب اور اسلام کےنام کو مخصوص مقاصد کیلئے استعمال کیا گیا، اس غلط پالیسی کے نتیجے میں ملک میں مذہبی انتہاپسندی اور طالبانائزیشن پھیلی جس کے اثرات پورے ملک بالخصوص خیبر پختونخوا کے عوام نے برداشت کیے۔ میں اس وقت بھی کہتا تھا کہ آپ جوطالبان بنارہے ہیں یہ ایک دن مونسٹربن جائیں گے اور آپ ہی کو کھائیں گے، لیکن میری باتوں کوفوج کے خلاف لیا گیا، آج ان پالیسیوں کے نتائج ملک کے سامنے ہیں، ملک میں خودکش حملے ہورہے ہیں اور فوج کے جوان اور عام معصوم شہری جاں بحق ہورہے ہیں۔
جب عمران خان کی حکومت کا خاتمہ کیا گیا اورانہیں گرفتارکیا گیا تومیں نے اس عمل کی مذمت کی اوران کے حق میں بیانات دیے تو ایم کیو ایم کے بعض کارکنوں نے مجھ سے سوال کیا کہ جس شخص نے ماضی میں آپ کی شدید مخالفت کی، آپ اس کے حق میں کیوں بول رہے ہیں؟ تومیں نے اپنے ساتھیوں کو یہی تلقین کی کہ یہ مت دیکھو کہ کس نے تمہارے ساتھ برا کیا تھا، یہ دیکھو کہ تم کسی کے مشکل وقت میں اس کے لیے کیا اچھا کر سکتے ہو۔جب نوازشریف کی اہلیہ محترمہ کلثوم نوازلندن میں علیل ہوئیں تو میں نے ان کی عیادت کے لئے ساتھیوں کو بھیجا، جب نوازشریف اوران کی صاحبزادی مریم نوازکوگرفتارکیا گیا تومیں نے اس کی مذمت کی۔ جب بھی جس کے ساتھ زیادتی ہوئی، میں نے اس کے لئے آوازبلند کی۔ میں ہمیشہ مظلوم کےحق میں اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرتا رہا ہوں خواہ اس کا تعلق کسی بھی جماعت، صوبے یا مکتبہء فکر سے ہو۔
میں نے نظام کے خلاف آوازبلند کی تومجھ پر پاکستان میں مجھ پر قاتلانہ حملے کئے گئے، مجھ پر گرینیڈسے حملہ کیا گیا۔جس کے بعد میں ساتھیوں کی درخواست پر عارضی طور پر لندن آگیا، میں پاکستان واپس جانا چاہتا تھا مگر مجھ پر پاکستان واپس جانے کے راستے بند کردیے گئے۔ میں نے یہاں رہ کر بھی اپنی جدوجہد جاری رکھی ،میں اب بھی پاکستان میں بہتر نظام کے لئے جدوجہد کر رہا ہوں۔
الطاف حسین
لندن میں 73ویں سالگرہ کے اجتماع سے خطاب
19ستمبر 2026ء
دو نقاب پوش افراد کود کر گھر کے اندر داخل ہوئے، بڑے گملے سے دروازے کاشیشہ توڑا ۔
ایم کیو ایم کے بانی و قائد جناب الطاف حسین نے گھر پر حملے کے واقعے کی تفصیلات سے آگاہ کیا
@metpoliceuk@10DowningStreet
#17SepBirthdayOfAltafHussain
🎂🎂🎂🎂🎂🎂🎂🎂🎂🎂🎂
ایم کیو ایم کے بانی و قائد محترم الطاف حسین بھائی کو 73 ویں سالگرہ مبارک ہو دنیا بھر میں رہنے والے وفا پرستوں کو قائد کے چاہنے والوں کو قائد کا جنم دن مبارک ہو.
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
شہید انقلاب ڈاکٹر عمران فاروق تحریک کا سرمایہ تھے، ان کی شہادت تحریک کا ناقابل تلافی نقصان تھا۔ تمام وفاپرست ڈاکٹر عمران فاروق شہید کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ خدا تعالیٰ ان کی قربانیوں کو قبول فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے
#شہید_انقلاب_ڈاکٹر_عمران_فاروق
Happy Birthday to founder leader Mr Altaf Hussain bhai
بانی وقائد جناب الطاف حسین بھائی کو*
*73واں جنم دن بہت بہت مبارک ہو
💕💕💕💕💕💕💕💕💕
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
رب العزت الطاف بھائی کو صحت وتندرستی کے ساتھ عمر خضر عطا فرمائے ، آمین ثمہ آمین
فوج ہرملک کے لئے نہایت اہم ادارہ ہوتاہے، ہرملک کے دفاع کے لئے فوج لازمی جزو ہے، فوج اگرملک کی سرحدوں کے دفاع پر توجہ مرکوزرکھے اوراسی کے لئے اپنی طاقت، اپنے وسائل اورتوانائی صرف کرے تو ملک کے عوام بھی فوج کااحترام کرتے ہیں، اس کی عزت کرتے ہیں لیکن اگرکسی ملک کی فوج اپنے آئینی دائرے سے نکل کرملک کے دیگر امورمیں مداخلت کرنے لگے توایسی صورت میں فوج کی غلط پالیسیوں اور اقدامات کی وجہ سے عوام کواس سے شکایات پیداہوتی ہیں۔
بدقسمتی سےپاکستان میں گزشتہ 79برسوں میں بالواسطہ یابلاواسطہ فوج کی مداخلت رہی ہےاوراب یہ مداخلت ایک رجیم کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ پاکستان میں ماضی میں عوام فوج کابہت احترام کرتے تھے لیکن فوج کی غلط پالیسیوں اورجبروستم کے اقدامات کی وجہ سے آج عوام میں فوج کااحترام اور قبولیت تیزی سے گررہی ہے، بلوچستان ہی نہیں بلکہ سندھ، خیبرپختونخوا، پنجاب، آزاد کشمیراورگلگت بلتستان سمیت ملک کے ہر علاقے میں لوگ فوج پر تنقید کررہے ہیں، سوشل میڈیا پر ہرجگہ لوگ فوج سے نالاں نظرآتے ہیں۔یہ خلق ِخدا کی آواز ہے، فوج کے اعلیٰ حکام کو خداکی مخلوق کی آواز کو سننا چاہیے اور سوچنا چاہیےکہ اگر آج لوگوں کے دلوں میں فوج کے لئے قبولیت کم ہورہی ہے تواس کی وجہ کیاہے۔
بدقسمتی سے پاکستان میں انگریزوں کا وہی سسٹم چل رہاہے جوانگریزوں نے برصغیر کو اپنی کالونی بنا نے کے لئے فوج کی طاقت کے ذریعے یہاں نافذ کیا اور عوام کوطاقت اور جبر کے ذریعے دبایا۔ پاکستان میں بھی عوام کودبانے کے لئے وہی مائنڈسیٹ کام کررہا ہے اوروہی ہتھکنڈے اختیارکئے جارہے ہیں۔
میرا ہمیشہ سے یہی کہنا ہے کہ،
طاقت کو خدا کا عطیہ سمجھو، طاقت حاصل کرکے خود کو زمین پر خدا نہ سمجھو۔
میں فوج کے اعلیٰ حکام سے یہی کہوں گا کہ عوام پر ظلم بندکیا جائے، عمران خان سمیت جیلوں میں قید تمام سیاسی رہنماؤں کو رہا کیا جائے، عمران خان اورمجھ سمیت جن سیاسی رہنماؤں پر برسوں سے جو غیرآئینی و غیرقانونی پابندیاں عائد ہیں وہ ختم کی جائیں، فوج اپنے آئینی دائرے میں رہے، ہم فوج کوسیلوٹ کریں گے، اس کی عزت کریں گے کیونکہ ہمارافوج سے کوئی جھگڑا نہیں ہے، ہماری شکایات ہیں کیونکہ ہم پر بہت ظلم ہوا ہے، ہم ان شکایات اورزیادتیوں کا ازالہ چاہتے ہیں۔
حکمرانوں کوسوچنا ہوگا کہ آج عوام پیٹرول، ڈیزل کی روزبروزبڑھتی ہوئی قیمتوں، بجلی، گیس، پانی جیسی بنیادی سہولتوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے پریشان ہیں، بیروزگاری ہے، عوام کودووقت کی روٹی میسرنہیں ہے، وہ غربت وتنگدستی اورفاقہ کشی کا شکار ہیں۔ حکمرانوں کواپنی عیاشیاں ختم کرکے عوام کی سہولتیں فراہم کرنے اوران کے مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہیے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 469 ویں فکری نشست سے خطاب
12 ستمبر 2026ء
I am prepared to offer my full support to Field Marshal Asim Munir to assist in fixing the country's system. Altaf Hussain
....................
Pakistan may seem like a free nation, but how many of us can say we are really free? The citizens of Pakistan are not just animals, and we need to fight for real freedom. In the past, we were under the rule of the white British, and now the black British have taken over Pakistan. Former Prime Minister Imran Khan often mentioned this in his talks, which is why the supporters of Pakistan Tehreek-e Insaf chant, “We will gain our freedom.”
In Pakistan, Imran Khan, Altaf Hussain, Baloch people, Pashtuns, Sindhis, Muhajirs, and Kashmiris are being called disloyal. If this is true, then who gets to be called loyal to the nation? The well-known Pashtun leader Bacha Khan was also labeled as disloyal. In 1986, when I spoke at the first political gathering of the MQM at Nishtar Park in Karachi, I stated that I believed Bacha Khan and Sain G M Syed were not disloyal but instead were heroes of freedom.
Today, every aware person in Pakistan is recognizing that we have learned a twisted version of our nation’s past.
When Imran Khan, the founder of PTI, called for true freedom, he was jailed as a result. He has been locked up in Adiala Jail for the last three years. The big question is: what are the PTI officials in the Senate, National Assembly, and provincial assemblies doing after getting their positions to help free Imran Khan?
Today, individuals from all areas and speakers of various languages are clearly stating that, while Pakistan might seem like a self-governing nation, its citizens do not enjoy true freedom. For this reason, I urge those in power and influential groups in the nation: please, for the sake of all that is good, pay attention to the people's concerns and see it as a serious message from a higher power. Do not distance the people from Pakistan, and put an end to the oppressive and forceful rule in the nation.
I would like to know from the people of Pakistan: what do you think is the answer to the current situation in the country?
May God give our organizations the insight and strength to think and comprehend. Pakistan is owned by its organizations just like it is owned by its citizens. Please have discussions with political groups.
Instead of making tensions worse, talk with those you have issues with and clarify what rights the organizations and citizens hold according to the Constitution of Pakistan. Instead of fighting each other, every organization and every person should act within their own constitutional boundaries.
I am willing to provide my complete support to Field Marshal Syed Asim Munir. If I get the chance, I am ready to go to Baloch, Pashtun, Kashmiri, Sindhi, and every other community. I am open to discussions with all political and religious groups, as well as the entire military leadership.
Many people have already lost their lives due to fights and disagreements. It is time for us to rethink our strategies. Personally, I do not wish to be President or Prime Minister.
Yesterday, I stood against the old and unfair system, and I am standing against it today too. I will keep fighting against it until the nation’s system is fixed.
My fight is for the importance of the Constitution and laws in the nation, for a just system to be created, and for every organization to function according to its constitutional boundaries. We need a strict approach to get rid of corruption in the country.
I desire changes to the Constitution, or maybe even creating a completely new one, based on what the citizens want to help the country and its residents thrive and succeed. I am willing to help with this goal. If the plan I suggested is put into action and adjustments to the Constitution are made, the system can be enhanced.
1/2
میر رضا قتل کیس: پولیس کی نئی تحقیقاتی ٹیم کی انویسٹی گیشن نےمزید سوالات کو جنم دیدیا۔
نئی تحقیقاتی ٹیم بھی قتل کو خود کشی ثابت کرنےکی کوشش کررہی ہے۔
آخر پولیس کا محکمہ کس کےکہنے پرکسے بچانے کی کوشش کررہا ہے؟
#MirRaza#JusticeForMirRaza#JusticeForMirRazaAli
عمران خان Absolutely not کہنے کے جرم میں قید ہیں۔ الطاف حسین
پاکستان کی حقیقی آزادی کی جدوجہد کی پاداش میں الطاف حسین 34 سال سے جلاوطن ہے
#یہ_کیسی_آزادی_ہے
تحریک انصاف کےسربراہ عمران خان صاحب کو فوج کے جرنیلوں سے بڑی محبت تھی، یہ فوجی جرنیل الطاف حسین کی اس فلاسفی کے خلاف تھےکہ پاکستان سے فرسودہ جاگیردارانہ، وڈیرانہ اورسردارانہ نظام کا خاتمہ کیاجائے، ملک کی 2 فیصد حکمراں اشرافیہ کے بجائے 98 فیصد عوام کو اقتدار ملنا چاہیے کیونکہ پاکستان صرف دوفیصد حکمراں اشرافیہ کا نہیں بلکہ 98 فیصد غریب ومتوسط طبقے کے عوام کاملک ہے، اس وقت عمران خان صاحب فوجی جرنیلوں اور ان کے غلط فیصلوں کودرست سمجھتے رہے، فوجی جرنیلوں نے کہاکہ الطاف حسین غدار اورملک دشمن ہےتوعمران خان صاحب بھی ان کی باتوں میں آگئے اور انہوں نے اسمبلی کے فلور پر تقریرکرتے ہوئے کہا کہ پانچ ہزارمیل دور ایک دہشت گرد الطاف حسین بیٹھا ہے اگراجازت ملے تو میں اس پر ڈرون حملہ کردوں۔ جب عمران خان کاصبح شام فوجی جرنیلوں، آئی ایس آئی اورایم آئی کے چیفس اورآرمی چیف کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہوا تو انہیں اندازہ ہوا کہ پاکستان آزاد ملک نہیں ہے اورانہوں نے اپنی درجنوں تقاریر میں اعتراف کیاکہ ہم آزادقوم نہیں ہیں، پاکستان پر کالے انگریز مسلط ہیں ہمیں ان سے آزادی حاصل کرنی چاہیے۔ عمران خان کو علم ہوگیا کہ یہ پورا نظام ہی گھپلا ہے، یہاں امریکہ کے مفادات کے فیصلے ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ایک امریکی چینل کو انٹرویو میں جب ان سے امریکہ کو اڈے دینے کے حوالے سے سوال پوچھا گیا تو انہوں نے جواب میں Absolutely not کہا۔اس کے بعد امریکہ سے حکم آگیا کہ اب عمران خان کیلئے بھی Absolutely not ہے، عمران خان کی حکومت کے خاتمےکا فیصلہ ہوگیا، انہیں سبق سکھانے کیلئےان پر قاتلانہ حملہ کیا گیا، اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے وہ قاتلانہ حملے میں محفوظ رہے۔ عمران خان نے کہا کہ پاکستانی فوج کے جرنیل امریکہ کے ایجنٹ ہیں، انہوں نے سائفر لہراکر کہا کہ صرف فوجی جرنیل ہی ہماری آزادی کے دشمن نہیں ہیں بلکہ ان جرنیلوں کوامریکہ تحفظ فراہم کرتاہے۔ قوم کو سچ بتانے کے جرم میں عمران خان جیل میں قید ہیں، انہیں اپنی بہنوں اور وکلاء سے ملاقات کی اجازت نہیں ہے، اسیری میں بھی عمران خان کی زندگی تنگ کردی گئی لہٰذا آزادی کہاں ہے؟
میں نے40 سال پہلے ملک کو دو فیصد طاقتور اشرافیہ اوران کے آقاؤں کے تسلط سے نجات دلانے کی آوازبلند کی توپنجاب اور خیبرپختونخوا کے لوگوں نے مجھے غدارقرار دیدیا، وہ میری باتیں نہیں سمجھ سکے لیکن عمران خان نے فوجی جرنیلوں اور امریکہ کی اجارہ داری کاپول کھول دیا کہ پاکستان کے عوام کبھی آزادتھے نہ ہیں،اسی لئے انہوں نے نعرہ دیا کہ ”ہم لے کے رہیں گے آزادی“ ”تمہیں دینی پڑے گی آزادی“۔
عمران خان نے پاکستان کے فوجی جرنیلوں اور ان کے آقاؤں سے حقیقی آزادی کانعرہ لگایا تھا لیکن وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ تین سال سے جیل میں قید ہیں اورعمران خان کے نام پر سینیٹ، قومی اسمبلی اورصوبائی اسمبلیوں کی رکنیت حاصل کرنےوالے عمران خان کی رہائی کیلئے احتجاج کرنے کے بجائے بہانے تراش رہے ہیں، اگرپی ٹی آئی کے منتخب نمائندے ہی احتجاج کیلئے جمع ہوجائیں تو ان کی تعداد ہزاروں میں ہوسکتی ہے۔ اب عمران خان کو بھی پتہ لگ رہا ہوگا کہ الطاف حسین پر فوجی جرنیلوں اور ایجنسیوں نے دہشت گرد ی کا جھوٹاالزام کیوں لگایا تھا کیونکہ اب عمران خان پر بھی یہودیوں کا ایجنٹ ہونے اوردہشت گردی کے الزامات لگائے جارہے ہیں۔
الطاف حسین کا کیا گناہ ہے؟ پاکستان کے مظلوم عوام کے جائز حقوق اورحقیقی آزادی کی جدوجہد کی پاداش میں الطاف حسین 34 سال سے جلاوطن کیوں کیا ہوا ہے؟ ملک میں لوگ کھلے عام پاکستان اورفوج کے خلاف کیا کچھ نہیں کہتےلیکن ان پر ہاتھ نہیں ڈالاجاتا لیکن انہیں الطاف حسین منظور نہیں۔ میراجرم یہ ہے کہ میں نے اپنے نظریہ اوراپنے ضمیرکا سودا نہیں کیا، اگر میں نے بھی اپنے آپ کوبیچ دیا ہوتا توآج میں بھی قبول ہوتا، مجھے جلاوطنی میں نہ آنا پڑتا اورمیں بھی ملک میں آزادی سے گھومتا، خود بھی اقتدار میں ہوتا اورمیرا خاندان بھی اسمبلیوں میں ہوتااورآج میں بھی کھرب پتی ہوتا۔لیکن میں نے نظام کی تبدیلی کے لئے جدوجہدکی اور خود اسمبلیوں کا ممبربننے کے بجائے اپنے غریب کارکنوں کواسمبلیوں میں بھیجا۔ میں نے جلاوطنی میں رہ کر بھی تمام ترآزمائشوں کے باوجود اپنی جدوجہد جاری رکھی اورجاری رکھوں گا۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 450 ویں فکری نشست سے خطاب
16، اگست 2026ء
#یہ_کیسی_آزادی_ہے
2/2
ایک تاریخی سچائی یہ بھی ہے کہ قیام پاکستان کی تحریک ہندوستان کے مشرقی بنگال اور مسلم اقلیتی صوبوں میں چلی جہاں تحریک پاکستان کے سلسلے میں آل انڈیامسلم لیگ کے جلسے جلوس، مظاہرے ہوئے، جہاں لوگوں نے لازوال قربانیاں دیں، پھانسیوں اورکالاپانی کی سزائیں بھگتیں، قیدوبند کی صعوبتیں جھیلیں، سوال یہ ہے کہ ہندوستان کے جن علاقوں میں تحریک پاکستان چلی، کیاپاکستان ان علاقوں میں بنایا گیا؟کیا یہ مذاق نہیں کہ جن علاقوں میں پاکستان کی تحریک چلی وہ علاقے توپاکستان میں شامل نہیں ہوئے جبکہ وہ علاقے جہاں تحریک پاکستان نہیں چلی، جہاں کے لوگوں نے قیام پاکستان کے لئے کوئی قربانی نہیں دی وہاں پاکستان بنایا گیا۔
تحریک پاکستان کے دوران برصغیرکے مسلمانوں کو دھوکہ دینے کیلئے نعرہ لگایا گیا کہ پاکستان برصغیرکے 10 کروڑ مسلمانوں کا وطن ہوگا، جب پاکستان بن گیا تو کیا پاکستان برصغیرکے 10 کروڑ مسلمانوں کی پناہ گاہ، ان کاوطن اوران کی زمین بن سکا؟ جومسلمان آج بھی ہندوستان میں رہ رہے ہیں،مسلمان ہونے کی حیثیت سے ان کیلئے پاکستان کی سرحدیں کھولنی چاہیے تھیں لیکن 1953ء میں پاکستان کی سرحدیں بھارت کے مسلمانوں کیلئے بند کردی گئیں اور اسی دن ہندوستان کے مسلم اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں کے ساتھ دھوکہ سامنے آگیا تھا اوران کے پاس اس کے سوا کیاچارہ باقی رہ گیا تھا کہ وہ ہندوستان میں ہندوؤں کے رحم وکرم پر رہیں۔مسلم اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں نے پاکستان کی تحریک چلائی، جانی ومالی قربانیاں دیں لیکن جن علاقوں میں پاکستان کی تحریک نہیں چلی ان علاقوں کے لوگوں کو پاکستان بنا کر دیدیا گیا۔
پاکستان بظاہر ایک آزاد اورخودمختار ملک ہے لیکن حقیقت میں وہ آزادملک نہیں ہے، یہ حقیقت ہے کہ قیام پاکستان کے دن سے لیکر آج کے دن تک پاکستان کے فیصلے پہلے برطانیہ میں ہوتے تھے اوراب امریکہ میں ہوتے ہیں، پاکستان کا چیف آف آرمی اسٹاف کون بنے گا، آئی ایس آئی کاسربراہ کون ہوگا اور فوج کے افسران کی ترقی کیسے ہوگی یہ سارے فیصلے امریکہ اوربرطانیہ میں ہوتے ہیں۔جب تک پاکستان بیرونی طاقتوں کی غلامی سے آزادنہیں ہوگا، پاکستان کو حقیقی آزادی حاصل نہیں ہوگی۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 450 ویں فکری نشست سے خطاب
16، اگست 2026ء
(مکمل فکری نشست سنئیے 👇)
https://t.co/Oyp91W8FiE
انگریزوں کی سازش اورتحریک پاکستان کی تاریخ ……کیا پاکستان حقیقی طور پرآزاد ہے؟
الطاف حسین
#یہ_کیسی_آزادی_ہے
پاکستان کو قائم ہوئے 79سال ہوچکے ہیں لیکن سوال یہ ہےکہ کیا 79سال بعد بھی پاکستانی آزادہیں؟کیا وہ اپنے خیالات کا اظہارکرنے اوراپنے حقوق اورانصاف کے حصول کے لئے آوازاٹھانے میں آزاد ہیں؟ قیام پاکستان کی اصل تاریخ کومسخ کرکے پیش کیاجاتاہے، ہمیں پاکستان کی اصل تاریخ کو سمجھنا ہوگا۔ سچ کڑوا ہوتا ہے اورہمیں حقائق سے آگاہی کے لئے سچ کوسننااوراسے تسلیم کرناچاہیے خواہ وہ کتنا ہی تلخ کیوں نہ ہو۔
تاریخ یہ ہے کہ ہندوستان میں ہندو اور مسلمان صدیوں سے اپنے مذہب، کلچر، ثقافت، رہن سہن، زبان، فنون لطیفہ کے ساتھ ایک ساتھ رہتے چلے آئے تھے، وہ ایک دوسرے کے مذہبی تہواروں، تقریبات اور رسومات میں بھی شریک ہوتے، ہندو مسلم کی کوئی تفریق نہیں تھی۔ پھر اچانک یہ کیسے خیال آگیا کہ مسلمانوں کوہندوؤں سے آزادی اورعلیحدہ وطن چاہیے؟
مسلمانوں نے ہندوستان میں کئی سو سال حکومت کی تھی اورانگریزوں نے مسلمانوں سے حکومت چھین کر ہندوستان پر قبضہ کیاتھا، اس قبضہ کے خلاف ہندوستان کے عوام نے 1857ء کی جنگ آزادی لڑی تھی۔ اس میں صرف مسلمان ہی شامل نہیں تھے بلکہ ہندو، سکھ اوردیگرمذاہب کے ماننے والے بھی شامل تھے۔ جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد انگریزوں نے ہندوستان پرمکمل قبضہ توکرلیا تھا لیکن اس قبضہ کو مستحکم کرنےکے لئے انہوں نے Divide and Rule یعنی” لڑاؤ اورحکومت کرو“ کی پالیسی اپنائی۔انگریزوں کو معلوم تھاکہ ہندوستان میں آبادی کے لحاظ سے ہندوؤں کی اکثریت ہے اور مسلمان اقلیت میں ہیں لہٰذا انگریزوں نے ہندوؤں کوآگے رکھنے کےلئے بہت سے اقدامات کئے۔انہیں جدیدعلوم کے میدان میں آگے لایا گیا جبکہ مسلمانوں کو جدید علوم سے دور رکھنے کے لئے مذہبی تعلیمات کی طرف راغب کیاگیا، اس سلسلے میں بڑے بڑے دینی مدرسے قائم کرائے گئے، دارالعلوم دیوبند اور بریلوی دینی مدرسے قائم کرائے گئے۔کیونکہ یہ ایک کلیہ ہےکہ اگر کسی قوم کو کمزور کرناہو اورانہیں پستی میں رکھنا ہو توان کے اندرمذہبی جنونیت اور انتہاپسندی بھردی جائے تووہ قوم پیچھے رہ جاتی ہے۔
چونکہ انگریزوں نے مسلمانوں سے حکومت چھینی تھی اور انہیں یہ ڈر تھا کہ کہیں مسلمانوں کاکوئی ایساگروہ تیارنہ ہوجائے جو ان کے قبضے کے خلاف انگریزوں کے لئے مشکل کاسبب بنے لہٰذا انگریزوں نےمسلمانوں کو بریلوی اور دیوبندی کی بنیاد پر تقسیم کیا۔
انگریزوں نے ایک پالیسی تحت باقاعدہ منصوبہ بند ی اوربڑی باریک بینی کے ساتھ ہندوستان میں تقسیم کی، ایک طرف مسلمانوں کی طاقت کومسلکی بنیاد پر دوحصوں میں تقسیم کیا اور دوسری طرف ہندوستان کے عوام کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنے کے لئے 1909ء میں مردم شماری کرائی اوراس کے فارم میں مذہب کاخانہ رکھااور پھر ہندواورمسلمان کی بنیادپر جداگانہ طریقہ انتخاب متعارف کرایا۔ ظاہر ہے کہ جب مذہب کی بنیاد پر الیکشن کرائے جائیں گے توہندو ہندو کوووٹ دے گااور مسلمان مسلمان کے پیچھے جائے گا۔ جداگانہ طریقہ انتخاب کی بنیاد پر 1946ء کے انتخابات کرائے گئے۔
ستمبر 1939ء میں جنگ عظیم دوم شروع ہوئی جو1945ء تک جاری رہی۔چھ سا ل تک جاری رہنے والی جنگ عظیم دوم کے نتیجے میں سلطنت برطانیہ تباہ حال ہوچکی تھی اورانگریزوں کومعلوم ہوگیاتھاکہ وہ برصغیرپراپناقبضہ برقرار نہیں رکھ سکیں گے اورانہیں ہندوستان چھوڑکرجانا ہوگا۔ انگریزنہیں چاہتے تھے کہ آزادی کے بعد ہندوستان ایک بہت بڑے اورطاقتور ملک کی حیثیت سے سامنے آئے لہٰذا انگریزوں نے منصوبہ بنایا کہ اس خطے میں ایک ایساملک بھی ہونا چاہیے جوانگریزوں کے زیراثرہو، جہاں ان کاکنٹرول ہواورجہاں سے وہ اپنے مفادات کے حصول کے لئے اپنے معاملات چلاتے رہیں اوروہ ملک برطانوی مفادات کے لئے کام کرے۔ لہٰذا انگریزوں نے تقسیم ہندوستان کے منصوبے پر کام شروع کیا۔ تقسیم کے لئے انہو ں نے دوقومی نظریہ متعارف کرایا کہ ہندواورمسلمان الگ الگ قومیں ہیں اوروہ ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔ اسلئے ہندوستان کے دس کروڑ مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ وطن کی ضرورت ہے۔اسی سلسلے میں ”لڑاؤ اور حکومت کرو“ کی پالیسی کے تحت ہندو مسلم خونریزفسادات کرائے گئے۔
انگریزوں نے علیحدہ وطن کے لئے وہ ان علاقوں کوچناجہاں کے لوگ سب سے زیادہ انگریز وں کی فوج میں تھے، جو سلطنت برطانیہ کے سب سے زیادہ وفادار اوراطاعت گزارتھے، جنہیں Martial Race قراردیا جاتا تھا۔
1/2
2/2
#JusticeForMirRazaAli#MirRaza
میں فیلڈ مارشل عاصم منیرصاحب سے اپیل کرتاہوں کہ آپ ایران امریکہ جنگ میں ثالثی کرارہے ہیں لیکن آپ کے اپنے ملک میں ظالم وڈیروں کی جانب سے معصوم شہریوں پر جوظلم ہورہاہے اس کاحل بھی نکالئے۔ آپ کی فوج سیاسی کارکنوں کوتو گرفتار کرلیتی ہے، لیکن میررضا اوران جیسے معصوم نوجوانوں اور بچیوں کوقتل کرنے والے سفاک قاتلوں کوگرفتارکیوں نہیں کیا جارہا ہے؟
میں شہید میررضا کے اہل خانہ کویقین دلاتاہوں کہ فی الحال ہمارے پاس طاقت نہیں ہے لیکن ہم وعدہ کرتے ہیں کہ جس دن اللہ نےہمیں موقع دیاتو شہر کے جتنے بچے سفاک وڈیروں اورجاگیرداروں نے قتل کئے ہیں ان کےساتھ قانون کے مطابق برتاؤ کیا جائے گا اورقانون کے تحت سزائیں دی جائیں گی۔
میں اپنے وفاپرست کارکنوں کوہدایت کرتا ہوں کہ شہیدمیررضا کے لئے جہاں جہاں بھی احتجاج کیا جائے وہ اس میں ضرورشریک ہوں۔ میں دعاکرتاہوں کہ اللہ تعالیٰ جدوجہد کرنے والوں کی غیب سے مدد فرمائے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 446 ویں فکری نشست سے خطاب
11 اگست 2026ء